واذا رایت الذین یخوضون فی اٰیٰتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیثٍ غیرہ واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکرٰی مع القوم الظٰلمینO
ستمبر 21, 2026
جب ان کو ہماری آیات میں غوطہ زنی کرتے دیکھوتو ان سے ہٹ جاؤ یہاں تک وہ کسی اور میں غوطہ زنی کریںاگر شیطان تجھے بھلادے تو یاد آنے کے بعدظالم قوم کیساتھ مت بیٹھو ۔68 سورہ الانعام: آیت
قرآن نے عورت کوشاندار تحفظ دیا مگر فضول بکواس سے عورت کے گرد تمام حفاظتی دیواروںکو توڑ کر حلالہ کومسلط کردیا گیا!
افمن یمشی مکبًا علی وجھہ اھدٰی امن یمشی سویًا علٰی صراطٍ مستقیمٍO
توکیا جو اپنے منہ کے بل اوندھا چلے زیادہ راہ پر ہے یاوہ جو سیدھا چلے سیدھی را ہ پر ۔(الملک آیت:22)
افلا یتدبرون القراٰن ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوافیہ اختلافًا کثیرًاO
کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے اور اگر یہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میںبہت اختلاف پاتے(النساء:22)
اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمٰی ابصارھمOافلا یتدبرون القراٰن ام علی قلوبٍ اقفالھا O
یہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی تو اللہ نے انہیں بہرا کردیا اورانکی آنکھیں اندھی کردیں، کیایہ قرآن پر غور نہیں کرتے یا انکے دلوں پر تالے ہیں۔( محمد آیت:23،24)
تدبر میں ٹھوکر نہیں لگتی اور ڈبکیوں میں حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے۔ قرآن کا ایک ہدف صلح میں تمام رکاوٹوں کا خاتمہ ہے اور دوسرا ہدف عورت کے اختیار کا تحفظ ہے۔ غوطہ خوروں نے منہ کے بل دونوں اہداف کو ضائع کردیا ہے اور علماء حق اور عوام الناس نے اگر قرن پر تدبر کیا تواللہ کے کلام سے انسانیت کی معراج پر پہنچیں گے۔
سورہ النساء آیت35، سورہ مجادلہ، احزاب، تحریم، طلاق کی ابتدائی آیات اور سورہ البقرہ آیت224سے232تک میں بار بار رجوع پر ہی زور ملے گا مگر عورت کی رضامندی کی شرط کے ساتھ اور چونکہ عورت کا اختیار وضاحتوں کے باوجود نہیں مانتے تھے توالبقرہ230سے پہلے جب واضح ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو اس کی خود مختاری کیلئے وہ الفاظ استعمال کئے جس سے آزادی کو یقینی بنایا اور جب بھی عورت راضی نہ ہو تو یہی حکم ہے مگر افسوس کہ عورت راضی ہوتی ہے تب بھی لگادیا ہے۔
واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ والیوم الاٰخر ذٰلکم ازکٰی لکم واطھر واللہ یعلم وانتم لا تعلمونO
”اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو مت روکو جب وہ اپنے شوہروں سے نکاح قائم دائم رکھنا چاہتی ہوں ، جب وہ معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں ۔یہ اس کیلئے وعظ کا ذریعہ ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ۔یہی ہے جو تمہارے لئے زیادہ تزکیہ ہے اور زیادہ پاکیزگی ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو”۔ (سورہ بقرہ:232)
اگر کوئی شیعہ ، اہل حدیث، حنفی ، پرویزی، غامدی یا کوئی بھی طبقہ کسی بھی مرحلے پر اور کسی بھی وجہ سے یہ کہتا ہے کہ اس صورت میں باہمی رضامندی کے باوجود بھی رجوع نہیں ہوسکتا ہے تو وہ لعنتی ہے اور اندھا بہراہے۔
کیا اللہ کی بات میں تضاد اور اختلاف ہوسکتاہے؟۔ بالکل بھی نہیں ہوسکتا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ نے سمجھادیا۔
اللہ نے ایک پس منظر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اتیتموھن شیئًا الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدوداللہ فاولٰئک ھم الظٰلمونOفان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ …(البقرہ:229،230)
”یا اس کو احسان کیساتھ رخصت کرواور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔مگر جب دونوں کوخوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اوراگر تمہیں خوف ہو کہ اگر وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیںگے تو پھر عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوںپر کوئی حرج نہیں یہ اللہ کی حدود ہیں تو ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیںپھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ البقرہ:(229،230)
