الطلاق مرتان کی زبردست تفسیر
اکتوبر 28, 2026
الطلاق مرتان کی زبردست تفسیر
پہلی بار طلاق کی جدا صفاتِ الٰہیہ،
دوسری بار طلاق کی جداہیں
اورتیسری بارکی جدا
اردو ترجمہ میں بڑا فراڈ ہے
سید عبدالقادرجیلانی کی تفسیر کا ہدف فقہاء کے اختلافات ”بغیًا بینھم” بھونکنے اور ڈھینچو ڈھینچوکا خاتمہ اور احیاء سنت تھا۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی کا ترجمہ اور تفسیرجیلانی کی غلط تشریح نے مسئلہ طلاق میں انتہائی غلط رنگوں کو بھرکر لوگوں کو گمراہ کیا۔
تفسیر کے عربی مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”بعض لوگوں نے سید عبدالقادر جیلانی پر عقائد اور فقہی احکام کے حوالے سے تہمت لگائی ہے لیکن قاری کو چاہیے کہ ان الزامات کو اس تفسیر کا معالعہ کرنے سے پہلے ملاحظہ کریں۔
وقد مر آنفًا ان الشیخ رضی اللہ عنہ احیا سنت رسول اللہ ۖومارودفی ھذا التفسیر المبارک حول وحدة الوجود ومایشبہ فانہ مدسوس علی الشیخ۔کما ان الشیخ لاینقل عن غیرہ الا ما ندر عن سیدنا علی رضی اللہ عنہ وعن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماوعن عربی
وقد تم انجاز ترجمة الجزء االاول من تفسیرالی الترکیہ وشرعنا بجزء کا بدات الآن الثانی ترجمتہ الی اللغة الاردیہ الانکلیزیةوالالمانیة
شیخ سید عبدالقادر جیلانی پر لگنے والے الزامات کی تردید کی اور لکھا کہ شیخ صرف سنت رسول اللہ ۖ کو زندہ کرنا چاہتے تھے یہ ثابت کرتا ہے کہ کچھ لوگوں کو اس تفسیر سے تکلیف پہنچی تھی اور تفسیر کے آخر میں منتظم نے خود کو حنفی مسلک کا قرار دیا ہے۔
تم الجز ء الرابع علی ید افقر الوریالی ربہ اللطیف السائر: الرشیدی السید عبدالقادر ابن السید مصطفی ابن السید عبدالرحمن الرشیدی ، الحنفی مذھبًا، القادری طریقًا
مسلک حنفی اور سلسلہ قادریہ سے تعلق ہے۔
چونکہ سید عبدالقادر جیلانی نے قرآن سے سنت کو زندہ کیا تو بعض لوگوں کے پیٹ میں اس سے مروڑ تو اٹھا ہوگا؟۔
الم ترالی الذین اوتوانصیبًا من الکتاب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بیھم ثم یتولیٰ فریق منھم و ھم معرضونO
”کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا کچھ حصہ مل گیا وہ کتاب کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ اسکے ذریعے سے فیصلے ہوں ان کے درمیان پھر ایک فریق نے منہ موڑ لیا ان میں سے اور وہ حق سے اعراض کرر ہے تھے”۔ (ال عمران:23)
سورہ آل عمران میں آیات محکمات اور متشابہات دونوں ہی ذکر ہے ۔ طلاق کے احکام کا تعلق محکمات سے ہے جو ایک تو واضح ہیں اور دوسرے ان پر اختلاف کی گنجائش نہیں ہے اور تیسرے جب وقت اور حالات کی وجہ سے ان میں بگاڑ پیدا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل سے کسی کو فہم عطا کردے تو اس سے منہ موڑنے والے لوگوں کی اللہ نے مذمت فرمائی ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے سید عبدالقادر جیلانی نے طلاق کے مسئلہ پر قرآن وسنت کی زبردست وضاحت فرمائی ہے اور اس میں کوئی فرقہ واریت اور مسلک سازی نہیں بلکہ قرآن کے نص کے عین مطابق رسول اللہ ۖ کی سنت کا زبردست احیا ء ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ پھر مسلمانوں نے صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں صلیبی جنگوں میں شکست دیکر بیت المقدس کو فتح کیا تھا اور اس فتح پر حسن سلوک سے عیسائیوں نے تعریفیں لکھی ہوئی ہیں۔
