عبداللہ محض ومحمد نفس زکیہ پر شیخ حسن جابری کی انتہائی سخت تنقید اپنی شیعہ ذہنیت سے؟
اکتوبر 7, 2026
نوٹ:
شیخ حسن جابری کی اس تحریر کے آخر میں سید عتیق الرحمن گیلانی کا شیخ حسن جابری کو مندرجہ ذیل عنوان سے جواب پڑھیں۔
(١) ہم حسن مثنیٰ کی راہ پر
(٢) دیوبندیو! تم نہ ناصبی للو بنو نہ ہی رافضی پنجو
الجابری کی عربی میں عبداللہ شاہ غازی کے والدمحمد نفس زکیہ پربہت تنقیداور عبداللہ محض پر تنقید جو ہمارے جدامجد بھی ہیں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
پچھلی قسط عبد اللہ محض کی شخصیت کے بارے میں تھی۔
آج انکے بڑے بیٹے پر ہے جن کا نام محمد بن عبد اللہ محض بن الحسن المثنی بن الحسن المجتبیٰ بن امیر المؤمنین علیہ السلام ہے۔
محمد کا لقب ”ذو النفس الزکیہ”ہے، یہ لقب اسلئے ملا کہ دعوی کیا کہ وہی امام مہدی ہیں۔ اسکے والد نے ترویج کی، بنو ہاشم نے اس نظریے کو فروغ دیا، بنو عباس کے ابو جعفر المنصور اور السفاح اس پر متفق ہوئے کہ بنو ہاشم کے کسی شخص کی بیعت کی جائے۔ چنانچہ انتخاب محمد بن عبد اللہ المحض پر آکر ٹھہرا، کیونکہ اس پر ایک روایت موجود تھی جس کا ذکر ہم نے پچھلی رات کیا ۔
بنو عباس و بنو ہاشم نے محمد ذو النفس الزکیہ کی بطور امام بیعت کی اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو مجبوراً کیا کہ آپ پر لازم ہے کہ محمد ذو النفس الزکیہ کی بیعت کریںلیکن امام نے بیعت سے معذرت چاہی۔ عیسی بن زید الشہید اٹھے اور امام سے کہنے لگے: ”اسلم تسلم”اسلام لاؤ یا اطاعت کرو تاکہ سلامت رہو۔
امام صادق علیہ السلام گفتگو فرما رہے تھے، تو آپ نے ان سے فرمایا: ”کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نبوت کے بعد کوئی نئی نبوت لائے ہو؟ ”اس نے کہا: ”نہیں۔ لیکن یہ بیعت ہے؛ آپ، آپ کے اہل خانہ، آپ کی اولاد اور آپ کا مال سب سلامتی پائیں گے، اور ہمیں جنگ سے بچائیں”یعنی بیعت کر لیں اور ہمیں جنگ سے چھٹکارا دیں، اگر بیعت نہیں کریں گے تو جنگ ہوگی، آپ کو اور آپ کی اولاد کو قتل کر دیا جائے گا اور آپ کا تمام مال و اسباب جاتا رہے گا۔
امام علیہ السلام نے کلام فرمایا اور بیعت سے انکار کر دیا۔
یہاں امام صادق علیہ السلام نے محمد (ذو النفس الزکیہ) سے فرمایا:”اے محمد!گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم مقتول(زمین پر) گرائے ہوئے اور تمہارا لباس تک لوٹا ہوا ہے”۔
اس پر محمد بن عبد اللہ المحض نے امام صادق کو قید کرنے کا حکم دیا۔ حاضرین میں ایک شخص نے امام صادق کو پیچھے سے دھکا دیا، اور انہوں نے امام صادق علیہ السلام کو جیل میں ڈال دیا۔
پھر وہ اسماعیل بن عبد اللہ بن جعفر الطیارکو لائے۔ عبد اللہ جن کی شادی سیدہ زینب سلام اللہ علیہاسے ہوئی تھی تو وہ انکے بیٹے زین کو لائے۔ انہوں نے بھی بیعت سے انکار کر دیا، اور وہ ایک جلیل القدر انسان تھے۔ میری تحقیق کے مطابق مجھے یہ معلومات نہیں مل سکیں کہ کیا وہ بھی سیدہ زینب کے بیٹے تھے یا نہیں؟ اس پر تحقیق کی ضرورت ہے۔ بہرحال انہوں نے بھی بیعت سے انکار کیا اور انہوں نے ان کو شہید کر دیا۔ بنو ہاشم میں سے انہی لوگوں نے قتل کیا جنہوں نے اس کام کی نگرانی کی۔ پھر بنو امیہ کیخلاف تحریک اٹھی اور اموی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
امام صادق علیہ السلام نے عبد اللہ المحض اور محمد ذو النفس الزکیہ کو پہلے ہی آگاہ کیا کہ بنو عباس تم سب کو قتل کر دیں گے اور خلافت انہیں مل جائے گی، تم لوگوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
اور واقعی یہی ہوا۔بنو عباس نے خلافت پر قبضہ کر لیا اور اقتدار میں آتے ہی پہلے دن کہنے لگے کہ ہم امام حسن اور امام حسین کی اولاد کو قتل کریں گے۔ چنانچہ حسن و حسین علیہما السلام کی اولاد فرار ہو گئی، جن میں محمد ذو النفس الزکیہ بھی تھے جو بھاگ نکلے اور مدینہ منورہ میں قیام کیا۔
انہوں نے مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور یمن پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ چنانچہ ایک لشکر بھیجا، وہ اس جنگ میں مارے گئے اور ان کا سر قلم کیا، اسی طرح ا نکے بھائی ”ابراہیم” کیساتھ ہوا۔
ابراہیم سے معصوم امام کے خلاف کوئی برائی یا نا زیبا حرکت سرزد نہیں ہوئی۔ اہل بصرہ نے بیعت کی، نیز معتزلہ اور زیدیوں نے بھی ساتھ دیاتھا۔ پھر وہ اہواز گئے اور وہاں بھی ایک بڑی تعداد ان کے گرد جمع ہو گئی۔ عباسی خلافت نے ان کی طرف بھی لشکر روانہ کیا۔ وہ فتح کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، فتح حاصل ہونے ہی والی تھی اور عباسی لشکر کو شکست ہو چکی تھی، لیکن ایک خیانت ہو گئی؛ کسی نے ابراہیم بن عبد اللہ المحض کو ایک تیر مارا جسکے چلانے والے کا پتہ نہ چل سکا، اور یوں وہ بھی شہید ہو گئے اور ان کا سر بھی قلم کر دیا گیا۔یہ واقعہ 145ہجری میں پیش آیا تھا۔والحمد للہ رب العالمین۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
ہم اس قسط میں ”عبد اللہ بن الحسن المثنیٰ بن الامام الحسن المجتبیٰ کی سیرت اور شخصیت پر بات کر رہے ہیںاور عراق میں انہیں ”عبد اللہ ابو نجم” کے لقب سے جانا جاتا ہے۔ ان کی والدہ گرامی ”سیدہ جلیلہ فاطمہ بنتِ امام حسین علیہ السلام”تھیں۔
