پوسٹ تلاش کریں

ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا

ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا اخبار: نوشتہ دیوار

اوروہ (باطل )کوئی مثال تیرے سامنے پیش نہیں کرسکتے ہیں مگرہم تیرے پاس حق لے کر آئیں گے اور بہترین تفسیر ۔(سورہ الفرقان آیت:33)

والمرسلات عرفًاO

قسم ہے منکر فضاؤں میں معروف دین فطرت اسلام کے پیغامات کو لوگوں تک پہنچانے کی۔
یہود ،نصاریٰ اورمشرکین مکہ نے دین ابراہیمی کو منکربنادیا۔ دین اجنبیت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا، خوشخبری اجنبیوں کیلئے ہے۔ (حدیث)

اصل طلاق مغلظ ”ظہار” اور”حرام ” کے الفاظ تھے۔جہاں حلالہ سے کام نہیں چل سکتا تھا۔اللہ نے جھوٹ اور منکر قرار دیا۔ سورہ مجادلہ اور سورہ تحریم واضح ہیں ۔ انبیاء کرام کے بعد ناخلف جانشین دین کو خواہشات کی بھینٹ چڑھاتے تھے۔ بدھ مت حضرت ابراہیم کے دور سے ہے۔ اسماعیل کے بعد اسحاق اور یعقوب کی نسل سے ہزراوں انبیاء کرام آئے ،عرب اپنے دین ابراہیم پر قائم رہے۔ اسلئے کہ حضرت یوسف کیساتھ بھائیوں نے کیا کیا جو باپ یعقوب ، دادا اسحاق اور پردادا ابراہیم کی اولاد اور نبی یوسف کے بھائی تھے؟۔ بنی اسرائیل نے ہارون کے سامنے بچھڑے کو معبود بنایااور موسیٰ سے کہا تھا کہ” تم خود اور تمہارا رب دونوں ان سے لڑو ، بیشک ہم یہاں بیٹھے ہیں”۔

دورابراہیم میں قوم لوط پر عذاب آیا۔حضرت ہود و صالح کی قوموں اور کئی انبیاء کا ذکر قرآن میں ہے اور کئی کا نہیں ہے۔
دورنبویۖ سے پہلے مسخ شدہ ادیان سے لوگ بیزار تھے۔ ایک طرف کہتے کہ یہودونصاریٰ کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گامگر پھر بنیادوں کو ہلانے تک ایکدوسرے سے دشمنی تھی اور حضرت عیسیٰ کی انتہائی توہین اور انتہائی عقیدت میں غلو کا شکار تھے۔ جیسے شیعہ سنی یا بریلوی دیوبندی یا حنفی اور اہل حدیث ہیں۔ اسلام نے یہود ونصاریٰ کی خواتین سے مسلمانوں ہی کی طرح نکاح کی اجازت دی اور کٹرمذہبی پن کی چوتڑ کا خاتمہ کیا۔

جاہل سوتیلی ماں کو بیوی اور لے پالک کی بیوی سے نکاح جائز نہیں سمجھتے تھے۔ اندازہ کریں کہ سورہ احزاب میں فرمایا: ”اے نبی! اللہ سے ڈر اور کافروں ومنافقوں کے پیچھے نہ چل۔ بیشک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور اس کی اتباع کر و جو تیرے رب نے تیری طرف بھیجا ہے۔ بیشک اللہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو اور اللہ پر توکل کرو اور اللہ کی وکالت کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا ہے جن سے تم ظہار کرتے ہو اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارے بیٹے بنایا ہے۔ یہ محض تمہاری اڑائی ہوئی باتیں ہیں۔ اللہ حق کہتا ہے اور راستہ بتایا ہے”۔

یہ کس قدر نزاکت خیز معاملہ تھا؟۔ رسول اللہۖ پر کفاراور منافقین کی اتباع نہ کرنے کی وحی نازل ہوئی تویہ ملحدیا سیکولر طبقہ نہیں تھا بلکہ مذہبی طبقات ہی تھے۔ آج کے مذہبی طبقات نے پھر دورِجاہلیت سے بھی زیادہ جاہلانہ مذہبی حساسیت بنائی ہے۔

