عتیق آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے شکر ادا کریں۔ مولانا فتح خان
اکتوبر 7, 2026
عتیق آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے شکر ادا کریں۔ مولانا فتح خان
شیخ سعدی نے کہا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی خصوصی حکمت ہوتی ہے کہ وہ ایک ہی آدمی کو لوگوں کے فائدے کیلئے منتخب کرلیتا ہے، ہمارا اخلاص کیساتھ آپ سے تعاون ہوگا
سید عتیق الرحمن نے جو کام شروع کیا ہے یہ آپ لوگوں کیلئے ایک زریں موقع ہے، جس سے آپ جہاد کے اندر بڑا حصہ لے سکتے ہو، ہوسکتا کہ افغانستان کی طرح جہاد کرنا پڑے
مولانا عبد الرؤف ، مولانا غلام محمد، مولانا عصام الدین اور پیر عالم شاہ کی باتیں بہت اہمیت کے لائق ، سردار امان الدین کی جہاد کے بارے میں باتیں جیسے دودھ پر گھی ڈالا جائے
ٹانک (نمائندہ ۔ مئی1998) کبیر پبلک اکیڈمی جٹہ قلعہ گومل تحصیل و ضلع ٹانک کے دوسرے سالانہ جلسہ تقسیم انعامات سے استاذ العلماء حضرت مولانا فتح خان نے خطاب میں فرمایا: میرے عزتمند مسلمان بھائیو، حضرات علماء کرام، پیر صاحبان، اکیڈمی کے اساتذہ حضرات ! میں نئی بات نہیں کرسکتا۔ اکیڈمی میں مولانا عبد الرؤف نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا فقط مولانا کی تقریر کافی تھی۔ مولانا غلام محمد کی تقریر کافی شافی تھی۔ مولانا عصام الدین اور پیر عالم شاہ صاحب کی باتیں سن لیں۔ یہ سب اپنی اپنی جگہ پر اہمیت کے لائق تھیں۔ سردار امان الدین کی جہاد کے بارے میں بات گویا جیسے دودھ پر گھی ڈالا جائے۔ میں علم کی فضیلت پر بات کروں گا اللہ نے سورہ رحمان میں فرمایا الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمہ البیان۔
حضور ۖ نے فرمایا: ہر ہر چیز کی زینت ہے ۔ قرآن کی زینت سورہ رحمان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن سکھانے کیلئے انسان کو پیدا کیا اسلئے انسان کو بیان سکھایا۔ بیان کا معنی یہ ہے کہ خود بھی سمجھے ، دوسروں کو بھی سمجھاسکے۔ جس نے قرآن سیکھا اس کو یہ فخر ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے شاگردوں کا شاگرد ہے۔ رسول اللہۖ اللہ تعالیٰ کے پہلے شاگرد ہیں۔ آپۖ کے شاگرد خلفاء راشدین، صحابہ کرام ہیں، پھر تابعین، تبع تابعین اس طرح سلسلہ وار یہ شاگردی کا سلسلہ ہم اور آپ تک پہنچا ۔ اللہ تعالیٰ نے بار امانت کو آسمانوں، زمینوں اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن کوئی اس بار امانت کو قبول کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمر باندھ لی۔ اس نے بار امانت کو قبول کرلیا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تعلیم کیلئے پیدا کیا ہے۔
امام غزالی اور انکے بھائی بچپن میں یتیم ہوگئے تو انکے والد کے دوست نے بھوک سے بچنے کیلئے مدرسہ میں داخل کرادیا۔ امام غزالی کو علم کی وافر مقدار اور بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ امام غزالی کا ذکر اسلئے کررہا ہوں کہ کتاب احیاء العلوم لکھی۔ انکے زمانہ کا ایک عالم کتاب کو تنقید کا نشانہ بناتا رہتا تھا۔ غزالی نے خواب دیکھا کہ رسول اللہ ۖ اور چاروں خلفاء راشدین حرم میں طواف کی جگہ پر ہیں۔ غزالی نے عرض کیا کہ یارسول اللہۖ! میری کتاب میں غلطی ہو تو مجھے بتادیں ، اس پر فلاں عالم تنقید کرتا رہتا ہے۔ جس سے مجھے بڑی روحانی اذیت پہنچتی ہے۔ حضور ۖ نے چاروں خلفاء کو ایک ایک کرکے کتاب دکھائی تو انہوں نے عرض کیا کہ اس کتاب میں جو افکار جو نظریات اور جو مسائل لکھے ہوئے ہیں یہ سب درست ہیں۔ تو آپ ۖ نے دریافت فرمایا کہ اس عالم کی پھر کیا سزا ہے؟۔ چاروں خلفائ نے فیصلہ کیا کہ اتنے دُرے اس کو مارے جائیں۔ وہ مولوی دور دراز علاقہ کا تھا اور بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ ۖ نے حضرت علی سے ارشاد فرمایا کہ اس عالم کو اتنے دروں کی سزا دو۔ عالم کو اسکے گھر میں حضرت علی نے دُرے مارنا شروع کردئے۔ ایک دُرا مارا، دوسرا مارا، تیسرا مارا، چوتھا مارا تو خلفاء راشدین نے سفارش کی کہ یہ عالم ہے اس کے علم کی لاج رکھی جائے۔ چنانچہ تادم مرگ اس عالم کے جسم پر ان دُروں کے نشانات اور درد کے اثرات تھے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ بعض بچے دنیا کی غرض سے مدرسوں میں داخل کرادئیے جاتے ہیںلیکن پھر اللہ کے بن جاتے ہیں۔ فعلمنا علماً لغیر اللہ لیکن العلم ان یکون الا اللہ۔ ہم نے علم غیر اللہ کیلئے سیکھا لیکن علم نے انکار کیا کہ وہ اللہ ہی کیلئے ہوگا۔ دوسرے مقاصد کیلئے نہیں۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا کہ عقل کی مثال بیج کی، علم کی مثال درخت کی اور عمل کی مثال پھل کی ہے۔ علم سے مراد یہ نہیں کہ بہت ساری کتابیں پڑھ لو۔ رحمان بابا نے کہا کہ اگر علم ہو اور عمل نہ ہو تو جیسے گدھے پر بار لادا جائے۔ دوستو! علم کے ساتھ عقل کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ فہم کا درست ہونا بصیرت ہے۔ صحیح عقل آدمی کو مجبور کردیتی ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو مان لے۔ اللہ کے احکام کو ماننا ہدایت ہے اور عمل کے ذریعہ خدا کا مقرب بننا رحمت ہے۔ عتیق الرحمن سے ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا، تھوڑے عرصہ سے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہوا تو جس طرح مولوی صاحب نے کہا کہ وتعاونوا علی البر و التقویٰ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اچھے کام اسلام میں بہت ہیں۔ میں سردار امان الدین صاحب کی بات پر تھوڑا تبصرہ کروں گا۔
رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ جاھدوا باموالکم و انفسکم و السنتکم تم جہاد کرو اپنی جانوں سے، اپنے مالوں سے اور جہاد کرو اپنی زبانوں سے۔ صحابہ کرام نے جانوں اور مالوں سے جہاد کیا۔ زبان کا جہاد یہ ہے کہ باطل کے مقابلے میں دلیل پیش کی جائے تاکہ باطل باطل اور حق حق ثابت ہوجائے۔ علماء کرام تلوار سے جہاد نہیں کرسکتے۔ مال ان کے پاس نہیں کہ اسکے ذریعہ جہاد کریں لیکن وہ زبانوں سے ہر وقت جہاد میں مشغول رہتے ہیں۔ دوستو! جہاد کے تین درجے ہیں۔جو تلوار سے جہاد کرے تو اس سے تعاون کرنا چاہئے جو مال کے ذریعہ جہاد کرے اس سے بھی تعاون کرنا چاہئے اور اگر زبان کا جہاد کوئی کرے تو اس سے بھی تعاون کرنا چاہئے۔
سید عتیق الرحمن نے جو کام شروع کیا یہ آپ کیلئے ایک زریں موقع ہے آپ جہاد میں بڑا حصہ لے سکتے ہو۔ یہ جہاد کا ایک سلسلہ شروع ہوچکا۔ ہم مسلمان شریعت کے پابند ہیں۔ جیسے گلے میں رسی ڈالی جائے ،ویسے شریعت نے پابند بنایا۔ شریعت جس طرف ہمیں لے جائے ہمیں ادھر جانا پڑے گا۔ شریعت نے ہمیں اجازت دی کہ جہاد زبان اور مال سے کرو ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا دور آجائے جیسے افغانستان میں آیا کہ بندوق سے جہاد کا حکم ہو، ہم تو بہت کمزور ہیں ہمارے اساتذہ بھی ابھی زندہ ہیں اور ہمارے اساتذہ کے استادوں کا درجہ رکھنے والے لوگ بھی ابھی موجود ہیں۔ شاید کہ پاکستان میں ابھی وہ وقت نہیں آیا ہو کہ جس میں بندوق والا جہاد شروع کرنے کا حکم ہو۔
