پوسٹ تلاش کریں

اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے کیوں؟،قرآن وحدیث اور فطرت سے اس کا اطمینان بخش جواب، تاکہ اسلام کے نام پر جعلی بہروپئے دانشوروں کی حقیقت اور علماء حق کا دنیا کو پتہ چلے!

اسلام کی نشاة ثانیہ پاکستان سے کیوں؟،قرآن وحدیث اور فطرت سے اس کا اطمینان بخش جواب، تاکہ اسلام کے نام پر جعلی بہروپئے دانشوروں کی حقیقت اور علماء حق کا دنیا کو پتہ چلے! اخبار: نوشتہ دیوار

قریش عرب اوربنی اسرائیل حضرت ابراہیم کی نسل تھے ۔ حضرت محمد نبی آخرزمانۖ کی بعثت قریش میں ہوئی ہے اور حضرت اسماعیل کے بعد سے رسول اللہ ۖ تک کوئی نبی بھی عرب میں مبعوث نہیں ہوئے۔ جبکہ بنی اسرائیل میں ہزاروں کی تعداد میں انبیاء کرام مبعوث ہوئے۔علامہ شہشاہ حسین نقوی نے کہا کہ ”دنیا میں ہمیشہ حجت الزماں شخصیات رہی ہیں اور نبیۖ سے پہلے عبداللہ، عبدالمطلب،حضرت ہاشم سب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک حجت اور امام زماں تھے”۔

اللہ نے قرآن میں اہل کتاب سے فرمایاکہ ”دین میں غلو مت کرو”۔ رسول اللہ ۖ کے چچا ابوالہب کا نام عبدالعزیٰ تھا تو کیا کوئی حجت خدا اپنے بیٹے کا نام مشرکانہ رکھ سکتا ہے اسلئے وہ زن مرید بن گیا تھا کہ اس کا نام ایک معبودہ کے نام پر رکھا تھا؟ لیکن جاہلوں کو بس چندہ بٹورنے کا فن آتا ہے اور کچھ نہیں۔

سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کے بعد جب حضرت اسحاق کی نسل سے اتنے سارے انبیاء کرام مبعوث ہوئے تو پھر عرب نے جب حضرت ابراہیم کے صحائف بھی کھو دئیے تھے تو پھر وہ اس بنی اسرائیل کے انبیاء کے پیچھے کیوں نہیں گئے جہاں ملوک اور انبیاء پیدا ہوئے؟۔ اللہ نے قرآن میں بنی اسرائیل سے یہ فرمایا کہ”اس نعمت کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں جہاں والوں پر فضیلت دی تھی”۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ” حضرت ابراہیم کے وقت میں حضرت لوط کی قوم پر عذاب آیا۔ ابراہیم نبی اور امام تھے لیکن ان کا دائرہ کار اپنی حدود تک ہی محدود تھا۔ جب ایک نبوت کا سلسلہ تھا کہ اسحاق کے بعد یعقوب اور پھر یوسف بھی نبی تھے تو یوسف کیساتھ اپنے ان بھائیوں نے کیا کیا؟۔ جو اس نبوت کے سلسلے کی مضبوط کڑی سے تعلق رکھتے تھے؟۔ جب گھر میں معاملہ اس قدر خراب تھا تو عرب اس کو کیوں قبول کرتے؟ اور پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے99بیویوں کے باوجود بھی جب اپنے مجاہد اوریا سے اس کی بیوی لینے کی خواہش دل میں رکھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتے نازل کرکے

لی نعجة ولہ تسع و تسعون نعجة

”میرے پاس ایک دنبی ہے اور اس کے پاس99دنبیاں ہیں”سے تنبیہ کردی اور اس نے پھر اللہ سے معاف مانگی فغفر لہ پھر اللہ نے اس کو معاف کردیا۔