یہ وہ صورت ہے کہ جب دو مرتبہ طلاق کے بعد پھر تیسری مرتبہ معروف رجوع نہیں کیا بلکہ تیسری مرتبہ کی طلاق کا فیصلہ کیا ۔ جس کے بعد کوئی چیز واپس نہیں لے سکتے۔مگر کوئی چیز جس پر دونوں اور فیصلہ کرنے والے متفق ہوں کہ وہ چیز واپس نہ کی گئی تو رابطے کا ذریعہ بنے گا اور جنسی تعلق سے اللہ کی حدود توڑ دیں گے۔ اسلئے وہ چیز عورت اپنی طرف سے فدیہ کرسکتی ہے تو اس صورت میں کنفرم ہوگیا کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو اس کو تحفظ دینے کیلئے یہ حکم ہے کہ دوسرے سے نکاح کئے بغیر پہلے کیلئے حلال نہیںتاکہ عورت کو بھرپور تحفظ ملے مگر معروف رجوع ہو تو آیت231،232،228اور229میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد بغیر حلالہ کے رجوع بہت ہی اچھی طرح واضح ہے۔ کمال نہیں بہت بڑے زوال کی بات ہے کہ جہاں پر اللہ نے یہ واضح کردیا کہ دو مرتبہ طلاق کے بعد معروف رجوع کے بجائے تیسری مرتبہ احسان کیساتھ رخصت کرنے کا فیصلہ کیا۔ احسان کا معنی عورت کو اس تیسری مرتبہ کی طلاق میںاسکے حق سے زیادہ مال دینا۔ اور پھر یہ واضح کردیا کہ ”جو کچھ بھی دیا ہے تواس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں ہے”۔ سورہ النساء آیت19میں خلع کے اندر بھی عورت کو مالی تحفظ دیا گیا ہے اور سورہ النساء آیت20میں طلاق کے اندر عورت کو بہت زیادہ مالی تحفظ دیا گیا اورآیت229میں خلع کا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے اور جب اللہ نے عورت کو مالی تحفظ دیا اور اس کو خلع میں بدل کر بلیک میلنگ کا ذریعہ بنادیا گیا ہے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہے اور دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ اللہ عورت کو اس وقت اپنی مرضی سے جہاں چاہے نکاح کا تحفظ دینے کی وضاحت کررہاہے جب وہ رجوع کیلئے راضی نہ ہوتو اس پر الٹا حلالہ کی لعنت کو بطور سزا مسلط کیا جارہاہے۔
قرآن کی آیات پر تدبر کیا جائے تو پوری انسانیت کیلئے اس سے بڑا تحفہ دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ یہ مسلمانوں کیلئے نہیںہے بلکہ عالم انسانیت کیلئے ہے۔ اس میں حلال وحرام واضح ہیں۔
جب رسول اللہ ۖ نے حضرت ماریہ قبطیہ اپنے اوپر حرام قرار دی تو اللہ نے فرمایا:
یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیمOقد فرض اللہ لکم تحلة ایمانکم وللہ مولٰکم وھو العلیم الحکیم (سور ہ التحریم آیت1،2)
”اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اپنی ازواج کی رضا جوئی کیلئے اور غفور رحیم ہے ۔ بیشک اس نے تمہاری طرف سے بیوی کو حرام کرنا حلال ٹھہرادیا ہے۔ وہ تمہارا مولانا ہے وہ علیم حکیم ذات ہے”۔
حرام کا لفظ ایک نمائندہ ہے ان تمام الفاظ کا جن کی وجہ سے بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دینے کے مذہبی مسائل رائج تھے۔
ولا تجعلوا اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا و تتقوا و تصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیم O
”اور اللہ کو رکاوٹ کا ذریعہ مت بناؤ اپنے اوپر بیویوں کے حرام قرار دینے کے الفاظ کیلئے کہ تم نیکی،تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کراؤ ۔اور اللہ سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ:224)
جو سورہ تحریم میں اللہ نے واضح کیا ہے وہی یہاں طلاق کا مقدمہ سمجھانے کیلئے ایک بنیادی اہمیت کا حامل بنادیا ہے۔یہی چیز وضاحتوں کیساتھ آیت232البقرہ تک بہت سلیس انداز میں پہنچادی ہے۔علماء حق اور قارئیں صرف تدبر کریں۔ کیونکہ اللہ نے صلح کا دروازہ بند کرنے کا کوئی طریقہ نہیں چھوڑاہے۔
لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیمOالبقرہ:25
”اور اللہ تمہیں نہیں پکڑتا ہے تمہارے لغو یمین سے لیکن وہ تمہیں پکڑتا ہے بسبب جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے”۔
اللہ نے یہاں بیوی کو حرام قرار دینے والے تمام الفاظ کو لغو قرار دے دیا ہے لیکن دل کے گناہ سے پکڑنے کو واضح کردیا۔
سورہ مجادلہ میں ظہار کا فرمایا
انھم یقولون منکرًا من قول الزورًا
”بیشک وہ منکر جھوٹا قول بولتے ہیں”۔ سب سے سخت ترین طلاق یہی تھی لیکن اس میں بھی رجوع واضح کردیا۔
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاء وا فان اللہ غفور رحیم O(سورہ البقرہ:226)
” جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کرتے ہیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے تو اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے”۔