سورہ مرسلات میں ہواؤں نہیں بلکہ دین کی نشر و اشاعت کے ذریعے میں دنیا میں طوفان برپاہونے کا معاملہ تھا لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے نہیں سمجھا کہ یہ انقلاب انکے خلاف تھا۔

”جب وہ لوگ تم پر تمہارے اوپر کی طرف اور نیچے کی طرف سے چڑھ آئے اور تمہاری آنکھیں پتھراگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آئے۔ اس موقع پر اللہ نے مؤمنوں کو آزمائش میں ڈال دیا۔ وزلزلزلوا زلزالًا شدیدًا اور سخت ہلا دئیے گئے اور جب منافقوں نے کہا اور جن کے دلوں میں مرض تھا کہ ہمارے اللہ اور اس کے رسول نے وعدہ نہیں کیا مگر دھوکہ ۔ (احزاب:11)
شدید زلزلوں سے مراد زلزلہ نہیں بلکہ دشمنوں نے انہیں گھیر لیا تھاتو منہ کو کلیجہ آیا۔منافقین اور جنکے دلوں میں بیماری تھی وہ اللہ اور رسولۖ کے خلاف موقع پاکر بکنے میں مشغول ہوگئے۔

سورہ مرسلات میں ہوائیں مراد نہیں ہوسکتی ہیں بلکہ دین حق کے پیغامات سے طوفان آیا۔ قیصر روم نے ابوسفیان سے مکالمہ کیا تو وزراء سے کہا کہ ہمارا تخت انکے قدموں کے نیچے ہوگا۔ نجاشی نے اسلام کی تائید کی۔ مذہبی طبقات اپنے مفادات کی وجہ سے باطل مذہبی مسائل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔

والمرسلات عرفًاOفالعاصفات عصفًاOالناشرات نشرًاOفالفارقات فرقًاOفالمقیات ذکرًاOعذرًا او نذرًاOانما توعدون لواقعO

مروجہ ترجمہ”ان ہواؤں کی قسم جو نفع پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہیں ۔ جو تندی سے چلتی ہیں۔ جو بادلوں کو پھیلاتی ہیں۔جو بادلوں کو متفرق کرتی ہیں۔ جو اللہ کی یاد کا القا کرتی ہیںالزام اتارنے یا ڈرانے کیلئے، جن کا تم سے وعدہ ہے وہ ضرور لانے والی ہیں”۔

حالانکہ منکر کے مدمقابل معروف:درست ترجمہ ۔ ”قسم ہے اسلامی معروف پیغامات کی ۔پھر ان سے طوفان مچ گیا۔پھر اس کی نشریات نشر ہوئیں۔پھر حق اور باطل میں فرق واضح ہوا۔پھر قرآن کیلئے ملنا جلنا ہوا، جس نے عذر داری ختم کی اور آخرت سے ڈرایا۔ بیشک جس کا تم سے وعدہ ہے واقع ہوگا”۔ معروف و منکر میں تمیز نہ ہو تو اجنبی ہے۔ آج پھروہی صورتحال بن گئی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بدترہے۔ فتح مکہ، قیصر وکسریٰ کی سپر طاقتوں کو فتح کرنے کی خبر سچ ثابت ہوگئی۔ پھر اس سے بڑے انقلاب کی خبر ہے۔مجھے2018ء میں شاباتی ملک نے کہا کہ آپ کی وجہ سے طلاق کا مسئلہ عوام سمجھ گئے ۔ پھر جنجال گوٹھ کراچی سے ایک بندے نے فقط5منٹ میں طلاق کا مسئلہ سمجھ لیا۔ گومل میں ہمارے محسود پڑوسی کے خاندان کا ہے۔ سبزی منڈی کے پاس بلایا اور مسئلہ فوراً سمجھ گیا لیکن قائداعظم یونیورسٹی کے ماسٹر محسود کا بھائی مذہبی تبلیغی تھاتو دارالعلوم الاسلامیہ واٹر پمپ فیڈرل بی ایریا میں گھنٹوں سمجھایا اورنہیں سمجھ رہا تھا۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے کہا تھا کہ”85فیصد مسائل فقہ حنفی میں امام اعظم ابوحنیفہ کے خلاف ہیںاور جب تک امام مہدی علیہ السلام نہیں آتے تو مولوی شک وشبہ اور تخمین و ظن سے فتویٰ دیںگے اور جب امام مہدی آئیں گے تو ان کی بات حق اور مخالفین کی باطل ہوگی اور ہم مدارس میں امام مہدی کیلئے لشکروں کو تیار کررہے ہیں”۔