حضرت موسی علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جاؤ اور ان سے لڑو ،ہم تو یہاں بیٹھے ہیں اور ہارون علیہ السلام کی موجودگی میں بچھڑے کو معبود بنالیا جس پر حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون کو داڑھی سے پکڑکر اپنی طرف کھینچااور اس نے کہا کہ ”اے میری ماں کے بیٹے!” یعنی وہ حضرت یوسف کی طرح سوتیلے بھائی بھی نہیں تھے۔ شیعہ کا خطیب ہوتا تو داڑھی کھینچنے کے ساتھ پوری تاریخ کو بھی کھینچ کر کہا ں سے کہاں پہنچادیتا؟۔ اور بعض بدبخت تو پھرکردار سے اختلاف کی بنیاد پر نسل پر بھی تہمت لگانے سے نہیں شرماتے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند ساتھی تھے تو عرب ان کے دین کو کیسے قبول کرتے؟۔ عرب کے پاس تو عیسائیت اس حال میں پہنچی کہ وہ حضرت مریم کو خدا کی بیوی اور حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں کے قائل تھے جبکہ یہودی ضد میں حضرت عزیز علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیتے تھے۔ جیسے شیعہ عاشورہ میں دس محرم کو ماتمی جلوس منانا شروع ہوگئے تو جن لوگوں کے ہاں میلادالنبیۖ کا یوم منانا بدعت تھا وہ ضد میں فاروق اعظم کے دن کو یکم محرم میں منانے لگ گئے۔ یہی وہ غلو تھا جس کو منع کیا گیا تھا مگر غلو نے پنجے بہت گاڑھ دئیے ہیں۔

قریش عربوں کیلئے بنی اسرائیل کے مذاہب یہود ونصاریٰ میں کوئی دلچسپی کی چیز نہیں تھی تو کیوں ان کا دین قبول کرتے؟۔ اسلئے رسول اللہ ۖ کے والدین کو کافر اور جہنمی قرار دینے والا طبقہ پہلے یہ دیکھ لے کہ قرآن میں مؤمن ، کافر اور منافق کی کیا تعریف ہے؟۔ سورہ بقرہ کے پہلے رکوع میں مؤمن اور کافر کا حلیہ بتایا گیا ہے۔ ”یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شبہ نہیںہے۔ ہدایت ہے متقیوں کیلئے ،جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیںاور جو اللہ نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔اور جوایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ کامیاب ہیں”۔ رسول اللہۖ کے والدین کے وقت میں یہ قرآن نازل نہیں ہوا تھا اورابراہیم کے صحائف بھی عرب میں نہیں تھے۔ اسلئے وہ اہل کتاب نہیں تھے لیکن ایمان کے ترازو پر پورے اترتے تھے۔

پھر قرآن نے کفار کا آئینہ پیش کیا ہے” بیشک جو لوگ کافر ہیں ان کیلئے برابر ہے کہ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ایمان نہیں لائیں گے۔ مہر لگادی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔اور ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے”۔ اگر نبیۖ کے والدین کو قرآن کے اس آئینہ میں دیکھ لیں تو کفار کی صفات پر پورے نہیں اترتے لیکن پھر اگر قرآن کے واضح احکامات کی موجودگی اور وضاحت کے باوجود بھی کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ڈھیٹ بنے ہوئے ہیں تو وہ اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ لیں۔

پھر قرآن نے منافقین کا دوسرے پورے رکوع میں آئینہ پیش کیا ہے جس میں ہم خود کو اور دوسروں کو دیکھ سکتے ہیں۔

بنی اسرائیل کے مقابلے میں عربوں کی فطرت سلامت تھی اسلئے بنی اسرائیل کی طرح عربوں میں انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ اس طرح سے نہیں رہا تھا اور عرب کے مقابلے میں پھر برصغیر پاک وہند کے ہندو اور بدھ مت کے لوگوں کی فطرت اتنی نہیں بگڑی تھی جتنی عربوں کی بگڑ چکی تھی اسلئے قرآن عرب میں نازل ہوا۔ عرب کعبہ کا ننگا طواف کرتے تھے اور عرب میں دوپٹہ کا تصور نہیں تھا۔ عرب کی عورتیں اپنی چھاتیاں برہنہ کرتی پھرتی تھیں جس کو تبرج الجاہلیة کا نام دیا گیا۔ عورتیں ننگا نہاتی تھیں جس کی وجہ سے جاہلی شاعر امراء القیس کا قصہ وجود میں آیا تھا۔ برصغیر پاک وہند کی خواتین کا قومی لباس بہت ہی عزت دار اور شرم وحیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔

قرآن نے عرب خواتین میں سینہ کھولنے سے منع کرنے کیساتھ ساتھ سینے پر اضافی دوپٹہ اوڑھنے کا حکم بھی دیا۔ بخاری کے اندر چار قسم میں سے تین اقسام کے نکاح بہت خراب تھے جس کا مغرب و مشرق میں کہیں تصور نہیں ہے۔

رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ ”اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا اور یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا۔ پس خوش خبری ہے اجنبیوں کیلئے”۔ یہ اجنبی لوگ عبداللہ بن مسعود کے سامنے کرہ ارض پر اللہ نے دکھائے۔جس کا تعلق جٹ قوم سے تھا۔ جو بڑی تعداد میں ہندو اور مسلمان ہیں۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ”اگر ہندو اپنی کتاب ویدوں پر چلیں تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں ہے”۔عرب کے پاس حضرت ابراہیم کے صحائف نہیں تھے لیکن ہندو کے پاس اپنے صحائف ہیں اوراس میں قرآن کی طرح تعلیمات محفوظ ہیں تو ہندو اور مسلمان ایک اسلئے نہیں ہوتے کہ دونوں نے اپنی اپنی کتابوں میں معنوی تحریفات کا ارتکاب کررکھاہے۔ سکھ اسلئے ایک تیسرے مذہب کی بنیاد پر وجود میں آئے کہ ہندو مسلمان اپنے مذاہب کے برعکس اپنی فطرتیں بگاڑ چکے تھے۔

طلاق وحلالہ کی لعنت کے غلط اور خلاف فطرت مسائل کون قبول کرے گا؟۔ جس دن مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کریںگے اور اسلام کو اجنبیت سے نکال لیں گے تو ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی، جین ، پارسی اوربدھ مت وغیرہ سب مسلمانوں کے ساتھ اسلام کے فطری نظام کیلئے کھڑے ہوجائیں گے۔

عربی مدارس میں نصاب کے اندر بہت زیادہ تبدیلی کی بڑی سخت ضرورت ہے لیکن اصول فقہ میں کچھ ایسے قواعد کے نشان ہیں جن سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوسکتی ہے۔بطور مثال :

فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ

”پھراگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے”۔ البقرہ آیت:230

اصول فقہ میں حنفی مؤقف موجود ہے کہ ” اس طلاق کا تعلق جسکے بعد حلال نہ ہونے کی وضاحت ہے اس سے متصل فدیہ کی صورت سے ہے”۔ اور یہی مؤقف زادالمعاد میں علامہ ابن قیم نے حضرت عبداللہ بن عباس کے حوالے سے لکھا ہے۔

اگر تدبر کرکے دیکھا جائے تو یہ وہی صورت ہے کہ جس میں عورت کی طرف سے طلاق کے بعد کنفرم ہوجاتا ہے کہ رجوع پر وہ کسی صورت بھی راضی نہیں یہاں تک کہ فدیہ کی قربانی بھی دینے پر تیار ہے۔ جبکہ قرآن کی تمام آیات میں یہ واضح ہے کہ طلاق کے بعد عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو رجوع حلال نہیں۔ لیکن جب عورت رجوع پر راضی ہو تو اس کا نام معروف ہے اور پھر بہر صورت عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع ہوسکتا ہے۔ پاکستان میں حنفی اور اہل حدیث کی یہ کتابیں بہت بنیادی ہیں اور یہی قرآن ہے، یہی حدیث ہے اور یہی فطرت ہے اور اسی پر وہ دنیا چل رہی ہے جن کی فطرت کو مذہبی طبقات نے یہودونصاریٰ کی طرح بگاڑ نہیں دیا ہے۔

حنفی اصول فقہ میں یہ ہے کہ

حتی تنکح زوجًا غیرہ

”یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرے”اللہ کے اس حکم میں عورت کو اپنے نکاح کیلئے آزادی مل گئی ہے جبکہ اس کے برعکس حدیث میں ہے کہ ” جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے ، باطل ہے، باطل ہے”۔ اسلئے حنفی کے نزدیک قرآن کے مقابلے میں اس حدیث کو ناقابل عمل قرار دیکر ترک کردیا جائے گا۔

اہل حدیث اس پر متفق نہیں ہیں لیکن قرآن کے اس جملہ کی بنیاد طلاق شدہ عورت ہے اور اس کو ولی کی اجازت کے مقابلے میں کھڑا کرنا بھی غلط ہے اسلئے قرآن اس کو سابقہ شوہر کے ہی اختیار سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ سے لیکر شہزادہ چارلس تک سابقہ بیوی کی کسی اور شوہر کیساتھ نکاح پر غیرت کھانے کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے عورت کو آزاد کرنا بہت بڑی بات ہے۔ ریحام خان کو جب طلاق دی گئی تھی تو لندن سے وہ پاکستان جان کا خطرہ مول لیکر واپس آنے کا میڈیا پر اعلان کررہی تھی۔ واقعات سے دنیا بھری ہوئی ہے اور قرآن کی آیت230البقرہ کا مطلب بھی بالکل واضح ہے اسلئے کہ اس سے پہلے اور بعد کی آیات میں معروف کی شرط پر عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد رجوع واضح ہے۔