”المحض” لقب اسلئے کہ نسب میں خالص ہاشمی تھے۔ دادا والد کی طرف سے ”حسن مجتبیٰ علیہ السلام” اور والدہ کی طرف سے ”حسین علیہ السلام” تھے۔ وہ بنو ہاشم کے بزرگ اور نہایت معزز و محترم شخصیت تھے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ بنو ہاشم اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے ہاں ان کا ایک بڑا مقام تھا، لیکن عبد اللہ المحض کے کچھ خاص عقائدی اور فقہی نظریات تھے جو ”امام جعفر صادق علیہ السلام” کے خلاف تھے۔
اس کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کو بہت آزار پہنچایا، بالخصوص انکے بیٹے نے (جس کا ذکر پہلے لکھ دیا ہے)۔ عبد اللہ محض نے اموی حکومت خاتمے کے بعد امام صادق کو قید میں ڈالا، بنو عباس کیساتھ مل کر لوگوں کو ”محمد بن عبد اللہ المحض”کی بیعت کی دعوت دی، جن کا لقب ”محمد ذو النفس الزکیہ”تھا، اور انہوں نے یہ ادعا کیا کہ وہی امام مہدی ہیں۔
ایک من گھڑت روایت کا سہارا لیا ”ان کا نام میرے نام پر ہے( نبی اکرمۖ کے نام )”انکے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہے”۔ خود ساختہ روایت تھی۔ بنو عباس اور عبد اللہ المحض یہ تبلیغ کرنے لگے کہ محمد بن عبد اللہ المحض امام مہدی ہیں۔ پھر وہ امام صادق علیہ السلام کے پاس آئے تاکہ آپ ان کی بیعت کریں، لیکن امام علیہ السلام نے انکار کر دیا اور ان پر واضح کیا کہ اس دور میں ایسا نہیں ہوگا، وہ امام مہدی نہیں ہیں، اور بنو عباس تمہیں دھوکہ دیں گے اور تم سب کو قتل کر دیں گے۔
اس پر عبد اللہ المحض نے امام صادق علیہ السلام کو جواب دیتے ہوئے کہا:”آپ تو صرف ان سے حسد کر رہے ہیں”۔
انہوں نے امام صادق علیہ السلام پر حسد کی تہمت لگائی یہ اس شخصیت کے بارے میں پہلا اعتراض اور پہلی تہمت ہے۔ دوسری بات یہ کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے یہ بیان کرنا شروع کیا کہ ”امیر المؤمنین (علی علیہ السلام)امام نہیں تھے”۔
یہ روایات ایسے مصادر میں موجود ہیں جنہیں میں ان شا اللہ ویڈیو کے ساتھ آپ کو فراہم کروں گا۔ وہ خود امامت کا دعوی کرتے تھے اور امام صادق علیہ السلام کی امامت کے منکر تھے۔
ان کے اور امام صادق علیہ السلام کے درمیان ایک مناظرہ اور گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے انتہائی بے باکی کے ساتھ امام صادق علیہ السلام سے کہا: ”امام حسین علیہ السلام امامت کو تمہاری نسل میں کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟” عبد اللہ المحض (ابن الحسن المثنیٰ بن الحسن المجتبیٰ، جو عراق میں نجف کے راستے میں مدفون ہیں اور عبد اللہ ابو نجم کے نام سے معروف ہیں)نے امام حسین علیہ السلام پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ”امام حسین نے کس بنیاد پر امامت علی السجاد علیہ السلام کے سپرد کی؟ امامت کا حق تو ہم بڑے بھائیوں کی اولاد کا بنتا تھا”۔
امام علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ: ”امامت کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچا یا خریدا جا سکے، اور نہ ہی یہ امام حسین یا امام حسن علیہما السلام کے اختیار میں تھی، بلکہ یہ اللہ تبارک وتعالی کے دستِ قدرت میں ہے”یہ تیسرا نقطہ ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ کے برعکس فتوی دیا کرتے تھے، اور اس بات کی وضاحت ”آیت اللہ سید خوئی”نے بھی کی ہے، اور ان کے اور امام صادق علیہ السلام کے اصحاب کے درمیان گفتگو بھی ہوئی تھی جیسا کہ روایات میں موجود ہے۔
یقینا روایات بہت زیادہ ہیں۔ میں اختصار کیساتھ پیش کر رہا ہوں۔ ”کتاب الکافی”،صفار کی کتاب ”بصائر الدرجات ” اور سید خوئی کی ” معجم رجال الحدیث”کی طرف رجوع کر سکتے ہیں سید خوئی معجم رجال الحدیث جلد11میں عبارتاً فرماتے ہیں:
”ان کی مذمت میں اور انکے خود کو امامت کیلئے پیش کرنے کے بارے میں متعدد روایات ہیں، لوگوں کو احکامِ الٰہی کے خلاف فتوی دیتے تھے، وہ مجروح اور مذموم ہیں اور ان کی وثاقت (قابلِ اعتماد ہونا)یا اچھا ہونا ثابت نہیں ہے”۔ کتاب ”قاموس الرجال”کے التستری”فرماتے ہیں:
بلکہ ان کی مذمت و قدح کی خبریں مستفیض بہت زیادہ ہیں، جبکہ ان کی مدح میں آنے والی خبریں شاذ کمزوراستثنائی ہیں مستفیض سے مراد تواتر کے قریب تر روایات ہیں۔
یہ شخص امیر المؤمنین، امام حسین اور امام صادق علیہما السلام کیساتھ اپنی مخالفت وعداوت کی وجہ سے مشہور و معروف تھا۔
جی ہاں!کچھ روایات ایسی ہیں کہ امام صادق نے ان کی مدح کی یا شہادت/قتل پر روئے لیکن وہ روایات سنداً ضعیف ہیں۔ علما نے جواب دیا کہ یہ روایات ضعیف اور شاذ ہیں، اور امام صادق علیہ السلام کا رونا ان کی مدح کی دلیل نہیں بن سکتا۔
ہاں!ابن طاؤس نے ایک صحیح روایت نقل کی ہے، لیکن سید خوئی فرماتے ہیں کہ اگرچہ یہ ایک روایت صحیح ہے، لیکن ان کی مذمت میں آنے والی کثیر اور متواتر روایات کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی اور یہ ساقط ہو جاتی ہے۔
