من یأتیہ عذاب یخزیہ و یحل علیہ عذاب مقیم(الزمر40)
ستمبر 21, 2026
کون ہے جس پر عذاب آئے جو اسے ذلیل کردے اور جس پر کھڑارہنے والا عذاب کا جواز بن جائے۔
اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضٰی علیھاالموت ویرسل الاخرٰی الی اجلٍ مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرون (الزمر42)
ــــــــــ
اللہ یتوفی الانفس حین موتھا والتی لم تمت فی منامھا
اللہ حجت پوری کرتا ہے جب ان کی موت آئے اورجو نہیں مرتے ا ن کی نیند میں(اتمام حجت پر)
اللہ اتمام حجت سے ذلت کی موت دے تو انک لاتسمع الموتٰی بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے ۔ ختم اللہ علی قلوبھم وسمعھم۔انکے دلوں اور کانوں پر مہر اللہ نے لگائی۔ ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کیلئے عذاب عظیم ہے اور ان میں کھلے کافروں کے علاوہ منافق بھی شامل ہیں۔ دوسرا طبقہ غفلت کی نیند میں ہے ،ان کا ضمیر نہیں مرا ہے اسلئے ان میں ہدایت کی گنجائش ہے۔فتح مکہ سے پہلے ابولہب و ابوجہل پر مہر لگ چکی تھی اور ہند، ابوسفیان اور عکرمہ پر نہیں۔
ــــــــــ
فیمسک التی قضٰی علیھاالموت ویرسل الاخرٰی الی اجلٍ مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرون (الزمر42)
توسانس روک لیتا ہے جن پر موت کا فیصلہ آئے اوربھیج دیتا ہے بقیہ کو مقرر میعاد تک (دورِانقلاب تک) بیشک اس میں نشانیاں ہیں فکر والی قوم کیلئے
نیند میں روح قبض نہیں ہوتی ۔ بچہ بھی سمجھتا ہے کہ ماں سانس لیتی ہے ۔ غلط تفسیر مرتد بنادیتاہے۔ اتمام حجت کی موت اورنیند میں نہ مرنا واضح ہے پھر دونوں طبقے کا فتح مکہ سے پہلے وقت آیا تو موت اور نہیں آیا تو بچ گئے۔ نبی ۖ نے فتح مکہ پر چند افراد کو مباح الدم قرار دیا۔ فرمایا کہ ”اگر فلاں غلاف کعبہ میں چھپ جائے تو بھی قتل کرو”۔عبداللہ ابن ابی سرح کو حضرت عثمان کی سفارش پر معاف کیا جو پھر عثمان کی شہادت کاسبب بنا۔ابوجہل کا بیٹا عکرمہ شامل نبیۖ نے معاف کیا جس نے اسلام کیلئے قربانی دی۔ فتح مکہ کے بعد غزوہ تبوک میں12نقاب پوش منافقوں نے نبیۖ پر قاتلانہ حملہ کیا مگر ان کو راز میں رکھا تاکہ اقرباء متأثر نہ ہوں۔نبی ۖ کی رحمت للعالمینی نے منافقوں کے اقارب کوبھی فیضیاب کیا تھا۔
ــــــــــ
من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضٰی نحبہ و منھم من ینتظر وما بدّلوا تبدیلًا(الاحزاب23)
مومنوںمیں کچھ مرد ہیں جنہوں نے اللہ کیساتھ وعدہ سچ کر دیاتو ان میں ہدف کو پہنچ گئے کچھ منتظر ہیںاور ذرا تبدیل نہ ہوئے۔
شہداء مکی دور، بدر ،احدجنہوں نے اللہ کیساتھ وعدہ سچ کر دکھایا جو اپنے ہدف کو پہنچ گئے اور جو منتظر تھے۔یعرف الاشیاء باضدادھا ”چیزیں ضد سے پہچانی جاتی ہیں”۔ حاجی عثمان کے مریدین بہت سارے اللہ کو پیارے ہوگئے اور کچھ منتظر ہیں۔مخالفین کچھ مرگئے اور کچھ مفتی تقی عثمانی کی طرح جیتے جی مرکر قرآن کی تفسیر بننے پہنچ گئے۔
روٹی میں نمک اور سالن میں مرچ کے بغیر مزہ نہیں آتا اورمومنوں کا ہدف بہت بڑا ہوتا ہے ۔مخالفین نمک اور مرچ ہوتے ہیں ۔جس طرح رب اجعلنی مقیم الصلوٰة وقت کی نماز کا قیام ہے اسی طرح عذاب مقیم بھی وقت کے ساتھ سر پر کھڑا عذاب ہوتا ہے۔
