پوسٹ تلاش کریں

وبلغت القلوب الحناجر..ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالًا شدیدًا

وبلغت القلوب الحناجر..ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالًا شدیدًا اخبار: نوشتہ دیوار

وبلغت القلوب الحناجر..ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالًا شدیدًا
” اور جب کلیجے منہ کو آئے..ادھر مؤمنوں کی آزمائش ہوئی اور ان کو بہت زیادہ شدت سے ہلا ڈالا گیا”۔ ( الاحزاب:آیت11)

قرآن کے احکام اور واقعہ کو سمجھنے کیلئے معروضی حقائق کی ضرورت ہے تو مردہ عوام زندہ ہو گی

یا ایھا النبی اتق اللہ و لا تطع الکافرین و المنافقین ان اللہ کان علیمًا حکیمًاO
”اے نبی ! اللہ کا خوف کرو اور کافروں اور منافقوں کی اتباع مت کرو”۔ (سورہ الاحزاب آیت:1)
عام آدمی نہیں سمجھتاکہ نبی ۖ اور کافر و منافق کی اتباع ؟۔ شیعہ نے صحابہ سے بغض کی بنیاد پر مہدی پر بات چھوڑ دی؟۔
قرآن سے پہلے یہود،نصاریٰ ، مشرکین کا مذہب تھا۔ کعبہ ومسجد اقصیٰ کی طرف نمازمیں رُخ پھر تبدیل ہوا۔ آج جاوید غامدی امام ہواور کہے کہ یہودنے طاقت کھو دی تو قبلہ بدلنے کا حکم ہوامگر آج یہوداقتصادی طاقت ہیں اور اپنا قبلہ بدل دو ۔

لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب و لکن البر من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر والملائکة والکتاب والنبیین واٰتی المال علی حبہ ذوی القربیٰ والیتامٰی و المساکین و ابن السبیل و السائلین و فی الرقاب و اقام الصلوٰة و اٰتی الزکاة والموفون بعھدھم اذا عاھدوا و الصابرین فی الباسا ء والضراء و حین البأس اولئک الذین صدقوا و اولئک ھم المتقونO
”یہ نیکی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے پھیرو مشرق اور مغرب کی طرف بلکہ نیکی تو یہ ہے کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور ملائکہ اور کتاب اور انبیاء پر اور مال دے اپنے ذوق محبت کی سلامتی پر اپنے اقارب کو اور یتیموں کو اور مسکینوں کو اور مسافرکو اور مانگنے والوں کو اور جن کی گردنیں ( گروی یا قرض) میں ۔اور نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا اور جو عہد کو پورا کرتے ہیں جب وہ عہد کریں اور صبر کرنے والے لڑائیوں اور ضرر پہنچنے کی اوقات میں اور جب عین لڑائی میں۔یہی لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو پرہیزگار ہیں”۔ (سورہ البقرہ:177)
جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ قرآن میں ہے کہ قیامت تک مسلمانوں کو اقتدار نہیں ملے گا ۔ لوگ اس کے اجتہادپر قبلے کا رخ بیت المقدس کی طرف پھیر یں تو جیسے مفتی تقی عثمانی نے بھی سود کو جواز بخشنے کیلئے حیلہ تراشا ہے تو یہ اجتہاد بھی ایسا ہی ہوگا۔

اللہ نے نبیۖ کو کافروں اور منافقوں کی اتباع نہ کرنے کا حکم دیا۔ طلاق اور عورت کے حقوق واضح لیکن گھمبیر ماحول میں نئے احکام پر عمل کرنا واقعی بہت بڑی مردانگی تھی۔
تبلیغی جماعت، مدارس اور خانقاہ زدہ لوگوں کو بہت برا لگے گا کہ جاویدغامدی نے قبلہ بدل دیا لیکن سود پر فرق نہیں پڑتا۔ مذہبی معاشیات، معاشرت ، عبادات کا درجہ الگ الگ ہے۔

انما حرم علیکم المیتة والدم ولحم الخنزیر وما اھل بہ لغیراللہ فمن اضطر غیر باغٍ ولا عادٍ فلا اثم علیہ ان اللہ غفور رحیمO
”بیشک اللہ تم پر مردار اور خون اور خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوانام لیا حرام کیا ۔ پس کوئی اضطراری حالت میںہو نہ چاہتے ہوئے اور نہ حد سے بڑھ کر تو پھر اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ”۔ (سورہ البقرة:173)
سوال یہ ہے کہ خنزیز کے گوشت کا ذکر ہے لیکن ہاتھی، شیر، بھیڑئیے اور لگڑ بگڑ کا نہیں ہے ؟۔ تو جواب یہی ہے کہ عام طور پر خنزیر کے گوشت کو گھروں اور بازاروں میں کھایا جاتا تھا اور جب کوئی اضطراری حالت ہو ۔مثلاً کچھ کھانے کو نہیں ہے اور کوئی شوگر کا مریض ہو تو بغیر چاہت اور حد سے بڑھے کھائے لیکن مستقل کھانا جس طرح سودی بینکاری کو معیشت مزید تباہ کرنے والوں نے اسلامی قرار دیا ہے تو یہ کفر کا اتباع ہے۔

ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب و یشترون بہ ثمنًا قلیلًا اولئک مایأکلون فی بطونھم الا النار و لا یکلمھم اللہ یوم القیامة ولایزکیھم ولھم عذاب الیمO
”بیشک جو لوگ اللہ کی نازل کردہ میں چھپاتے ہیں اور اس پر قیمت تھوڑی قیمت لیتے ہیں یہ لوگ نہیں کھاتے اپنے پیٹوں میں مگر آگ ،ان سے قیامت کے دن اللہ نہ بات کرے گا اور نہ ان کا تزکیہ کرے گااور ان کیلئے دردناک عذاب ہے”۔ (سورہ البقرةآیت:174)
مولانا منظور مینگل کہتاہے کہ اسلامی خنزیر اور اسلامی سود نہیں ہوسکتا اور علماء سمجھتے ہیں مگرمدارس بینکوں سے چلتے ہیں؟۔

اولٰئک الذین اشتروا الضلالة بالھدٰی و العذاب بالمغفرة فا اصبر ھم علی النارO
یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خریدا اور مغفرت کے بدلے عذاب کوتوآگ پر ان کا صبر کیا ہے”۔(سورہ البقرةآیت:175)
سورہ بقرہ کے پہلے دو رکوع میں مؤمنوں، کافروں کے بعد منافقوں کا ذکر ہے اور یہ منافقوں کی صفت بیان کی گئی ہے۔

