نسلوں پراعتماد کریں وطن ازلی ابدی اورملک بدل سکتاہے! وطن اپناحق مانگتاہے اور ملک حق دیتاہے۔ نورالھدی شاہ
جون 16, 2026
بہت شکریہ۔ مجھے نثار کھوڑو صاحب کی طرف سے انویٹیشن ملا، میں آئی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ میں پنجاب میں بھی کہتی ہوں کہ ہزار ہا شکایتیں ہیں ہمیں، ناراض ہیں ہم، اسٹیج پر جہاں مجھے موقع ملتا ہے ۔اکثر نثار کھوڑو اگر یہاں سامنے بیٹھے ہوں تو سارا عتاب بھی انہی پر نازل کر دیتے ہیں۔ لیکن میں پنجاب میں جو بات کہتی ہوں کہ ایک بات ہے، ہمارا جو جی چاہے ہم پیپلز پارٹی پر بولتے ہیں اور یہ سنتے ہیں۔ اور سوشل میڈیا پر ہمیں گالیاں نہیں پڑتیں، کوئی ورکر ہمیں برا بھلا نہیں کہتا، غدار نہیں لکھتا۔ ہم زرداری صاحب کے خلاف بھی کھل کر بات کرتے ہیں۔ یہ خوبی ظاہر ہے کہ جمہوریت کی ہے۔
ابھی جتنی بھی باتیں ہوئیں، مظہر نے وہ پیپلز پارٹی یاد دلا دی جو بھٹو صاحب، جو بے نظیر صاحبہ کی تھی۔ اس موضوع پر تو ہمیں بات کرنی ہی ہے مگر پہلے میں مظہر کی بات کو کنٹینیو کرتے ہوئے کہوں گی کہ ایسا کیوں ہوا ہے؟ کیوں آج آپ کو بات کرنے کیلئے میری، مظہر کی، ہم سب کی، وسعت کی، بولنے والوں کی ضرورت پڑ گئی؟ وہ اسلئے کہ آپ نے اپنی پارٹی میں بولنے والے ورکرز، بولنے والے لوگوں کے دروازے بند کر دئیے۔
آپ نے اپنا ووٹر سندھ میں وڈیرے کے پاس یرغمال کر دیا
اور میں ایسا نہیں کہ باہر سے منظر دیکھنے والوں میں سے ہوں، میں اسی منظر کا حصہ ہوں اور میں گواہ ہوں اور میں جانتی ہوں اور میری آبزرویشن ہے، میرا تجربہ ہے۔ آپ نے اپنے وہ ووٹر جسے بھٹو کیچڑ میں اتر کر گلے لگاتا تھا، اسے وڈیرے کے حوالے کر دیا۔ آپ وڈیرے سے ووٹ مانگتے ہیں، وہ یرغمال ووٹر سے آپ کو ہزاروں کی تعداد میں ووٹ لیکر دیتا ہے اور اپنی قیمت مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سندھ کا سماج، اوپر سے نیچے سندھی سماج ڈیکلائن کی طرف جا رہا ہے روز لڑکیاں ماری جا رہی ہیں، حادثات ہیں۔ نشے کی بات میں نے دیکھا کہ میرے اپنے گاؤں میں، ٹھٹہ سے، بدین، ٹنڈو محمد خان، لوگ تھروٹ کینسر میں مر رہے ہیں۔ وڈیرا کتنا حصہ لیتا ہے، پولیس کتنی شامل ہے، رینجرز کیا کر رہی ہے، فرض آپ کا ہے، ایم پی اے کہاں ہے؟ آپ ہمیں زہر سے بچائیں۔
پہلے پیپلز پارٹی کو وفاق کے سامنے سرخرو ہو کر اگر کھڑے ہونا ہے، اپنے ووٹر کو وڈیرا ،پیر، مولوی، فتوی فروش سبھی لوگ جو طاقتور ہیں سے آزاد کروانا پڑے گا اور ٹرسٹ کرنا پڑے گایہ ووٹر کون ہے؟ یہ وہی نسلیں ہیں جس نے ون یونٹ کے خلاف تحریک چلائی، ایوب خان کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوا، جسے پتہ چلا کہ سندھ کو وفاق میں تحلیل کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی ووٹرز ہیں جنہوں نے ایم آر ڈی کی موومنٹ چلائی، مارے گئے۔