یہ ایلاء وہ ناراضگی ہے جس میں طلاق کا اظہار نہیں ہے تو اس میں طلاق کے مقابلے میں ایک ماہ زیادہ انتظار ہے لیکن اس میں بھی اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تو رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ یہی وہ تدبر کا نتیجہ ہے کہ ایک طرف یہ مذہبی تصور ختم کردیا کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔تو دوسری طرف عورت کا حق بھی واضح کردیا کہ اس کی مرضی کے بغیر رجوع نہیں ہے۔
رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا تو29دن میں رجوع فرمایا تو اللہ نے امت مسلمہ پر واضح کرنے کیلئے حکم دیا کہ تما م ازواج پر واضح کردو کہ علیحدگی کا اختیار عورتوں کے پاس اللہ نے گروی رکھا دیا ہے۔ مرد نے پہل کی اور عورت کو اختیار اللہ نے دیدیا۔
پوری دنیا نے عالم انسانیت کو یہ حقوق قرآن کے فیوضات سے دئیے ہیں لیکن مسلمان خود اس سے محروم ہوگیا ہے۔ اسلئے کہ وہ اللہ کی آیات میں ڈبکیاں لگانے والوں کے آسرے پر بیٹھ گیا ہے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ چار ماہ کے بعد بھی عورت اس نکاح کے بندھن میں ہے اور دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ چار ماہ گزر گئے تو نکاح باقی نہیں رہاہے ۔ اب دونوں طبقات غوطہ زن ہیں کہ اپنے اپنے حق میں دلائل کے آکٹوپس (اخبوط ، ہشت پا) تلاش کریں لیکن عورت حیران ہے کہ اس کا نکاح باقی ہے یا پھر وہ اس سے نکل چکی ہے؟۔ علامہ ابن قیم اور دوسرے حضرات لنگوٹ باندھ کر امام ابوحنیفہ کے خلاف کھڑے ہیں کہ نکاح کو قرآن نے باقی رکھا ہے۔ احناف کے نزدیک نکاح نہیں رہا۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق کا تحفظ کیا ہے مگر فقہاء نے چوراہے پر عورت کو کھڑا کردیا کہ کیا کرے؟۔اللہ نے فرمایا:
وان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیم O
”اور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو اللہ سمیع علیم ہے”۔ (البقرہ:27)
اللہ نے ایک طرف تو معاملہ اتنا واضح فرمایا ہے کہ اگر ایلاء میں نیت طلاق کی تھی تو یہ دل کا گناہ ہے جس کو اللہ سنتا جانتاہے اور اس پر شوہر کی پکڑہوگی اسلئے کہ پھر اظہار کرنا چاہیے تھا تاکہ عورت 4ماہ کی جگہ پر3 ماہ کی عدت گزار کر فارغ ہوجاتی۔ اور اس لئے اسکے دل کا گناہ قابل گرفت قرار دیا ہے اوردوسرا یہ بھی نہیں فرمایا کہ نکاح ختم ہوگیا کیونکہ یہ عورت کا حق ہے اس کی مرضی ہے کہ عدت کے بعد بھی رجوع کیلئے راضی ہے یا نہیں؟۔ اگر وہ راضی نہیں ہے تو یہ عدت ہے اور نکاح ختم ہے لیکن اگرعورت نکاح باقی رکھنا چاہتی ہے اور شوہر بھی باقی رکھے تو پھر نکاح بھی باقی ہے۔ اختلاف کرنے والوں نے قرآن پر تدبر کیا ہوتا تو پھر ان تضادات تک نوبت نہیں پہنچ سکتی تھی۔
اللہ نے قرآن میں بیوہ کو بھی عدت4ماہ10دن کے بعد اختیار دیا ہے کہ وہ نکاح باقی رکھنا چاہتی ہے یا کسی اور کیساتھ نکاح چاہتی ہے۔دونوں معاملے میں آزاد وخودمختار ہے لیکن فقہاء نے یہاں تک معاملہ پہنچادیا ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی فوت ہوجائے تو دوسرے کو اجنبی بنادیتے ہیں۔حالانکہ حضرت ابوبکر کی میت کو آپ کی زوجہ نے غسل دیا اور حضرت فاطمہ کی میت کو حضرت علی نے غسل دیا۔ حکومت بھی بیوہ کے سرکاری پینشن کو اس وقت تک جاری رکھتی ہے کہ جب تک وہ کسی اور سے نکاح نہیں کرلیتی ہے۔
والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ و لا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا و لھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO
”اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین ادوار تک انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے پیٹ میں پیدا کیا ہے اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح چاہتے ہوں اور ان عورتوں کیلئے وہی حقوق ہیں جو ان پر ان کے شوہروںکے معروف کے ساتھ ہیں۔ اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے”۔ البقرہ:228