ذٰلک بان اللہ نزل الکتاب بالحق و ان الذین اختلفوا فی الکتاب لفی شقاقٍ بعیدٍO
”یہ اسلئے ہے کہ اللہ نے کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا اور جولوگ کتاب میں اختلاف کریں تو یہ دورکی کم بختی میں ہیں”۔ (سورہ البقرةآیت:176)
یہ سود ، طلاق اور حلالہ میں ائمہ مجتہدین اور انکے شاگردوں سے پھنساتے ہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنے کیلئے صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس کا حوالہ دیا اور ابویوسف کاحوالہ دیا کہ مجھے یقین کی شرط نہیں ملی۔ مفتی تقی عثمانی کو توبہ کروایا تو مفتی سعید خان نے2008اپنی کتاب ”ریزہ الماس ” میں فتاویٰ قاضی کے حوالے سے پھر لکھ دیا۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کے فتوے کی وجہ سے مفتی تقی عثمانی نے توبہ کیا تھا مگر مفتی تقی عثمانی کے برعکس سودی نظام کے خلاف اور مولانا اللہ وسایا کے حق میں جامعہ بنوری ٹاؤن کی آواز ہے۔

یا ایھا الذین اٰمنوا کتب علیکم القصاص فی القتلٰی الحر بالحر و العبد بالعبد والانثٰی بالانثٰی فمن عفی لہ من اخیہ شی ء فا تباع بالمعروف واداء الیہ با حسان ذٰلک تخفیف من ربکم و رحمة فمن اعتدٰی بعد ذٰلک فلہ عذاب الیم O
”اے ایمان والو! تم پر قصاص قتل میں فرض کیا گیا ہے ۔ آزاد کے بدلے میں آزاد، غلام کے بدلے میں غلام ، عورت کے بدلے میں عورت پس جسے اسکے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کیا جائے تو معروف کی اتباع کی جائے اور احسان کے ساتھ اس کی طرف ادا کیا جائے ،یہ تمہارے رب کی طرف سے بوجھ کو ہلکا کرنا اور رحمت ہے پس جو اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کیلئے دردناک عذاب ہے”۔ (البقرہ:178)
گھڑا گیا کہ پٹھان مہمان کے بدلے مہمان کو قتل کرتاہے پختون مہذب قوم ہے ۔ جاہلیت کے رسم ورواج ہیں۔ صحابہ میں سعد بن عبادہ جیسے بھی تھے جس نے سورہ لعان کی آیت پر کہا کہ میں بیوی کو قتل کروں گا جس پر انصار نے بھی نبیۖ سے درگزرکی سفارش کی کہ یہ بہت غیرت والا ہے۔کسی بیوہ و طلاق شدہ سے شادی نہیں کی اور جس کو طلاق دی تو اس کو کسی اور کیساتھ شادی نہیں کرنے دی ۔( صحیح بخاری )

آج کا مذہبی طبقہ ہوتا تو انصار پر گستاخی کا فتویٰ لگادیتا کہ نبیۖ نے طلاق شدہ و بیواؤں سے شادی کی تو یہ غیرت کا تقاضہ کہنا گستاخی اور واجب القتل ہیں؟۔ جب سعد بن عبادہ جیسے غیرتمند تھے تو ایک شخص نے نبیۖ سے عرض کیا کہ میری بیوی کسی کا ہاتھ نہیں روکتی تو اس پر نبیۖ نے فرمایا کہ چھوڑ دو۔ اس نے کہا کہ چھوڑ نے پر بھی ڈر ہے کہ دل پیچھے لگا رہے گا فرمایا: پھر اپنا فائدہ اٹھاؤ۔(ابوداؤد کتاب النکاح:2049)

ہردور میں مختلف ماحول کے لوگ ہوتے ہیں۔ ہم پر حملہ ہوا تو مہمان، رشتہ دار اور خواتین شہید ہوگئے۔ وزیرستان میں ٹانک میں محسود، وزیر اور بیٹنی اقوام میں ایک قبائلی رسم سے فیصلہ ہوتا ہے اور دوسرا شریعت سے ۔ شریعت میں علماء پیسوں کی بنیاد پر فیصلہ بدل سکتے ہیں اسلئے کہ مشہور کہاوت ہے کہ” ان کے علماء بھی اپنے ہیں اور کتابیں بھی اپنی بنائی ہوئی ہیں”۔

کانیگرم میں مولانا عین اللہ محسود نے فیصلہ کیا کہ شریعت میں راستہ تنگ کرنا جائز نہیں اور توسیع کیلئے قبرستان اور مساجد گرانا جائز ہے۔ ایک پڑوسی اوردوسرامیرا ماموں تھا۔ پڑوسی کے حق میں فیصلہ ہوا تو گومل سے مولانا نورمحمد ماموں کے کہنے پر آیا۔ مولانا عین اللہ محسود ہتھیار بند ہوکر دوبارہ آگیا تھا تو اس نے کہا کہ فیصلہ بدلنے کیلئے فیس دوبارہ لوں گے۔ مولانا نور محمد نے کہا کہ ڈبل فیس لو۔ چنانچہ اس نے لکھا کہ” شریعت میں اونٹ اور گدھے کا راستہ ہے گاڑی کا نہیں ہے”۔
لوگوں نے کہا کہ مولوی نے رشوت کھاکر فیصلہ بدل دیا۔ جہاں عصمت فروشی ہوتی ہے تو وہاں گاہک بھی مل جاتے ہیں۔

یوٹیوب پر آغا شورش کا شمیری انتخابی جلسہ تذکرہ علماء دیوبند1970۔ قرآن ، یزید، سوشلزم، حلالہ،45دن بھوک ہڑتال پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری، پیر مہر علی شاہ ، مولانا انور شاہ کشمیری کی بشارت۔ نوابزادہ نصراللہ خان اور مفتی محمود میں موازنہ۔ ختم نبوت کیلئے قربانی مولانا مودودی اور مولانا عبدالستار نیازی۔