ــــــــــ
اذ قال اللہ یٰعیسٰی انی متوفیک و رافعک الی و مطھرک من الذین کفرواو جاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامة ثم الی مرجعکم فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون O
”جب اللہ نے کہا کہ اے عیسیٰ ! بیشک میں تجھے اتمام حجت بناؤں گااور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور کافروں سے پاک کروں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو کافروں پر بالادستی دوں گا روزقیامت تک پھر میری طرف لوٹنا ہے تو میں فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کرتے تھے”۔(آل عمران آیت:55 )
آج دنیا میں عیسائی اور مسلمان بہت ہیں۔ اللہ نے پہلا وعدہ عیسیٰ علیہ السلام سے اتمام حجت بنانے کا کیا۔ عیسائی اتمام حجت نہیں بنا سکتے۔ تیسرے فریق کا فیصلہ قابل قبول ہوتا ہے۔ یہود ونصاریٰ ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن مسلمان نہ تو عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت سازی میںغلوکے شکار ہیں اور نہ دشمنی رکھتے ہیں جو شخصیت سوزی کے مرتکب غلو کا شکار یہودکا طرز عمل ہے۔
عیسائی پھانسی کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہود نے گندے الزام لگا دئیے اور ان دونوں کے مقابلے میں مسلمان کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ اٹھالیا گیا۔ عیسائی خود کو عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار سمجھتے ہیں اور مسلمان خود کو۔ اس کا فیصلہ دنیا میں انقلاب کرے گا۔
ابوبکر باقلانی عیسائی بادشاہ سے مناظرہ کرنے پہنچا تو گیٹ پر جھکنا پڑتا۔ابوبکر نے رُخ پھیر کر پوچھ لیا کہ پادریوں کے بال بچے کیسے ہیں؟۔ بادشاہ : غصہ سے یہ مقدس شادی نہیں کرتے۔ ابوبکر : جو اللہ کیلئے بیوی بچے اور پادریوں کا تقدس ؟۔ بادشاہ : تمہاری ام المؤمنین پر الزام لگا تھا، ابوبکر:دو خواتین پر الزام لگا اور قرآن نے دونوں کو بری کیا مگرمریم کا شوہر نہ تھا بچہ ہوگیا، عائشہ کا شوہر تھا اور بچہ نہیں تھا۔ بادشاہ غضبناک ہوکر: تمہارا نبی بادشاہ کی طرح لڑتا ہے ،کبھی شکست تو کبھی جیتتا ہے؟۔ ابوبکر: ہاں انبیاء قتل ہوگئے اور بادشاہ بھی بن گئے مگر خدا تو پھانسی نہیں چڑھتا۔ عیسائی آج مذہبی بہت کم رہ گئے۔
قرآن کا مسئلہ طلاق قبول کیا مگر مسلمانوں نے یہود کی طرح حلالہ رائج کیا اور عورت کے حقوق چھین لئے۔
یہود عیسائیوں کو نہیں مسلمانوں کو معقول سمجھتے ہیں۔ محمد اسد سابقہ یہودی نے قرآن اور بخاری کا ترجمہ کیا۔ پہلا پاکستانی پاسپورٹ بنادیا۔ یہود نے توراة کو مسخ کیا تو مسلمان یہود کے نقش قدم پر چلے اسلئے دونوں ایک ہی لگے۔ قرآنی تعلیم پر عیسائی، یہودی ، بدھ مت ، ہندو اور پارسی سب کا اتفاق ہوگا لیکن مسلمانوں کو صرف حق ماننے کی ضرورت ہے جو اس کے دل ودماغ کو بھی ٹھیک لگے اور الحمد للہ ہم اس پر گامزن ہونے کی کوشش ہی کررہے ہیں۔جب سب کا دماغ کھلے گا تو معاملہ آسان ہوگا۔
سورہ الزمر میں عظیم الشان انقلاب واضح ہے۔ اسکے آخر سے نمونے پہلے پیش کردئیے ۔اب شروع سے۔