سید عبدالقادر جیلانی نے تجدید دین و ایمان کا فریضہ ادا کیا تو اسکے بعد ابن تیمیہ، ابن ملقن، ابن کثیر پیدا ہوئے لیکن ابن جوزی نے علماء میں سبقت حاصل کی اسلئے سید عبدالقادر جیلانی کی طرف توجہ نہیں گئی اور ابن تیمیہ اور ابن ملقن کے بعد ابن حجر عسقلانی اور علامہ بدر الدین عینی نے پھر شافعی اور حنفی مسالک کو زندہ کرنے کیلئے بخاری کی اپنی اپنی شرح لکھ دی تھی۔
سورہ بقرہ کی آیت228سے 232تک تفسیر جیلانی
”والمطلقٰت”: المدخولات بھن، ” یتربصن ”: ینتظرون ”بانفسھن ثلٰة قروء”: ای مضی مدتھا والقروء یطلق علی الحیض والطھر واصل وضعہ للانتقال من الطھر الی الحیض و ھو المراد فی الایة لانہ لاستبراء الرحم والدال علی البراء ة ،ھذا ”ولایحل لھن”: ای المطقات المعتدات ”ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن”: مدة العدة من الحیض لئلا یختلط النسب ”ان کن یؤمن باللہ”: العالم السرائر ”والیوم الاٰخر”: الذی تبلی فیہ جمیع السرائر والضمائر ”وبعولتھن احق”: الیق واولی ”بردھن”: الیھم ”فی ذٰلک”: ای فی زمان التربص ”ان ارادوا”: ای الزواج ”اصلاحًا و”: اعلموا ایھا المؤمنون ” لھن”: علیکم من الرعایة و المحافظة علی آداب الخدمة والا ستئناس و غیر ذٰلک ”مثل الذی”: لکم ”علیھن بالمعروف”: من الحقوق والرعایة والمحافظة ”ولرجال علیھن درجة”: فضیلة بحسب الخلق والعقل والتمیز وکمال الایمان والمحافظة علی حدود اللہ و امتثال مأموراتہ ” واللہ عزیز”: یعز من یشاء من عبادہ و یذل من یشاء ”حکیم O” فی فعلہ لایسأل عما یفعل
اس البقرہ آیت228کے اندر طلاق کا روڈ میپ ہے جس کو الحمدللہ ہم نے اسی طرح واضح کیا تھا۔ جس سے حلالہ کی بنیاد ختم ہوجاتی ہے۔ عورت کو رجوع نہ کرنے کا اختیار ملتا ہے اور سورہ احزاب کی آیت28میں ازواج مطہرات سے نبیۖ نے ایلاء کیا تو28دن کے بعد رجوع کرنے پر ان کو اختیار دینے کا حکم نازل ہوا۔ حضرت عمر نے 3طلاق پر عورت کے حق میں فیصلہ اسلئے دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی ۔پھر حضرت علینے حرام کے لفظ پر رجوع نہ کرنے کا حکم اسلئے دیا تھا کہ عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی لیکن اس سے حلالہ کا حکم جاری کرنا سورہ اعراف آیت28کی صریح خلاف ورزی ہے کہ فحاشی کو اپنے اجداد اور اللہ کے حکم کا نام دیا جائے۔
اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالثٍ
”جب ہم نے دو کوانکے پاس بھیجا تو انہوں نے دونوں کو جھٹلایا تو ہم نے تیسرے سے انکی مدد کی”۔ (یٰسین آیت14)