قرآن کے بہت ٹھوس اور واضح احکام ہیں جہاں اختلاف اور تبدیلی سے مذہبی طبقات کی ریح خارج ہونے کا دھماکہ بھی سنائی دیتا ہے لیکن قرآن کے احکام اجنبی بنادئیے گئے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے جامع مسجد سفید ٹانک میں الیکشن کے ووٹ کیلئے تقریر میں کہا تھا کہ ” تین افراد بھی کسی کو زنا کرتے ہوئے پکڑلیں تو اگر وہ گواہی دیں گے تو گواہوں کو سزا ملے گی اور زانیوں کو کچھ نہیں کہا جائے گا” ۔لیکن اگر وہ کہتا کہ اگر کسی عورت کیساتھ جبری جنسی زیادتی کی جائے تب بھی تین افراد تماشائی بنیں گے اور اگر گواہی دی تو ان کو کوڑوں کی سزا ملے گی اور جبری جنسی زیادتی کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی تو مسجد کے منبر پر پاؤں سے گھیسٹ کر باہر پھینکنے والامرد کا بچہ ہوتا ۔
ہاں جبری جنسی زیادتیاں عام ہوجائیں تو پھر اس کی بھی گنجائش نکل آئے گی جس طرح حلالہ کیلئے پیش کیا جاتاہے۔

نبی اکرم ۖ سے سورہ احزاب کی پہلی آیت میں اسلئے یہ فرمایا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کی پیروی مت کرو کہ اس دور میں ایک بہت بڑا ایساہی مذہبی طبقہ کافر اورمنافق تھا۔

متحدہ مجلس عمل کی حکومت میںعلماء و مفتیان سے اسمبلی بھری ہوئی تھی۔ اکرم خان درانی کو وزیراعلیٰ بنایا اسلئے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہوچکی تھی اور جو مولانا فضل الرحمن کہتا تھا کہ ان کا زبردستی داڑھی رکھوانا اور عورتوں کا پردہ اسلام ہے لیکن پاکستان کیلئے نئی شریعت کا ماڈل دنیا کو بتانا تھا۔ ہمارے واقعہ کے بعد لوگوں کی طالبان سے ہمدردیاں ختم ہوگئی تھیں۔ وزیر طالبان ملا نذیر نے واقعہ کو امریکہ کے ایجنٹوں کا کردار قرار دیا تھا۔ عبداللہ گروپ نے مخالفت بلکہ مزاحمت کا فیصلہ کیا تھا۔ بیت اللہ محسود نے بھی کہا تھا کہ اس کا ہم قصاص لیں گے۔ لیکن پھر قاری حسین نے اپنی قوم سے کہا کہ بیت اللہ محسود مجھے اپنی طاقت کی وجہ سے قصاص کررہاہے۔اگر تم نے ساتھ دیا تو پھر مجھے قصاص نہیں کرسکتا ہے اسلئے کہ میں دلیل میں اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں اور پھر اس نے دلیل یہ دی کہ غلطی مجھ سے ہوئی اور امیر کی اجازت کے بغیر میں نے یہ کام کیا لیکن میں نے بیت اللہ محسود کے حکم سے ملک خاندان اور اس کی فیملی کے 7ممبران کو شہید کیا ہے جس میں ایک حافظہ بھی شامل تھی تو بیت اللہ محسود بھی قصاص ہوگا۔

مولانا فضل الرحمن نے طالبان دہشت گردوں کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا لیکن !
میڈیا نے اس کو رپورٹ بھی نہیں کیا۔ اس وقت مولانا فضل الرحمن کے پاس اقتدار تھا ۔

ولکم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب لعلکم تتقونO
”اور تمہارے لئے قصاص کے اندر زندگی ہے اے عقل کے مالکو! ہوسکتا ہے کہ تم تقویٰ اختیار کرو”۔ (سورہ البقرہ آیت:179)
قرآن اسلئے ہے کہ اس سے رہنمائی حاصل کی جائے اور شیطان کی ڈالی ہوئی پٹی کو گلے سے کتے پھینک دیں اور اپنے مفادات کیلئے اسلام کو غلط استعمال کرنے سے گریز کریں۔
جس معاشرے میں مدارس گمراہی کے گڑھ بن جائیں تو طالبان کو رہنمائی کہاں سے حاصل ہوگی؟۔ کون اپنی خوشی اور مرضی کیساتھ علماء ومفتیان ، مفتی اعظم پاکستان اور شیخ الاسلام کے فتوے پر اپنی بیوی کا حلالہ کرواسکتا ہے؟۔ مگر مولوی نے لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی ہے کہ ہم کہیں گے تو بیوی حلال ہوگی ورنہ حرام کے بچے پیدا ہوں گے۔ اس میں قوم کا کوئی مفاد نہیں لیکن ان کی ایک مجبوری بنادی گئی ہے۔
سورہ احزاب کی پہلی آیت کا پس منظر حالات کے مطابق سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔اللہ کرے عوام اور خواص کو قرآن کی درست تفسیر سمجھ میں آجائے اور اس پرعمل کرنا شروع کریں۔

واتبع ما یوحٰی الیک من ربک ان اللہ کان بما تعملون خبیرًاO
”اور اس کی پیروی کرو جو تیرے رب نے تیری طرف وحی کیا ہے بیشک اللہ جانتا ہے جو تم لوگ عمل کرتے ہو”۔ (سورہ الاحزاب آیت:2)
اس آیت میں مخاطب رسول اللہ ۖ ہیں اور نقشہ مستقبل کے لوگوں کاکھینچا گیا ہے کہ لوگ اسکے خلاف چل سکتے ہیں۔

وتوکل علی اللہ و کفٰی باللہ وکیلًاO
”اور اللہ پر توکل کرو اس کی وکالت کافی ہے” ۔(احزاب:3)
غلط مذہبی طبقات سے گھبرانے کی جگہ اللہ پر توکل کریں۔

ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جوفہ وماجعل ازواجکم اللائی تظاہرون منہن امھاتکم وما جعل ادعیاء کم ابناء کم ذٰلکم قولکم بافواھکم واللہ یقول الحق و ھو یھدی السبیلO
”اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں بنائے اور نہ تمہاری ظہار والی بیویوں کو تمہاری مائیں بنایا اور نہ تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے افواہوں کا قول ہے اللہ حق کہتا ہے اوروہ راستہ دکھاتاہے”۔ (احزاب:4)
دو دل سے مراد یہ ہے کہ بیوی سے ظہار کیا تو ایک دل سے بیوی اور دوسرے سے ماں کے احساسات ہوں۔ فزیکل دل مراد نہیں۔ دور جہالت میں باپ کی منکوحہ سے شادی بیٹے حق سمجھتے تھے اور منہ بولے بیٹے کی بیوی کو طلاق کے بعد حقیقی بہو کی طرح حرام ۔ جس فتویٰ سے بیوی کا حلالہ کروایا جائے تو اس فتوے سے حور کیلئے خودکش حملہ کرنے میں بھی بیباک ہوگا۔