تنزیل الکتٰب من اللہ العزیز الحکیمOانا انزلنا الیک الکتٰب بالحق فاعبداللہ مخلصًا لہ الدینOالا للہ الدین الخالص والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفٰی ان اللہ یحکم بینھم فی ماھم فیہ یختلفون ان اللہ لایھدی من ھو کٰذب کفّارOالزمر1تا3
”اللہ غالب حکیم کی طرف سے نازل ہے۔ بیشک ہم نے تیری طرف کتاب کو حق کیساتھ نازل کیا، اسکے دین کیلئے مخلص بن کر ہی اللہ کی غلامی کرو۔ خبردار ! اللہ کیلئے ہے دین خالص۔جنہوں نے اللہ کے علاوہ اپنے مولانا پکڑکے رکھے ہیں کہ ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اسلئے کہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔بیشک اللہ فیصلہ کرے گا جس میں یہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔ بیشک اللہ ہدایت نہیں دیتا ہے جو بہت جھوٹا بڑا ناشکرا ہے”۔ (الزمر1تا3)
بتوں کو آج کون پوچھتا ہے؟۔ مولانابعل بت سے بڑھ کر حلالہ کا بعل بن گیا ہے۔ کشمیر کے سابق صدر کے بھتیجے نے بتایا جس کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے کہ تبلیغی جماعت کے کسی جاننے والے نے اس کو فون کیا تھا کہ غصہ میں طلاق دی تھی اور الحمدللہ مفتی صاحب حلالہ کیلئے تیار ہوگیا ہے۔ پھر ہم سے رابطہ کروایا اور حلالہ سے بچت ہوئی تو مفتی کو گالیاں دیں کہ واضح معاملہ غلط پکڑکے کیوں بیٹھے ہیں؟۔ جو غیرت نہیں رکھتے اور حلالہ بھی کرواتے ہیں اور عام بینکوں سے زیادہ سود بھی دیتے ہیں اور لینے کم لیتے ہیں اور پھر بھی قرب الٰہی کا سبب سمجھتے ہیں تو یہ ایک ماحول کی مجبوری ہے اور شکر ہے کہ اللہ نے ہمیں نکال دیا اور مفتی تقی عثمانی نے1970جمعیت علماء اسلام پر فتویٰ لگایا تو جب1987میں حاجی عثمان پر لگایا ، مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ پیر صاحب اچھے آدمی ہونگے اور علماء نے فتوے پر پھر1970کی طرح پیسہ لیا ہوگا۔1977میں ذولفقار علی بھٹو نے مولانا عبیداللہ سندھی کے منشور کے مطابق جاگیرداری اور سرمایہ داری کے علاوہ امیر غیریب کا طبقاتی نظام ختم کرنا تھا تو امریکی ڈالروں سے سبھی ایک ہوگئے۔پھر مفتی محمود نے جنرل ضیاء الحق کو مرزائی اور رئیس المنافقین قرار دیا ۔ بینکوں سے زکوٰة کی کٹوتی سودی سرمایہ سے نہیں ہوسکتی تھی۔ کروڑ پر10لاکھ کا سود ملے اور ڈھائی لاکھ زکوٰة کے کٹ جائیں تو ایک کروڑ اصل رقم بھی محفوظ ہے اورساڑھے7لاکھ سود بھی ملے تو زکوٰة کہاں سے ادا ہوگی؟۔ مفتی محمود کا مؤقف پیچیدہ نہیں تھا لیکن مفتی تقی عثمانی نے پان اور مفتی رفیع عثمانی نے دوہ قلب کی گولی کھلاکر پار کردیا۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنی تحریر کے خلاف ہزار فیصد سے بڑا بڑا جھوٹ بول دیا کہ مفتی محمود بے تکلفی سے پان مانگتے تھے عالم برزخ میں جانے کے بعد بے تکلفی بن گئی؟۔ جنرل رحیم الدین قادیانی مبلغ کی بیٹی کا نکاح جنرل ضیاء الحق کے بیٹے سے پیسہ لیکر پڑھوایا۔ الائنس موٹرز سے پیسہ کھاکر فتوے لگائے اور آخر میں سودی بینکاری کو اسلامی قرار دینے تک نوبت آئی۔ حاجی عثمان نے کوئی بوجھ نہیں لادا تھا تب بھی کتے نے ناجائز اولاد اور نکاح پر حرام کاری کے فتوے دئیے اور بوجھ لاددیا تب اس نے یہی کام کیا۔ ہمارا مقصد قرآن کی تفسیر اجاگر کرنا ہے۔
