والذین ھم لفروجھم حافظونOالاعلٰی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیرملومینO
اپریل 26, 2026
اورجو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج یا جن کیساتھ معاہدہ ہواہے تو بیشک وہ ملامت نہیں ہیں (المؤمنون)
اسلام نے عبدیت اور ملکیت کے نظام کوبالکل ایگریمنٹ اور گروی رکھنے میں تبدیل کردیا!
قد افلح المؤمنونOالذین ھم فی صلاتھم خاشعونOوالذین ھم عن اللغو معرضونOوالذین ھم للزکاة فاعلونOوالذین ھم لفروجھم حافظونOالا علی ازوجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومینOفمن ابتغٰی وراء ذٰلک فاولئک ھم العادونOوالذین ھم لاماناتھم و عھدھم راعونOوالذین ھم علی صلواتھم یحافظونOالٰئک ھم الوارثونOالذین یرثون الفردوس ھم فیھا خالدونO(سورہ المؤمنون)
1:بیشک فلاح پاگئے ایمان والے،
2:جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں،
3:جو لغویات سے پہلوتہی برتے ہیں،
4:جو زکوٰة دیتے ہیں،
5:جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی ازواج پر یا جن کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے،
6:جو اس کے علاوہ کے طلب گار ہیں تو وہی حد سے نکلنے والے ہیں،
7:جو اپنی امانتوں کو اور اپنے وعدوں کو نبھاتے ہیں،
8:جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں،
9:یہی لوگ وارث ہیں (زمین کے اور انبیاء کرام کے)
10:یہی لوگ وارث ہیں فردوس کے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(آیات1تا11)
ایک پٹھان مروت حافظہ یتیم لڑکی نے سوال کیا کہ ہمارے ہاں لوگ مدارس چلاتے ہیں اور مذہبی ہیں لیکن قوم لوط کے عمل میں مبتلاء ہیں۔ جس پر ڈاکٹر ذاکر نائیک بہت طیش میں آیا اور لڑکی کو خوب سنایا۔ مذہبی حلقوں نے ذاکر نائیک کی بات کو بہت سراہا اور معروف صحافی سبوخ سید نے اپنے ولاگ میں بتایا کہ وہ یتیم بچی ہے۔ مدرسہ کو اپنی زمین بھی دی ہے اور اب لوگوں کی طرف سے اس کی جان کو خطرات پیش آئے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک جاہل نے قرآن کی مخالفت کی۔ اس کو کہنا چاہیے تھا کہ مؤمن کے جامع صفات کا واضح نقشہ بیان کیا گیا ہے اگر ایک صفت کی بھی کمی ہو تو وہ اس کی وجہ سے مؤمن کی صفات سے نکل کر حد سے تجاوز کرنے والا ہے۔ چاہے وہ شیخ الحدیث مفتی عزیز الرحمن کی طرح ہو جس کی ویڈیوز نشر ہوئیں یا پھرشیخ الحدیث مولانا نذیراحمد جامعہ امدادیہ فیصل آباد جس کو طلبہ پر جنسی تشدد کی وجہ سے مدرسہ سے نکال دیا گیا تھا اور چاہے کسی بھی مسلک اور مذہب سے اس کا تعلق ہو۔
سورہ بقرہ کی آیات229اور230میں بڑی وضاحت کی بنیاد پر حلالہ کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے اور حد سے تجاوز کرنے والوں کو ظالم قرار دیا ہے لیکن پھر بھی حلالہ کی تلاش میں فقہاء نے تمام حدود وقیود کو پھلانگ دیا ۔ حلالہ کی طرح سے غلام اور لونڈی کے نظام کو بھی اسلام نے ختم کردیا تھا لیکن ہوس پرستوں نے پھرسے جاہلیت کے دور کو زندہ کردیاتھا ۔