سورہ یٰسین کی اس آیت سے اگر گلوبل ولیج پوری دنیا مراد لیں اور پہلے دو سے آل ابراہیم میں حضرت موسیٰ وعیسیٰ مراد لیں اور تیسر ے سے حضرت محمدۖ تو معاملہ کتنا دنیا کے سامنے ایسا واضح ہوجائے گا کہ دھوبی بھی سمجھے گا۔ اسی طرح سے اگر طلاق کو بہت واضح کیا جائے اور پہلی مرتبہ کی طلاق و رجوع کو الگ تشخص اور صفات کیساتھ واضح کیا جائے اور پھر دوسری مرتبہ کی طلاق کو الگ تشخص اور صفات کیساتھ واضح کیا جائے اور پھر تیسری طلاق کو بالکل الگ تشخص کیساتھ واضح کیا جائے تو دھوبی سمیت دنیا کا ہر طبقہ اور افراد اس کو سمجھ لیں گے لیکن جان بوجھ کر مخالفت کرنے والے دھوبی کے کتے بن جائیں گے جو نہ گھر کے رہیں گے اور نہ گھاٹ کے۔ پھر جاویداحمد غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا کو زنجیروں سے باندھنا پڑے گاجو کہیں دماغ کھلنے کے بعد عبدالقادر جیلانی کے دھوبی کے مجاور نہ بن جائیں۔
”الطلاق” : صادر من اولی العزم و ذوی الالباب
اس آیت229میں طلاق سے مراد صرف اور صرف وہی مراد ہے جس کا ذکر228میں ہے یعنی ازدواجی تعلق والی بیوی کو طلاق دینا جس کی واضح عدت ہے۔ اس میں بھی حاملہ مراد نہیں ہے بلکہ جس کو حیض آتا ہے اور نبیۖ نے عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں جس طرح تین طہر سے واضح فرمایا ہے کہ طلاق و عدت کا تعلق قرآن میں اس طرح تین طہروں کیساتھ ہے۔
اسلئے عبدالقادر جیلانی نے تمام بکواسی فقہ جاتی مسائل کے قلع قمع کرنے کا عزم کرتے ہوئے اس تفسیر میں لکھ دیا ہے کہ اس سے مراد صرف ان لوگوں کی طلاق ہے جو باہوش و حواس عقل وفکر کی بنیاد پر بیوی چھوڑنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہوں۔
”مرتان”: ”مرة” عند عروض النفرة المنافیة للرغبة السابقة المستلزمة للزواج والازواج ، المنبعث عن طبیعتہ بالطبع للاختلاف والازدواجات الواقعة بین اسبابھا وھی الاوصاف الالٰھیة
دومرتبہ کی طلاق میں سید عبدالقادر جیلانی نے پہلی مرتبہ کا بالکل الگ تشخص بیان کیا اور اس میں جدائی کے عارضے میں اس نفرت کے اسباب کو تلاش کرنے کی صفت کا بیان کیا ہے جو شادی وازدواجی تعلقات قائم رہنے کے منافی ہیں۔ یہ فقہاء شافعی اور فقہاء حنفی کی اس بکواس پر کاری ضرب ہے کہ شہوت کی نظر غلطی سے پڑگئی اور رجوع کی نیت نہیں تھی تب بھی رجوع ہے اور نیت نہیں ہے تو جماع سے بھی رجوع نہیں ہوگا۔ دونوں مسالک کی نفی کردی تو ان پر وحدت الوجود کے عقیدے کا بھی بہتان لگادیا اور کسی نے لحاظ رکھا تو حنبلی مسلک کا قرار دیا ہے۔ حالانکہ پہلی مرتبہ کی طلاق میں پہلے مرحلے کے اندر غور وفکر کرنا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کی صفات الٰہیہ ہیں جو سنت رسول سے ثابت ہیں۔ایلاء کے اندر پہلے مرحلہ میں رسول اللہۖ نے مکمل غور وفکر خود عملی طور پر فرمایا تھا اور عبداللہ بن عمر سے بھی واضح تلقین فرمائی تھی۔ جو احادیث صحیحہ سے بالکل ثابت ہیں۔
ثم اذا رجع العازم عنہ لابد ان یکون رجوعہ عن رویةٍ وتدبرٍ بان یلاحظ انہ سبب انبعاث الرغبة السابقة واشتیاقھا ثانیا فیکذب نفسہ ویرجع الیھا
پھر جب طلا ق کا عزم کرنے والا اپنے عزم سے لوٹے تو ضروری ہے کہ اس کا رجوع اچھی طرح سے دیکھ بھال اور تدبر کیساتھ ہو، تاکہ خوب جانچ پڑتال کرلے اس میں پہلی جیسی رغبت اور شوق لوٹ آیا ہے اور وہ اپنے نفس کو جھٹلادے کہ اس میں نکاح کو باقی رکھنے کا معاملہ نہیں رہاہے اور اس کی طرف وہ رجوع کرلے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح باقی رکھنے کا طریقہ بتایا ہے اور دلے اور دلال ا سے ختم کرنے کی بنیاد بنارہے ہیں۔