امام مہدی پر کوئی وحی تو نہیں اترے گی بلکہ ہر مسلک قرآن و سنت کا فطری دین سمجھے گا جس کو کیا یہ سمجھنے کیلئے تیار نہیں ہیں؟۔

مولانا سندھی نے مفتی رفیع عثمانی کے والد کے اساتذہ کرام سے کہا تھا کہ ” تم مہدی کے انتظار میں ہو مگر وہ آئیںگے تو تم مخالفین کی صف میںہوگے اسلئے کہ تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو امام مہدی کی بھی نہیں مانوگے”۔ شیخ الہند کے شاگرد ہزارہ کے پیر صابر شاہ سابق وزیراعلیٰ پختونخواہ کے والد مولانا سیداحمد شاہ بھی تھے ،جو کٹر بریلوی بن گئے کہ یہ ٹریک سے ہٹ گئے ہیں۔ جبکہ شیخ الہند نے آخر میں فرمایا کہ ”امت کے زوال کے اسباب دو ہیں قرآن سے دوری ، فرقہ پرستی”۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع نے لکھ دیا کہ ”حقیقت میں فرقہ واریت بھی قرآن سے دور ہونے کے سبب سے ہے ”۔

مولانا محمد الیاس بانی تبلیغی جماعت نے1926ء میں ایک اصلاح کا طریقہ کار وضع کیا۔ مقصد اللہ کے احکام اور نبیۖ کے طریقوں کو زندہ کرنا تھا۔ مولانا حسین احمد مدنی نے علامہ شبیراحمد عثمانی کو خط لکھاکہ مسلم لیگ کی انگریز حمایت کرتا ہے تو علامہ شبیراحمد عثمانی نے جواب میں لکھا کہ انگریز ہمارے اچھے مقصد کی حمایت کرے تو اس کی وجہ سے ہم اپنا اچھا مقصد نہیں چھوڑ سکتے۔ تبلیغی جماعت کیساتھ بھی انگریز نے تعاون کیا لیکن اس کی وجہ سے تبلیغی کام کو نہیں چھوڑ سکتے”۔ اردو ڈائجسٹ میں یہ دونوں خطوط تفصیل کے ساتھ شائع کئے گئے تھے۔

1933ء میں مولانا انور شاہ کشمیری کا انتقال ہوا تھا فرمایا:”میں نے قرآن و حدیث کی خدمت نہیں کی اور فقہ کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی”۔ قاری شیر افضل خان کے خواب کو ان کی زندگی میں چھاپا ”رسول اللہۖ قرآن کا درس دے رہے تھے اور مولانا سید محمد یوسف بنوری اس میں شریک تھے لیکن مفتی محمود کو شرکت کی اجازت نہیں ملی”۔ مفتی محمود نے فرمایا کہ ”بنوری صاحب بڑے آدمی ہیں، ہم اسکے مقام کو نہیں پہنچتے”۔ بھائی پیر نثار شاہ مفتی محمود کی زندگی میںولی خان کی پارٹی میں تھے لیکن پھر جمعیت میں شامل ہوگئے۔ مفتی محمود کو اس نے بھی خواب میں پوچھا تھا کہ ”میری لائبریری میں سب سے اچھی کتاب کونسی ہے؟ مفتی محمود نے قرآن اٹھایا کہ یہ سب سے اچھی کتاب ہے”۔
ایک تبلیغی نے اسٹیج پر خواب سنایا کہ ”مفتی محمود نے بتایا کہ مجھے زندگی میں پتہ ہوتا تو سیاست کی جگہ تبلیغی کام کرتا” تو حاجی محمد عثمان نے اسٹیج پر جاکر اعلانیہ اس کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ ” مفتی محمود نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کیا،ہم سارے تبلیغی بھی اس کے پیروں کی خاک کو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ جھوٹے خوابوں سے لوگوں کو گمراہ مت کرو”۔
حاجی عثمان پر فتوے لگنے کے بعد میں نے خواب میں حاجی امداداللہ مہاجر مکی کو دیکھا جو مجھے دیکھنے کیلئے تشریف لائے تھے مگر مجھے دلچسپی نہ تھی لیکن ایک اور خواب بڑا عجیب لگا کہ” ایک جدید ترین نئی گاڑی ہے۔70،80کے قریب افراد ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ بہت بڑے بڑے کٹ تھے ۔ پہاڑ میں گاڑی چلتے ہوئے بھرائی سے روڈ کے کارپٹ تک سب کام آٹومیٹک کررہی تھی۔ حاجی عثمان نے پوچھا کہ خواب میں مجھے ساتھ دیکھا تو میں نے افسوس کیساتھ کہا کہ نہیں۔ انہوں نے پھر فرمایا کہ ”تیرے لئے یہ70،80بھی کافی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ تیری وجہ سے صدیقین کی جماعت پیدا کردے گا اور سورہ الحدید میںمصدقین کا ذکر ہے جس سے مذہبی طبقے نے صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔حالانکہ مکذبین کی ضد ہی مصدقین اور صدقین ہیں۔ سورہ مرسلات میں بار بار ہلاکت کا ذکر ہے مکذبین کیلئے۔ جس میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے۔