دورِ جاہلیت میںحضرت ابوبکر کا نام عبدالکعبہ تھا۔ یعنی کعبے کا غلام۔ رسول اللہ ۖ نے نام بدل کر عبداللہ رکھ دیا اسلئے کہ اسلام میں اللہ کے سوا اللہ کے گھر کی غلامی بھی جائز نہیں لیکن قرآن واحادیث کے مفہوم کو بگاڑ کر دورِ جاہلیت کو زندہ کردیا۔ عربی میں غلام کا معنی لڑکا، بیٹا اور برخوردار ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی مواعظ میں یاغلام! کہتے تھے تو اس کا مطلب ”اے برخوردار !” ہے لیکن لوگوں نے اسکو اردو اور فارسی کا غلام سمجھ لیا اور پیری مریدی کا تصور بھی عربی عبدیت غلامی میں بدل گیا۔
جاہلیت میں عبد (غلام) اَمة (لونڈی) ملکیت تھے۔ جیسے جانور۔ مثلاً غلام و لونڈی کے جسمانی اعضاء کو بیچا جاسکتا تھا۔ لونڈی کیساتھ جنسی تعلقات جائز تھے اور قرآن وسنت نے اس تصور کا خاتمہ کردیا لیکن اسلام بہت تیزی کیساتھ اجنبیت کی طرف لوٹ گیا اسلئے دنیا میں غلامی ولونڈی کا نظام موجود ہونے کی وجہ سے قرآنی آیات کے مفہوم کو غلط رنگ دیا گیا۔
قرآن نے غلام و لونڈی کی ملکیت کا خاتمہ کرکے ان کیلئے گروی کی اصطلاح متعارف کرادی۔ مزارع، مزدور اور نوکر کو قرضہ دیا ہو تو وہ گروی ہوسکتا ہے لیکن مملوک نہیں ہوسکتا ہے۔ امریکہ ،پاکستان اور بہت سارے ممالک پر سودی قرضہ ہے تو وہ مملوک نہیں گروی ہیں۔ جیسے کراچی یا اسلام آباد ائیر پورٹ کو بینک گروی رکھے تو اگر دیوالیہ قرار دیا جائے تو پھر اس کی اس وقت نیلامی ہوگی اور حاصل ہونے والے پیسوں سے قرضے کی ادائیگی ہوگی۔ نام نہاد اسلامی بینکاری میں فرضی قیمت سے یہی ائیرپورٹ بینک کے نام کردیا جاتا ہے اور جب دیوالیہ ہونے کی بات آئے تو اصل مالک پھر پہلے سے اسلامی بینک ہوگا۔ اسلامی بینکاری ایسٹ انڈیا کمپنی سے زیادہ خطرناک ہے۔
اسلام نے انسانوں کی ملکیت غلامی اور لونڈی بنانے کے معاملے کو بالکل ناجائز قرار دیا۔ لونڈی اور غلام کیلئے آزاد سے نکاح کا قانون متعارف کرایا۔
والعبد مؤمن خیر مشرک ولامة مؤمنة خیر من مشرکة اور انکحوا الایامی منکم الصالحین من عبادکم وامائکم
”اور مؤمن غلام آزاد مشرک سے نکاح کیلئے بہتر ہے اور مؤمنہ لونڈی آزاد مشرکہ سے نکاح کیلئے بہتر ہے” اور ” نکاح کراؤ اپنی طلاق شدہ و بیوہ عورتوں کا اور اپنے تندرست غلاموں کا اور لونڈیوں کا”۔ (القرآن) ایک طرف مفتی تقی عثمانی، غامدی اور ڈاکٹر اسرار احمد کی لونڈی ہوتی اور دوسری طرف اس کا کسی اور سے نکاح کرایا جاتا؟۔ اگر یہ قرآن کا حکم ہوتا تو رسول اللہ ۖ حضرت ماریہ قبطیہ سے قرآنی حکم کے مطابق نکاح کراتے؟۔ قرآن نے لونڈی کا نکاح کرانے کا حکم اسلئے دیا کہ نکاح کے بغیر اس کے ساتھ جنسی تعلق جائز نہیں تھا اور اگر لونڈی بیوی تھی تو پھر کسی اور سے نکاح کرانے کی کیا ضرورت ہوسکتی تھی؟۔
قد علمنا ما فرضنا علیھم فی ازواجھم وماملکت ایمانھم
