3 طلاق پر حلالہ
جولائی 26, 2026
3 طلاق پر حلالہ
پیر نصیر الدین گیلانی
مولاناپیرنصیرالدین: محترمہ کون صاحبہ بات کر رہی ہیں؟
ایک خاتون: جی میں اپنا نام نہیں بتانا چاہتی ہوں۔ مجھے پیر صاحب سے بات کرنی ہے۔مولانا صاحب: جی ضرور کیجیے۔ جی جی فرمائیں، میں سن رہا ہوں۔
خاتون: ہیلو اسلام علیکم جی۔
مولانا: وعلیکم اسلام۔
خاتون: جی مجھے طلاق کے بارے میں ایک بات پوچھنی ہے اگر اجازت ہو تو؟ ۔
مولانا: جی جی۔
خاتوں: ایسا ہے کہ مجھے میرے خاوند نے کتنی دفعہ ہی کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ تو ایک دن اس نے مجھے بہت مارا ہے اور اس نے مجھے کہا ہے اوپر نیچے کوئی چھ سات دفعہ۔پھر میں نے اس کا گھر چھوڑ دیا لیکن کچھ مولانا سے پوچھا تو کچھ کہتے ہیں کی طلاق ہو گئی لیکن کچھ کہتے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی کیونکہ کوئی آپ کے پاس کوئی اور گواہ نہیں تھا۔
مولانا: بی بی طلاق کے سلسلے میں یہ جو غیر مقلد حضرات ہیں جو کسی امام کو نہیں مانتے نہ امام ابوحنیفہ کو، نہ مالک کو، نہ شافعی کو، نہ حنبل کو۔ وہ اجتہاد کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے حدیثیں ہی کافی ہیں بس۔ ہم بحمداللہ امام ابوحنیفہ مانتے ہیں اور ان کے ہم کوئی رشتہ دار نہیں نہ ماموں یا چچا لگتے ہیں۔ ہم انکے علم سے متاثر پوری امت ان کی اقتدا کرتی ہے سمجھ آئی ناں؟۔ انکے خلوص ، محبت اور ان کا جو تفقہ کا مقام تھا تو انکے نزدیک اور میرے دادا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے بھی لکھا فتاوی مہریہ میں کہ تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں۔ پھر حلالہ کے بغیر عورت پہلے خاوند پر جائز نہیں۔ رہا یہ سوال جو غیر مقلد حضرات کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت کہ تین طلاق ایک ہوتی ہے۔ اگر قابل قبول ہوتی تو ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ، امام محمد ، امام یوسف جیسے لوگ ،آج کل کے یہ حضرات ان کے جوتوں کی دھول کے برابر بھی نہیں تو یہ ضرور اس روایت پر فتوی دیتے کہ تین طلاقیں ایک شمار ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے فقہا ء احناف کے نزدیک تین دینے والا تین واقع ہوتی ہیں۔ لہٰذا آپ ان کی باتوں پر نہ جائیں اگر آپ غیر مقلدہ ہیں تو آپ کی مرضی ہے۔ پھر اس کی سند پر کوئی اعتبار نہیں۔ یہ نہ ہو کہ میل ملاپ میں فعل حرام ہو اور حرام کاری ہوتی رہے۔ احتیاط کریں ،مستند جید احناف اور اہل علم سے رجوع کریں تا کہ صحیح مسئلہ بتائیں۔ میں نے مسئلہ آپ کو بتا دیا کہ طلاق ہو گئی ہے کیونکہ تین الفاظ سے تین طلاقوں سے تین ہی واقع ہوتی ہیں۔
تبصرہ :عتیق گیلانی:
یہ اجتہادی مسئلہ نہیں کہ حلالہ ہو یا نہیں؟۔ قرآن کا فیصلہ ہے کہ عورت کی رضا مندی کے بغیر طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا۔ درس نظامی کی اصول فقہ ”نورالانور: ملاجیون” میں ہے کہ حلالہ کی طلاق کا تعلق فدیہ سے ہے ۔ عورت ، شوہراور فیصلہ کرنے والے سبھی فدیہ کا متفقہ فیصلہ کریں، کنفرم ہو کہ عورت رجوع نہیں چاہتی تو حضرت عمر نے تین طلاق، حضرت علی نے حرام پر فیصلہ دیا۔ نبیۖ کے ایلاء پر بھی اللہ نے فرمایاکہ تمام ازواج کو علیحدگی کا اختیار دیں لیکن عورت راضی ہو تو طلاق مغلظ کا تصور اہلحدیث کے امام بخاری نے غلط تراشاہے۔ائمہ مجتہدین کا مطلب یہ نہ تھا کہ قرآن میں صلح کا حکم منسوخ ہے۔اسلام اجنبی بن گیا تو ظہار کا حکم بھی سورہ مجادلہ میں واضح ہوا۔ علماء حق کو اجنبی اسلام ملا تھا۔ نبیۖ سے عورت کا مجادلہ ہوا :”وہ قول منکراورجھوٹ ہے” ۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