ادعوھم لاٰبائھم ھو اقسط عنداللہ فان لم تعلموااٰباء ھم فاخوانکم فی الدین و موالیکم ولیس علیکم جناح فیما اخطاتم بہ ولکن ما تعمدت قلوبکم و کان اللہ غفورًا رحیمًاO
”ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو ،یہی اللہ کے ہاں پورا انصاف ہے۔ اگر تمہیں ان باپ (شجرہ) کا پتہ نہیں ہے تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور تمہارے دوست ہیں۔اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم سے غلطی ہوجائے لیکن جو تمہارے دلوں نے جان بوجھ کر کیا اور اللہ معاف کرنے والا رحم والا ہے”۔(احزاب:5)
زیاد بن ابیہ اور حضرت ابوبکرہ دونوں ماں کی طرف سے بھائی تھے لیکن زیاد نے شرف صحابیت حاصل نہیں کیا تھا ۔جس کو حضرت عمر کے دور میں اہم ذمہ داریاں ملی تھیں۔ مغیرہ ابن شعبہ اور ام جمیل کو اسی نے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔ جس پر شبل، نافع اور ابوبکر ہ نے مکمل گواہی دی ، اس نے ناقص گواہی دی۔ حضرت عمر نے حلالہ پر سنگسار کرنے کا فرمایا تھا اسلئے وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ حلالہ کا کیس ہے۔ پھر حضرت عمرنے ان تین افراد کو80،80کوڑے لگائے ۔آج تک یہ ایک معمہ ہے جو حل کرنے کے قابل ہے۔ زیاد حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت حسن کے دور میں اہم عہدوں پر رہا۔ پھر صلح کے بعد ایک آزاد ریاست کھڑی کردی ۔ امیر معاویہ سے صلح ہوگئی تو46ھ میں امیر معاویہ نے اس کو اپنا بھائی قرار دیا۔ حلالہ کے بچے مجبوری والے ہوتے تھے اسلئے ان کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔

زیاد اپنے بھائی ابوبکرہ کے ساتھ امیر معاویہ کے پاس تھا تو حدیث کی فرمائش ہوئی ۔ ابوبکرہ نے کہا کہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ترازو اترتی ہے اور اس میں آپ ۖ اور ابوبکر کا موازنہ ہوتا ہے تو ابوبکر کا پلڑہ اٹھ جاتا ہے۔ پھر عمر و ابوبکر کا موازنہ ہوتا ہے تو عمر اٹھ جاتا ہے۔ پھر عمر و عثمان کے درمیان موازانہ ہوا تو پہلے ترازو کٹ جاتی ہے اور پھر قائم ہوتی ہے اور عمر کے مقابلے میں عثمان کا پلڑہ ہلکا ہو کر اٹھ جاتا ہے ۔ جس پر خواب ختم ہے۔ نبیۖ نے30سال خلافت اور پھر بادشاہت کی خبر دی ، امیر معاویہ نے کہا میرے لئے بادشاہت ہی صحیح ہے۔ حضرت علی و حسن کے ادوار بھی فتنے والے تھے ۔

مفتی محمد شفیع بھی دیوبندی تھے لیکن مفتی تقی عثمانی و رفیع نے اپنی شناخت تبدیل کردی ہے۔ بڑے بھائی مولانا ولی رازی اور زکی کیفی اپنے ساتھ عثمانی باپ کی وجہ سے نہیں لگاتے ہیں۔

ہمارے والد صاحب نے ایک ہوتک قبیلے کا گم شدہ بچہ پالا اور اس کی کانیگرم کے برکی قبائل میں شادی کرائی جس کی اولاد بھی ہے۔ پردادانے اپنے نواسوں کو پالا لیکن ان کا شجرہ تبدیل نہیں کیا ۔ انہوں نے اپنے مفاد کیلئے شجرہ اور قومی شناخت کی تبدیلی کو مناسب سمجھا تھا۔ میں نے جان بوجھ کر ایک حد تک ان پر پردہ رکھا لیکن جب ریشہ دوانیاں بڑھ گئیں تو معاملہ واضح کردیا کہ اپنا شجرہ تلاش کرو۔ سورہ سباء میںقوم کا اپنی نسل کی تبدیلی کا ذکر ہے۔ جب محسود قوم پر دہشت گردی کا داغ لگا تو بعض جگہوں پر وہ بھی اپنی شناخت چھپا رہے تھے۔ امام مہدی کے حوالہ سے بھی آتا ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپائے گا کہ اس کا تعلق انصار قبیلے سے ہے۔ جو شایدا سکے ماموں ہوںگے۔

بیٹنی قوم کا قومی قانون ہے کہ وہ ایک دوسرے کیخلاف کوئی گواہی نہیں دے سکتے۔ محسود قوم کا قانون ہے کہ کمزور طاقتور سے صلح کرتا ہے اور جب موقع ملتا ہے تو فیصلے کے بعد بدلہ لیتا ہے اور وزیر قوم میں فیصلہ کے بعد پھر انتقام نہیں لیا جاتا ہے۔
رشتہ داری ، قوم اور قبیلہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن اسلام نے عربوں کو تبدیل کیا تو انہوں نے سپر طاقتوں کو شکست دی۔

النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسھم وازواجہ امہاتھم واولو الارحام بعضھم اولٰی ببعض فی کتاب اللہ من المؤمنین والمھاجرین الا ان تفعلوا الیٰ اولیاء کم معروفًا کان ذٰلک فی الکتاب مسطورًاO
”نبی مؤمنوں کیلئے اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقد م ہے اور آپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیںاور رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے سے زیادہ مقدم ہیں دوسرے مؤمنوں اور مہاجروں کے مقابلے میں مگر یہ کہ کچھ دوستوں سے معروف سلوک کرو۔ یہ اللہ کی کتاب میں سطروں کے اندر موجود ہے”۔ (سورہ الاحزاب آیت:6)
رسول اللہ ۖ کی ازواج مطہرات کے خلاف بکنے والے غلیظ لوگ اس بات کو سمجھیں کہ رسول اللہ ۖ کی عزت ہماری مائیں ہیں۔ رسول اللہۖ نے اپنے اقارب پر زکوٰة کو حرام کیا اور12خطرناک منافقوں کے نام صیغہ راز میں رکھے تھے تاکہ منافقوں کے مخلص رشتہ دار متأثر نہ ہوں۔ آج کل ناصبی و رافضی فتنے عروج پر ہیں جن کو تعصبات سے اپنامفاد ملتا ہے۔
میرے والدپر دوست حاجی نعمت خان برکی نے احسان کیا تو بدلہ اتارنے کیلئے قریب کی زمین دینے کیلئے سرکاری ریٹ پر کہا مگر اس نے انکار کیا۔ میرے ماموں اور اسکے چچازاد بھائی نے کہا کہ ہمیں دیدو تو ان پر واضح کردیا کہ اس سے نفع میں خود بھی کما سکتا ہوں اگر بیچنے کی غرض سے لیتے ہو تو نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم رکھیں گے تو میرے بھائی نے کہا کہ میں لیتا ہوں لیکن والد نے ان کو دی اور پھر انہوں نے بیچ دی اور اسی زمین پر ہمارے قاتل ہم تک پہنچ گئے۔ زمین پر ہمارے والد نے حق شفعہ کا دعویٰ کیا وہ بھی لی جو قانوناًاخلاقًا اور شرعاً بالکل ہی غلط تھا لیکن میرے والد نے اس پر بھی درگزر کردیا۔

واذا خذنا من النبین میثاقھم و منک و من نوحٍ و ابراہیم و موسٰی وعیسی ابن مریم واخذنا منھم میثاقًا غلیظًاO
”اورجب ہم نے نبیوں سے ان کا حلف لیا اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسی اور عیسیٰ ابن مریم سے اور ان سب سے پختہ عہد لیا”۔(سورہ احزاب:7)
یہ عہد الست، سورہ یٰسین اور کچھ معاملات کو ایک دوسرے انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔سورہ النساء آیت:21میں بیوی کا شوہرسے میثاق غلیظ پکے عہد کا ذکر ہے۔ جس کو فقہاء نے کچے دھاگے سے بھی زیادہ خستہ حالی میں تبدیل کردیاہے۔
میں نے اسلام کو اجنبیت سے نکالنے والوں کی معتبر کتاب کا حوالہ دیا تھا کہ لوگ اس پر لشکر کشی کریں گے اور1991ء کی بات کو اللہ نے2007ء میں سچ ثابت کرکے دکھادیا۔ کسی نے بتایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں ہمارے لئے فرمایا کہ ”گومل کی زمین میں نے پہلے ان کیلئے بک کرکے رکھی تھی”۔
ہم حلالہ سے بچانے کیلئے لوگوں کی عزت رکھ رہے ہیں ۔

لیسال الصادقین عن صدقھم واعد للکافرین عذابًا الیمًاO
”تاکہ سچوں سے ان کے سچ کے بارے میں پوچھے اور کافروں کیلئے دردناک عذاب تیار کرکھا ہے”۔ (سورہ احزاب آیت:8)
جب آزمائش آتی ہے تو سچے اور منکروں میں فرق آتاہے۔

یا ایھا الذین اٰمنو ا اذکروا نعمة اللہ علیکم اذ جاء تکم جنود فارسلنا علیھم ریحًا وجنود ًا لم تروھا و کان اللہ بما تعملون بصیرًاO
”اے ایمان والو! اللہ کے احسان کو یاد کرو جب تم پر کئی لشکر چڑھ آئے پھر ہم نے ان پر ہوا بھیج دی اور ایسے کئی لشکر جو تم نے نہیں دیکھے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو”۔ (احزاب:9 )
غزوہ احزاب میں مسلمانوں کے گرد کفار کے لشکر اکٹھے تھے اور اللہ اس میں مسلمانوں کی جانوں کو بچانے کے علاوہ شکر کرنے کافرمارہا ہے کہ اب اس کے بدلے دین کا درست کام کرو۔ اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مقصد کیلئے بچایا ہے۔

اذجاء وا کم من فوقکم ومن اسفل منکم واذ زاغت الابصار و بلغت القلوب الحناجر و تظنون باللہ الظنونًاO
” جب وہ تمہارے اوپرچڑھ دوڑے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی طرف سے ۔ اور جب آنکھیں ترچھی ہوگئیں اور پہنچ گئے دل حلق تک اور تم اللہ پر طرح طرح کے گمان کرنے لگے”۔ (سورہ احزاب آیت:10)
جب مدینہ پر بہت سارے لشکروں نے یلغار کی تو کچھ اندر کے لوگوں کی آنکھیں پھر گئیں۔مسلمانوں کو تنہا مصیبت کیلئے چھوڑ دیا اور مؤمنوں کا حال یہ ہوگیا کہ کلیجے منہ کو آگئے تھے۔
31مئی2007ء کو جب دہشتگردوں نے حملہ کرکے13افراد شہید کردئیے تو ہمارے حالات کیا ہوں گے؟۔ منصوبہ تو یہ نہیں تھا کہ اتنے افراد کی شہادت ہو بلکہ وہ تو میرے قتل کے درپے تھے۔ منصوبہ سازوں کے عزائم تو اللہ نے خاک در خاک ایسے ملادئیے کہ وہ علیم وخبیر رب ہی منصوبہ ناکام بناسکتا تھا۔
جب تک پوری حقیقت سامنے نہیں آتی ہے تو چہ مگوئیاں جو بھی ہوں مگر اللہ کی منصوبہ بندی کو جھک کر سلام کرنا پڑتاہے۔

ھنالک ابتُلی المؤمنون و زلزلوا زلزالًا شدیدًاO
”اس موقع پر مومنوں کو شدید زلزلے سے ہلا ڈالا گیا”۔ (سورہ الا حزاب:11)
پھر اس سلسلہ نے پورے ملک کو لپیٹ میں لیا اور اس طرح سے زلزلوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ جب مدینہ میں یہ آزمائش آئی تھی تو منافقوں کے کرتو ت کو واضح کیاہے۔

واذیقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض ما وعدنا اللہ و رسولہ الا غرورًاO
”اور جب منافقوں اور جنکے دلوںمیںمرض تھا کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ اللہ اور اسکے رسول نے وعدہ نہیں مگر دھوکہ دیا ”۔ (احزاب:12 )
حالانکہ منافقوں اور جن کے دل میں مرض تھا تو انہوں نے کب اسلام اور نبیۖ کی تحریک سے کوئی امید وابستہ کی تھی ؟ لیکن جملہ بازی اور مایوسی پھیلانے کی فطرت رکھتے ہیں۔

