شوہر نے بیوی کا حلالہ دوست سے کروایا دوست طلاق کے بجائے ہنی مون پر چلاگیا۔
اگست 4, 2026
حرام حلالہ سینٹرز
ویڈیو کی تفصیل دیکھ لیں ۔ یہاں کچھ اقتباس دیتے ہیں۔
میزبان: کراچی، لاہور، اسلام آباد، بہالپور ایسے شہروں میں حلالہ سینٹر ہیں۔ پیسے لے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔
تہمینہ شیخ : یہاں کیا کرتے ہیں؟ کہتے ہیں دو لاکھ روپیہ دو، حلالہ کرا دیں۔ بہالپور میں دو لاکھ کا باقاعدہ ہ ا شتہار۔
تہمینہ شیخ: بہت بہترین قسم کا یہ کیس ہے جس سے لوگوں کو سبق بھی مل سکتا ہے۔ ہر خبر میں سبق ضرور ہوتا ہے لیکن لوگ صرف خبر کا مزہ ضرور لیتے ہیں لیکن سبق نہیں حاصل کرتے۔ اس خبر میں جو ذکر ہے، جو سبق ہے وہ حلالہ ہے۔ وہ دین ہے، وہ دنیا ہے اور وہ آخرت ہے ایک عورت کی۔ لیکن پتہ نہیں مجھے نہیں سمجھ آتی کہ لوگ کیوں بربادی کی طرف چل پڑے ہیں، چل نہیں پڑے دوڑ پڑے ہیں سارے کے سارے۔ یہ کیس پشاور کا ہے اور ایک موضع ہے جسے کہتے ہیں متھرا۔ ہدایت اللہ نامی شخص ایک عورت کا شوہر۔ ہوتا کیا ہے؟2010میں والدین اپنی بیٹی کی شادی کر دیتے ہیں ہدایت اللہ سے اور اس میں بیٹی جو ہے اس کا نام زینب ہے۔ یہ شادی15سال بڑی بہترین انداز میں چلی زینب کو شوہر بہت زیادہ مارتا پیٹتا تھا۔ ہر دفعہ برداشت کرتی تھی، ایک دن سامنے اکڑ کے کھڑی ہوگئی، خبردار جو اب ہاتھ لگایا۔ پتہ نہیں وہ طاقت، وہ حوصلہ، وہ ہمت کہاں سے اس کے اندر آیا۔ جس دن اس نے آواز اٹھائی فرسٹ ٹائم، میں 15سال بتا رہی ہوں کہ شادی رہی، اسی دن اس کو تین طلاقیں ہوئیںموقع پہ۔ میں غیرت مند آدمی ہوں اور میں کیسے برداشت کروں کہ میری عورت کی آواز مجھ سے بلند ہوئی۔ اوکے ڈن، طلاق ہوگئی۔
اب اکٹھی تین طلاقیں ہوئیں نا، تو یہاں پر کردار ہے ایک اسلامک سکالر کا، وہ بہت اچھے سے بتا سکتے ہیں لیکن جہاں تک ہم نے سنا، غلطی بھول چوک معاف کہ اکٹھی تین طلاقیں ہوتی نہیں۔ دین تو یہ کہتا ہے۔ باقی اسلامک سکالر، مفتی حضرات جو ہیں ہم سے بہت بہتر علم بھی رکھتے ہیں اور وہ بتائیں گے اس حوالے سے۔ تین طلاقیں اکٹھی نہیں ہوتی ہیں۔
پھر بیٹھ گئے۔ مسئلے کا حل نکالتے ہیں، کسی کو بتایا تو نہیں؟ نہیں میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ اپنے ماں باپ کو؟ نہیں بتایا۔ اوکے۔ چلو پھر اس کا حل حلالہ ہے۔ میں تو نہیں مانتی یہ کیا ؟۔ میں مولوی کو لاتا ہوں، مولوی آگیا۔ میاں بیوی، مولوی صاحب بیٹھ گئے۔ مسئلہ سننے کے بعد مولوی کہتے ہیں حل واقعی حلالہ ہے، اگر دوبارہ آپس میں نکاح کرنا چاہو تو کر سکتے ہو۔ بتا کون رہا ہے؟ مولوی صاحب۔۔ اچھا جی اب یہ طے پا گیا۔ اب کس کے ساتھ اس کا حلالہ کرواؤں؟ ایک اس کا بڑا بیسٹ بڈی ہے، دوست ہے اس کا، اس دوست کا نام ہے راجبری۔