جہاں تک وفاق کا تعلق ہے، یہ خطہ، سب کانٹیننٹ ٹیکس ادا کرنے کا عادی ہے۔ ٹیکس چاہیے، لے لیتے، لیکن ٹیکس حاصل کرنے کیلئے سندھ کے بٹوارے کی باتیںبولنا شروع کر دیں ۔ نفرتوں کا بیج بونا شروع کر دیا، یہ پرانا ہتھیار ہے۔ پرابلم یہ ہے آپ کا، وفاق کا، کہ سندھ کو پہچانتے ہی نہیں ہیں۔ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ یہ سندھ میں لوگوں کی نفسیات کیا ہے؟ وہ اپنی زمین سے کیسے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ہجوم ہے اور جس طرف ہم ان کو لے جائیں گے،ایسا نہیں ہے۔
دیکھئے سندھ کا تھاٹ یہ ہے:
ایک ہے وطن، ایک ہے ملک وطن جہاں آپ کی نسلیں دفن ہیں ،دفن ہوں گی۔ ازل سے جہاں آپ کھڑے ہیں جس کی تہذیب کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ ملک وہ ہے جس کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ آپ کے پاس ہے، آئینی طور پر آپ جس کے شہری ہیں۔ دونوں میں فرق کیا ہے؟ وطن کا اپنے لوگوں پر حق ہوتا ہے، لیکن کسی ملک کے شہری کا اپنے ملک پر حق ہوتا ہے۔ وطن حق مانگتا ہے، ملک حق ادا کرتا ہے۔ یہ چیزیں آپ کو، وفاق کو سمجھنی پڑیں گی۔
ایم آر ڈی کی موومنٹ میں جائیے، کینالز پر آئیے۔ میں خود بطور سندھی، سندھ کی شہری مایوس تھی، مجھے پیپلز پارٹی سے بھی شکوہ تھا کہ سندھی عوام کو بالکل ہی بیکار کر دیا ہے، نشے میں ہم الجھے ہوئے ہیں، کچھ نہیں پتہ کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے لیکن جب کینالز والا معاملہ چلا، تو کاش وفاق اپنی آنکھوں سے آ کر اس موومنٹ کو دیکھتا جن وکیلوں نے موومنٹ چلائی، مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے ان کا چہرہ بھی نہیں دیکھا۔50سال میں یہ پہلی موومنٹ تھی کہ حیدرآباد سے سکھر تک میں نے پہلی بار راستے میں جتنے بچے، ننگے پیروں، جیسے بھی لوگ راستے میں ملے، میں نے ”جئے بھٹو”کا نعرہ نہیں سنا، صرف ایک نعرہ سنا:”کینال سمورا نامنظور، سندھو تے دھاڑو نامنظور” یہ سندھی ہیں۔حیدرآباد سے سکھر تک اربوں ڈالرز کا مال ہمارا نہیں، سندھ کا نہیں تھا، آپ کا تھا یہ چاہتے تو تو لوٹ لیتے لیکن امانت باسلا مت اربوں ڈالرز کو کسی نے چھوا تک نہیں۔ یہ ہے سندھ کا عوام۔ وفاق کیساتھ آپ کچھ بھی کر لیں۔65فیصد کراچی صوبے کے پاس نہیں ۔
ہمDHAمیں رہتے ہیں ٹیکس دیتے ہیںDHAکو مگر لگتا ہے گدھا گاڑی پر جا رہے ہیں۔ حساب کس کے پاس ہے؟ ۔اب آپ کو کراچی کا غریب عوام، پریشان حال لوگ، وہ تو نہیں چاہیے ہوں گے، باقی بہت کچھ آپ کے پاس ہے۔ لیکن ہم اس پر چپ ہیں۔ دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاںDHAسٹی ہو۔ ماشا اللہ پاکستان میںDHAسٹیز ہیں، ہمارے پاس بھیDHAسٹی ہے، ہم سکون سے رہ رہے ہیں اس میں، چاہے ٹوٹی سڑکیں ہیں، کوئی بھی فیسیلٹی نہیں ، پانی نہیں۔ یہ بھی بویا جا رہا ہے کہ کراچی کے لوگوں کو پانی نہیں ملتا۔ ہمارے نصیر میمن صاحب کہا کرتے ہیں کہ کراچی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پانی تو ٹینکر سے آتا ہے۔ وہ ٹینکر کہاں سے پانی لاتا ہے ہمیں اس سے غرض نہیں۔ یہ آپ کا بویا ہوا ہے۔ ٹینکر پانی لائے گا اس کی چابی جنابِ والا آپ کے ہاتھ میں ہے ۔یہ چابی ہی اپنے ہاتھ میں ہے کہ کینالز کی پلاننگ سامنے رکھ دی۔ نہیں پوچھا کہ جب ہم کینالز بنائیں گے اور جب یہاں سے پانی جائے گا تو تم لوگ کیسے جیو گے؟
یہ سب سوچنا پڑے گا۔ پاکستان ان ریسٹ (Unrest) کا شکار ہے اس وقت۔ دہشت گردی جسے آپ کہہ رہے ہیں مگر وہ سبھی جگہوں پر نہیں ہے، کہیں بہت سی ایسی بے چینی ہے، شکوے شکایتیں ہیں۔ ہمیں، تمام صوبوں کی عوام، پنجاب سمیت عوام کو، آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا اور یہ کھیل اب بند کرنا پڑے گا۔ ایسا نہ کریں کہ عوام مشتعل ہوں، ان سیکیور ہوں۔
پیپلز پارٹی سندھ سے مگر سندھ ایک اور چیز ہے۔ چند دن پہلے سندھیانی تحریک، پلیجو گروپ کا28ویں ترمیم پر جو جلسہ ہوا ہے، سندھ کی تاریخ میں یہ جلسہ لکھا جائیگا۔ یہ پیپلز پارٹی کے شدید مخالف ہیں، مگر جہاں سندھ کا مفاد آئیگا ہم نہیں دیکھیں گے کہ آپ کا اختلاف پیپلز پارٹی سے یا کس سے ہے میں اپنے الفاظ دہراؤں گی کہ سندھ میں اپنے ملزم کا گریبان ہم پکڑیں گے، آپکو نہیں پکڑنے دیں گے۔ حساب ہم لیں گے، اور بڑا حساب ہے ہمارا اور ہم اس پر چیختے ، بولتے رہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو غور کرنا پڑے گا، دوبارہ اپنی ساری پالیسیوں کو دیکھنا پڑے گا۔ پیپلز پارٹی کو سندھ، سندھی ووٹر، سندھ کاووٹر جو یرغمال ہے دیکھنا پڑے گا۔ ہمیں پاور کی تقسیم کرنی چاہیے۔
مظہر ابھی پوچھ رہے تھے کہ کیوں تعلیمی اداروں سے وہ سیاست اٹھ گئی جو پیپلز پارٹی نے شروع کی تھی؟ وہ تو جو بھی ہوا، ہو رہا ہے کیونکہ اس پر بولا جا چکا ہے۔ آپ کا ورکر، آپ کا ووٹر، وہ اس وقت شدید تکلیف میں ہے۔ وہ وڈیرے، پیر، میر، جاگیردار، سردار، پگڑی دار، ان سب سے آزادی چاہتا ہے۔ آپ واپس آئیے، واپس آئیے اور اس بھٹو کی صورت میں آئیے جو ننگے پاؤں کیچڑ میں اترتا تھا اور عوام کو گلے لگاتا تھا۔ بہت شکریہ۔
تبصرہ : عتیق گیلانی
دریا میں گند ڈالا جاتا ہے ، گومل ڈیم سے انڈر گرؤانڈ پائپ کراچی اور شہروں کیلئے بنایا جائے اور بجلی پیدا کرنیکا نظام بھی ہو تویہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ گھروں میں بغیر بجلی پانی ٹینکوں تک چڑھے گا۔ خرچہ اور الودگی دونوں کم ہوں گی۔ کینسر اور بیماریاں ختم ہوں گی۔
ــــــــــ
صحافی وسعت اللہ خان
ہر ذمہ دار پاکستانی کی طرح دہرانا چاہتا ہوں کہ فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی شاندار ملی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، ان کی موجودہ اورآئندہ سوچ، پالیسیوں اور حکمتِ عملی سے پوری طرح متفق ہوں۔ اعلان ختم ہوا۔اب موضوع پر آتا ہوں۔ کراچی کو وفاق کے ماتحت چلانےNFCایوارڈ میں کٹوتی، اٹھارہویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کیخلاف باتیں، سندھ کو ون یونٹ کی طرف دھکیلنے کی سازش۔