واذقالت طائفة منھم یا اہل یثرب لا مقام لکم فارجعوا و یستأذن فریق منھم النبی یقولون ان بیوتنا عورة و ماھی بعورةٍ ان یریدون الا فرارًاO
”اور جب ایک گروہ ان میں سے کہتا تھا کہ یثرب والو! اب تمہاری جگہ نہیں لوٹ جاؤ۔ ایک گروہ نبی سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ ان کے گھر غیر محفوظ نہیں تھے لیکن وہ نہیں چاہتے تھے مگر فرار ”۔ (احزاب:13)
قرآن کا آئینہ ہر دور کا نقشہ دکھاتا ہے۔ ماموں لوگوں نے بہت زور ڈالا کہ ہم گھر بار بیچ کر وہاں سے چلے جائیں۔ ایک دن بھی کچھ لوگوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا اور بہانہ یہ تھا کہ انکے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ ان کے گھروں کوکو ئی خطرہ نہیں تھا۔

ولو دخلت علیھم من اقطارھا ثم سئلوا الفتنة لاٰتوھا وما تلبثوا بھا الایسیرًاO
”اور کسی طرف سے ان پر گھس آتے اور پوچھتے فتنے کا تو یہ انکے ساتھ آمادہ ہوجاتے تو وہ وفقہ نہیں کرتے مگر آسانی ”۔ (احزاب:14)
ہمارے معاملے میں دہشتگرد پھنس گئے ورنہ تو گواہ ہیں کہ ایک فریق نے میرا کہا کہ قادیانی اسکے پاس آتے ہیں۔ اگر سازش اقارب نے کی تھی تو دور والوں پر تہمت کا کیا مقصد تھا؟۔ عثمان نے کہا کہ عرفان کے پاس ریکارڈ موجود ہے تو ہم پر احسان کیا تھا لیکن اس کو پیرمظہر کے خلاف جھوٹا گواہ بنادیا؟۔

ولقد کانوا عاھدوا اللہ من قبل لایولون الادبار وکان عھداللہ مسئولًاO
”اور انہوں نے اللہ سے پہلے وعدہ کیا تھا کہ اپنی پشت نہیں پھیریں گے اور اللہ عہد کے بارے میں پوچھتا ہے”۔(الاحزاب:15) ۔
عہد الست حضرت آدم کی ذریات سے پشت در لیا گیا تو لوگوں نے خاندانوں اور اس میں کردار کا انتخاب اپنی مرضی سے کیا ۔مجھے اپنے خاندان میں دونوں کے انتخاب پر دوبارہ بھیجا جائے تو بھی یہی منتخب کروں گا لیکن کچھ پیچیدہ طرح کے معاملات کا حل بہت ضروری ہے اور انشاء اللہ ہوں گے۔
اپنے بارے میں مجھے فکر بھی نہیں ہے لیکن اصل معاملہ تو اس واقعہ اور مہمانوں اور منصوبہ بندی والوں کا ہے۔

قل لن ینفعکم الفرار ان فررتم من الموت او القتل و اذًا لا تمتعون الا قلیلًاO
”کہہ دو کہ فرار تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا اگر تم موت سے فرار ہوگئے یا قتل سے اور پھر تم فائدہ نہیں اٹھاسکتے مگرکم”۔ (احزاب:16)
مفادپرستی اور شرم وحیا کی بھی اپنی حدود ہوتی ہیں۔

قل من ذالذی یعصمکم من اللہ ان ارادبکم سوءٍ ا او اراد بکم رحمة ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیًا ولا نصیرًاO
” کہہ دو کہ کون بچائے گا اگر تمہیں اللہ نقصان پہنچانا چاہے یا رحمت پہنچانا چاہے اور ان کیلئے اللہ کے علاوہ کوئی دوست اور مدد گار نہ پاؤگے ”۔ (سورہ ااحزاب:17)
ایسے لوگوں کا اللہ پر یقین نہیں ہوتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ اللہ کے بغیر بھی دھوکہ بازی اور فراڈ کی وفاداری سے اپنے مفادات حاصل کرسکتے ہیں ۔ ہمارے بھتیجوں کو1122کی طرح اپنے ہرمعاملے میں مدد گار سمجھ رکھا ہے لیکن اللہ پر یقین کریں۔

قد یعلم اللہ المعوقین منکم والقائلین لاخوانھم ھلم الینا و لا یأتون البأس الا قلیلًاO
” تحقیق اللہ تم میں سے روکنے والوں کو جانتا ہے اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں ہمارے پاس آجاؤ اور لڑائی میں نہیں آتے مگر بہت ہی کم ”۔ (احزاب:18 )
ویسے تو اشتراک کا دعویٰ ہے لیکن کون کون اپنے بھائی کو روکتا تھا ؟۔ یہ اللہ جانتا ہے۔ شروع میں تو ماموں اور منہاج بھی موقع پر پہنچ گئے تھے اور کچھ اپنے آپ کو چھپاتے تھے۔جن کو ہم نہیں جانتے ہیں لیکن اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔

اشحةً علیکم فاذا جاء الخوف رایتھم ینظرون الیک تدوراعینھم کالذی یغشٰی علیہ من الموت فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنةٍ حدادٍ اشحة علی الخیر اولئک لم یومنوا فاحبط اللہ اعمالھم وکان ذٰلک علی اللہ یسیرًاO
” تم سے ہمدردی کرتے ہیں پھر جب ڈر کا وقت آتا ہے تو انہیں دیکھو گے کہ وہ آپ کی طرف آنکھیں ایسے گھماتے ہیں کہ جیسے موت نے ان کو لپیٹ میں لیا ہو۔ جب پھر خوف جاتا ہے تو لوہے جیسی زبان سے تمہیں طعنہ دیتے ہیں۔ مال کے لالچی ہیں ۔ یہ ایمان نہیں لائے تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے ”۔ (سورہ احزاب:19)
جب تک حالات کے درست تصورات سے کوئی خود نہیں گزر جائے تو قرآن کے معانی اور حالات کا بھی اندازہ لگانے میں مشکل ہوتی ہے اسلئے اپنے حالات کا آئینہ دیکھتا ہوں۔