میں عتیق الرحمن گیلانی کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ نے جہاد شروع کردیا ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا فرمائے لیکن ساری باتیں ایک دن میں نہیں ہوسکتیں۔ سارا قصہ ایک دن میں پورا نہیں ہوسکتا۔ امام غزالی جب مدرسہ میں داخل ہورہے تھے تو وہ چھوٹے سے طالب علم تھے۔ اس وقت وہ امام غزالی نہ تھے پھر وہ وقت آیا کہ اللہ نے امام غزالی بنادیا۔ آپ بھی ہمت نہ ہاریں۔ ہم آپ کیساتھ تعاون کریں گے۔ اگر ہمیں اسی طرح بلاتے رہے تو ہم آپ کے پاس آئیں گے۔ مشوروں کی ضرورت ہوگی تو مشورہ دیں گے۔ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کو دھوکہ نہیں دیں گے۔ ہمارا اخلاص کیساتھ آپ سے تعاون ہوگا۔ اللہ آپ کو برکت دے یہ تو اللہ کے کام ہیں۔ شیخ سعدی نے فرمایا یہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک خصوصی حکمت ہے کہ وہ ایک ہی آدمی کو لوگوں کے فائدے کیلئے منتخب کرلیتا ہے۔ آپ کو اللہ نے منتخب کرلیا ہے آپ اللہ کا شکر ادا کریں ۔ آپ کے بارے میں جو بشارتیں، خواب اور الہام ہیں اس کا مظہر اور مصداق یہ مدرسہ ہے۔ یہی بچے پھر زبان سے بھی جہاد کریں گے۔ مال سے بھی جہاد کریں گے اور تلوار سے بھی جہاد کریں گے۔ میں علماء کرام کی طرف سے آپ کو یہ تسلی دیتا ہوں کہ ہمارا تعاون سید عتیق الرحمن گیلانی کے ساتھ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس ملک میں اسلام اور نظام مصطفی نافذ فرمادے۔
ــــــــــ
مولانا فتح خانکے بیان پرتبصرہ:
پاکستان میں دیوبندی کے علاوہ دوسرے فرقوں کے بڑے بڑے علماء کرام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں پڑھتا تھا تو مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی ،مولانا ادریس میرٹھی صدر وفاق المدارس پاکستان ، شیخ التفسیرمولانا بدیع الزمان، ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر ، ڈاکٹر حبیب اللہ مختار ، مولانا یوسف لدھیانوی ودیگر حضرات تھے پھر مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسروں سے بھی ملاقات ہوئی لیکن مولانا فتح خان سے زیادہ سمجھ دار اور علم کا ذخیرہ میں نے نہیں دیکھا ۔ شیعہ کے خلاف مناظرہ پڑھانے مولانا عبدالستار تونسوی، بریلوی کے خلاف علامہ خالد محمود برطانیہ ،اہلحدیث کے خلاف مولانا امین اکاڑوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں آتے تھے ۔
مولانا فتح خان نے مفتی محمود سے مولانا فضل الرحمن تک ہمیشہ اخلاص سے الیکشن کی کامیابی کیلئے ساتھ دیا مگر اسکے باوجود مولانا فتح خان کبھی اسمبلی میں نہیں پہنچ سکے۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کی قومی اسمبلی کی ایک نشست تھی اور ٹانک کی صوبائی نشست الگ تھی۔ جمعیت کو شکست ہوتی تو بھی ٹانک میں لیڈ ہوتی ، جیت میں بھی ڈیرہ اسماعیل خان سے ووٹ کم ہوتے۔ وجہ منافقانہ طرز سیاست تھی۔ ٹانک ہی نہیں بلکہ بنوں لکی کی ایک سیٹ تھی تو جمعیت کا اپنے امیدوار کیخلاف بیگم کلثوم سیف اللہ ، سیف اللہ برادران سے اتحاد ہوتا تھا۔ بنوںکے امیدوار مولانا احمد جان نے مفتی محمود سے مطالبہ کیا کہ آپ مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں تو میرے لئے ووٹ کیوں نہیں مانگتے ہیں؟۔ ان کو پتہ تھا کہ جمعیت کے اپنے ان سے منافقت کررہے ہیں ۔