تاہم حنفی قاعدہ کے مطابق :

وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن کمثل الذی علیھن بالمعروف

” اور انکے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیاددہ حق رکھتے ہیں اصلاح کی شرط پر اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو معروف کے ساتھ ان پر ہیں”۔البقرہ:آیت228

اگر حنفی قاعدہ کے مطابق دیکھا جائے اور اس سے کوئی ایک حدیث بھی ٹکرائے تو کیا قرآن پر عمل ہوگا یا حدیث پر؟۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کے سامنے بات پیش کی اور وہ مان گئے اور پھر قبلہ ایاز صاحب کے سامنے بات پیش کی جو6سال چیئرمین رہے ،مجھے خط بھی لکھا اور بالمشافہہ ملاقاتوں میں بھی مان گئے لیکن جرأت کرنے کی صلاحیت سے محروم تھے۔ قرآن کے برعکس کوئی بھی حدیث نہیں ہے جس میںعدت کے اندر کوئی رجوع کرنا چاہتا ہو تو رسول اللہ ۖ نے منع فرمایا ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے لیکن اگر بالفرض کوئی حدیث ہوتی بھی تو حنفی اصول فقہ کا تقاضہ یہ تھا کہ اس حدیث کو مسترد کردیا جاتا۔ مدارس کے علماء ومفتیان کو جب اپنے عقیدتمندوں کی عزتوں کے بچانے کا احساس نہیں تو غیرمسلم کی خواتین ان پر بھروسہ کرسکتی ہیں؟۔

قبلہ ایاز نے کہا تھا کہ” علماء شاہ دولہ کے چوہے ہیں”۔ جاویدغامدی کا شاگرد مولاناعمار خان ناصرعلامہ زاہدالراشدی کا بیٹا اور مولانا سرفراز خان صفدر کا پوتا ہے۔ مولوی کو جہاں پر اچھی روٹی ملتی ہو تو اس کیلئے غامدی، شیعہ اور ہربلا بننے کو بالکل تیار ہوجاتا ہے۔ جب یہ لوگ دربار رسالت مآبۖ کو اپنا منہ آخرت میں دکھائیں گے کہ آپۖ کے والدین شریفین کو بغیر اتمام حجت کے کافر اور جہنمی قرار دیتے تھے لیکن خود قرآن کی کوئی حجت اپنی آنے والی نسلوں کی عزتیں بچانے کیلئے بھی قبول نہیں کرتے تھے تو شرمندگی تو میرے خیال میں بنتی ہے؟۔

جاویداحمد غامدی کے دو تفصیل سے ویڈیوز یوٹیوب پر ہیں۔ ایک مسئلہ تین طلاق پر اور دوسرا شرعی پردے پر۔ دونوں میں ریکارڈ بکواس کی ہے۔ جب علماء ومفتیان درس نظامی میں فقہ کے اصول پڑھ کر اس کی سمجھ اور اس پر عمل سے قاصر ہوں گے تو پھر جاہل لوگ خود ساختہ اس کی حماقتیں کریں گے۔

عرب میں درست نکاح والے بھی تھے اور بدفطرت بھی اور درست لباس والے بھی تھے اور بیکار لباس والے بھی۔ اسلئے کہ اللہ نے جاہلیت کی طرح سینہ ننگا کرنے سے بھی روکا ہے اور اس کی ابھار کی زینت کو نمایاں کرنے سے اجنبیوں کے سامنے سے روکا ہے۔ جس پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں اور کبھی مزید اس کی وضاحت کروں گا انشاء اللہ۔ جاویداحمد غامدی ”شرمگاہوں کی حفاظت کے حکم ” سے لوگوں کو بے لباس کرنے کے چکر میں لگتا ہے۔ حالانکہ شرمگاہوں کی حفاظت تو برقعوں میں بھی حکم ہے۔ ہٹلر پر اپنے لوگ یقین رکھتے تھے لیکن بعد میں پتہ چل گیا کہ وہ دماغی طور پر معذور ہوگیا تھا۔ غامدی کا بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اپریل2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

مسئلہ طلاق وحلالہ علت معلول
قابل غور دلائل ملاحظہ کریں :
دلچسپ اور عجیب غور کروتوسہی!