اس آیت میں طلاق کا مثالی روڈ میپ ہے۔ عدت تک انتظار کی پابندی اور شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا زیادہ حق اور عورت کو رجوع سے انکار کا معروف حق ۔ ایک طرف حلالہ کا تصور ختم کردیا تو دوسری طرف عورت کو بھی تحفظ دے دیا اسلئے کہ خلع کے مقابلے میں طلاق کے حقوق زیادہ ہیں۔عورت اگر رجوع کیلئے معروف طریقے سے راضی نہیں تو رجوع بھی حرام ہے اور رجوع کیلئے کسی قسم کا دباؤ ڈالنا بھی حرام ہے۔ باہمی صلح کیلئے مولوی یا عدالت کے پاس جانا بھی غلط ہے اسلئے کہ بیوی راضی ہو تو شوہر رجوع کا زیادہ حق دار ہے۔ عورت راضی نہیں تو ایلاء ہو، ایک طلاق ہو ، تین طلاق ہویا حرام کا لفظ شوہر کیلئے پھر کسی صورت رجوع جائز نہیں ہے۔ حضرت عمر نے تین طلاق اور حضرت علی نے حرام کے لفظ پر اسلئے رجوع کے حرام ہونے کا فیصلہ دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی۔ اور عورت کے راضی ہونے کے باوجود رجوع کو ناجائز کہنا اور حلالہ مسلط کرنا انتہائی گھناؤنی حرکت ہے۔ اسلئے قرآن میں تدبر نہیں کیا ہے اور ڈبکیاں کھاکر سارا کام بگاڑ دیا ہے۔
الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ چھوڑ دینا ہے”۔ البقرہ :229
یہ اس عدت میں تین مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے جو228البقرہ میں تین مراحل بیان ہوئے ہیں۔ رجوع کیلئے یہاں بھی وہی معروف کی شرط ہے اور تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل سے ہے۔ مرحلہ وار تین طلاق کے بعد بھی رجوع میں عدت کے اندر کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور عدت کی تکمیل کے بعد بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ سورہ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی واضح ہے اور سورہ بقرہ کی ان تمام آیات میں بھی واضح ہے اورسورہ بقرہ کی آیت230کا تعلق اس صورت سے ہے جب عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور اگر معروف طریقے سے وہ رجوع کیلئے راضی ہو تو آیت231میں رجوع واضح ہے۔
غور وخوض دو الفاظ ہیں۔ غور کا معنی تدبر اور قرآن کی آیات بینات کا واضح مفہوم سمجھنا ہے اور خوض ڈبکی لگانا جس میں ظاہر الفاظ کو چھوڑ کر منہ کے بل غوطہ لگانا ہے۔
عبداللہ بن مسعود وفات33ھ نے فرمایا کہ
تعلم العلم قبل ان یقبض وقبضہ ان یذھب اھلہ و علیکم بالعلم فان احدکم لایدری متی یفتقر الی ما عندہ وایاکم التبدع وایاکم التعمق وعلیکم بالعلم و علیکم بالعتیق
(سنن دارمی عصر حاضر حدیث نبوی ۖ کے آئینہ میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید )
”علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ قبض ہوجائے اور قبض ہونا اس کا یہ ہے کہ اسکے اہل رخصت ہوجائیں۔ تمہیں کسی کو یہ پتہ نہیں کہ کب اس کی ضرورت پیش آجائے جو اسکے پاس ہے اور خبردار ! بدعات سے دور رہو اور خبردار ! غوطہ خوری سے دور رہو اور تم پر علم کی اتباع لازم ہے اور تم پر عتیق کی اتباع لازم ہے”۔
معروف کی جگہ فقہاء نے غوطہ خوری سے منکر رجوع کے بدعات سے مسلمانوں کاماحول متعفن کردیا۔ اکٹھی تین طلاق کو سنت وبدعت کے غوطے کھلائے اور باہمی رضامندی میں بھی حلالہ کی لعنت مسلط کردی۔ حالانکہ سورہ طلاق کے مطابق کوئی مرحلہ وار طلاق دے اور عدت کے آخر میں معروف رجوع کی جگہ معروف طریقے سے چھوڑ دے تو عادل گواہ بھی مقرر کرے تو مدتوں بعد نبیۖ نے اپنے خاندان کے رکانہ کے والدین کو سورہ طلاق تلاوت فرماکر رجوع کی وضاحت فرمادی۔
بخاری نے بنوقریظہ کے افرادسے حلالہ مسلط کرنے کی حماقت کی۔ من اجاز الطلاق الثلاث عربی بھی غلط ہے اور اس کے تحت آیت اور حلالہ کا واقعہ درج کرنا بھی غلط ہے۔
الحمد للہ الذی خلق السمٰوٰت والارض و جعل الظلمٰت و النور ثم الذین کفروا بربھم یعدلونOھو الذی خلقکم من طینٍ ثم قضٰی اجلًا واجل مسمًی عندہ ثم انتم تمترونOو ھواللہ فی السمٰوٰ ت و فی الارض یعلم سرکم و جھرکم ویعلم ماتکسبونOو ماتأتیھم من اٰیة من اٰیٰات ربھم الا کانوا عنھا معرضینOفقد کذّبوا بالحق لما جاء ھم فسوف یأتیھم انبٰؤا ما کانوا بہ یستھزء ونO(سورہ انعام:1تا5)
”تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا پھر جنہوں نے کفرکیااپنے رب سے عدل کرنے لگے۔ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر مہلت دی اور مقررہ میعادپر انقلاب اسکے پاس ہے پھر تم شک کرنے لگتے ہواور وہ اللہ آسمانوں میں اور زمین میں ہے جانتا ہے تمہاری ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور جانتا ہے جو تم کماتے ہو اور کوئی آیت انکے پاس انکے رب کی آیات میں سے نہیں آتی مگر یہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔پس انہوں نے حق کو جھٹلایا جب بھی ان کے پاس آیا اور عنقریب ہم ایسی خبریں دیںگے جن کے ساتھ یہ مذا ق اڑائیں گے” ۔
ولو نزلنا علیک کتابًا فی قرطاسٍ فلمسوہ بایدیھم