سید عبدالقادر جیلانی نے دونوں مرتبہ طلاق اور اس سے رجوع کا جو مطلب واضح کیا ہے وہ غلام احمد پرویز، ڈاکٹر ذاکر نائیک ، جاویداحمد غامدی اور متعصب غالی رافضی شیعہ علامہ شہر یار رضا عابدی سمیت سب کے دماغ کا بھیجا نکالنے کیلئے ہتھوڑا ہے۔ طلاق و رجوع کا وہ معنی ہے ہی نہیں جس میں سب الجھے ہوئے ہیں بلکہ جس طرح قرآن کی آیات میں واضح ہے اور جو رسول اللہ ۖ نے طہر کے بعد حیض اور پھر طہر آنے پر واضح فرمایا ہے۔ صحیح بخاری کے مصنف اسماعیل بخاری کی والد محترمہ نیک ہوگی جس سے اللہ نے دین کی ایک طرح سے خدمت لی لیکن اس پر شاید گدھا چڑھا تھا جس کی وجہ سے اس آیت کے معانی کو بگاڑنے کیلئے اکٹھی تین کے تحت درج کیا اور حلالہ کی لعنت کو رواج دینے میں قرآن وسنت کی بالکل غلط بنیاد ڈالی۔
سید جیلانی پرحضرت علی و ابن عباس اور عرب کی نوادرات نقل کرنے کا الزام اسی لئے لگایا ہوگا۔حالانکہ دو مرتبہ کا لفظ کسی بھی زبان میں دو افعال کیلئے ہی آتا ہے۔یہ عرب کیساتھ کوئی خصوصیت نہیں رکھتا ہے۔ ڈاکٹر مفتی منظور مینگل کا کلپ ہے کہ فلاں مولوی اتنی مرتبہ زنا کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ ایک مرتبہ پکڑا گیا اور دو مرتبہ پکڑا گیا …اس کا ترجمہ کسی بھی زبان میں کیا جائے تو معنی اور مفہوم بالکل واضح ہیں۔ ایک مرتبہ حلالہ کیا اور دو سری مرتبہ حلالہ کیا سے کیا مراد ہے؟۔ اسی طرح عدت کے پہلے مرحلے میں پہلی مرتبہ طلاق پر قائم رہا ہے تو اس کے بعدپھر دوسرے مرحلے میں طلاق و رجوع کا مرحلہ خود بخود شروع ہوتا ہے اور اس کو دل کے اندھوں کے علاوہ سبھی لوگ بخوبی سمجھ سکتے ہیں جو قرآن، احادیث اور سید عبدالقادر جیلانی نے واضح کیا۔
ان کتوں اور گدھوں پر اللہ نے قرآن کو نازل کیا جنہوں نے عورتوں کی عزتوں کوحلالہ کے نام پر کھلواڑ بنادیاہے؟ ۔
کما انزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOفوربک لنسئلنھم اجمعینO
”جیسا کہ ہم نے بخرے کرنیوالوں پر نازل کیا ، جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا۔ پس تیرے رب کی قسم ان سب سے ضرور بضرور ہم پوچھیںگے”۔ (سورہ حجر90تا92)
جیسے آج میں کتابوں، اخبارات اور سوشل میڈیا سے سمجھا رہا ہوں ویسے سید عبدالقادر جیلانی نے سمجھایا اور اپنے خطبات میں انکو منافق قرار دیا تھا مگر بے غیرت ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
ان طلقھا بعد تلک الرجعة ”فامساک بمعروف” ای فعلیہ بعد الطلقة الثانیة احد الامرین و لایتجاوز عنہ الی الطلقة الثالثة والا لسقط عن زمرة العقلاء العازمین علی امور الشرعیة بالعزیمة الخالصة اما امساک بمعروف والمستحسن عنداللہ و عند المؤمنین بل لابد ھذا الامساک احسن من الامساک السابق علی الطلاق حین الوفاق
سید جیلانی نے نفرتوں کا قرآنی نسخۂ کیمیا بتادیا کہ عدت کے پہلے دو مراحل میںدو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری طلاق تک بات نہ پہنچے جس سے وہ شریعت پر عازم عقلاء کے زمر ے سے گر جائے اسلئے دوسری مرتبہ طلاق کے بعد رجوع کرلے جو اللہ اور مؤمنوں کے ہاںمستحسن اقدام ہے اور یہ روکنازیادہ مستحسن ہو طلاق کے بعد پہلے جڑنے کی صورتحال سے۔