یحسبون الاحزاب لم یذھبوا وان یأت الاحزاب یودّوا لو انھم بادون فی الاعراب یسألون عن انباء کم ولو کانوا فیکم ماقاتلوا الا قیلًاO
”خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئی ہیں اوراگر فوجیں آجائیں تو پسند کریں کہ دیہات میں رہیں اور تمہاری خبروں کا پوچھا کریں اور اگر تمہارے ساتھ ہوں تو نہیں لڑتے مگر کم”۔ (احزاب:20)
اس وقت منافقوں کے چہروں سے چھلکا نہیں اتر سکا تھا کہ ان کے کیا مفادات ہیں اور کیا چاہتے ہیں لیکن اب ایک حد تک معاملات بالکل اللہ تعالیٰ نے سب پر واضح کئے ہیں۔

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاٰخر و ذکر اللہ کثیرًاO
”تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ اچھا نمونہ ہے جو اللہ اور آخرت کے دن کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہے”۔ (احزاب:21)
رسول اللہ ۖ نے ایک ایسے دور میں رب العالمین اور رحمت للعالمین کا مشن دیا کہ جب کسی کے پاس کوئی امید نہیں تھی۔ جس عزم انقلاب سے اٹھے تو 23سال میں ایک عظیم انقلاب برپا کیا جس نے پھر سپر طاقتوں کو بھی شکست دیدی۔

ولما رای المؤمنون الاحزاب قالوا ھٰذا ما وعدنا اللہ ورسولہ و صدق اللہ ورسولہ ومازادھم الا ایمانًا و تسلیمًاO
”اور جب مؤمنوں نے افواج کو دیکھا تو کہا کہ یہ تو وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا اور اللہ نے سچ کہا تھا اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور ان کا ایمان اور فرمانبرداری میں اضافہ ہوگیا”۔(الاحزاب:22)
جب مجھے لشکر کشی سے اتنے بڑے نقصان کی خبر پہنچی تو میں نے کہا کہ اب تو بہر صورت خلافت قائم ہوگی اور ساتھیوں کے ایمان اور مشن کیلئے اخلاص میں مزید الحمد للہ اضافہ ہوگیا تھا۔

من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلًاO
”مؤمنوں میں سے کچھ مردان کار نے سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا تو ان میں کچھ اپنے ہدف تک پہنچ گئے اور کچھ انتظار میں ہیں اور بالکل نہ بدلے”۔(الاحزاب:23)
صحابہ کرام میں حضرت امیر حمزہ ، حضرت زید اور بہت جلیل القدر حضرات شہید یا فوت ہوگئے اور کچھ نے فتح مکہ دیکھ لیا۔ ہمارے ساتھیوں ، بھائیوں اور اقارب میں کچھ لوگ گئے اور کچھ بقیدحیات منتظر ہیں۔ اللہ نے بہت بڑا کام لے لیا ہے۔

لیجزی اللہ الصادقین بصدقھم ویعذب المنافقین ان شاء او یتوب علیھم ان اللہ کان غفورًا رحیمًاO
” تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کا بدلہ دے اور منافقوں کو چاہے تو عذاب دے یا توبہ کی توفیق دے۔ بیشک اللہ بہت مغفرت والا بہت رحم والا ہے”۔ (احزاب:24 )

ورد اللہ الذین کفروا بغیظھم لم ینالوا خیرًا وکفی اللہ المؤمنین القتال وکان اللہ قویًا عزیزًO
”اور اللہ نے کافروں کو غصہ میں بھرا ہوا لوٹایا وہ خیر تک نہیں پہنچے اور اللہ نے مسلمانوں کی لڑائی اپنے ذمہ لے لی اور اللہ طاقت والا زبردست غلبے والا ہے”۔ (سورہ احزاب:25)
جس طرح ہم پر حملہ آور دہشت گرد مقصد حاصل کئے بغیر لوٹے ،یہ بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان اور عراق سے ان کی فوجیں نکل گئی ہیں۔ لیبیا میں بھی ناکام ہیں اور ایران میں ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے اچھے مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہوئی ہے اور ہندوستان کا غرور بھی اللہ نے خاک میں ملا دیا ہے۔
نہ تو قرون اولیٰ میں مسلمانوں کے پاس مادی طاقت تھی اور نہ آج ہے لیکن اللہ نے مسلمانوں کے قتال جہاد کو اپنے ذمہ لے لیا اور سپر طاقتوں کو شکست دی اور آج بھی دے رہاہے۔ انجینئرمحمد علی مرزا اور جاویداحمد غامدی سکہ رائج الوقت کے دو رخ ہیں۔2006میں ہم پر جس طرح کا قاتلانہ حملہ ہوا اور گاڑی کی جو کنڈیشن تھی تو بالکل ایک کرامت تھی جو ہمیں اللہ نے بچایا۔ پھر جب میں پشاور جارہاتھا تو اللہ نے جس طرح ترکیب سے بچایا وہ بھی حیران کن تھا۔ وہی اللہ آج بھی اسی طرح سے ہے جو پہلے تھا فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے بھی ہندوستان سے لڑنے کے مقابلے میں اللہ کی مدد کا ہی کہا ہے۔

وانزل الذین ظاہروھم من اہل الکتاب من صیاصیھم وقذف فی قلوبھم الرعب فریقًا تقتلون وتأسرون فریقًاO
”اتار دیا اللہ نے غلبہ میں مدد دینے والے اہل کتاب کو ان کے اپنے اپنے گڑھ سے اور ان کے دلوں میں رعب ڈالا ایک فریق کو تم قتل کررہے تھے اور ایک کو قید کررہے تھے”۔ (سورہ الاحزاب آیت :26)
ان احوال کو ہمارے ماحول سے سمجھ سکتے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میںمحسود طالبان اور انکے گڑھ کے خلاف آپریشن ہوئے لیکن وزیرطالبان بدستور تھے۔ طالبان کا ایک گروپ دوسرے کی کیا خبر لے رہاتھا؟۔ ہمارے ماموں کے گھر میں توISIنے ایک گاڑی پکڑ کر بارود سے اڑادی اور کسی کو باندھا اور کسی کو پکڑکر لے گئے۔ اس میں ماموں اپنا سر ہلا رہاتھا کہ اس کے بھتیجے اور داماد کو لیکر گئے جیسے بہت بڑا ظلم کیا ہے؟۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں سورج، چانداور گیارہ ستاروں کو اپنے لئے سجدہ ریز دیکھا تو والدنے کہا کہ اس کو اپنے بھائی کے سامنے بیان مت کرو ،نہیں تو تمہارے لئے کوئی چال بنالیںگے بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وکذٰلک یجتبیک ربک و یعلمک من تاویل الاحادیث ویتم نعمتہ علیک و علی اٰل یعقوب کما اتمھا علی ابویک من قبل ابرٰھیم و اسحٰق ان ربک علیم حکیمO لقد کان فی یوسف واخوتہ اٰیٰت للسائلینO
”اور اسی طرح تیرا رب تیرا انتخاب کرے گا اور تجھے باتوں کی تفسیر سمجھائے گا اور تجھ پر اپنی نعمت کی تکمیل کرے گا اور آل یعقوب پر جیسا کہ اس نے پورا کیا تیرے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اس سے پہلے۔ بیشک تیرا رب جاننے والا حکمت والا ہے ۔ تحقیق یوسف اور اسکے بھائیوں میں بہت ساری نشانیاں ہیں سوال کرنے والے لوگوں کیلئے ”۔ (سورہ یوسف:6،7)