چنانچہ عبد اللہ المحض پر لگنے والے یہ تمام الزامات اور حقائق تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان کی زیارت کیلئے جائیں۔ اگر کوئی ان کی زیارت کیلئے جاتا ہے تو شاید اس سوچ سے جائے کہ انہوں نے آخری دنوں میں توبہ کر لی ہو یا ایمان لے آئے ہوں وغیرہ۔ ہر انسان زیارت کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہے، اور ان کی زیارت مومنین پر واجب یا فرض نہیں ہے کہ ہم اس مسئلے میں الجھ کر رہ جائیں۔
ان شا اللہ میں تمام مصادر ویڈیو میں پیش کر دوں گا۔
ــــــــــ
ہم حسن مثنیٰ کی راہ پر
کانیگرم وزیرستان: سید حسن شاہ سے شاہ محمود حسن دیداری سید ابوبکر ذاکر ، شاہ محمد کبیرالاولیا ء تک12پشتوں کی قبریں حسن مثنی بن امام حسن کی قبر کے مطابق ہیں۔ دارالعلوم دیوبند، امروٹ سندھ ، دینپور خانپور رحیم یارخان اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی قبریں ویسی ہیں ۔1976ء میں تقویة الایمان پڑھی تو اپنے دادا سیدامیر شاہ کی پکی قبر کیلئے کدال اٹھائی تو والد پیر مقیم شاہ نے ڈانٹا کہ قبر سے کون مانگتاہے؟۔پکی قبر نہ ہو تو لوگ دعا بھی نہیں کرتے۔ دادا کاآزادی سے پہلے انتقال ہوا، ان کی جگہ فاضل دارالعلوم دیوبند ہماری مسجد کے امام بنے۔ میرے اساتذہ گورنمنٹ ہائی سکول لیہ میں دیوبندی اولیاء اللہ تھے۔ دیوبندی مدارس کے اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی اور مرشد حاجی محمد عثمان دیوبندی تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ میراDNAمجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی سے پہلے جوں کا توں ہے جبکہ شاہ ولی اللہ کے بعد دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث بنے ہیں۔ حیاتی مماتی کی تقسیم شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تفسیر عزیزی اورجامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے اساتذہ اورموجودہ دارالعلوم کراچی کے مفتی تقی عثمانی و زبیراشرف عثمانی تک پہنچ چکی ہے۔
ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے جوہر قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں
جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچوگے جو مل جائیں صنم پتھر کے
مدارس ، خانقاہوں اور مذہبی جماعتوں کوبھی تجارت بنادیا۔
ــــــــــ
دیوبند یو! تم نہ ناصبی للو بنو اور نہ ہی رافضی پنجو
احتساب ناصبیت دیوبندی اکابر کا مجموعہ مگر
شیعہ شیخ حسن الجابری کوجواب دینا تھا مگر مولانا اللہ وسایا کی کتاب ”احتسابِ ناصبیت ” مماتی ، حیاتی ، ناصبی یزیدی کے نام پر سوشل میڈیا کے اندر زبردست جنگ چھڑ گئی ہے۔
مولانا حسین علی کے شاگرد مولانا سرفراز خان صفدر ، مولانا غلام اللہ خان ، مولانا طاہر پنج پیری وغیرہ تھے جو میرے دادا سید محمد امیر شاہ کی طرح پاکستان سے کچھ برس پہلے فوت ہوگئے۔
حسن مثنیٰ کے بیٹے عبداللہ محض نے خلفاء راشدین سے علی کی طرح عقیدت و محبت کا اظہار کیا تو ناصبی للواور رافضی پنجو تھے۔ ہم بتاتے ہیں تمہیں اولی العلم قائمًا بالقسط کون تھے۔
بلوچستان و پختونخواہ کی بہترین مثال مفتی عبدالمنان ناصر اور سندھ وپنجاب کی بہترین مثال قاری اللہ داد صاحب ہیں۔ دیوبندی علماء ومفتیان کی الحمدللہ بھاری ایسی اکثریت ہے۔ یہی حال دیگر مکاتب فکر کا ہے مگر کچھ لوگ وکالت و جہالت مالی مفادات کیلئے کرتے ہیں۔ علامہ عطاء اللہ بندھیالوی ، علامہ ساجد خان نقشبندی بہت مخلص ہیں مگر انجینئرمحمد علی مرزا نہیں۔
کوئی کہہ سکتاہے کہ دو اتنہاپسند وں کو مخلص اور اہل بیت سے محبت کرنے والے علمی کتابی کو نہیں کہتا تویہ ناانصافی ہے؟۔ میں نے دونوں حضرات کو نہیں دیکھا اور انجینئر سے ملا ہوں۔
امیر معاویہ کے خلاف زہر پھیلانے والے کو پتہ ہے کہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عباس اور حضرت علی کے درمیان لڑائی ہوئی تو عباس نے حضرت عمر سے کہا کہ فقال یا امیر المؤمنین ! اقضی بینی وبین ھٰذا الکاذب الاٰثم الغادر اے امیرالمؤمنین! میرے اور اس جھوٹے ، گناہ گار، عہد شکن اور خائن کے درمیان فیصلہ کریں۔فقال القوم اجل یاامیر المؤمنین ! فاقض بینھم وارحمھم فقال مالک بن اوس یخیل الیّ انھم قد کانوا قدمموھم لذالک”پس قوم نے کہا کہ اے امیرالمؤمنین !آپ انکے درمیان فیصلہ کریں، ان پر رحم کریں۔مالک بن اوس نے کہا کہ مجھے خیال ہوا کہ انہوں نے ان لوگوں کو اپنے سے پہلے خود ہی بھیجا تھا”۔ آگے طویل ہے اور حضرت عمر یاد دلاتے ہیں کہ تم لوگوں نے نبیۖ کی ساری احادیث وراثت کے بارے میں سنی تھیں لیکن ابوبکر کی خلافت کے وقت بھی ان کو جھوٹا ، گناہ گار، عہد شکن اور خائن کہا اور مجھے بھی یہی کہا تھا۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر4577)
انجینئرمحمد علی مرزا اور جاویداحمد غامدی کی مثال ان پالتو کی ہے ۔طوطا کہتا تھا کہ ایک روپیہ دو۔ مینا کہتی تھی کہ دیدو ناں!۔ ایک علمی کتابی انتشاری اور دوسرا یزیداور امریکہ کا وفاداری ہے اور علماء ومفتیان بھی زوال کا آخری حد تک شکار ہیں اسلئے میں اپنا فرض سمجھ کر امت مسلمہ کو اس دلدل سے نکال رہا ہوں۔