قل انی امرت ان اعبداللہ مخلصًا لہ الدینOوامرت لان اکون اول المسلمینOقل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یومٍ عظیم O
” کہہ دو کہ مجھے حکم ہے کہ میں اللہ کی غلامی کروں اس کے دین کیلئے مخلص بن کر۔ اور مجھے حکم ہے کہ پہلے مسلمان بنوں۔ کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو مجھے خوف ہے بڑے عذاب کے دن کا”۔ (سورہ الزمر:11تا13)
جب آدمی کسی فرقے ، مسلک اور مکتبہ فکر کی آڑ میں پناہ لیتا ہے تو اس کیلئے تعصبات کے نام پر لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بریلوی مکتب والوں نے غلام رسول سعیدی کے گریبان کو پکڑ لیا کہ سورہ فاتحہ کو علامہ شامی نے پیشاب سے لکھنا جائز قرار دیا تو تم نے کیوں مخالفت لکھی؟۔لیکن جب مفتی تقی عثمانی کی غلطی کا پتہ چلا تو اس کے خلاف بہت بڑا طوفان کھڑا کردیا تھا۔
افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علٰی نورٍ من ربہ فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ اولئک فی ضلال مبین O
”تو کیا جس کا سینہ اللہ نے اسلام کیلئے کھول دیا تووہ اللہ کی طرف سے نور پر ہے پس ہلاکت جنکے دل سخت ہیں اللہ کی طرف سے اور کھلی گمراہی میں ہیں”(الزمر:22)
اللہ نزل احسن الحدیث کتٰبًا متشابھًا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم و قلوبھم الی ذکر اللہ ذٰلک ھدی اللہ یھدی بہ من یشاء ومن یضلل اللہ فما لہ من ھادٍO
”اللہ نے احسن الحدیث کتاب اتاری ۔ساری باتیں ایک جیسی ہیں جو دہرائی جاتی ہیں۔بال کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر اللہ کے ذکر کی طرف ان کی کھالیں اور انکے دل نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہی اللہ کی ہدایت ہے جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔جس کو اللہ گمراہ کرے تو اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں”۔الزمر23
افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب یوم القیٰمة وقیل للظٰلمین ذوقوا ماکنتم تکسبونO(سورہ زمر24)
”تو کیا انقلاب کے دن عذاب کی برائی کو اپنے اثر ورسوخ سے روکنے کی کوشش کرے گا۔ ظالموں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم لوگوں نے (اپنے کرتوت کے سبب) کمایا ہے”۔
کذّب الذین من قبلھم فاتٰھم العذاب من حیث لایشعرونOفاذاقھم اللہ الخزی فی الحیٰوة الدنیا و لعذاب لاٰخرة اکبر لو کانوا یعلمونOولقد ضربنا للناس فی ھٰذالقراٰن من کل مثلٍ لعلھم یتذکرونOقراٰنًا عربیًا غیر ذی عوج لعلھم یتقونO
”ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تو انکے پاس عذاب آیا اس طرح کہ شعور بھی نہیں رکھتے تھے۔ پس اللہ نے انہیں دنیا میں ذلت چکھادی اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے اگر یہ جان لیتے۔ اور تحقیق ہم نے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال دی شاید کہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ عربی قرآن جو ٹیڑھے پن والا نہیں شاید کہ وہ تقویٰ اختیار کریں”۔ (الزمر25تا28)