جاویداحمد غامدی نے خود ساختہ نظریہ گھڑا ہے کہ مسلمان کی قیامت تک باری نہیں آئے گی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نبوت کا دعویدار دجال تھا اور یہ بغیر نبوت کے دعویٰ کے دجال ہے اسلئے کہ 70سے کچھ اوپر دجالوں کا ذکر ہے جن میں 30نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ سورہ یوسف کا پچھلی سورہ سے ربط یہ ہے کہ
ولقد جاء ت رسلنا ابرٰھیم بالبشرٰی قالوا سلمًا قال سلٰم فما لبث ان جاء بعجل حنیذٍOفلماراٰ ایدیھم لا تصل الیہ نکرھم و اوجس منھم خیفةً قالوا لاتخف انا ارسلنا الی قوم لوطٍOوامرتہ قائمة فضحکت فبشرنٰھا باسحٰق ومن ورآء اسحٰق یعقوبOقالت یٰویلتٰی ء الد وانا عجوز و ھٰذا بعلی شیخًا ان ھٰذا لشی ء عجیبOقالوا اتعجبین من امر اللہ رحمت اللہ و برکاتہ علیکم اہل البیت انہ حمید مجیدOفلما ذھب عن ابرٰھیم الروع وجاء تہ البشرٰی یجادلنا فی قوم لوطٍOان ابرٰھیم لحیلم اواہ منیبOیا ابرٰھیم اعرض عن ھٰذا انہ قد جاء امر ربک وانھم اٰ تیھم عذاب غیر مردودٍO
”اور تحقیق ہمارئے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری کے ساتھ آئے انہوں نے کہا: سلام ،اس نے کہا : سلام ، اب کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔ پھر جب دیکھا کہ انکے ہاتھ اس تک نہیں پہنچ رہے ہیں تو آپ کو نامعلوم لگے اور ان سے خوف محسوس ہونے لگا انہوں نے کہا : ڈرو مت ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیںاور اسکی عورت کھڑی تھی اور ہنس رہی تھی تو ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی ۔وہ بولی ہائے میری ہلاکت میں جنوں گی اور یہ میرا شوہر بوڑھا ہے یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا تجھے اللہ کی تقدیر پر تعجب ہے ۔ تم پر اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں اے اہل البیت ۔بیشک وہ لائق حمد بزرگی والا ہے۔ پس جب ابراہیم سے دبدبہ ختم ہوا اور اسکے پاس بشارت آئی تو ہم سے قوم لوط کے حق میں جھگڑنے لگا۔ بیشک ابراہیم بہت برداشت والانرم رجوع کرنے والا تھا”۔ (ھود:69تا75)

ہمارے وزیرستان اور گومل ٹانک کی اقوام حضرت ابراہیم کی سیرت کا آئینہ ہیں۔ جاویداحمد غامدی قرآن کے مزاج اور روح سے ناواقف ہے کہ قوموں کی ترقی کیلئے انتخاب اور غرق ہونے کے اللہ کے پاس کیا معیارات مقرر ہوئے ہیں؟۔

واورثکم ارضھم ودیارھم و اموالھم وارضًا لم تطئوھا وکان اللہ علی کل شی ئٍ قدیرًاO
”اور ان کی زمینوں اور آبادی اور اموال کا مالک بنادیا اور اس زمین کا جس پر ان کے قدم نہیں پڑے تھے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔(سورہ احزاب:27)
یہ یہودبنوقریظہ و بنونضیر تھے لیکن عالمی خلافت قائم ہوگی تو پھر دنیا بھر میں مسلمانوں اور اہل حق کو اللہ غلبہ دیگا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جس عمل کا شکار تھی اور اللہ نے عذاب کا فیصلہ کیا تب بھی ابراہیم علیہ السلام کا اللہ نے واضح کیا کہ ان کیلئے ہم سے جھگڑنے لگا۔ جب محسود قوم نکلی تھی تو میں نے ان کی اپنی بساط کی حد تک مدد بھی کی ۔ ان پر بھی دل برا تھا جن کے گھروں میں گڈ طالبان نے گھس کر گھروں کی بے عزتی کی اور یہ شکر بھی ادا کیا کہ ہمارا واقعہ ہوا کہ ماموں کا گھر بے عزتی سے بچ گیا۔

سورہ احزاب کی آیت28میں نبی ۖ کے ایلاء کا ذکر ہے جو طلاق کے مسائل کو سمجھنے کیلئے سب سے بڑی بنیاد ہے۔
ــــــــــ

جیسے قادیانی کو نبی کہنا جھوٹ ویسا اسلامی بینک کہنا جھوٹ… مولانا مفتی محمد زر ولی خان
اسلامی بینک نظام کا تصور نہیں تو اسلامی بینک کا کیا مطلب ہے؟ جھوٹ بولنا۔ جیسے غلام احمد قادیانی کو نبی کہنا۔ جیسے یہ جھوٹ اور فریب ہے اس طرح بینک کو اسلامی کہنا، کہنے والا کوئی بھی ہو ۔ اس کا نام شیخ الاسلام ہو یا فخر الاسلام ہو۔ اس مسئلے میں کذاب ہے وہ۔ پوری دنیا کا اول نمبر جھوٹا ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

حسنی وحسینی سادات
الطلاق مرتان کی زبردست تفسیر
وبلغت القلوب الحناجر..ھنالک ابتلی المؤمنون وزلزلوا زلزالًا شدیدًا