وفاق کو1.2تا1.7ٹریلین روپے اضافی درکار ہیں۔ اس پر اتفاق ہوا کہFBRاس مالی سال جو ٹیکس جمع کرے گا، اگلے مالی سال میں اضافی ٹیکس صوبوں کو نہیں وفاق کو ملے گا۔ صوبے اگلے مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں میں920ارب روپے کی کٹوتی اور وفاق126ارب کی کٹوتی کرے گا۔
پیٹرولیم ٹیکس لیوی وفاق کو ملتی ہے،GSTکا نام دیا جاتا تو صوبوں کو حصہ دینا پڑتا۔ خلاصہ یہ کہNFCایوارڈ کے تحت صوبوں کوبظاہر حصہ پہلے کی طرح پورا ملے گا مگر بیک ڈور سے وفاق کو خسارہ پورا کرنے کیلئے صوبے اضافی رقم دیں گے۔ اسے کہتے ہیںNFCایوارڈ میں غیر اعلانیہ کٹوتی۔اس فیصلے میں سب شریک ہیں، وہ بھی جو اعلانیہ کٹوتی چاہتے ہیں ،وہ بھی جو غیر اعلانیہ طور پر وفاق کا فرمائشی پروگرام پورا کر رہے ہیں۔
( ہال میں دباؤ کیلئے پیپلزپارٹی کے نعرے اور شورشرابا)
پیپلز پارٹی نے26ویں ،27ویں ترمیم کیلئے جوش دکھایا، اگر آدھا دکھایا تو28ویں ترمیم منظور نہیں ہو سکتی مگر”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں” والی پالیسی سے نجات حاصل کی جائے۔ ورنہ تو اس بار بھی آنکھوں میں آنسو بھر کے، بھاری دل کیساتھ ترامیم منظور کرنے میں ساتھ دیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک یہ سوال ہے کہ کیا سندھ کو ون یونٹ کی جانب دھکیلنے کی سازش ہو رہی ہے؟ تو جواب نثار کھوڑو صاحب دے سکتے ہیں، سندھ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہے۔یہ1954کی سندھ اسمبلی بھی نہیں ۔ زبردستی ون یونٹ پہ انگوٹھا لگوا لیا گیا تھا، یہ2026کی اسمبلی ہے تو پھر آپ کو کس کا ڈر ہے؟ ۔
بطور صوبائی حکومت آپ کا فرض ہے کہ وفاق سے اپنا پورا مالی و سیاسی حق وصول کریں مگر اسے نچلی سطح تک بھی بانٹیں ورنہ نہ تو عام آدمی کو اٹھارہویں ترمیم سے کوئی فائدہ مل سکتا ہے اور نہ ہی کسی این ایف سی ایوارڈ سے۔ نیویارک کا شہر اسٹیٹ آف نیویارک کا کیپیٹل ضرور ہے مگر اس شہر کا انتظام مضبوط خودمختار بلدیاتی ڈھانچے کے سبب ہی چل رہا ہے۔ یہی حال لندن کا بھی ہے، یہ شہر مقامی ٹیکسوں، پولیس، نظم و ضبط، تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے فیصلے خود کرنے میں خودمختار ہیں۔ ممبئی، دہلی، کولکتہ، بیجنگ، بوگوٹا ،جوہانسبرگ اسی ماڈل پر چل رہے ہیں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ترقیاتی منصوبے کے100روپے بجٹ میں سے70روپے ایمانداری سے خرچ ہوں اور باقی30روپے کی منصوبہ ساز اور فیصلہ ساز بھلے آئسکریم کھا لیں۔
ــــــــــ
صحافی مظہر عباس