”بیشک ہم جانتے ہیں کہ جو ہم نے حق مہر فرض کیا ہے ان کی بیویوں کا یا ان سے معاہدہ کرنے والیوں کا”۔(سورہ احزاب:50)عورت آزاد ہو یا لونڈی ہو اسکے ساتھ جنسی تعلقات کیلئے عمرانی معاہدے کی یہ دو صورتیں ہیں۔ ازواجھم اوماملکت ایمانھم میںیہ فرق ہے کہ ازواج کی پوری ذمہ داری اٹھانی ہے جس کو قرآن نے واخذن منکم میثاقًا غلیظًا طلاق کے بعد ان کے حقوق دو اور ان پر الزام تراشی کرکے حقوق سے محروم مت کرو اسلئے کہ انہوں نے تم سے پکا عہد لیا۔جسکے مقابلے میں ملکت ایمانھم کے اندر واخذن منکم میثاقًا خفیفًا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ کو اللہ نے کسی ازواج کی تعدادمیں اضافہ یا تبدیلی کو منع فرمایا تو الا ماملکت یمینک کا استثنیٰ دیا۔حضرت علی کی بہن ام ہانی نے ہجرت نہیں کی اسلئے کہ وہ اپنے بچوں اور شوہرکی وفادار تھی۔ اللہ نے نبی ۖسے فرمایا ”ہم نے ان چچا کی بیٹیوں کو آپ کیلئے حلال کیا ہے جنہوں نے آپ کیساتھ ہجرت کی ہے”۔
علامہ بدرالدین عینی نے نبی ۖ کی28ازواج کا ذکر کیا ہے جن میں حضرت ام ہانی بھی شامل ہیں۔ حالانکہ انکے ساتھ ماملکت ایمانھم کا تعلق تھا نہ کہ ازواج مطہرات کا ۔ عبداللہ بن زبیر نے متعہ کو زنا قرار دیا تو حضرت علی نے کہا کہ ”تم خود بھی متعہ کی پیدوار ہو”۔ مدینہ میں مسلمانوں کی ہجرت ہوئی تو یہود نے دعویٰ کیا کہ ان کی ازواج پر جادو کردیا گیا ہے اور کوئی اولاد کسی جوڑے کی پیدا نہیں ہوگی۔ عبداللہ بن زبیر ہی پہلا بچہ تھا جو پیدا ہوا تھا اور نبیۖ نے بہت خوشی کا اظہار بھی ان کی پیدائش پر کیا تھااور مسلمان بھی بہت خوش ہوئے تھے۔
واتبعوا ماتتلو الشیاطین علی ملک سلیمان و ما کفرسلیمان و لٰکن الشیاطین کفروا یعلمون الناس السحر وانزل علی المکین ببابل ھاروت وماروت وما یعلمان من احدٍ حتی یقولا انما نخن فتنة فلا تکفر فئتعلمنون منھما ما یفرقون بہ بین المرء وزوجہ وھم بضارین بہ من احدٍ الا باذن اللہ و یتعلمون ما یضرھم و لا ینفعھم ولقد عملوا لمن اشتراہ مالہ فی الاٰ خرة من خلاق و لبئس ما شروا بہ انفسھم لو کانوا یعلمونO(سورہ البقرہ:102)
اللہ نے اس سے پہلے یہود کا تفصیل سے ذکرکیا ہے جنکے پاس موسیٰ علیہ السلام معجزات لائے پھر انہوں نے اس کے بعد بچھڑے کو پکڑلیا اوراللہ کی باتیں سن کر اس کی نافرمانی کرتے۔
واشربوا فی قلوبھم العجل بکفرھم ”اور ان کے کفر کی وجہ سے انکے دلوں میں بچھڑے کوانڈیل دیا گیا تھا”۔
جاویداحمد غامدی اور اس کے ساتھیوں کا بچھڑا حسن الیاس ہے جس کی وجہ سے صریح آیات کی تکفیر کا سلسلہ جاری ہے ۔ جو امریکہ کو مہذب فاتح کہہ کر اپنے لئے جگہ بنارہاہے۔ ہاہاہا
دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کیلئے ایک سرمایہ دارانہ سودی نظام تھا اور دوسرا جاگیردارانہ مزارعت کا نظام تھا۔ جب سود کی حرمت پر آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ۖ نے مزارعت کو بھی سود قرار دیا۔ آج اگر ریاست مدینہ کے مطابق پاکستان کی سرزمین کو سودی اور مزارعت کے نظام سے پاک کردیں گے تو امریکہ، روس، چین ، بھارت ، شمالی وجنوبی کوریا، یورپ، افریقہ اور آسڑیلیا سمیت پوری دنیا پاکستان کے تابع بن جائے گی اور اسرائیل بھی پاکستان کے اسلامی نظام سے خوش ہوجائے گا۔
پاکستان اور دنیا میں بیروز گاری اور بھوک کا خاتمہ مزارعت کے جاگیردارانہ اور سودی سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے سے ممکن ہے۔ پھر میرٹ پر تعلیمی نظام سے دنیا عروج کو پہنچے گی۔