شیعہ شیخ حسن جابری نے جھوٹ بولا یا سچ؟لیکن اس کی کتاب اور زبان اس کی گمراہی کو ختم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے کہ عیسی بن زید شہید نے ”امام جعفر صادق” سے کہا کہ اسلم تسلم ! اور جواب میں امام جعفر صادق نے کہا کہ ”کیا تم محمد (ۖ) کے بعد نبوت لائے ہو؟”۔ عیسیٰ بن زید نے کہا کہ” نہیں” ۔
شیعہ کو تین وجوہات سے قادیانیوں سے بدتر کافر قرار دیا۔ پھر ختم نبوت کانفرنس میں شیعہ کو بلایا اور سپاہ صحابہ کے قائدین کو نہیں۔ ناصبیت کی کتاب وہی شاخسانہ ہے۔
یونیورسٹیوں کے اسکینڈلز آتے ہیں۔ سکول و کالج کے بعد مخلوط نظام اچانک لے ڈوبتا ہے۔ مذہبی طبقات کا ماحول بھی ایسا ہے ۔ مولانا یوسف بنوری کے شاگرد ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے اپنے استاذ سے رابعہ بصری تک کی کچھ کہانیاں پڑھ لیں توآپے سے باہر ہوکر سب کو کافرومشرک قرار دیا۔ پنج پیری اور مماتیوں نے تو وہ حدیں کراس نہیں کیں۔احتسابِ ناصبیت نے دیوبندیوں کی اپنے اکابرسے اچانک واقفیت و عدم برداشت نے کہیں کا نہ رہنے دیا۔ اس سے زیادہ شیعہ کو بہت بڑی کوفت کا سامنا ہے،اہل حدیث اور بریلوی بھی اب آپس میں ایک دوسرے سے بالکل نفرتوں میں مبتلا ہوگئے ۔
جب امام جعفر صادق نے اسلم تسلم پر فرمایا کہ ” کیا محمدۖ کے بعد نبوت کا دعویٰ ہے ”اور عیسیٰ بن زید نے کہا کہ” نہیں ” تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امامت کو نبوت کی طرح ارتداد کیلئے بنیاد نہیں بنایا جاسکتا ہے پھر خلفاء راشدین پر ارتداد کے فتوے بھی فقہ جعفریہ اورامامیہ والے بالکل ہی غلط لگارہے ہیں اور یہی بات علامہ سید کمال حیدری بھی شیعہ قوم کو سمجھارہے ہیںمگر ایران نے نظر بند کررکھا ہے۔ اس سے اچھاہے پاکستان بھیج دیں۔
رسول اللہ ۖ نے کفار کو خطوط میں لکھا :”اسلم تسلم” اس کا مطلب جبری اسلام نہ تھا ورنہ حبشہ کے بادشاہ کیلئے کیوں آخری خطبہ میں فرمایا کہ” ان سے کوئی تعارض مت کرنا جب تک وہ تم سے تعارض نہ کریں”؟۔پھر صلح حدیبیہ میں کس چیز کا مظاہرہ ہوا؟۔ قرآن میں مجبوری کی نفی ہے اور صحابہ نے مشکل سے مانا تھا۔ سورہ توبہ کی تفسیر مفتی محمد شفیع نے معارف القرآن میں غلط کی، جس کی نشاندہی علامہ غلام رسول سعیدی نے بھی کی ہے۔
جب مفتی نور ولی محسود اور حافظ گل بہادر کے پاس معارف القرآن اور مجاہدین ہوں گے توانکے ہاں مفتیان کا فتویٰ پولیس کسٹڈی میں قیدی کے اعتراف جرم اور ناقابل قبول ہوگا۔
قل یا ایھا الکتٰب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبدالا اللہ ولا نشرک بہ شیئًا ولا یتخذبعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا اشھددوا بانامسلمونO(سورہ آل عمران64)
” کہہ دو کہ اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو تمہارے اور ہمارے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے بعض اپنے بعض کو رب نہیں بنائیں اللہ کے سوا۔پس اگر وہ پھر جائیں تو تم لوگ کہو کہ گواہ رہنا کہ بیشک ہم مسلمان ہیں”۔
قرآن میں ایک کلمہ کو مختلف جہتوں سے پیش کیا گیا ہے۔ عدی بن حاتم نے کہا کہ عیسائی اپنے علماء ومشائخ کو اپنا رب نہیں بناتے تھے تو نبیۖ نے فرمایا کہ ان کے حلال کردہ خود ساختہ فتوؤں کو حلال اور حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے تھے؟۔ عدی نے عرض کیا کہ یہ توکرتے تھے۔ فرمایا یہی تو رب بنانا ہوا۔
بینک سے سالانہ ایک کروڑ پر10لاکھ سود میں ڈھائی فیصد زکوٰة کٹے اور ساڑھے7لاکھ سود ملے تو زکوٰة کیسے ادا ہوگی؟۔
مفتی محمود اس مسئلے پر شہید ہوگئے ۔ مولانا فضل الرحمن شراب کی بوتل پر آب زمزم کا لیبل کہتا تھا۔
پھر ٹینکی بھرنے کو اونٹ کی طرح گھٹنے کے بل حوض کوثر سمجھ کر پینے لگا۔
فشاربون شرب الہیم
پھر وہ اونٹ کی طرح پئیں گے۔ (سورہ اقعہ آیت:55)
شیعہ بارہ امام کے نام مسجد نبویۖ پر کندہ ہیں، مجددالف ثانی نے مکتوبات وہی لکھا جو شیعہ سمجھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ نے ان بارہ کو اصل اور تصوف کے سلسلوں کو ان کی فرع قرار دیا ۔
ابن تیمیہ نے چار مسالک کو فرقہ اور شرک قرار دیا لیکن اس کے شاگردابن قیم نے بیوی کو حرام کہنے کے لفظ پر20اقوال کو نقل کرکے سورہ تحریم کی آیت کی20بوٹیاں بنادی ہیں۔
ابن حجر مکی نے شیعہ کے خلاف ”صوائق محرقہ” لکھ کر سنیوں پر بجلیاں گرائیں۔ مجدد الف ثانی نے ابوبکر و عمر کے گستاخ کو قتل کا حکم دیا مگر خود ایک قتل نہ کیا البتہ انکے خلفاء میں برکی تھے پھر کانیگرم کا ایک ہزارہ شیعہ خاندان قتل ہوا لیکن محرم کے اندر شیعہ ماتم کی رسم عرصہ تک زندہ تھی۔ تقاریر مولانا مسعود اظہر کی اور خون پٹھانوں کا؟۔ بہالپور میں حلالہ کا جہاد ہے۔ تہاڑ جیل سے ضرب مؤمن کی تحریروں کو امریکی سازش قرار دیاتھا۔
امام حسن نے صلح کا کردار ادا کیا اور ان کی اولاد نے بھی۔ مگر شیعہ کتابوں میں انکے خلاف مواد ہے۔
1:مسنداحمدو شیعہ روایت ہے کہ آدم سے عبدالمطلب تک نبی اور علی کا نور ایک تھا لیکن پھر امام حسن سے نور امام حسین کی طرف منتقل ہوگیا؟۔ اللہ کی سنت تبدیل نہیں ہوتی۔