میزبان: اگر حلالہ کی بات کریں تو دین ہمیں جو بتاتا ہے کہ اس مرد کی اب وہ سابقہ بیوی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو کسی اور مرد کیساتھ نکاح کرنا پڑے گا، ازدواجی تعلق قائم ہوگا، اس کے بعد جو نیا شوہر اپنی مرضی سے اس کو طلاق دے گا تب جا کر جو بیوی ہے اپنے سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے اور وہ تب جا کر حلال ہوگی، یہ پورا ایک کنسیپٹ ہے۔
تہمینہ شیخ: شرعی حیثیت بالکل آپ نے جو کہا یہ ہے سچویشن۔ مگر شرعی حیثیت میں پری پلانڈ اگر کیا جائے تو ہوتا ہی نہیں ۔
میزبان: ہاں پیسے دیکر حلالہ کروا لیا جائے یا اس نیت سے کروایا جائے کہ طلاق دینی ہے پھر بیوی نے واپس جانا ہے۔
تہمینہ شیخ: بالکل۔ جیسے ہم کیس میں بات کر رہے ہیں اب شوہر دوست ڈھونڈ کے اس کیساتھ حلالے کیلئے بھیجے، واپس لے آئے، تو یہ ہوتا ہی نہیں ہے نا، دین تو ایسا نہیں کہتا۔ راجبری کو کہا کہ میرا جھگڑا ہوگیا تھا، میں نے طلاق دے دی، حلالہ کرنا ہے تیرے ساتھ۔ وہ اس کا منہ دیکھ رہا ہے، کیا بول رہا ہے اپنی بیوی کے بارے میں؟ پانچ سے دس منٹ کی اس نے کونسلنگ، راجبری کو ایگری کر دیتا ہے نکاح کیلئے۔ کہتا ہے ٹھیک ہے پھر کل نکاح کریں؟ کہتا ہے ہاں کریں۔ اب راجبری کے ساتھ نکاح کر دیا جاتا ہے باقاعدہ طور پر اور نکاح میں مولوی بیٹھا ہے اور اس نکاح میں کچھ گواہ بھی بیٹھے ہیں۔ رخصت ہو کر چلی گئی جو کوئی گھر یا فلیٹ ہوگا۔ صبح ہوئی، بڑا ہنسی خوشی جاتا ہے راجبری کے اسی فلیٹ پر جہاں پر اپنی بیوی کو رخصت کر کے آیا ہے یہ۔ حیران اور پریشان ہوں میں، مجھے سناتے ہوئے بعض اوقات شرم آتی ہے میں کیا بتاؤں عوام کو، لیکن جو صورتحال ہے وہ بتانی اتنی ضروری ہے تاکہ لوگوں کو کم سے کم اویئرنس تو آئے۔ دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ نہ کھلے، پھر کھٹکھٹایا نہ کھلے۔ دھیان گیا سائیڈ پر چھوٹا سا تالا لگا ہوا ہے دروازے کو،، فون کیا، فون بند۔ چار دن یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہفتے بعد فون آن ہوا اور رابطہ ہوا۔ راجبری تم کہاں چلے گئے یار؟ تمہارے ساتھ میرا طے ہوا تھا؟ تم کون بات کر رہے ہو؟ جواب آرہا ہے۔ شاک۔ میں کون بات کر رہا ہوں؟ یار میں نے حلالے کیلئے اپنی بیوی کا نکاح نہیں تم سے کرایا تھا؟ کہتا ہے اچھا اچھا۔ اپنی بیوی کا نہیں اب وہ میری بیوی ہے اور میں ہنی مون پیریڈ پر ہوں۔ کہتا ہے کیا مطلب ہے تم ہنی مون پہ ہو، میں نے واپس لینی تھی، تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا۔ کہتا ہے میری بات سنو، طے میں نے تمہارے ساتھ کیا تھا، لیکن میرا اب دل آگیا اس پہ، میں نے نہیں چھوڑنی بھائی میری بیوی ہے۔ زینب کی آوازیں آرہی ہیں پیچھے سے۔ کہتا ہے بیٹھ کر بات تو کر لو تم لوگ۔ ٹائم سیٹ کرتے ہیں۔یہ بیٹھ جاتے ہیں سیٹنگ میں، زینب، راجبری، اس کا وہ شوہر پچھلا۔ بیٹھ گئے بات چیت ہو رہی ہے۔ اب وہ کہہ رہا ہے یار یہ میری بیوی ہے میں نے نہیں چھوڑنی۔
میزبان: زینب کا کیا موقف ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا اتنا انٹرسٹنگ مؤقف ہے۔ یہ کہتا ہے میں نے بیوی نہیں چھوڑنی دل آگیا۔ وہ کہتا ہے زینب، چلو نا گھر، دیکھو یہ کیا فضول باتیں کر رہا ہے۔بچے انتظار کر رہے ہیں۔ زینب کیا کہتی ہے؟ کیا مطلب ہے چلو نا چلیں گھر؟ میرا گھر تو یہی ہے جس کے میں نکاح میں ہوں، تم چلو یہاں سے باہر، نکلو باہر کمرے سے۔ اب یہ کہہ رہا ہے کہ تم نے میرے ساتھ طے کیا تھا حلالہ، کیا تم بھول گئیں وہ15سال شادی کے، وہ تین بچے۔ زینب آگے سے کہتی ہے ہاں میں بھول گئی تھی تب جب تم نے مجھے کہا تھا تین مرتبہ طلاق اور جب ہر دفعہ تم مجھے ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ مارتے تھے، میں بدظن ہوگئی۔ اس نے مجھے ایک ہفتے میں اتنا کمفرٹیبل رکھا ہے کہ میں نے اب اس کو چھوڑنا ہی نہیں ہے۔ یہی میرا حقیقی شوہر ہے، اسکے ساتھ زندگی گزاروں گی۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس نے کیا کرنا تھا۔ اب یہ سارا جھگڑا ہوگیا بہت زیادہ۔
3جنوری تاریخ ہے اور ایک لاش ملتی ہے، ہوتی ہے زینب کی۔ زینب کی جب لاش ملتی ہے، پولیس کو پتہ چلتا ہے، پرچہ درج ہوتا ہے، ٹریسنگ شروع ہوتی ہے، ملزم تک پہنچ جاتے ہیں، تو ملزمان میں جو گرفتاری ہے وہ آتی ہے ایک تیسرے بندے کی اور اس تیسرے بندے کا نام ہوتا ہے نقیب اللہ۔
میزبان: نقیب اللہ کون ہے؟
تہمینہ شیخ: زینب کا سگا بھائی۔ پولیس پوچھتی ہے کہ یہ معاملہ کیاہے، کہاں اس کا شوہر، کیا تم لوگوں کے چکر کیا ہیں؟ نقیب اللہ پولیس کو بتاتا ہے کہ ایک بندہ میرے پاس آیا اور کہتا ہے اس ڈالے میں چلنا ہے اور چل کے آگے یہ کام ہے، اتنے پیسے ہوں گے، اوکے ڈن۔ میں یہ کرتا تھا، میں چلا گیا۔ ڈالے میں بیٹھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ ہدایت اللہ بھی ہے، زینب کا پچھلا شوہر۔ ڈالے کے فرش کو دیکھتا ہوں تو عورت کی لاش پڑی ہے۔ چہرہ دیکھنا چاہا، آگے بڑھا، چادر ہٹائی تو زینب کی لاش تھی۔بہن اس کی؟سگی بہن۔ پولیس نے کہا اچھا پھر؟ بڑی عجیب سٹوری ہے، ایسے میں نے بہت کم کیسز دیکھے۔ اب مجھے وہاں پر گن پوائنٹ پر بلیک میل کر کے یہ کہا جاتا ہے ہدایت اللہ کی جانب سے کہ اس لاش کو اٹھانا ہے ، وہاں پھینک کے آنا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تیری لاش بھی ہوگی۔ اب میرے پاس کوئی نہ وہاں پر موقع نہ کچھ مجھے کرنا پڑا مجبور ہو کے، میں نے اٹھایا اس کو پھینک دیا۔ اب وہ سی سی ٹی وی فوٹیج جو لاش پھینکنے کی ہے اس میں نظر آرہا ہے نقیب اللہ، تو پولیس کو اور سب کو تو لگے گا کہ قاتل نقیب اللہ ہے۔ اس پر جا کے پولیس نے کہا کہ کیا ٹائم تھا کال کا، کیا سلسلہ تھا سارا، پھر وہ کال کی ٹائمنگز، چیزیں میچ کرتے کرتے پتہ لگا کہ واقعی اصل گیمر اس میں ہدایت اللہ ہی ہے، سابقہ شوہر، کہ میری نہیں تو تیری بھی نہیں۔
تہمینہ شیخ: قیامت آنے والی نہیں ہے، قیامت آچکی ہے۔ مائیں بچے قتل کر رہی ہیں۔ شوہر بیویاں دے رہے ہیں حلالے کیلئے اپنے ہاتھوں سے بھائی زبانوں کو قابو کرو تاکہ نہ طلاق طلاق کہنا پڑے، نہ کل کو پچھتانا پڑے، نہ بیوی کسی غیر آدمی کے بستر پر چھوڑ کے آنی پڑے، کراچی، بہاولپور، اسلام آباد یہاں پر حلالہ سینٹر ہیں۔ یوٹیوبر بہن صحافی نے کال کی حلالہ سینٹر لائیو ریکارڈنگ ، یہ بہاولپور کا تھا، کتنا ریٹ؟ دو لاکھ۔ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حلالے کے نام پر سینٹرز کھول کے کمائی کر رہے ہیں، کس کی گردن پکڑیں؟ کدھر ہیں ہمارے ٹھیکے دار جو اس ملک کو سیاسی بنیادوں پر کسی نے آواز اٹھائی؟ کسی ہائر لیول پر آپ مجھے بتائیں، میں نے تو نہیں سنا۔ اٹھائی بھی ہوگی تو اسی طرح میں نے آپ نے اسی نے اسی نے کسی نے آواز اٹھا لی، بھائی جن کے ہاتھوں میں اختیارات ہیں، جن کی قلم میں پاور ہے، انہوں نے آواز اٹھائی؟ بالکل نہیں اٹھائی۔ آج یہ ہو رہا ہے تو کل اس سے اگلا اسٹیپ ہوگا۔
میزبان: کراچی کا ایک کیس مجھے یاد ہے۔ شوہر نے بیوی کو طلاق دی غصے میں ، احساس ہوا کہ نہیں غلطی ہوگئی، اس نے اپنے بھائی کیساتھ نکاح کروا دیا۔ وہ دونوں نکاح کے بعد گئے، بندہ برداشت نہیں کر سکا، ہارٹ اٹیک آگیا اور موت ہوگئی۔
تہمینہ شیخ: اب میری بات سے بہت غصہ آئے گا۔ وہ موت، وہ اٹیک جو ہے نا کاش وہ پہلے ہی ہو جاتا جب مار پیٹ رہا تھا بیوی کو یا جب طلاق دے رہا تھا بیوی کو۔ شاید دوسرے اٹیک کی تو امید ہوتی ہے نا ایک انسان تین اٹیک برداشت کر لیتا ہے، میں کہتی ہوں یہ اٹیک پہلے ہی ہو جاتا تاکہ نہ اس کی عزت تار تار ہوتی، نہ اس کا تماشہ بنتا، نہ ہم آج اس کو خبر کے طور پہ رپورٹ کر رہے ہوتے۔(مکمل ویڈیو لنک کے ذریعے تفصیل دیکھیں)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