تکاد السماوات یتفطرن من فوقھن والملائکة یسبحون بحمد ربھم ویستغفرون لمن فی الارض الا ان اللہ ھو الغفور الرحیمO(سورہ شوری آیت5)

”قریب ہے کہ آسمان ان کے اوپر سے پھٹ جائیں۔ اور فرشتے اپنے رب کی تعریف کیساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور زمین والوں کیلئے استغفار کرتے ہیں۔ خبردار! بیشک اللہ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے”۔
فرشتے نافرمانی کو دیکھ کر اجازت مانگتے ہیں تو اللہ مقرر وقت سے پہلے اجازت نہیں دیتا تو پھر بدلتے ہیں۔ اس کی تفسیر میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا: ”فرشتے اتنی بڑی تعداد میں عبادت کرتے ہیں کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے”۔ معین اختر اور انور مقصود کی کلپ میں پاکستان آزاد ہوا، سرپھٹ گیا کو دیکھو۔لطیفے سے تفسیر سمجھ لیں۔

وماتفرقوا الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم ولولا کلة سبقت من ربک الی اجلٍ مسمی لقضی بینھم وان الذین اورثوا الکتاب من بعدھم لفی شکٍ منہ مریبٍO(سورہ شوری آیت14)

”اور انہوں نے تفرقہ نہیں کیا مگر علم آنے کے بعد باہمی بغاوت کی وجہ سے اوراگر تیرے رب کی طرف سے ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جن کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا تو وہ کتاب سے شکوک وشبہات میں مبتلا ء رہے”۔

قدقامت الصلوٰة نماز کی اقامت اور بڑی قیامت سے پہلے قرآن میں مہدی کی قیامت ہے۔ قوم پر عذاب آتا ہے تو یہ بھی الساعة ،قیامت اور یوم الدین ہے۔ مکافات عمل سے قوم میں تبدیلی آتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق مہر کے اندر شوہر کی آدھی جائیداد کی تجویز رکھی ہے لیکن پہلے مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ جلد دوم میں فتوؤں کی جہالتوں پر نوٹس لیا جائے۔ نابالغ بچیوں کیساتھ نکاح، خلع اور نکاح کے بعد جس طرح کے مظالم کئے گئے ہیں کوئی عقلمند شخص سوچ بھی نہیں سکتا ہے۔ مفتی عصمت اللہ جامعہ دارالعلوم کراچی میں طلاق کے مسائل کا جواب دینے سے دستبردار ہوگئے تو ایک شخص نے وہاں مفتی عصمت اللہ کا فتویٰ مانگا تو کسی اور طالب علم عصمت اللہ کے نام پر فتویٰ دیا لیکن یہ جھوٹ اور خیانت کب تک چلے گی؟۔

