الذین جعلوا القراٰن عضینO(حجر:91)
ستمبر 21, 2026
”جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”(وہ کتے )
فیہ نبأماقبلکم و خبر ما بعد کم حکم ما بینکم
”قرآن میں تم سے پہلوں کے قصے ہیں اور بعد والوں کی خبریں ہیں اور تمہارے درمیان کا فیصلہ ہے”۔ ( ترمذی)
فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتٰب یأخذون عرض ھٰذا الادنیٰ و یقولون سیغفرلنا وان یاتھم عرض مثلہ یأخذوہ
” پھر اسکے بعد ایسے جانشین آئے کہ وہ اس دنیا کا مال لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عنقریب ہمیںمعافی ملے گی اگر اتنا اور ملتا تو بھی یہ لے لیتے”۔(اعراف:169 )
واتل علیھم نبا الذی اٰتینٰہ اٰیٰتنا فانسلخ منھا فاتبعہ الشیطٰن فکان من الغٰوینOولو شئنا لرفعنٰہ بھا و لکنہ اخلد الی الارض واتبع ھوٰہ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث ذٰلک مثل القوم الذین کذّبوا باٰیٰتنا فاقصص القصص لعلھم یتفکرونO( اعراف175،176)
”اور ان پر تلاوت کرو اس کی خبر جس کو ہم نے اپنی آیات دیں پس وہ نکل گیا ان سے تو شیطان اسکے پیچھے لگا تو بھٹکنے والوں میں ہوگیا اور اگر ہم چاہتے تو انکے ذریعے اس کو بلند مرتبہ دیتے مگر وہ زمین کی طرف پکا ہوگیا اور اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگا۔تواس کی مثال کتے کی ہے اگر اس پر بوجھ لادو تو بھی ہانپے اور چھوڑ دو تو بھی ہانپے۔یہ مثال اس قوم والوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تو انکو یہ قصے بیان کرو تاکہ فکر کریں”۔
ابن تیمیہ مسالک کو فرقہ اور شرک لکھتا ۔ سورہ تحریم میں بیوی کو حرام کہنا اللہ نے حلال قرار دیا ۔ ابن تیمیہ کے شاگرد ابن قیم نے بیوی کو ”حرام ” کہنے پر 20 مذاہب کو نقل کیا۔ 4 بوٹی والا کتا تو 20بوٹی والا ؟۔ ابوحنیفہ کا شاگرد محمد شیبانی شافعی کا استاذ تینوں ایک تھے۔ نبیۖ نے فرمایا :سب سے پہلے اسلام کی کڑی ”حکم” ٹوٹے گی۔ حلالہ مسلط کیا پھرزکوٰة شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل حوض کوثر بن گئی؟۔ پھر سود اسلامی سے پیٹ بھرا کہ نہیں؟
ــــــــــ
سمجھدار دنیا دار مولوی مال کمانے کے چکر میں کتا بن جاتا ہے لیکن احمق طبقہ اسکے پیچھے چلتا ہے جس کی مثال گدھے کی قرآن نے دی ہے جس پر کتابیں لادی گئی ہوں ۔
سورہ تحریم لم تحرم ما احل اللہ لک … قد فرض اللہ تحلة ایمانکم
میں واضح ہے کہ حرام سے بیوی کو حرام قرار دینا مراد ہے ۔ایمانکم سے مراد وہ تمام الفاظ و اقسام ہیں جن سے بیوی کو حرام قرار دیا جاتا تھاکہ سب کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا۔
سورہ بقرہ:224،225،226،227میں عورت کو حرام کرنا ختم اور عورت کا حق بھی واضح کیا۔ ناراضگی کی عدت 4ماہ ۔ طلاق کا عزم تھا تو دل گناہ گار اسلئے کہ عدت بڑھ گئی۔ نبیۖ نے29دن بعد رجوع فرمایا تو اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج مطہرات پر اختیار کو واضح کردو۔اللہ نے عورت کو اذیت سے نکالا۔ فقہاء نے ڈبکی لگاکر چوراہے پر کھڑا کیا کہ نکاح باقی ہے یانہیں؟۔ بیوہ4ماہ10دن بعد فیصلے کی مجاز ہے کہ مردہ شوہر سے نکاح باقی رکھے یا نہیں؟۔فقہاء نے لکھا کہ سانس نکلتے ہی اجنبی بن گئے۔ پھر20سال بعد بھی بیوہ ماں مرتی ہے تو اجنبی شوہر کی تختی لگاتاہے ۔ قرآن نے ایسوں کوگدھاجیسا قرار دیا۔
قرآن نے عورت کو اختیارو تحفظ دیا تو مغرب حق تک پہنچا مگرشیخ الاسلام صلح کیلئے لٹاتا کہ حلال کردو ں تو جاسکتی ہو؟۔ یہ گدھا پن ہے۔ سعدبن ابی وقاص نے کہا:
نبیۖ نے فرمایاکہ اہل غرب حق پر غالب رہیں گے یہاں تک انقلابی گھڑی کھڑی ہو۔ (صحیح مسلم)
ــــــــــ
قرآن میں جس طرح عورت کو تحفظ دیا گیا ہے اور جس طرح مختلف پیرائے میں حلالہ کی لعنت کا راستہ روکا گیا ہے اگر تھوڑا سابھی آیات پرغور وتدبر کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ امت مسلمہ کو شیطان نے بالکل کس طرح الٹی سمت چلایا ہے؟۔
لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم
”بیشک ہم نے انسان کو سب سے زیادہ توازن پر پیدا کیا ” ۔ قرآن پیش نظر نہ ہو تو
ثم رددناہ اسفل سافلین
”پھر ہم نے نچلی ترین سطح پر پہنچایا”
الاالذین اٰمنوا وعملوالصٰلحٰت فلھم اجر غیر ممنون
”مگر جو ایمان والے ہیں ان کیلئے ایسا اجر ہوگا جس پر کسی کا احسان نہیں ہوگا”۔ایمان اور اعمال صالح سے انسانیت میں جو توازن پیدا ہوتا ہے اس میں میاں بیوی سے لیکر عالمی سطح تک متوازن معاشرہ تشکیل پاتا ہے جیسے ایک تندرست انسان محتاجی کے بغیر کھڑا ہوتاہے۔
فمالھم عن التذکرة معرضینOکانھم حمر مستنفرةOفرت من قسورہO
”اور ان کو کیا ہوگیا ہے کہ قرآنی تذکرہ سے روگردانی کررہے ہیں گویا گدھے ہیں بدکے ہوئے جو شیر سے ڈرکر بھاگتے ہیں”۔( سورہ المدثر آیات49،50،51)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