کراچی کا مسئلہ تو شاہراہِ فیصل سے شروع ہوا اور شاہراہِ بھٹو تک آگیا۔ شاہراہِ فیصل بھٹو صاحب نے بنائی، وقت پر مکمل وہ خالصتا عوامی منصوبہ تھا۔شاہراہ بھٹو کا پتہ کریں کہ کیوں بنائی گئی۔ اگر دو بڑی ہاؤسنگ اسکیمیں نہیں ہوتیں تو شاید شاہراہِ بھٹو کیلئے بھی لوگ ترس جاتے۔ رہ گئی بات کراچی کی، تو آہستہ آہستہ تو وفاق کے حوالے کرتے جا رہے ہیں ۔ یقین نہ آئے تو زمینوں کی بندر بانٹ دیکھ لیں۔ آجBRTکس سے بنوائی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ وزٹ کر کے چلے جاتے ہیں۔ جب کلفٹن کا برج کراس کرتے ہیں تو سندھ وفاق کے حوالے ہو جاتا ہے۔تین مستند دستاویز ہیں۔1973کا آئین، میثاقِ جمہوریت ، 18 ویں ترمیم۔ اگر مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی اس پر ان ٹوٹو (In Toto)عمل کرتی تو آج ہائبرڈ نظام نہ ہوتا۔ جو پارلیمنٹ فوجی عدالتوں کے حق میں قرارداد پاس کر دے، وہ جمہوری کیسے ہو سکتی ہے؟ ۔ہم لاپتہ افراد، بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ پر بات نہیں کر سکتے۔ پارلیمنٹ میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں لیکن جمہوریت سکڑتی جا رہی ہے۔1973کے آئین کو اگر واقعی صحیح معنوں میں بنایا جاتا۔ یہ دستاویز بننی شروع ہوئی تو بائیں بازو نے بہت بڑی غلطی کی جب میر غوث بخش بزنجو جیسے لوگوں کو آئینی کمیٹی سے باہر آنا پڑا، جس نے بعد میںایسا آئین بنایا جہاں لبرل اور لیفٹ کے لوگوں نے زیادہ کمپرومائز کیا اور رائٹ ونگ کی بہت سی باتیں اس آئین میں انکارپوریٹ ہوگئیں۔
پیپلز پارٹی کی بڑی دلچسپ تاریخ ہے۔ دو تہائی اکثریت سے پیپلز پارٹی کو روکا گیا۔ زیادہ ٹکڑے کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان کی سیاست میں کرپشن منشیات کے ذریعے آئی۔ ضیا الحق دور میں ڈرگز منی پاکستان کی سیاست کو منشیات زدہ کر گئی۔ ان کی فہرست نکالیں جس نے لڑائی لڑی، شاہی قلعے کاٹے، پھانسی چڑھے، فوجی عدالتیں فیس کیںاور جواب میں26ویں27یں ترمیم دے دی گئی۔ آپ اپنی تاریخ نہیں لکھتے کہ لوگوں نے کس طرح فوجی عدالتوں اوربدترین آمریت کا سامنا کیا۔ پیر میں چپل نہیں تھی، اس کی والدہ کی جو پھانسی چڑھنے گیا ذوالفقار علی بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو نشانِ پاکستان دیا گیا؟ ہم تمغے بھی ان کو دیتے ہیں جنہوں نے کوڑے لگوائے۔
آپ اربوں روپے اپنے لے لیں لیکن اگر آپ لوگوں پر خرچ نہیں کر رہے تو میرے نقطہ نظر سے تو اس بحث کا کوئی مقصد ہی نہیں۔ پھر یہ کہ اٹھارہویں ترمیم، میں نے اپنی آنکھوں سے اٹھارہویں ترمیم بنتے دیکھی۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی ترمیم ایسے ڈیموکریٹک پراسیس سے گزر کر نہیں بنی جس طرح اٹھارہویں ترمیم بنی تھی۔ کیونکہ اس کے اندر نہ صرف یہ کہ صرف پارلیمنٹ کے لوگ شامل تھے، بلکہ باہر کے لوگ بھی شامل تھے۔
( اچانک اندھیرا کردیا گیا)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