قرآن میں واضح ہے کہ دنیا میں اتمام حجت کا ذلت آمیز عذاب آخرت سے پہلے الگ ہے اور ہر ماحول کا بندہ اس سے رہنمائی اسلئے لے سکتا ہے کہ ہر قسم کی مثال ہے اس میں۔ عربی کا کمال یہ ہے کہ متشابہ آیت وعربًا اتراتا کا عربی لغت اور دنیا میں کوئی وجود نہیں تھا۔تو رائے سے قد کے برابر حوریں مراد لی یا عمر کے برابر۔ لیکن پہیہ والی گاڑی دیکھ لی تو بے ساختہ اس کا نام عربة ”گاڑی” رکھ دیا۔قرآن میں بھی اس سے گاڑی ہی مراد تھا لیکن مشابہ چیز جب تک نہیں تھی تو اللہ کو معلوم تھا۔
ابھی تو متشابہات کا کیا رونا روئیں؟ محکم آیات کو بھی فقہاء نے کباڑ کا اجنبی مال بنادیا ہے۔ جب قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ایک ہی الہ ہے تو کفار نے کہا کہ سارے معبودوں کو ایک بنادیا ان ھٰذا لشی ء عجاب ”یہ تو عجوبات چیز ہے”۔ اردو میں ”عجوبات” کا لفظ نہیں ہے جب کوئی بہت ہی حیرت والی چیز دکھائی دے تو پھر عجوبات کہنا ایک فطری چیز ہے۔ عربی میں عجاب نہیں ہے لیکن بہت معبودوں کے عادیوں کولا الٰہ الا اللہ عجوبات لگتا تھا۔ تین طلاق کو ایک قرار دیا گیا تو بھی عجیب لگا تھا مگر قرآن کی حقیقت سمجھ میں آئے توعجوبات لگے گا۔
ضرب اللہ مثلًا رجلًا فیہ شرکاء متشٰکسون و ورجلًا سلمًا لرجل ھل یستویٰن مثلًا الحمد للہ بل اکثرھم لایعلمون O
” اللہ ایک آدمی کی مثال دیتا ہے جس کے کئی بداخلاق وارث ہوں۔ اور ایک آدمی جو کسی ایک کیلئے سر تسلیم خم ہو ۔کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟۔ الحمد للہ بلکہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے ہیں ”۔ (سورہ الزمر آیت:29)
ایک طرف حاجی عثمان تھے اور دوسری طرف کئی مفتی اپنے فتویٰ میں انتہائی متضاد اور باہم متصادم تھے تو کون جیتا؟۔ بہت بڑی داستان ہے اور ضرورت پڑی تو سامنے لائیں گے۔ ایک طرف میرے والد پیر مقیم شاہ کی بات تھی اور دوسری طرف پھر آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنیوالوںکا مشترکہ معاملہ تھا۔ تو ان میں برابری نہیں تھی۔ پوری دنیا کو سدھارنے کیلئے ان دونوں کے معاملات کو بطور مثال پیش کرسکتا ہوں الحمدللہ۔
میرے ماموں سعدالدین نے مجھ سے کہا کہ ”میں اپنے بھتیجے اور بھانجے کا بدلہ لوں گا”۔ جس کا صاف مطلب یہی تھا کہ تمہارے بہن بھائی، بھانجی بھتیجا،خالہ زاد ماموں زاداور بہت سارے مہمان شہید کردئیے گئے تم بھی بے غیرت ہو اور تمہارے بھائی اور کنبہ بھی بے غیرت ہے۔ یہ سلسلہ اس کے بیٹوں نے بھی جاری رکھا ہوا تھا اور میرے بھتیجوں اور بھتیجیوں اپنی بیگمات اور اپنے سالوں سے جاری رکھتے تھے ، نسل در نسل یہ سلسلہ چلتے رہنا تھا۔ قتل بھی میرے بھتیجوں سے کروانے تھے اور غیرت بھی اس کی پوری ہونی تھی۔لیکن خدا نے اس ذلت تک پہنچادیا کہ جن کو ہمارے ہاتھوں سے قتل کروانا تھا ان کا زیر ناف چوس کر ہمیں قتل کروانے پر آگئے۔