جنرل ظہیرالاسلام عباسی آئے توPTIکے ایوب خان بیٹنی نامزد صوبائی امیدوارسے پوچھا کہ یہودی کے ٹکٹ پر؟۔ جواب میں نے دیا کہ مولانا فتح خان کی مسجد اس کا دفتر تھاجو ناراض بیٹنی قوم کو منانا چاہتے تھے ۔ جمعیت کے لوگوں کو مختلف امیدواروں کیساتھ ملاکر ٹانک کی صوبائی نشست قربانی کی بکری بنتی۔
مولانا فضل الرحمن تقریر کرتا کہ بندوق اٹھاؤگے؟، انقلابی جذبہ جس سرمایہ دار اور نواب کے خلاف بیدار کرتا تو انہی مخالفین سے چائے پانی اور بیٹھک کی خاطر مل گئے۔ ٹانک کی سرزمین شاہد عدل ہے۔یہ دہشتگردی اسی بے شعوری کانتیجہ ہے۔ مولانا فتح خان کے مقابلے میں ضلعی سرکاری خطیب مقرر کرنے پر بھی کوئی شرم، غیرت ، حیانہیں آئی اسلئے کہ ضمیر نام کی چیز نہیں تھی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں تو اپنے اتحادی کو ہرانے کیلئے مولانا فضل الرحمن نے اپنا بھائی ناراض کرکے کھڑا کیااور متحدہ محاذ کے ٹکٹ ہولڈر مستی خیل نورانی گروپ کو شیعہ کاظمی سے ہروایاتھا اور آج مولانا نورانی کا بیٹا تنہا ہے۔ جب اکرام اللہ گنڈہ پورنے مولانا کی حمایت کا اعلان کیا تو امتیاز بلوچ نے اسٹیج پرہنستے ہوئے کہا کہ میں کھڑا ہوں تاکہ جو لوگ اکرام اللہ گنڈہ پور کو کسی صورت میں ووٹ نہیں دینا چاہیں تو انکے ووٹ ضائع ہوں۔
جب26ویں آئینی ترمیم سے پہلے مولانا فضل الرحمن نے سخت تقریریں شروع کیں تو مجھے لگا کہ وہی سیاسی کھلواڑہے پھر شک میں پڑجاتا تھا لیکن آخر پھر وہ ہوا جس کا کہ ڈر تھا۔
اسلامی زکوٰة ، ختم نبوت اور سودی نظام کو اسلامی قرار دینے پر جب قوم کیساتھ فراڈ ہواہے تو پھر کس اسلامی نظام کی توقع رکھنے کی گنجائش مولانا فضل الرحمن سے رکھ سکتے ہیں؟
۔مولانا بجلی گھر کی پشتو میں تقریر ہے جس پر غلام احمد بلور کے مرغا ذبح کرنے کی بات اور تصویر ہے۔ مجھ سے مولانا محمد امیر بجلی گھر نے فرمایا تھا کہ ”آپ جوان ہیں اپنی کوشش جاری رکھیں لیکن مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کو بھی متحد نہیں کرسکتے ”۔ تصویر کوجب ہم حرام قرار دیتے تھے تو مولانا بجلی گھر کی فرمائش پر یہ شعر ڈالا۔
بت پرستی دین احمدۖ میں کبھی آئی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں
جب میں نے ”جوہری دھماکہ” لکھا تو مولانا فتح خان کو اسکا مسودہ پڑھنے کیلئے دیاتو فرمایا کہ اس کو پڑھنے میں وقت لگے گا۔ جب ہم نے چھاپ دیا تو مولانا فتح خان نے فرمایا کہ میں نے اسی رات پڑھ لیا تھااور اتنی مزیدار کتاب ہے ۔ اس پر علامہ اقبال کے شعر کی تصحیح اور ایک دوسری غلطی تھی۔ایک کی اصلاح کی تھی اور شعر میں غلطی بھی باقی رہ گئی تھی۔ جوہری دھماکہ میں مفتی تقی عثمانی کو جو خط لکھا وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ اس کتاب نے افغان طالبان سے بستی نظام الدین تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی ، علماء ومشائخ کو تبدل کیا تو اس سے زیادہ عوام اور خواص میں حلالہ کی لعنت کے حوالے سے بھی تبدیلی آئی ہے الحمدللہ رب العالمین والصلوٰة وا لسلام علی من لانبی بعدہ رحمت للعالمین وعلی آالہ و صحبہ اجمعین
نبی اکرمۖ نے کتاب کی تعلیم ، تزکیہ اور حکمت سکھائی۔ کتاب کی تعلیم کیلئے مدارس ہیں۔تزکیہ اہل اللہ کا کام ہے اور حکمت سیاست ہے لیکن سیاسی منافقت میں نبیۖ کی سنت نہیں بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی کی سیاسی وراثت ہے۔
سب کی حمایت ہمارا جرم تھا؟ اسلئے مولانا فضل الرحمن نے دہشت گردی اور فتوے بازی کروائی اور ناکامی پر گھر میں آکر کہا کہ میں تو ہمیشہ حمایت کرتاہوں ۔منافقت کی حدکا راز کھلے گا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