سورہ مرسلات میں ستاروں اور پہاڑوں کا ذکر ہے، میرے استاذ مولانا شیرمحمد امیر جمعیت علماء اسلام کراچی نے میرا کہا کہ مدارس پہاڑ ہیں اور یہ پہاڑوں سے ٹکراگیا۔ قرآن پہاڑ کو بھی اوتاد یعنی میخیں کہتاہے اور فرعون کو بھی اوتاد والا کہا گیا ہے۔ پہاڑ کے لنگر انداز ہونے سے زمین کو استحکام ملا ہے اور فرعونی حکومتیں دنیا میں مضبوط اقتدار کی وجہ سے پہاڑکی مانند ہیں۔ شخصیات ستارے سٹار کہلاتے ہیں۔ انقلاب کا وقت آتا ہے تو پہاڑوں جیسی حکومتوں کا تیا پانچہ ہوجاتا ہے اور ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان جیسے ستارے غروب ہوکر حضرت بلال حبشی، صیب رومی ، ابوبکر وعمر جیسے لوگ نمایاں ہوتے ہیں۔
سورہ طارق میں نجم ثاقب کا ذکر ہے ۔ طارق کا مطلب دستک دینے والا اور ثاقب کا معنی سوراخ کرنے والا۔ جیسے اللہ نے فرمایا کہ ”ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تاکہ اس کا بیجا نکالے تووہ دفعتاً مٹ جاتاہے”۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ”میرے اہل بیت میں سے ایک شخص مسلسل ضربیں مارتا رہے گا یہاں تک کہ لوگ حق کی طرف رجوع کرلیں” ۔اور یہ بھی فرمایا کہ ” حسن وحسین کی والدہ فاطمہ کی اولاد سے ایک شخص نکلے گا جو گمراہی کے قلعوں کو اور زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا”۔
ایک خواب میں مہدی کا شجرہ حضرت حسن کی اولاد سے بتایا ہے۔جس میں حسن وحسین سے دھدیال اور ننھیال کا رشتہ بتایا گیا ہے اور اس میں اوپر کی پشت میں یوسف کی طرف نسبت کا ذکر ہے اور تعبیر والے نے کہا کہ ممکن ہے کہ مختلف پشتوں میں حسن و حسین دونوں کا اشتراک ہو مگر پہلا اشتراک حسن کے بیٹے اور حسین کی بیٹی کا موجود ہے۔

کانیگرم میں ہمارا سلسلہ نسب کا جدامجدشاہ محمد کبیرالاولیائ کی اولاد میں سید یوسف شاہ کی طرف منسوب ”یوسف خیل” ہے۔ محسود میں ”یوسف خیل” بھی اپنا جدامجد کانیگرم میں یوسف شاہ بتاتے ہیں۔ بنوں میں بھی سادات ہمارے شجرہ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی بہت ہوں گے۔ میری اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن حاجی محمد عثمان نے وصیت کی تھی تو اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تحقیق کی۔ اصل چیز قرآن وسنت کا احیا کرنا ہے۔ سب آدم کی اولاد اور فضیلت تقویٰ کی ہے مگر حلالہ اور سود کی لعنت کیساتھ داڑھی یاآنسو شیطانی فریب ہے۔

سورہ مرسلات میں اللہ نے فرمایا کہ ” قصر اور زرد اونٹوں کی طرح چیزیں ان پر پھینکی جائیں گی”۔ اگر چہ میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی بھی اونٹ اور محل کی طرح ہیں لیکن معروف کی تبلیغ اور نشر واشاعت منکرات کے مقابلے میں ڈرون اور میزائل سے زیادہ طاقتور ہیں۔ سورہ مرسلات میں سورہ واقعہ کی طرح تین طرح کے لوگ ہیں۔ اللہ نے بالکل ہر چیز واضح فرمائی ہے۔

فاذا النجوم طمستOفاذا السماء فرجتOو اذا الجبال نسفتOواذا لرسل اقتتOلای یومٍ اجلتOلیوم الفصلOو ما ادراک ما یوم الفصلOویل یومئذٍ للمکذبینOالم نہلک الاولینOثم نبعھم الاٰخرینOکذٰلک نفعل بالمجرمینO