اور اگر ہم کتاب کو کاغذ میں نازل کرتے اور یہ اپنے ہاتھوں سے چھوتے توبھی کافر لوگ کہتے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔(انعام:آیت7)
قل ای شی ئٍ اکبر شھادةً قل اللہ شھید بینی و بینکم واوحی الی ھٰذا القراٰن لانذرکم بہ ومن بلغ ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھة اخرٰی قل لا اشھد قل انما ھوالہ واحد واننی بری ء مما تشرکونO
”کہہ دو کہ کیا چیز بڑی گواہی ہے؟،کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی ہوا ہے تاکہ اسکے ذریعہ تمہیں میں ڈارؤںاور جس (امام مہدی) تک قرآن پہنچا۔تم اللہ کیساتھ دوسری شخصیات کو الٰہ بنابیٹھے۔ (سودکو حلال اور حلالہ میں عزتیں پامال کرنے والی)کہہ دو میں گواہی نہیں دیتا ،الٰہ ایک ہے اور میں تم سے بری الذمہ ہوں جو تم نے خدائی احکام کیساتھ شریک کیا ہے”۔ (انعام:19)
آیت میں ہر وہ شخص مراد ہے جس کا کردار گمراہی کا نہیں بلکہ قرآن سے ہدایت لیکر اتمام حجت کا کام کررہا ہو۔
الذین اٰتینٰھم الکتٰب یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم الذین خسروا انفسھم فھم لایؤمنونOمن اظلم ممن افترٰی علی اللہ کذبًا او کذّب باٰیٰتہ انہ لایفلح الظٰلمونO
”جن کو ہم نے کتاب دی یہ قرآن کے داعی کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں جنہوں نے خود کو خسارہ میں ڈالا تو وہ ایمان نہ لائیں گے اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر افتراء کیا یا اسکی آیات کو جھٹلایا بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے”۔(انعام:20،21)
جو بھی انقلاب کیلئے اٹھے گا اور اس کی باتیں درست ہوں گی تو باطل اس کو اچھی طرح پہنچانتے ہوں گے۔
ویوم نحشرھم جمیعًا ثم نقول للذین اشرکوا این شرکاؤکم الذین کنتم تزعمونOثم لم تکن فتنتھم الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکینOانظر کیف کذبوا علی انفسھم و ضل عنھم ما کانوا یفترونO(سورہ الانعام: آیات22،23،24)
”اس دن (انقلاب یوم عظیم) ہم سب کو جمع کریںگے پھر کہیں گے جنہوں نے شریک کیا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں؟ جن کا تم زعم رکھتے تھے۔ پھر اس دن ان کا فتنہ نہیں ہوگا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ ہم مشرک تو نہیں تھے۔دیکھو اپنے اوپر کس طرح کا جھوٹ باندھتے ہیں اور جو افتراء کرتے تھے وہ بھول گئے”۔
ان اللہ لایستحی ان یضرب مثلًا ما بعوضةًفما فوقھا فاماالذین اٰمنوا فیعلمون انہ… البقرہ:26،27
بیشک اللہ نہیں شرماتا کہ مچھر کی مثال دے یا اس سے اوپر کی ،پس تو مسلمان جانتے ہیں کہ حق انکے رب کی طرف سے ہے اور کافر کہتے ہیں کہ اللہ کا اس مثال سے ارادہ کیا ہے۔ بہت کواسکے ذریعے گمراہ کرتا ہے اوربہت کو ہدایت دیتا ہے اور اس سے گمراہ نہیں ہوتے مگر فاسق جو اللہ سے میثاق کے بعد اپنا عہد توڑ تے ہیںاور کاٹے ہیں تعلق جسے اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا اور زمین میں فساد کرتے ہیںیہی لوگ خسارے میں ہیں”۔
اللہ نے قرآن میں شوہر اور بیوی میں باہمی رضاسے صلح کرنے کی ترغیب دی مگر خانہ سازمسائل سے حلالہ کی لعنت اور اس تعلق کو توڑنے کیلئے شیطانی قلعہ کے مفتی فتویٰ دیتے ہیں۔
واذ قال ربک للملٰئکة انی جاعل فی الارض خلیفة قالو ا اتجعل فیھا من یفسد فیھا و یسفک الدماء و نحن نسبح بحمد ک ونقدس لک قال انی اعلم مالا تعلمونO(البقرہ:30)
”اور جب تیرے رب نے ملائکہ سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا اس کو بنائے گا جو زمین میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔اور ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں تیری تعریف کے ساتھ۔تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ فرمایا: بیشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”۔
یہ خلافت کی کہانی ہر دور میں سطح زمین پر دہرائی گئی۔ میں نے اپنی کتابوں میں قرآنی آیات کو بالکل واضح کیاتھا۔
انا انزلنا التورٰ ة … ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاؤلٰئک ھم الکٰفرون
”اورہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور نور تھااور اسکے مطابق وہ انبیاء جو اسلام لائے فیصلہ کرتے تھے ہدایت پانے والوں کیلئے اور مشائخ و علماء کیلئے بسبب جو اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے اور اس پر گواہ ۔ پس تم لوگوں سے مت ڈرو اور تم لوگ مجھ سے ڈرو۔اور میری آیات کے بدلے تھوڑی قیمت وصول مت کرو۔اور جو میرے حکم پر فیصلہ نہیں کرتا تو وہی لوگ کافر ہیں”۔(المائدہ:44)