” اوتسریح”: اطلاق وتبعید مقارن ”باحسان”: من مالٍ وخلقٍ و کلمةٍ طیبةٍ لیرتفع غبار العداوة والبغضاء الواقعة باغواء الشیطان بینھما
یا پھر آزاد کرنا ہو تو یہ دوری احسان کیساتھ ہی جڑی ہوئی ہو جو مال اپنے حق سے زیادہ دیا جائے، اچھا اخلاقی برتاؤ روا رکھا جائے اور اچھی بات کیساتھ تاکہ دونوں میں شیطان نے بہکانے سے جو دشمنی اور بغض کا غبار ڈال دیا ہے وہ اٹھے اور جداہونے کے باوجود بھی خیر خواہی کے جذبات رہیں۔
”ولا یحل لکم”: ایھاالحکام المقیمون للاحکام الشرعیة اصلًا ”ان تأخذوا”: من النساء ”ممااتیتموھن” من المھور والصداقات ”شیئًا” :وتردوہ الی ازواجھن
یہاں حکام مخاطب ہیں اسلئے کہ حقوق کی پاسداری ان پر عائد ہوتی ہے کہ جو حق مہر اور دوسری چیزیںوغیر ہ دی ہیں تو وہ عورتوں سے لیکر شوہروں کو نہیں دلاسکتے ہو۔ عورتوں کا تحفظ اور اس کیلئے قانونی حقوق کا تعین قرآن میں واضح ہیں۔ حق مہر کا ایک طرف تعین نہیں ہے بلکہ غریب وامیر پر اپنی اپنی وسعت کے مطابق ہے تو دوسری طرف جب حضرت عمر نے عورتوں کا حق مہر کم مقرر کردیا تو عورت نے حقوق نسواں کے تحفظ کیلئے حضرت عمر سے اپنا فیصلہ واپس کروایا ۔ سورہ مجادلہ کی توثیق نے عورت کی ہمت بڑھائی اور دنیا کی تاریخ کو الحمدللہ بدل ڈالا۔
”الا ان یخافا” ای الزوجان کلٍ منھماعلی نفسہ ”الا یقیما حدوداللہ” :الموضوعة من عند سبحانہ لاصلاح حالھما ”فان خفتم”: ایھا الحکام ایضًا ”الا یقیما حدود اللہ” بینھما ”فلاجناح”: اثم ”علیھما” علی الرجل ”فیما”: اخذ ”افتدت بہ”: المرأة للخلاص و الطلاق و علی المرأة لاعطائہ لہ
اگر وہ دونوں اور حکام کو خوف ہو کہ رابطہ رہا تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے ۔ عورت جان چھڑانا اور طلاق چاہتی ہو تو پھر وہ دی ہوئی چیز فدیہ کرنے میں دونوں پرگناہ نہیں۔
سید عبدالقادر جیلانیکا کمال ہے کہ پہلی ، دوسری اور تیسر ی طلاق کی اپنی اپنی الگ الگ واضح صفات بیان کردی ہیں۔
تیسری طلاق کی پہلی صفت دو مرتبہ طلاق کے بعد ہواور یہ کہ دونوں کا اتفاق ہو کہ آئندہ رابطہ رکھا تو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور یہ کہ عورت جان چھڑانا اور طلاق کیلئے فدیہ پر راضی ہو۔ نورالانوارمیں حنفی مسلک یہ ہے کہ تیسری طلاق فدیہ کیساتھ ہے ۔علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد علامہ ابن قیم نے زاد المعاد میں حضرت ابن عباس کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ تیسری طلاق دو مرتبہ طلاق اور فدیہ کے ساتھ خاص ہے۔
سورہ احزاب میں مذہبی منافقوں ، کافروں اور ہٹ دھرم طبقات کے مقابلے میں وحی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ اسلام کے عنقریب اجنبی بن جانے کی پیشگوئی نبیۖ نے فرمائی ۔
اسلام کی پہلی کڑی ”حکم” ٹوٹی ہے جہاں پر میاں بیوی کے درمیان جدائی کا فیصلہ کن مرحلہ طے ہونے کے بعد حکمران نے آخری فیصلہ کرنا تھا مگر اس کو غلیظ فتویٰ میں تبدیل کردیاگیا۔
لتنقضن عری الاسلام عروة عروة فکلما انتقصت عروة تشبث الناس بالتی تلیھا فاولھن نققضا الحکم و آخرھن الصلاة