” پس جب ستارے مٹادئیے جائیں گے اور جب آسمان خوشیوں اور شادمانی سے مالا مال ہوگا اور جب پہاڑ اڑادئیے جائیںگے۔ جب فرشتوں کے مقرر کرنے کا وقت آجائے گا۔ وہ کس دن کی جلدی کرتے ہیں؟۔ فصل کے دن کی اور تمہیں کیا خبر ہے کہ یوم الفصل کیا ہے؟۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے ہلاکت ہے۔ کیا ہم نے پہلے والوں کو ہلاک نہیں کیا اور پھر ان کے پیچھے دوسروں کو کریں گے۔ اسی طرح مجرموں کیساتھ ہم سلوک کرتے ہیں”۔ (المرسلات:8سے18)

اللہ نے فرعون، نمرود اور نافرمان قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیا ہے کہ جو ان کے ساتھ ہوچکا بعد والوں کیساتھ وہی ہوگا۔ جبکہ بڑی قیامت ابھی تک نہیںآئی۔ شیعہ مہدی کا کہتے ہیں کہ عجل اللہ فرجہ الشریف اسکے ظہور کو خوشحالی اور شادمانی سے تعبیر کیا۔ فرج کا عام معنی یہی ہے اور حدیث میں آسمان کا کھل کر رحمت برسانے کا ذکر ہے۔ پہلوں پر قیامت نہیں آئی اور اب بھی نہیں آئے گی ۔ پہاڑ اور ستارے یونہی رہیںگے لیکن اقتدار اور سٹار پر قیامت ٹوٹے گی۔ مولوی مکافات عمل کی جگہ مٰلک یوم الدین کو قیامت پر ڈالے تو نمازوں میں صراط مستقیم کی بھی دل سے دعا نہیں نکلتی اور اگر درست تصور آئے تو نماز سے بھی انسان کو ہدایت ملے مگر مانگے کچھ کرے کچھ تو؟۔

ان المتقین فی ظلالٍ و عیونٍOوفواکہ مما یشتھونOکلوا واشربوا ھنیئًا بما کنتم تعملوںOانا کذٰلک نجزی المحسنینOویل یومئذٍ للمکذبینOکلواوتمتعوا قلیلًا انکم مجرمونOویل یومئذٍ للمکذبینOواذا قیل لھم ارکعوا لایرکعونOویل یومئذٍ لکمکذبینOفای حدیثٍ بعدہ یؤمنوںO

”بیشک متقی سائے و چشموں میں ہونگے اور اور پھلوں میں جو وہ چاہیں۔ مزے سے کھاؤ پیو جو تم عمل کرتے تھے ۔ بیشک ہم اس طرح نیکی کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ اس دن جھٹلانے والوں کیلئے تباہی ہے۔ کھاؤ ! چند روزہ فائدہ اٹھاؤ بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ جھک جاؤ تو نہیں جھکتے تھے۔ اس دن تباہی ہے جھٹلانے والوں کیلئے۔ اس کے بعد کس بات پر وہ ایمان لائیں گے۔ (سورہ مرسلات آیت41سے50)

فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے کے بعد بھی یہی ہوا تھا اور آج فرعونی قابض قوتوں کا دنیا سے قبضہ ختم ہو تو یہ دنیا قرآنی آیات کیمطابق جنت ہے اور ظالمو سے بھی کہا کہ کچھ دیر زندگی میں فائدہ اٹھاؤ۔ جس کا آخرت سے تعلق نہیں ہوسکتا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا تو چھوٹی سطح سے بڑی سطح تک ظالم بھی مطمئن ہوں گے اور ان کیلئے آخرت کو سدھارنے کا بھی موقع ہوگا۔

عالمی خلافت میں ہندو، یہود،نصاریٰ ، مجوسی، بدھ مت اور کسی پر ظلم نہیں ہوگا۔ گھر، محلہ، علاقہ ، شہر اور تحصیل، ضلع ، صوبہ اور ملکوںکی تباہی کا سلسلہ رکے گا۔ انسانیت کی تکمیل کیلئے جو قیامت دنیا میں قائم ہوگی، تفصیلات قرآن میں مختلف جگہوں پر بہت وضاحتوں کیساتھ موجود ہیں۔ پاکستان لیلة القدر کو آزاد ہوا۔ حاجی محمد عثمان کی خلافت لیلة القدرسے متعلق تھی اور میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ بابا سے پوچھا تو لیلة القدر کابتایا: وامتازوا الیوم ایھا المجرمون ” آج اے مجرمو! الگ ہوجاؤ”۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بھی سورہ القدر کی تفسیر میں اس خطے کی قوموں کو امامت کی بشارت دی۔