دارالعلوم کراچی کا معاوضہ لیکر سود کو اسلامی قرار دینا۔ ابویوسف کا بادشاہ کیلئے اسکے باپ کی لونڈی کیساتھ جنسی تعلق کو جائز قرار دینا۔پھر یہی دین فروش منبر پر بیٹھ کر جاہل خطیب کافر، ظالم ، فاسق کا فتویٰ حکمرانوں اور عوام پر لگاتے تھے اسلئے طالبان نے اسلام سمجھ کر کسی ہدف کے بغیرخود کش حملے کئے تھے
سورہ المائدہ آیت45میں عدل نہ کرنے پر حکمران طبقہ پر ظالم اور آیت46اور47عوام پر فاسق کا فتویٰ لگایا گیاہے۔
مولانا عبدالکریم بیر شریف مرکزی امیر جمعیت علماء اسلام ، پروفیسرشاہ فرید الحق جمعیت علماء پاکستان ، پرنسپل جامعہ بنوری ٹاؤن صدر وفاق المدارس امیر مرکزیہ عالمی مجلس ختم نبوت ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ،امیر غرباء مولانا عبدالرحمن سلفی، پروفیسر غفور احمد جماعت اسلامی، ڈاکٹر اسرار ،علامہ شفاعت رسول نوری، علامہ حسن ظفر نقوی، ملک بھر کے چھوٹے بڑے علماء ، ٹانک سے پشاور تک مذہبی جماعتوں کے ضلعی وصوبائی رہنماؤں نے تائید کی مگر مفتی تقی عثمانی نے ڈھٹائی دکھائی۔ جب ہمارے13افراد کو شہید کیا گیا تو تحریک طالبان سمیت سبھی نے مذمت کی لیکن مفتی تقی نے فوراً بعد فتاویٰ عثمانی جلددوم میں انتہائی غلط ، غلیظ اورگھناؤنا فتویٰ بھی شائع کردیا۔
واتل علیھم نباابنی اٰدم بالحق اذقربا قربانًا فتقبل من احد ھما و لم یتقبل من الاٰخر…. کیف یواری سؤء ة اخیہ قال ….الذین تابوا من قبل ان تقدروا علیھم فاعلموا ان اللہ غفور رحیمO
”آپ ان کو آدم کے دو بیٹوں کی خبر پڑھ کر سنائیں حق کے ساتھ۔ جب انہوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔… (قابیل نے ) کہا: ہائے مجھ پر افسوس کیا میں اس کوے کی مانند بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا۔ … بیشک بدلہ ان کا جولوگ لڑتے ہیں اللہ اور اسکے رسول کیساتھ اور زمین میں فساد ی دوڑ دھوپ کرتے ہیں کہ ان کو قتل کیا جائے یا پھانسی پر لٹکایا جائے یا انکے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دئیے جائیں یا زمین سے نکال کر دور جیل میں رکھا جائے۔ یہ ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بڑا ہے۔ مگر جن لوگوں نے توبہ کیا اس سے پہلے کہ تم لوگ ان پر قابو پالو۔پس جان لو کہ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے”۔( المائدہ آیت:27تا34)
یخرج الحی من المیت و یخرج المیت من الحی و یحی الارض بعد موتھا و کذٰلک تخرجون O
”وہی مردے سے زندہ نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ نکالتا ہے اور زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد اور اسی طرح تم نکالے جاؤگے”۔(سورہ الروم آیت:19)
قرآن میں حضرت آدم و حواء کی شرمگاہوں کو بھی سوء اة کہا گیا ہے اور ہابیل کی لاش کو بھی سو ء ة کہا گیا ہے۔ جب تک شرمگاہوں میں عوام کے ذریعے تحریک پیدا نہیں کی جائے تویہ مردہ لاش کی طرح ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی بھڑک بازیوں کا دور ہے اسلئے بے حیائی، جبری جنسی زیادتی اور معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جارہاہے۔ تعلیم وتربیت کیلئے حاجی عثمان کی طرح شخصیات اور تربیت گاہوں کی سخت ضرورت ہے۔ مفتی تقی عثمانی اگر حلال خون کا ہے تو سوالنامہ میں حاجی عثمان کے معتقدکا حال اور اپنا جواب شائع کریں۔
ومنھم من یستمع الیک و جعلنا علیٰ قلوبھم اکنة ان یفقھوہ و فی آذانھم وقرًا وان یروا کل آیة لایؤمنوا بھا حتی اذا جاء وک یجادلونک یقول الذین کفروا ان ھٰذا الا اساطیر الاولین O
”اور ان میں سے بعض تمہاری طرف سننے میں دلچسپ ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ رکھ دیا اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کیا ہے اگر ہرآیت بھی دیکھ لیں تو ایمان نہیں لائیں گے۔ یہاں تک کہ تمہارے پاس آئیں اور آپ سے لڑیں کافر لوگ کہتے ہیں یہ تو پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں”۔ (انعام:25)
وھم ینھون عنہ وینأون عنہ وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون O
”اور وہ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں اور یہ ہلاک نہیں کرتے مگر اپنی جانوں کو اور شعور نہیں رکھتے ہیں”۔ (انعام:26)
ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار فقالوا یالیتنا نرد ولانکذب بآیات ربنا ونکون من المؤمنین O