نبی ۖ نے فرمایا:اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ضرور ٹوٹیں گی ،جب بھی ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ اگلی کڑی کو پکڑ لیں گے اس میں سے پہلے ٹوٹنے والی کڑی ”حکم” ہے اور آخر میں ٹوٹنے والی کڑی نماز ہے۔ خوارج نے حکم کا انکار کیا پھر بنوزرقاء بنومروان نے حلالہ کو جبراً نافذ کیا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز1964میں عائلی قوانین میں بل پاس کرکے ترمیم سے ہوچکا ۔جس میں مفتی محمود پر فیلڈمارشل جنرل ایوب خان سے رقم کی لین دین کا الزام لگایا گیاہے۔
”تلک”: الاحکام المذکورة ”حدوداللہ” الموضوعة فیکم ایھاالمؤمنون لاصلاح احوالکم ”فلاتعتدوھا”: فلا تتجاوزوا عنھا بالمخالفة و عدم الامتثال ”و”: اعلموا ان ”من یتعد حدوداللہ فاولٰئک ھم الظٰلمونO” المتجاوزون عن حد الانسانیة الی البھیمیة المضیعون لمقتضیات العقل الشریف المفاض علیھم من لدنہ سبحانہ
یہ احکام مذکورہ اللہ کی حدودبنے تمہارے اصلاح احوال کیلئے اے مومنو! پس ان سے تجاوز نہ کرو، ان کی مخالفت اور عدم امتثال (حلالہ)سے۔پس تجاوز کرنے والے لوگ ظالم ہیں جو انسان سے جانور بنتے ہیںاور عقل شریف کے تقاضے ضائع کرتے ہیں جسے اللہ نے اپنی طرف سے نواز دیا ہے۔
”فان طلقھا”: ای ان وقع الطلاق بینھما بعد المرتین ”فلاتحل”: المرأة المطلقة ”لہ”: ای لرجل المطلق ”من بعد”: ای بعد وقوع الطلاق الثالة ”حتی تنکح”: تتزوج المرأة "زوجًا”: ثانیًا ”غیرہ”: ای غیر الزوج الاول ”فان طلقھا”: الزوج الثانی ”فلا جناح علیھما ان یتراجعا”: ای یرجع کل من الزوج الاول و المرأة من الاٰخر بالزواج و یلمس کل منھما عسیلة الزوج الثانی ان اشتھی و ذٰلک حین ”ان ظنا ان یقیما حدود اللہ”: بینھما ”وتلک” :الاحکام ”حدوداللہ یبینھا لقومٍ یعلمونO” یعقلون و یفھمون حدودہ ویعلمون بمقتضی العقل اذ التکالیف الواقعة فی الشرع الماضی لاجلہ
سید عبدالقادر جیلانی نے البقرہ230کی تفسیر میں کمال کردیا اور الحمد للہ میں نے یہی وضاحت کی تھی کہ آیت کے آخر میںپہلے جوڑے کو دوبارہ ملنے پر اللہ کے حدودپر قائم رہ سکنے کا گمان اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ جماع بھی کیا ہو۔ حالانکہ سعید بن جبیر نے جماع کے بغیر نکاح کو کافی قرار دیا اور مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ” احادیث سے حنفی مسلک حلالہ کیلئے جماع دلیل نہیں لیتا بلکہ نکاح کا معنی جماع لیتا ہے”۔
”واذاطلقتم النساء فبلغن اجلھن”: ای قرب انقضاء عدتھن ”فامسکوھن”: فعلیکم بعد ما قرب انقضاء مدة العدةان تراجعوھن فیھا وتمسکوھن ”بمعروف”: مستحسن عقلًا و شرعًا ”اوسرحوھن”: و فارقوھن ”بمعروف”: حتی لا یتضررن بعدم الزواج وطول المدة
سید عبدالقادر جیلانینے قرآن کا حکم بالکل واضح کردیا کہ یہاں پر مدت پوری ہونے سے مراد قریب کا زمانہ ہے اسلئے کہ عورت رجوع کیلئے راضی ہے تو پھر مدت پوری ہونے کے بعد زیادہ عرصہ تک لٹکانا مت۔ جو ان لوگوں کے فقہ گمراہی و شیطانی و دجالی پر بہت بڑی چوٹ ہے جو کہتے ہیں کہ اگر بچہ مولوی کی ماں کی سرنگ سے50%سے زیادہ نکل گیا تو پھر رجوع نہیں ہوسکتا ہے اور اگر50%سے کم نکلا تھا تو رجوع ہوسکتا ہے اورففٹی ففٹی تھا تو پھر مفتی تقی عثمانی شیخ الاسلام اور قائدملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن بناؤ تاکہ یزید کی طرح وہ اپنی ذات کی اور دین میں تحریف کی وکالت خود کرسکیں۔