مجھ پر2006ء میں قاتلانہ حملہ اور2007میں13افراد شہیدکردئیے تھے۔پھرحاجی عثمان کے معقتدین کیخلاف فتویٰ شائع ہوا کہ ” اس نکاح کا انجام کیا ہوگا؟۔ عمر بھر کی حرامکاری اور اولاد الزنا”۔ مجھ پر1991ء میں عرفان رکشہ والے حاجی عثمان کے مریدموٹر سائیکل سے فائرنگ کررہاتھا۔ میں اس کو پکڑنے کیلئے بھاگ رہاتھا۔ اس کا بیٹا ہمارے پاس تھامگر میں نے باعزت اور باحفاظت پہنچادیا۔ بعد میں اس نے مجھ سے معافی مانگی تو میں نے اس کی بہادری پر اس کو داد بھی دی۔

انبیاء کرام کا سلسلہ ختم نبوت کی وجہ سے بند ہے لیکن اب تو قیامت کے ذریعے قرآن کے آئینہ سے انسانیت پر حجت کے اتمام کا بندوبست ہوگا۔ میں اور میرے ساتھی تو بہت کمزور ہیں لیکن اللہ ،اس کی کتاب اور اس کے رسول ۖ کی سنت میں وہ طاقت ہے جس کے ذریعے جہنم بننے والی دنیا جنت بنے گی۔

اللہ تعالیٰ قیامت سے پہلے چھوٹی قیامت برپا کرے گا ۔
وما قدراللہ حق قدرہ والارض جمیعًا قبضتہ یوم القیامة و السماوات مطویات بیمینہ سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکونOو نفخ فی الصور فصعق من فی السماوات ومن فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخرٰی فاذاھم قیام ینظروںOواشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجی ء بالنییین والشہداء وقضی بینھم بالحق و ھم لایظلمون O

”اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کا حق ہے اور زمین کو قیامت کے دن میں قابومیں لوں گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹ لوں گا۔ وہ پاک و اعلیٰ ہے جسے وہ شریک ٹھراتے ہیںاور صور پھونکا جائے گا تو بجلی کا جھٹکا ملے گا جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے لیکن جس کو اللہ چاہے۔ پھر دوبارہ بجلی کا جھٹکا ہو گا تو سب قیام کئے دیکھیں گے اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور شہداء کو لایا جائے گا اور انکے درمیان حق کیساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔(الزمر67تا69)

دنیا میں تمام مذاہب والے کے کردار کو ان کی اپنی کتابوں کو گواہ بناکر اچھے اور بروں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کو دنیا میں جزا اور سزا اپنے ماحول اور مذاہب کی بنیاد پر ہی دی جائے گی۔

وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ وارثنا الارض نتبوامن الجنة حیث نشاء فنعم اجر العاملینO

”اور وہ کہیں گے کہ تعریف اللہ کیلئے ہے جس نے اپنا وعدہ ہمارے ساتھ سچا کر دکھایااور ہمیں زمین کا وارث بنادیا ہم باغ میں جہاں بھی اپنا گھر بنالیں۔پس اللہ بہتر اجر دیتا ہے عمل کرنے والوں کو”۔ (سورہ الزمر:آیت74)

دنیا میں قبضہ مافیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ کو بھی مافیا بتایا جاتا ہے۔ اگر قبضہ مافیاز کو دنیا سے ختم کردیا جائے تو پھر یہ زمین ہی دنیا میں جنت ہے اور سودی قرضوں اور کسی کی کمائی پر ہاتھ صاف کرنے اور نظریں گاڑھنا بند ہوجائے گا۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ایرانیوں نے تہران میں پاکستان کے جھنڈے اٹھائے جبکہ انقلاب مخالف ایرانیوں نے لندن میں اسرائیل کے حق میں یہود کے ساتھ ڈانس کیا
خطایا المہدی المنتظر و خفاؤہ
ولا یأتونک بمثل الا جئناک بالحق واحسن تفسیرًا