”اور جب تم دیکھو کہ گولیوں کے سامنے کھڑے ہیں تو کہا کہ کاش ہم پلٹ جاتے اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کرتے اور مؤمنوں سے بن جاتے ”۔ (انعام:27)
جدید عربی میں اطلاق النار گولی چلنے کو کہتے ہیں ۔ قرآن کا ماضی ، حال اور مستقبل ایک آئینہ ہے۔ جن لوگوں کو پتہ چلے گا کہ ہمارے علماء کرام اور مفتیان عظام کو معلوم تھا کہ حلالہ بالکل نہیں ہے لیکن ان کے اعتماد پر ہم نے عزتیں لٹوائی ہیں تو کون کس کے ساتھ کیا کرے گا؟۔ گولیاں بھی چل سکتی ہیںاور ہمارا کام قرآن کی درست تعبیر سے خلوص کیساتھ آگاہ کرنا ہے۔
بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ و انھم لکاذبون O (انعام:28)
”بلکہ یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے ان پر ظاہر ہوگا اور اگر ان کو واپس لوٹا دیا جائے تو پھر یہی کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے ۔ اور بیشک یہ لوگ جھوٹے ہی ہیں”۔
یعنی آج بھی یہ جان بوجھ کر حلالہ سے عزتوں کو لوٹتے ہیں اور اگر یہ پکڑے جائیں تو حسرت کریں گے مگر جھوٹے ہیں۔
وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقًا فی الارض او سلمًا فی السماء فتاتیھم بآیة ولوشاء اللہ لجمعھم علی الھدی فلا تکونن من الجاہلینO( انعام:35)مخاطب آج کا انسان ہے۔
”اور اگر ان کی روگردانی تمہیں بہت بری لگتی ہے تو پھر اگر تمہارے بس میں ہو کہ زمین میں ان دلوں کے نان نفقہ کیلئے کچھ کرسکو یا وآسمان میں سیڑھی لگا سکو تو کوئی نشانی ان کے پاس لاؤ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو ہدایت پر جمع کرتا۔پس تم جاہلوں میں سے مت بنو”۔ یہ نبیۖ کیلئے نہیں مستقبل کیلئے تھی۔
انما یستجیب الذین یسمعون والموتیٰ یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون O
”بیشک حق وہی قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اورجہاں تک مردہ ضمیر ہیں تو اللہ نے ان کو عذاب کیلئے فٹ کرنا ہے پھر ہماری طرف لوٹنا ہے”۔(انعام:36)
والذین کذّبوا باٰیٰتنا صمّ وبکم فی الظلمٰت من یشاء اللہ یضللہ ومن یشاء یجعلہ علی صراطٍ مستقیمٍO
”اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں ۔جس کو اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر ڈال دے ”۔ ( انعام آیت39)
فلما نسوا ما ذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شیئٍ حتی اذا فرحوا بما اوتوا اخذنٰھم بغتةً فاذاھم مبلسونOفقطع دابرالقوم الذین ظلمواوالحمد للہ رب العٰلمین O
”پس جب انہوں نے بھلادیا جس کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے پھرہم نے اچانک پکڑلیا تو وہ مایوس ہوگئے۔پس ظلم کرنے والی قوم کی پچھاڑی کاٹ دی گئی اور تمام تعریفیں اللہ کیلئے جوسارے جہانوں کا رب ہے۔(انعام:44،45)
حاجی عثمان کی پیشگوئی تھی کہ مفتی تقی عثمانی کو ترقی ملے گی۔ حاجی عثمان نے25حج کئے ، سعودیہ میں6ماہ کا قیام رہتاتھا ۔ علامہ سید محمدیوسف بنوری، مولانا غلام اللہ خان، شیخ الحدیث مولانا زکریا، مفتی محمد شفیع وغیرہ کی بیگمات اور خواتین ساتھ میں ہوتی تھیں تو علامہ یوسف بنوری ان کو حاجی محمد عثمان کے ذمہ لگادیتے کہ عورتوں کیلئے یہ شخصیت بہترین ہے۔ شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان ان کو عبدالرحمن بن عوف سے تشبیہ دیتے۔ مولانا فقیر محمد حاجی عثمان کی تقریر میں وجد میں گھومنے لگتے ۔
مولانا فقیر محمد نے حاجی محمد عثمان سے درخواست کرکے ورود کی نسبت خلافت دی جس کا معاملہ اتنا دلچسپ ہے کہ یہی واحد ذریعہ ہے جو حسن بصری سے بھی حضرت علی کی خلافت بلافصل کی دلیل بن سکتی ہے ورنہ تو…؟
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ ”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں جن کی اتباع کروگے تو ہدایت پا جاؤگے”۔ امیر معاویہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص ایک فتح مکہ کے بعد اور دوسرے پھر بدری، احدی اور عشرہ مبشرہ کے صحابی تھے جس کیلئے نبیۖ نے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں”۔ایک کا بیٹا یزید اور دوسرے کا بیٹا عمر وسعد کا کردار اچھا نہیں تھا۔ مفتی شفیع کو ایک صحابی سے تشبیہ دی جائے لیکن مفتی تقی عثمانی پھر بھی کسی وجہ سے اہل حق کا دشمن ہوسکتا تھا جیسے یزید اور عمرو سعد حضرت امام حسین کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