”ولاتمسکوھن”: ولا تراجعوھن ”ضرارًا”: ای بمجرد ان تضروھن ”لتعتدوا”: ای تبقوا مدة طویلة بلا محبةٍ و مودةٍ حتی یأتیھن الموت کما یفعلہ الجھال غیرةً و حمیةً ”ومن یفعل بعد ذٰلک”: الفعلة ”منکم فقد ظلم نفسہ”: بتعریضھا علی عقاب اللہ بابطال حکمتہ وتعطیل محل خلقہ وقدرتہ ”ولاتتخذوا”: ایھا المؤمنون ”آیٰت اللہ”: النازلة علیکم "ھزوًا”: تتھاونون علیھا وتأخذونھا سھلًا ،احذروا عن انقامہ ”واذکروا نعمت اللہ”: المنعمة ”علیکم”: واشکروالھا و: خصوصًا ”ماانزل علیکم”: لاصلاح حالکم
سید عبدالقادر جیلانی نے واضح کردیا کہ عورت کو برابر کے معروف حقوق آیت228میں اللہ نے دئیے لیکن جاہلانہ معاشرے کی غیر ت سے آزاد کرنے کیلئے البقرہ230ہے۔ اور231میںعورت معروف طریقے سے راضی ہو توپھر رجوع سے تکلیف نہ پہنچائیں۔ جاہل فقہاء نے یہ دلیل بنائی ہے کہ اس سے شوہر کے رجوع کا اختیار ثابت ہوتا ہے۔جاہلوں کے علاوہ فقہاء نے حلالہ کے بہت خطرناک طریقے سے جال بنائے ہیں اور ان سب کی شریعت کے پاسدار بزرگوار حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی نے ایسی مٹی پلید کردی کہ سبحان اللہ۔
”من کتٰب”: المبین لکم طریق المعاش فی النشأة اولٰی
سید جیلانی نے ”طریق المعاشرة” لکھا ہوگا ۔کچھ اصل الفاظ کی نشاندہی اور تصحیح ہے اسلئے کہ آیت کا معاشرتی معاملات سے تعلق ہے ۔لیکن اگر معاش ہے تواس کا معنی زندگی ہے۔ جاہلانہ معاشرتی نظام کی اصلاح قرآن نے زبردست کردی ۔ یہاں کتاب قرآن کے ذریعے اس کی نشاة اولیٰ میں ایک بڑا انقلاب آیا تھا اور سپر طاقتوں کو شکست دی تھی اور اس نعمت عظمیٰ کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جس سے مسلمانوں کا معاش بھی بہترین ہوا تھا اور دین فروشی کی ضرورت کسی طور نہیں پڑتی تھی۔
”والحکمة”: الموصولة لکم الی ذروة التوحید فی نشأة الاخری لکی ”یعظکم”: فعلیکم ان تتعظوا و تتذکروا "بہ واتقوا اللہ”: عن مساخطتہ وانتقامامتہ ولا تتجاوزا عن حدودہ المبینة فی کتابہ
اسلام کی نشاة میں اللہ کی دی ہوئی حکمت جس سے تو حید کے کمال اور اللہ کے کلام کی حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔اسلئے دونوں یعنی کتاب اور حکمت کی نعمت کو سامنے رکھ کر اللہ سے ڈرو اور اس کی سزا اور انتقام سے ۔ اور تجاوز مت کرو اس کی متعین کردہ واضح حدود سے جو اس کی کتاب میں موجود ہیں۔
”واعلموا ان اللہ”: المحیط بکم و بحالاتکم ”بکل شیءٍ”: صدر عنکم من الخیر والشر والنفع والضر العائد لنفوسکم ”علیمO” بالعلم الحضوری لایعزب عن عملہ شی ء مماظھر وکان ویظھر و یکون
سید عبدالقادر جیلانینے البقرہ231میں تنبیہ فرمائی کہ بنی اسرائیل کی آیت60میں اسلام کے فاتح عالم بن جانے کا خواب یعنی نصب العین اور شجرہ ملعونہ کی نشاندہی انہی حقائق کی بنیاد پرہے ۔ سورہ سجدہ کے مطابق موسیٰ ابوصا لح جنگی دوست سے ہزار سال پہلے انقلاب کی بنیاد پڑگئی۔