جیسے ٹھیکہ آتا ہے تو ٹھیکہ دار اس کو حاصل کرنے کیلئے کوشش کرتے ہیں۔ یہ تومجھے معلوم تھا کہDNAمیں غداری ہے اور قتل کا پروجیکٹ آئے تو پیسہ لینے کیلئے کچھ ضمیر سے عاری لوگ اپنے اجداد کی سنت کو زندہ کرسکتے ہیں ۔لیکن ہم نے اپنے مجرم کو تلاش کرنا تھا کہ کون غیرت کے نام پر استعمال ہوا؟۔ کس کو کیا تکلیف ہم سے پہنچی تھی اور کون پیسوں کیلئے بک گیا؟۔ اس تلاش میں نسلوں کو بھی شاید پتہ نہیں چلے لیکن الٹی سیدھی باتوں کی جگہ معاملات کی صفائی ضروری تھی اور اس کیلئے میرے قتل اورسکول کے بچوں اور بچیوں کو نقصان پہنچانے کی حدتک جانا اس کمینگی کو ثابت کرتا ہے کہ میں کس پر کتنا بھروسہ ر کھوں؟۔
فمن اظلم ممن کذّب علی اللہ وکذّب بالصدق اذجاء ہ الیس فی جھنم مثوًی للکافرینOوالذی جاء بالصدق و صدق بہ اولئک ھم المتقونOلھم مایشاء ون عند ربھم ذٰلک جزاؤا المحسنین
” تواس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولے اور جو سچ لائے اس پر جھوٹ بولے کیا جہنم کافروں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور جو سچ لے کر آیا اور جس نے اسکی تصدیق کی تو یہی لوگ پرہیز گا ر ہیں۔ ان کیلئے انکے رب کے پاس وہ ہے جو یہ چاہتے ہیں یہ اچھوں کا بدلہ ہے”۔ (سورہ الزمر:32تا34)
لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا و یجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوا یعملونO( الزمر:35)
”تاکہ انکے بہت برے کام مٹادے جو انہوں نے کئے اور ان کو بدلہ دے زیادہ بہتر جو اچھے کام انہوں نے کئے ”۔
ہمارے لئے سب سے بڑا اثاثہ یہی آیت ہے اسلئے کہ اپنے برے کاموں کیلئے اللہ سے معافی کے طلبگار ہیں۔ اسلام کا مشن سنبھالا ہوا ہے اور باقی ذاتی معاملات میں تو کوتاہی کی حد نہیں ہے ۔اللہ فاسقوں سے بھی دین کا کام لے لیتا ہے۔
الیس اللہ بکافٍ عبدہ و یخوفونک بالذین من دونہ ومن یضلل اللہ فما لہ من ھادٍO
کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ اور وہ تمہیں اللہ کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کیلئے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ”۔ (الزمر:36)
ومن یھداللہ فما لہ من مضلٍ الیس اللہ بعزیزٍ ذی انتقامٍO
” اور جسے اللہ ہدایت دے تو کون گمراہ کرے؟ کیا اللہ زبردست انتقام والا نہیں ہے”۔ (الزمر:37)
انتقام تو پھر اللہ کا ایسا کہ اس سے پناہ مانگتے ہیں۔ مخالف میں شرم و حیا اور عزت وتوقیر نہیں ورنہ کیسے دکھائی دیتے ہیں؟۔
ولئن سالتھم من خلق السمٰوٰت والارض لیقولن اللہ قل افرء یتم ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضرٍ ھل ھن کٰشفت ضرہ او ارادنی برحمةٍ ھل ھن ممسکٰت رحمتہ قل حسبی اللہ علیہ یتوکل المتوکلونO(سورہ الزمر:38)
”اگر آپ ان سے پوچھ لیں کہ آسمانوں و زمین کو پیداکس نے کیا؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے تو ان سے کہوکہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو ،اگر اللہ مجھے تکلیف پہنچانا چاہے تو وہ لوگ اس کو دور کرسکتے ہیں؟۔اور اگر اللہ مجھے رحمت دینا چاہے تو وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں؟۔ کہہ دو کہ اللہ میرے لئے کافی ہے اور اسی پر توکل کرنے والے توکل کرتے ہیں”۔
قل یٰقوم اعملوا علی مکانتکم انی عامل فسوف تعلمون O