2:امام حسین سے” حر ”ملا مگر کوفی غدارنکلے۔
3:معاویہ بن یزید نے زین العابدین کو خلافت پیش کی ۔
4:حسن مثنیٰ نے کربلاکاجہاد کیا اور زخمی بیہوش ہوا تو کوفہ میں ہوش آیا اور زین العابدین نے دمشق میں جمعہ کا خطبہ دیا۔
5:زید کا بھائی جعفر نے ساتھ نہیں دیا۔
6:زین العابدین کی والدہ کی وجہ سے ایرانیوں کا کردار تھا۔ زین العابدین نے نہیں مانا تو محمد بن حنفیہ کو کھڑا کیا۔ زید کے پیچھے ایرانی ہاتھ تھا اور امام جعفر کو بنانا تھا لیکن اس نے نہیں مانا۔ پھر بنوعباس کا سفاح آیا پھر ابوجعفرمنصور تو محمد نفس زکیہ اوراسکے بھائی ابراہیم نے قیام کیا تو انہوںنے حسن و حسین کے کردار کو زندہ کیا۔
7:حسینی سید بنوعباس کے ساتھ تھے اور مامون الرشید کا داماد امام الرضا ایک روضہ میں مدفون ہیں اور الزام حضرت حسن کی اولاد پر لگاؤ؟۔
شیعہ تنہا جیسے یہودی تنہا ۔ بارہ امام مشکوٰة کی شرح مظاہر حق میں ہیں ۔علامہ جلال الدین سیوطی نے الحاوی للفتاویٰ ،پیر مہر علی شاہ گولڑہ شریف نے ”تصفیہ مابین شیعہ وسنی ” میں ان کا ذکر کیا ہے اور شیعہ کتاب الصراط السوی فی احوال المھدی میں اپنی روایات اور قرآنی آیات پر گمراہ کن اضطراب موجود ہے۔
قرآن اور اہل بیت جدا نہیں ہوسکتے ہیں تو اہل بیت کے غائب ہونے سے قرآن بھی غائب ہے؟۔علامہ حسن اللہیاری جیسے انتہائی لوظ کردار کے لوگوں سے ایرانی لیڈروں کا بھی کباڑا کردیا اور اس کا اپنا پتہ نہیں چلتا کہ قوم لوط کا کوئی کردار ہے؟۔
رسول اللہ ۖ اور خلفاء را شدین نے جبر نہیں کیا ، یزید نے جبر کیا۔ یزید کا بیٹا جبر سے ہٹ گیا ۔ عبداللہ بن زبیر کے مقابلے میں مروان بن حکم اور بنوزرقاء نے قبضہ کیا اور وہی کام پھر ایرانیوں کی پشت پناہی پر بنوعباس نے کیا پھر خاندان غلاماں اور پھر ترکی میں خلافت عثمانیہ اور ایران میں چنگیزیوں کا قبضہ ہوا جو بعد میں مسلمان اور پھر حلالہ سے بچنے کیلئے شیعہ ہوگئے۔
حضرت عمر فاروق اعظم نے اکٹھی3طلاق پر اور علی المرتضیٰ الاقضٰی نے حرام کے لفظ پر عورت کے حق میں فیصلہ کیا تو دونوں قرآن کے عین مطابق تھے۔ معروف کی شرط پر رجوع ہے جس کا معنی عورت راضی ہو اور تنازعہ میں عورت راضی نہیں ہو تی ۔
جاویداحمد غامدی کی آنت میں ناصبیت کا ناسور ہے اسلئے اسکے نزدیک حضرت عمر کے اجتہادکو شریعت کا درجہ حاصل تھا اور حضرت علی خلیفہ نہیں تھے اسلئے اس کافیصلہ قابل قبول نہیں۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ دونوں کا فیصلہ بالکل درست تھا۔
المطلقات یتربصن بانفسھن ثلاثة قروئٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ والیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجة واللہ عزیز حکیمO
”اور طلاق والی عورتیں تین ادوار تک اپنی جانوں کو انتظار میں رکھیں اور ان کیلئے حلال نہیں جو اللہ نے انکے پیٹوں میں پیدا کیا کہ اس کو چھپائیںاگر وہ اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں اور ان کے شوہر اس میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کرنا چاہتے ہوں اور ان عورتوں کیلئے بھی وہی حقوق ہیں جو ان پر مردوں کے معروف طریقے سے ہیں اور مردوں کا ان پر ایک درجہ ہے اوراللہ زبردست غلبے والا کمال کی حکمت والا ہے ”۔ (سورہ البقرہ آیت:228)
اس آیت میں عورت کو انتظار کا پابند بنایا گیا ہے لیکن ساتھ میں یہ بھی واضح ہے کہ شوہر عدت میں رجوع کا زیادہ حقدار ہے مگر اصلاح کی شرط پر اور عورت کو انکار کا معروف حق ہے۔
رافضی بغض عمر میں قرآن سے دور پھٹکار کا مستحق ہے اور ناصبی بغض علی میں قرآن سے دور پھٹکار کا مستحق ہے۔ توبہ اور اصلاح کے بعد سمجھ میں آئے گا کہ ایک طلاق کے بعداور ایلاء وناراضگی کا بھی یہی حکم ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔
للذین یؤلون من نسائھم تربص اربعة اشھرٍ فان فاؤا فان اللہ غفور رحیمO(البقرہ آیت:226)
”چار مہینے کا انتظار ہے جو لوگ اپنی عورتوں سے ایلاء کریں پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔
رسول اللہ ۖ نے ایلاء کیا اور29دنوں میں رجوع فرمایا تو اللہ نے حکم دیا کہ تمام ازواج مطہرات پر علیحدگی کے اختیار کو واضح کردیں۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ ناراض ہونا شوہر کا اختیار ہے لیکن پھر رجوع کیلئے راضی ہونا یا نہ ہونا بیوی کا اختیار ہے۔
وماارسلنا من قبلک من رسولٍ ولانبیٍ الا اذا تمنیٰ القی الشیطٰن فی امنیتہ فینسخ اللہ مایلقی الشیطٰن ثم یحکم اللہ اٰیٰتہ واللہ علیم حکیمO
”اور ہم نے آپ سے پہلے نہیں بھیجا کوئی رسول اور نبی مگر جب اس نے تمنا کی تو شیطان نے اس کی تمنا میں القا کیا تواللہ مٹاتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے کو پھر اپنی آیات کو مستحکم کرتا ہے اور اللہ بہت جاننے والا بڑا حکمت والا ہے”۔ (الحج:52)
عبداللہ بن عمر نے طلاق دی تو نبیۖ غضبناک ہوگئے۔ قال رسول اللہ ۖ ان الغضب من الشیطان ” بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہے”۔ (ابوداؤدحدیث4784) سالم بن عبداللہ بن عمر ، قاسم بن محمدبن ابی بکراور زین العابدین بن حسینتینوں خالہ زاد بھائی تھے۔ قاسم بن محمد نے کہا: غضب کا معنی یہ ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ زین ا لعابدین نے کہا کہ
الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان
سے بالکل واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق کا منعقد ہونا ممکن نہیں ہے۔ عدت کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق ہے۔
فقہاء مدینہ میں سعید بن مسیب ، عروہ بن زبیر،ابوبکر بن عبدالرحمٰن،قاسم بن محمد، عبیداللہ بن عبداللہ،سلیمان بن یسار اور خارجہ بن زیدتھے ۔محمد بن یوسف بن خضر نے اشعار لکھے۔
اذقیل من فی العلم سبعة ابحر
مقالتھم لیست عن الحق خارجہ
فقل ھم عبیداللہ عروہ قاسم
سعید ابوبکر سلیمان خارجہ
الا ان من لایقتدی بائمة
فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجہ
فقل ھم عبیداللہ عروہ قاسم
سعید ابوبکر سلمان خارجہ
”جب کہا جائے کہ کونسے علم کے7 سمندر ہیں۔ تو اس کی بات حق سے کبھی نکلی ہوئی نہ ہوتو کہو عبیداللہ ، عروہ ، قاسم، سعید، ابوبکر، سلیمان ، خارجہ ۔ خبردار ! جو ان ائمہ کی تقلید نہیں کرتا تو اس کی قسمت بہت حیران کن طریقے سے حق سے خارج ہے”۔
بنوامیہ وبنوعباس نے حضرت عمر و حضرت علی کے درمیان جوفاصلہ اس کی بنیاد پر پیدا کردیا تو اسکے نتائج مل رہے ہیں۔
لیجعل اللہ مایلقی الشیطٰن فتنة للذین فی قلوبھم مرض والقاسیة قلوبھم وان الظٰلمین لفی شقاقٍ بعیدٍO
” تاکہ شیطان کے ڈالے ہوئے کو اللہ فتنہ بنا دے ان لوگوں کیلئے جن کے دلوں میں مرض ہے اور جن کے دل سخت ہیں اور بیشک ظالم دور کی کم بختی میں ہیں”۔ الحج:53
جاویدغامدی ،انجینئر محمد علی مرزا، تبلیغی جماعت کے اکابر اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ جیسے لوگوں کا دل کسی نے چیرپھاڑ کر تو نہیں دیکھا لیکن اللہ نے اس پیمانے کے ذریعے نشاندہی فرمادی۔
ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیؤمنوا بہ فتخبت لہ قلوبھم وان اللہ لھادالذین الی صراطٍ مستقیمٍO
”اور تاکہ جن کو علم دیا گیا ہے وہ سمجھ لیں کہ حق تیرے رب کی طرف سے ہے اور اس پر ایمان لائیں۔ پس اس کیلئے ان کے دل جھک جائیںاور بیشک اللہ اہل ایمان کو سیدھی راہ کی طرف ہدایت دینے والا ہے”۔ (الحج:54)
یہ اہل علم کا معتدل طبقہ دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ سب میں موجود ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے تعریف بیان کی:
الصابرین والصادقین والقانتین والمنفقین و المستغفرین بالاسحارOشھداللہ انہ لاالٰہ الا ھو والملائکة واولوالعلم قائمًا بالقسط لا الہ الا ھو العزیز الحکیمOان الدین عنداللہ الاسلام و ما اختلف الذین اوتوا الکتاب الا من بعد ما جاء ھم العلم بغیًا بینھم و من یکفر باٰیات اللہ فان اللہ سریع الحسابO(سورہ ال عمران آیات17، 18،19)
”وہ صبر والے ،سچے،فرمانبردار،خرچ والے اور رات کے پچھلے پہر استغفار والے۔اللہ نے گواہی دی کہ بیشک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور اہل علم نے جو انصاف پر کھڑے ہیں، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہ زبردست حکمت والا۔ بیشک اللہ کے نزدیک دین سرتسلیم خم ہے اور جن کو کتاب دی گئی انہوں نے علم آنے کے بعد اختلاف نہیں کیا مگر آپس کی ضد سے اور جو اللہ کی آیات کا انکار کرے تو وہ جد حساب والا ہے”۔
عبداللہ بن عمر کی صحیح ترین روایت یہی ہے کہ ” اگر میں دو مرتبہ کے بعد تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو نبی ۖ مجھے رجوع کا حکم نہ فرماتے ”۔ (صحیح بخاری) عبداللہ بن عمر نے100فیصد درست کہامگر شیطان کو قرآن میں مداخلت کاموقع ملا۔ حالانکہ مرحلہ وار 3طلاق پر بھی قرآن نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ۔ سورہ طلاق نے عبداللہ بن عمر کے واقعہ کے بعد مزید واضح کیا۔ آیت228البقرہ ،229اور231،232البقرہ میں عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد معروف کی شرط پر باہمی رضامندی سے رجوع میں رکاوٹ ڈالنا منع ہے۔
امام ابوحنیفہ کا مسلک درس نظامی میں ہے کہ230البقر ہ کا تعلق فدیہ سے ہے جس میں فیصلہ کرنے والوں کے بعد کنفرم ہوجائے کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں۔ عورت رجوع کیلئے رضامند نہ ہو تو تمام آیات میں واضح ہے کہ پھر شوہر کو رجوع کا کوئی حق نہیں۔ ائمہ اربعہ نے شیعہ کے مقابلے میں کہا کہ اکٹھی تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ باہمی رضامندی سے رجوع نہیں ہوسکتا۔ بنومروان اور بنوعباس نے بطور ہتھیار حلالہ کی سزا کا استعمال کیا تھا۔جیسے دارالعلوم کراچی والے ایک طرف نیوتہ کی رسم میں لفافے کی لین دین کو سود اور ماں کے ساتھ زنا کی طرح حرام قرار دیتے تھے ،اتنے تقویٰ دار اور دوسری طرف عالمی سودی بینکاری کو جواز فراہم کیا اتنے ساہوکار۔ فتوے کی زدپر حاجی عثمان کاپیروکار،کتنے خبیث مفتی نا ہنجار۔ ایک استاذ کے شاگردوں میں عقائداور کردار کا جو فرق ہوتا ہے تو امام ابوحنیفہ کے شاگردوں امام محمد اور ابویوسف میں بھی تھا۔