عن ابن عباس قال : جاء رجل الی النبی ۖ فقال : ان امرأتی لاتمنع یدلامسٍ قال: غرِّ بھا ، قال: اخاف ان تتبعھا نفسی ، قال: فاستمتع بھا ”عبداللہ بن عباس نے کہا کہ ایک شخص نبی اکرم ۖ کے پاس آیا اور کہا کہ میری عورت کسی ہاتھ لگانے والے کو نہیں روکتی۔ آپۖ نے فرمایا: اسے اپنے سے جدا کردو۔ اس شخص نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دل اسی میں لگا رہے گا۔ آپۖ نے فرمایا: تو تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ”۔ ابو داؤد، کتاب النکاح ،حدیث نمبر2049۔
قال الشیخ الالبانی : صحیح، قال زبیر علی زئی۔اسنادہ صحیح
مفتی تقی عثمانی کو اپنی ماں نے حاجی عثمان کا دشمن تو نہیں بنایا اسلئے بندہ کڑک تھا۔ نوح علیہ السلام جلیل القدر پیغمبر کے حوالے سے قرآن نے واضح کیا کہ اس کا بد عمل بیٹا اس کا اپنا نہیں بلکہ سراپا غیر صالح عمل تھا تو مفتی تقی عثمانی کا سود کو جواز بخشنے سے لیکر گھناؤنے کرتوت کا صاف پتہ چلتاہے۔
ابوبکرہ اور زیاد بن ابیہ دونوں کی ماںسمیہ ثقفی تھی۔ دونوں بھائیوں کے کردار میں حلال و حرام کی طرح خون کا بھی فرق تھا اور جیسے نوح علیہ السلام کے بیٹوں کنعان اور اس کی ماں جدا تھی اور حام ، سام اور یافث اپنی والدہ کے ساتھ کشتی میں بچ گئے۔ حضرت ابوبکرہ بہت کھرے کردار کے تھے۔ مولانا ولی رازی اور مفتی تقی عثمانی میں وہی نسبت لگتی ہے جو ابوبکرہ وزیاد بن ابیہ میں تھی۔مفتی شفیع کے ایک داماد جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ وفاق المدارس کے سابق صدر مولانا ادریس میرٹھی تھے لیکن شاید یہ صاحبزادی بھی مولانا زکی کیفی کی طرح والد ین کی طرف سے رنجیدہ ہوں ورنہ تو دارالعلوم کراچی میں ہونا تھا۔
ابوبکرہ نے کہا کہ زیاد ابوسفیان کا بیٹا بن گیا ، نبی ۖ نے فرمایا: ”وہ جہنمی ہے جو اپنے باپ کا نام بدلے”۔ شخصیات کے کردار سے اللہ تاریخ کو زندہ کرتا ہے تو سب سمجھ میں آتا ہے۔
واذجاء ک الذین یؤمنون باٰیٰتنا فقل سلم علیکم کتب ربکم علی نفسہ الرحمة انہ من عمل منکم سوئً بجھالة ثم تاب من بعدہ واصلح فانہ غفور رحیمOوکذٰلک نفصل الاٰیٰت و لتستبین سبیل المجرمینOقل انی نھیت ان اعبدالذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھواء کم قد ضللت اذًا وماانامن المھتدین O
”اور جب آپکے پاس ہماری آیات پر ایمان والے آئیں تو کہو کہ تم پر سلام ہو تمہارے رب نے خود پررحمت لکھ دی۔ بیشک اگر تم نے کوئی عمل جہالت سے کیا پھر تم نے بعد میں توبہ اور اصلاح کی تو وہ غفوررحیم ہے اور ایسے ہم آیات کی تفصیل دیتے ہیں تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو۔کہوکہ مجھے منع کیا گیا کہ ان کی غلامی کروں جو اللہ کے علاوہ کوپکارتے ہیں کہو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔تحقیق میں پھرگمراہ ہوں اورمیں ہدایت یافتہ میں سے نہیں ہوں۔ (انعام:54تا56)
اگر کسی نے قرآن پر ایمان رکھنے کے باوجود بھی جہالت کی وجہ سے حلالہ کی لعنت میں مبتلاء رہنے کا کام کیا ہے یا فتوے بھی دئیے اور وہ توبہ اور اصلاح کرے تو اس کیلئے دروازہ بند نہیں۔ لیکن آیات کا مطلب واضح ہونے کے بعد اس سے انکار کرنا کفر ہے اور اس پر ڈٹ جانے کا انجام پھر اللہ نے واضح کیا ہے اور ہمارا کام تو صرف حق باتوں کی وضاحت کرنا ہے۔
وھو الذی یتوفٰکم باللیل و یعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضٰی اجل مسمًی ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملونOو ھو القاھر فوق عبادہ ویرسل علیکم حفظةً حتٰی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ھم لایفرطونOثم ردوا الی اللہ مولٰھم الحق الا لہ الحکم و ھو اسرع الحٰسبینO
”وہ تمہیں رات کواتمام حجت کیلئے پوراکرتا ہے اور جانتا ہے جو تم دن کو زخم دیتے ہوپھر اسی میں تمہیں مبعوث فرماتاہے تاکہ مقررہ میعاد کا فیصلہ کردے پھر تم نے اسی کی طرف لوٹنا ہے پھر تمہیں تنبیہ کرتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔وہ اپنے بندوں پر قہر والا ہے اور تم پر حفاظی دستہ بھیجتا ہے یہاں تک جب تمہاری کسی کی موت آئے تو اسے ہمارے ملائکہ وفات دیتے ہیںاور وہ کمی بالکل نہیں کرتے پھرلوٹادیتے ہیں اپنے حق مولا کی طرف اسی کیلئے حکم ہے اوروہ جلد حساب والا ہے۔ (انعام:60تا62)
انقلابیوں کیلئے اللہ کی طرف سے حفاظتی اقدام اور انقلاب سے پہلے فوت ہونے کیلئے بھی سہولت کی خوشخبری دی گئی ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