”واذا طلقتم”: ایھا المؤمنون ”النساء فبلغن”: بعد الطلاق ”اجلھن”: من العدة المفروضة المقدرة لاستبراء الرحم ”فلا تعضلوھن”: ای لاتحبسوھن ولا تعیروھن ان اردن ”ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بیھم بالمعروف”: کما یفعلہ الجھال من الحمیة الجاہلیة
جب عورت رجوع کیلئے راضی ہو تو تکمیل عدت کے بعد بھی حلالہ کے بغیر رجوع کی نہ صرف وضاحت ہے بلکہ انکے درمیان رکاوٹ کھڑی کرنا بھی منع ہے ۔پہلے جاہل غیرت کی وجہ سے یہ کام کرتے تھے اب جاہل فقہ کی وجہ سے کرتے ہیں۔
”وذٰلک”: التذکر و العظة المنزلة من عند اللہ ”یوعظ بہ من کان منکم یؤمن باللہ”: بجمیع ما انزلہ من الاحکام والمواعظ ”والیوم الاٰخر”: بجمیع ما فی من النکال والعذاب والحساب ولعقاب ”ذٰلکم”: ای الاحکام والمواعظ والاخلاق والآداب ”ازکیٰ لکم”: لتزکیةنفوسکم من الاھواء والارآراء الباطلہ ”واطھر”: لقلوبکم عن متابعتھا ”واللہ یعلم”: مصالح عبادہ ”وانتم لا تعلمونO” فعلیکم الامتثال والانقیاد علی وجہ التعبد ۔
سورةالبقرہ آیت232۔ تفسیر الجیلانی
ابن تیمیہ کی توحید، فقہی مسالک کو شرک اور مسئلہ طلاق کیلئے یہ کہنا زیادہ موزوں ہے کہ یہ سب سید عبدالقادر جیلانی کی تعلیم کا چرغہ ہے مگر روحانیت اور قرآن سے ہٹ کر گھوڑا دوڑایا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے سرکاری مذہب کو بدل دیا۔ اہل حدیث کے علامہ زبیر علی زئی نے بھی طلاق کے مسئلے میں یوٹرن لیا کیونکہ مسئلے کو جڑ سے نہیں پکڑاگیا ۔ پھر شافعی مسلک کے شیخ الاسلام ابن ملقن نے ابن تیمیہ کے بعد اپنے مسلک والوں کیلئے ایک اور تحفہ پیش کردیا کہ ”حیض میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے”۔ بالکل درست ہے کہ روزہ رکھنے کیلئے دن ہے رات نہیں لیکن پھر ایک دن میں3 روزے رکھنا کہاں کی عقل ہے؟۔ جب شافعی اور حنفی مسلک حلالہ کی لعنت کیخلاف ڈگمگانے لگے تو علامہ ابن حجر عسقلانی اور علامہ بدر الدین عینی نے صحیح بخاری کی اپنی اپنی شرمناک شرح لکھ کر پھر حلالہ کی لعنت کو سہارا دے دیا دلوں اور بے غیرتوں نے۔
امام بخاری نے حلالہ کی لعنت کو رائج کرنے کیلئے قرآن اور احادیث کی غلط تفسیر و تعبیر کی تو بخارا و سمرقند میں دفن نہیں ہونے دیا گیا ۔جس ویرانے میں تدفین ہوئی وہ خرتنگ کہلایا ۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ ” بخاری نے حضرت علی کا قول شیعہ پر رد کیلئے نقل کیا کہ رسول اللہ ۖ نے ”مابین الدفتین” دو گتے کے درمیان کے سوا کچھ نہیں چھوڑا کہ تم تحریف کے قائل ہو جبکہ تمہارا علی قائل نہ تھا ۔( کشف الباری )
اگر بخاری نے شیعہ کی ضد میں تحریف قرآن کے خلاف یہ روایت نقل کی تو بھی ”اھلاً و سھلاً مرحبا” لیکن حلالہ کے حق میں غلط احادیث اور قرآن کی آیت کو امام بخاری نے مسلک حنفی کے خلاف نقل کیا ہے۔ پھر حنفی نے اس کو کیوں قبول کیا ؟۔ ابراہیم نخعی ،امام ابوحنیفہ، امام محمد شیبابی عبداللہ بن عمر کے واقعہ پر 3طلاق سے رجوع کے قائل تھے۔( کتاب الاثار امام محمد)
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ اکتوبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