سالم بن عبداللہ بن عمر دو متضاد خالہ زاد بھائیوں کا تیسرا تھا جو سات فقہاء مدینہ میں نہ شامل تھا نہ خارج بلکہ بین بین تھا۔ اسلئے کہ ہشام نے سالم کو کسی شخص کو قتل کا حکم دیا۔ سالم نے پوچھا تم مسلمان ہو ؟ کہا: ہاں!، سالم: فجر کی نماز پڑھی ہے؟۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ سالم نے ہشام کو تلوار واپس کردی کہ مجھ سے مسلمان کو قتل کرواتے ہو جس نے فجر کی نماز پڑھی ہے؟۔ ہشام نے کہا کہ نماز پڑھنے کی وجہ سے نہیں معاونین قتل عثمان میں تھا پھر سالم نے کہا کہ عثمان کے اپنے اقارب ہیں۔عبداللہ بن عمر نے کہا کہ سالم نے بہت دانشمندی سے کام لیا ۔ ہشام نے کہا کہ مجھ سے جو بھی مانگو تو دوں گا۔ سالم نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ حرم کی مسجد میں اللہ سے بھی مانگوں اور تجھ سے بھی۔
جبکہ قاسم بن محمد بن ابی بکر اور عروہ بن زبیر دونوں تابعین مدینہ کے7 فقہاء میں شامل سرینڈر تھے اسلئے کہ محمد بن ابی بکر اور عبداللہ بن زبیرکے بعد دونوں نے عبدالملک بن مروان اور اسکے بیٹوں اور کارندوں کے رحم و کرم پر زندہ رہنا تھا۔ عروہ کا محل ” قصرعروہ” کے نام سے آج بھی موجود ہے اور ہشام بن عروہ نے حکمرانوں سے مدد مانگنا اور احادیث گھڑنے کی فیکٹری کو اپنا کاروبار بنایا ہوا تھا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ کی وفات کے بعد پیدا ہوا اور بنوعباس کے دور میں پہلی مرتبہ حضرت عائشہ کے حوالے سے کم عمری کی شادی والی روایت گھڑ دی تھی۔ امام ابوحنیفہ کے بارے میں ابن خلدون نے لکھا ہے کہ صرف17احادیث مانتے تھے۔ امام ابوحنیفہ نہ ہوتے تویہ قرآن کی صحت بھی من گھڑت احادیث کی نذر ہوجاتی ۔ علماء ومفتیان نے شکر ہے دورہ احادیث میںاحادیث پڑھی نہیں بلکہ پھانکی ہیں ۔40سال بخاری کا درس دینے والا نہیں جانتا ہے کہ بخاری میں قرآن مخالف اور آپس کا کتنا تضاد ہے؟۔
صحیح مسلم میں کتنے کمال فن سے بچکانہ روایت عباس وعلی پر گھڑی گئی؟۔
عمر بن عبدالعزیز نے احادیث کو بیان کرنے کی اجازت کیا دی؟کہ راویوں نے کایا ہی بالکل پلٹ دی۔
یہودی قبیلہ بنوقریظہ سے تعلق رکھنے والے رفاعة القرظی اور عبدالرحمن بن زبیر القرظی سے صرف حلالہ کی متضاد قسم کی چند روایات ہیں ۔
جو عروہ بن زبیر اور قاسم بن محمد کے علاوہ کسی سے بھی روایت نہیں ہیں اور یہ پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ان کی جان بخشی کی یہ قیمت ہو۔ باقی بنوقریظہ کے ان افراد کا کوئی اور کہیں پر بھی کسی طرح کا تذکرہ بالکل بھی موجود نہیں ہے۔
محدث العصر مولانا سلیم اللہ خان صدر وفاق المدارس نے لکھا ہے کہ ”احناف کے نزدیک یہ روایات اس قابل نہیں کہ حتی تنکح زوجًا پر جماع کابھی اضافہ کیا جائے ۔اسلئے ہم تنکحسے ہی جماع مراد لیتے ہیں”۔( کشف الباری)
حضرت سعید بن جبیر نے کہا کہ قرآن میں حلالہ کیلئے جب صرف نکاح کا ذکر ہے تو اس پر جماع کا اضافہ خوامخواہ میں کرنا بالکل غلط ہے۔ حجاج بن یوسف نے کہا کہ علی کو جہنمی بولو۔ سعید نے کہا کہ میں جہنم میں نہیں گیا ہوں ۔ وہ مکالمہ دیکھنے کے قابل ہے جس کے بعد95ھ میں بہت سفاکی کیساتھ شہید کردیا۔
محمود بن لبید نے کہا کہ ایک شخص نے خبر دی کہ فلاں نے بیوی کو تین طلاق دی ۔جس پر رسول اللہ ۖ غضبناک ہوگئے اور فرمایا : میری موجودگی میں تم اللہ کی کتاب کیساتھ کھیل رہے ہو؟ ایک شخص نے کہا کہ کیا میں اس کو قتل نہ کردوں؟” (نسائی)
محمود بن لبید وفات97ھ میں نام چھپائے پھردو سال بعد99ھ سے101ھ تک عمربن عبدالعزیز نے ممنوعہ احادیث سے پابندی ہٹائی تو حسن بصری بول پڑا کہ عبداللہ بن عمر نے3طلاق دی تھی۔ یہ بات تو حکمرانوں کا کھیل ختم کردیتی لیکن عمر بن عبدالعزیز پھر زہر سے شہید کردئیے گئے۔ یزید ثانی بڑا ہی عیاش تھا ،اس نے حسن بصری کو گرم لوہا دکھایا کہ اپنی بات کا ازالہ کردو نہیں تو آنت باہر ہوگی۔ حسن بصری21ھ میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا تھا اور حضرت علی اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام سے ملاقاتیں رہی تھیں لیکن اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کیلئے بولا کہ ”مجھے20سال پہلے ایک مستند شخص نے بتایاکہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی تھی اور پھر کوئی دوسرا مستند شخص نہیں ملا جو اس کی ترید کرتا۔ پھر20سال بعد زیادہ مستند شخص ملا تو اس نے کہا کہ عبداللہ بن عمر نے ایک طلاق دی تھی”۔ (صحیح مسلم)
یزید بن عبدالملک نے کہا کہ اس پر معافی نہیں ملے گی اور مجھے ایپسٹین جزیرے کا سرپرائز دینا پڑے گا۔ حسن بصری نے کہا کہ چھوٹی بچیوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔ علامہ ثاقب رضا مصطفائی نے کہا کہ حسن بصری دنیا دار تھا۔ ایک عورت کو بازار میں دیکھا تو اس کے پیچھے پڑگیا اور گھر تک پہنچا تو عورت نے کہا کہ میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے؟۔ حسن بصری نے کہا کہ تیری آنکھیں بہت پسند ہیں۔ عورت نے ٹرے میں آنکھیں نکال کر بھیج دیں اور کہا کہ اللہ کا ذکر و۔ حسن بصری نے رات کو توبہ کی اور صبح عورت سے معافی مانگنے گیا تو عورت کا جنازہ نکل رہاتھا۔ وہ مرچکی تھی۔ حسن بصری اس کے بعد صوفی بن گئے۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا ہے ”حسن بصری نے کم عمر بچیوں کا نکاح جائز قرار دیا تھا”۔ اگر اس کے ساتھ یہ نسخہ بھی ہوتا کہ اگر حکمران اور ظالم کو بچی کی آنکھیں پسند ہوں تو نکال دینا۔