مسلمانوں نے اپنی ازواج کو بھی انکے حقوق نہیں دئیے۔ رسول اللہ ۖ سے اللہ نے فرمایا کہ ” یہود ونصاریٰ آپ سے کبھی راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کی ملت کے تابع نہ بن جائیں”۔ یہود حلالہ کی لعنت میں مبتلاء تھا۔ عیسائیوں میں طلاق نہیں تھی۔ یہود اور عیسائی کا مذہبی طبقہ اپنی خود ساختہ ملت ابراہیمی کو چھوڑ کر نبیۖ سے راضی نہیں ہوسکتا تھا اسلئے اللہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ” ان کو اپنے اولیاء مت بناؤ”۔ اولیاء سے مراد دوستی نہیں افتاء وقضا ہے۔ جب ان کی عورتوں کو نکاح میں لے سکتے ہیں تو اس سے زیادہ دوستی کیا ہے؟۔
جب دنیا کو یہ یقین ہوجائے گا کہ قرآن وسنت کا نظام اس سے بہت مختلف ہے جو مذہبی طبقات نے ایجاد کررکھاہے تو پھر مسلمانوں سے پہلے یہ لوگ اپنے ہاں اسلام کو نافذ کریں گے۔
سورہ النساء آیات22اور23میں محرمات کا ذکر ہے ،پھر آیت24میں اللہ نے فرمایا:
والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم کتاب اللہ علیکم واحل لکم ماوراء ذٰلکم ان تبتغوا باموالکم محصنین غیر مسافحین فما استمتعتم بہ منھن فاٰتوھن اجورھن فریضةً ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضة ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO
”اور شادی شدہ عورتوں میں سے مگر جن سے تمہارا معاہدہ ہوجائے ۔ تمہارے اوپر اللہ کی کتاب کی پیروی لازم ہے……”۔
اس آیت کی تشریح و تفسیر متشابہات میں سے تھی۔ اسلئے اس پر مختلف صحابہ کرام کی طرف بھی کئی اختلافات منسوب ہیں۔
آج بیوہ عورت کو شوہر کی سرکاری مراعات ملتی ہیں کہ جب تک وہ کسی اور شخص سے نکاح نہ کرلے۔ محصنات کا اطلاق بیوہ سرکاری افسر وںکی بیگمات پر بھی ہوتا ہے جن کو مراعات سے محروم کرنا غلط ہے اور زمانہ نے کتاب اللہ کی تفسیر کردی ہے۔
اگر غیر مسلموں کو پتہ چل جائے کہ مسلمانوں نے خلافت قائم کرنے کے بعد دنیا پر بالادستی قائم بھی کی تو ان کی عورتوں کو لونڈی بنانے اور انسانی حقوق سے محروم کرنے کا کوئی تصور نہیں ہوگا تو وہ مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی بھی نہیں رکھیں گے۔
اگرغیر مسلم خاتون جائیداد پر قبضہ کے خوف سے نکاح نہیں کرتی تو ایگریمنٹ کا معاملہ اللہ نے جائز قرار دیا۔ قرآن کے قوانین قیامت تک ہدًی للناس انسانوں کیلئے رہنمائی ہیں
والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم اذا اٰتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسافحین و لامتخذی اخدان
” نکاح یا معاہدہ کیا جائے نہ کہ مستی نکالی جائے اور نہ چھپی یاری کرو”۔
عرب میں عورت جھنڈا لگاتی اور بیشمار لوگ جنسی تعلق رکھتے اور10تک افراد سے بیک وقت نکاح ہوتا اور اپنی بیوی کسی کو حوالہ کردی جاتی تو اس بے غیرتی کا قرآن وسنت نے خاتمہ کیا اور آج دنیا اسلام پر عمل کرنے کو تیار مگرچراغ تلے اندھیرا ہے۔ یہ شمارہ اغیار اور اپنوں کی غلط فہمیاں دور کرے گا۔ انشاء اللہ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