” کہہ دو کہ اے قوم ! تم اپنی جگہ پر عمل کرو ۔میں اپنا کام کرتا ہوں عنقریب تم جان لوگے” ۔زمر39
من یأتیہ عذاب یخزیہ و یحل علیہ عذاب مقیم O
”کس پر آتا ہے عذاب جو اس کو ذلیل کرے اور کس پر جائز بن جاتا ہے قائم رہنے والا عذاب”۔ سورہ الزمر40
انا انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق فمن اھتدٰی فلنفسہ ومن ضل فانما یضل علیھا وماانت علیھم بوکیلO
” بیشک ہم نے آپ پر کتاب اتاری ہے لوگوں کیلئے حق کیساتھ تو جو اس سے ہدایت پاگیا تو اپنے لئے اور جو گمراہ ہوا تو اس کی کالک اسی کو لگ گئی ۔اور آپ ان پر کوئی وکیل مقرر نہیں ہیں”۔(سورہ الزمر:41)
اس کے بعد ان لوگوں کا حال جو اتمام حجت کی وجہ سے اپنی گمراہی بالکل پکی کردیتے ہیں اور بعض کیلئے گنجائش ہوتی ہے اور ان لوگوں کیلئے علامہ اقبال نے بیہوشی کالفظ استعمال کیا ۔
اللہ یتوفی الانفس حین موتھا و التی لم تمت فی منامھا فیمسک التی قضٰی علیھا الموت و یرسل لاخرٰی الی اجل مسمًی ان فی ذٰلک لاٰیٰتٍ لقومٍ یتفکرونO
” اللہ حجت پوری کرتا ہے جانوں پر ان کی موت کے وقت اور وہ جن پر نیند میں موت طاری نہیں ہوتی ۔ پس جس پر موت کا فیصلہ ہوتا ہے تو اس کی سانس روک لیتا ہے اور دوسروں کو مقرر میعاد تک بھیج دیتا ہے ۔بیشک اس میں فکرکرنے والی قوم کیلئے نشانیاں ہیں”۔ (سورہ الزمر:42)
ام اتخذوا من دون اللہ شفعاء قل او لو کانوا لایملکون شیئًا ولایعقلونO
” کیا انہوں نے اللہ کے علاوہ سفارشی پکڑلئے ؟۔ کہہ دو کہ اگرچہ یہ نہ اختیار رکھتے ہوں اور نہ ان کے پاس عقل ہو”۔ (سورہ الزمر:43)
یہ انقلاب آنے کے بعد کی کیفیت کا بیان ہے کہ جن کے پاس نہ اختیار ہوگا اور وہ عقل سے بھی پیدل ہوں گے۔
قل للہ الشفاعة جمیعًا لہ ملک السمٰوٰت و الارض ثم الیہ ترجعونO
” کہہ دو کہ سفارش صرف اللہ کیلئے چلے گی ساری۔ اس کیلئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے پھر اس انقلاب کے بعد تم نے لوٹنا ہے”۔ (الزمر:44)
واذا ذکراللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لایؤمنون بالاٰخرة واذا ذکر الذین من دونہ اذاھم یستبشرونO
” اورجب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل تنگ ہوجاتے ہیں جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب اللہ کے علاوہ دوسرے لوگوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے تو پھر وہ بڑی خوشی محسوس کرتے ہیں”۔( سورہ الزمر:آیت45)
قل اللٰھم فاطرالسمٰوٰت والارض عٰلم الغیب و الشھادة انت تحکم بین عبادک فی ماکانوا فیہ یختلفونO
”کہو کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے فاطر، غیب اور حاضر کا علم رکھنے والے تو اپنے بندوں کا فیصلہ فرمائے گا جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں”۔ (الزمر:آیت46)
1979میں سکول کے نصاب لیہ میں یہ ایک آرزو تھی۔
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلہن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند دل کو رونا میرا رو لادے
بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انہیں جگا دے
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