پھر ہشام بن عبدالملک نے سوٹا اٹھایا کہ جو گند تم نے بویا ہے اس کا ازالہ اس سے نہیں ہوگا کہ مستند اور زیادہ مستند نے یہ کہا تو حسن بصری نے کہا کہ بعض مجتہد ین کے نزدیک حرام کا لفظ تیسری طلاق ہے۔ اور یہ کھانے پینے کی طرح نہیں کہ کفارہ سے گزارہ چلے بلکہ حلالہ کروانا پڑے گا۔ (صحیح بخاری)
ہشام نے کہا کہ ”ہونڑ گل کیتی” الآن جئت بالحق۔
سورہ تحریم میں عورت کو حرام قرار دینے کے بعد واضح تھا کہ
قدفرض اللہ تحلة ایمانکم
”اللہ نے تمہاری طرف سے عورتوں کو حرام قرار دینے کے عہدوپیمان کو حلال کردیا ہے ”۔
سورہ البقرہ میں طلاق کے مقدمہ میں اللہ نے واضح کیا کہ
لاتجعل اللہ عرضة لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناسOلایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکمO
اللہ کو طلاق کیلئے حرمت کے الفاظ میں رکاوٹ مت بناؤکہ تم نیکی ، تقویٰ اور میاں بیوی کے درمیان صلح میں رکاوٹ ڈالو۔ وہ تمہیں ایسے الفاظ پر سرے سے پکڑتا ہی نہیں ہے۔ دل کے گناہ سے پکڑتا ہے اور دل کا گناہ یہ ہے کہ طلاق کا عزم تھا لیکن اس کا اظہار نہیں کیا جس کی وجہ سے عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ گئی۔ سورہ بقرہ کی آیات224،225،226،227
اللہ نے ایک ماہ عدت بڑھانے پر دل کا گناہ قرار دیا ہے اور آیت228میں واضح کیا ہے کہ عدت تین ادوار یا تین مہینے ہے لیکن ایک طرف کتوں کی طرح آیات کو بوٹی بوٹی بنادیا گیا اسلئے کہ ایک طبقہ کہتا ہے کہ اکٹھی تین طلاق دی تو باہمی رضا مندی سے بھی رجوع نہیں ہوسکتا اور دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ دو مرتبہ رجوع سے جتنی چاہو عدت بڑھاؤ اور چاہے پھر طلاق نہ دو۔
یہ شیعہ سنی دونوں اب اسلام کے تاجر بن گئے ہیں جہاں پر اچھی روزی ملتی ہے وہاں مسلک اور مذہب بدل دیتے ہیں۔
ابن خلدون کے بقول خلیفہ ابوجعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص شیعیت کی جانب میلان رکھتا تھااور محمد بن نفس زکیہ کا فرزند عبداللہ اشتر المعروف عبداللہ غازی400افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ سندھ آئے تو انہیں خاصے احترام سے نوازا گیا ۔اس کی خبر عباسی خلیفہ منصور کو پہنچی توان کے تعاقب میں ہشام بن عمر ثعلبی کو سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور انکے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبداللہ شاہ غازی شہید ہوگئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھر گئے۔(ابن خلدون)۔ذہبی اور ابوالفرج اصفہانی نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے ۔طبری نے یہ واقعہ768ئ151ھ میں نقل کئے ہیں۔ (گوگل )
اصل میں عبداللہ شاہ غازی دہشتگردی سے شہید کئے گئے۔
امام زید کی والدہ سندھی تھیں اور ان کی وجہ سے شیعہ سندھ میں پھیل گئے۔ البتہ عبداللہ شاہ غازی کی وجہ سے حنفی مسلک بھی پھیل گیا۔ امام ابوحنیفہ نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے تین طلاق دی اور نبیۖ اس پر غضبناک ہوگئے اور رجوع کا حکم دیا۔ جس سے مسئلہ واضح ہے کہ عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو رجوع ہوسکتا ہے اور عورت راضی نہ ہو تو نہیں ہوسکتا اور یہی امام ابوحنیفہ کے شاگرد امام محمد شیبانی نے کتاب الآثار میں امام ابوحنیفہ کے مذہب کو نقل کیا۔
رکانہ کے والد عبد بن یزید نے مرحلہ وار تین طلاق دئیے اور عدت کے بعد دوسری شادی کرلی اور پھر اسے بھی طلاق دی تو نبیۖ نے فرمایا کہ ام رکانہ سے رجوع کیوں نہیں کرتا؟۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو تین طلاق دے چکا ہے۔ کیونکہ وہ نبیۖ کے قریبی عزیز تھے۔ بنومطلب بن ہاشم کے پوتے جسکے نام پر نبیۖ کے دادا چھوٹے بھائی عبدالمطلب تھے۔ شعب ابی طالب میں بھی ساتھ دیا تھا۔
سورہ الطلاق میں پورا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے
کہ جب بھی طلاق دو تو عدت کیلئے دو اور عدت کو گن کر پورا کرو۔ اس میں عورت کو اس کے گھر سے مت نکالو اور نہ وہ خود نکلے مگر جب وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کرے۔اور یہ اللہ کی حدود ہیں جس نے ایسا کیا تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تمہیں کیا ہے کہ اللہ اسکے بعد کوئی موافقت کی صورت نکال لے۔پس جب عدت پوری ہوجائے تو معروف طریقے سے رجوع کرو یا معروف طریقے سے اس کو الگ کردو۔اور اپنوں میں سے دو گواہ بھی اس پر مقرر کرو اور گواہی اللہ کیلئے قائم کردو۔ یہ ہے جسکے ذریعے سے اس کو وعظ کیا جاتا ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جو اللہ سے ڈرا تو اس کیلئے اللہ راہ نکال دے گا”۔
سورہ الطلاق اور البقرہ کی آیات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