عالم برزخ میں انبیاء ،صدیقین، شہداء اور صالحین نعمتوں میںہوں گے اور ظالم ، مشرک عذاب میں
جولائی 20, 2026
دنیا اور عالم برزخ کے درمیان ادنیٰ فرق سمجھنے کیلئے یہ ہے کہ جیسے ماں کے پیٹ کے اندر سے باہر نکلنے کی حقیقت ہے اور یہ قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ میں بالکل واضح ہے۔ گروپ کمانڈر کیپٹن عاصم طارق شہیدنے ایک لڑکی کو بچانے کیلئے اپنی جان دیدی۔ اللہ نے کہا کہ ”جس کو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے تو ان کو مردہ مت کہو ، بلکہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے”۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا اور انکے فرزند شاہ رفیع الدین نے اردولفظی اور شاہ عبدالقادر نے بامحاروہ ترجمہ کیا۔ باقی تراجم نقل ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی درجہ ثانیہ میں آخری پارہ عم پڑھتے وقت تفسیری عزیزی میں قبر کے عذاب کا انکار دیکھا تو قاری مفتاح نے کہا کہ مفتی ولی حسن ٹونکی کو پوچھ لو اور اس نے کہا کہ کیا تم پنج پیری ہو ؟۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے دوست حاجی عثمان کا مرید ہوں۔ تو کہا کہ پھر یہ نہ پوچھو!۔ پھر قاری مفتاح اللہ نے تفسیر کشاف کامشورہ دیا جو تفسیر کے امام معتزلی تھے۔عذاب قبر کا انکار ہو تو پھر لمبے عرصہ تک سوال جواب اور عذاب قبرکا خوف نہیں رہتا ۔
قرآن میں ایک تلی ہوئی مچھلی کو زندہ کرنے کے ذکر کرنا مقصد تھا۔ مفتی منیر شاکر شہید بہت مخلص تھے اور طلاق سے زیادہ عذاب قبر کا مسئلہ مان لیتے مگر افسوس موقع نہیں مل سکا۔
سورہ الحدید آیت16میں کافی مدت گزرنے پر بیدار ی کا وقت ہے اور آیت17میں اسلام کی نشاة ثانیہ ہے، آیت18میں مصدق صدیقین مردوں اور عورتوں کا ذکر ہے جو مکذب جھٹلانے والوں کے مقابلے میں ہیں۔ تراجم میں صدقہ دینے والے مراد لئے ہیں۔ اگلی آیت19میں صدیقین، شہداء اور مکذبین کی وضاحت ہے۔ آیت20میں دنیا کی زندگی کو لہو و لعب اور دھوکہ کے اسباب قرار دیا۔ آیت21میں برزخی جنت ہے جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی چوڑائی کے برابر ہے۔ جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لانے والوں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے، اللہ بڑے فضل والاہے۔ آیت22اور23میں مصیبت اور بڑے عالمی انقلاب کا لکھے جانے اور غم کھانے اور اترانے اور فخر سے منع کیا گیاہے۔
دنیا کی دو دو جنتوں کا ذکر سورہ سبا اور سورہ رحمن میں ہے
اور عالم برزخ کی ایک جنت کے مقابلے میں دنیا کی ساری جنتیں اور دوزخ بہت چھوٹی ہوں گی لیکن قرآن پر تدبر کرنا پڑے گا۔
ہم نماز میں رسول اللہ ۖ کو سلام کرتے ہیں۔
السلام علیکم ایھا النبی ورحمة اللہ برکاتہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا انیس الرحمن درخواستی شہید نے مشکوٰة شریف پڑھاتے وقت بتایا تھا کہ ”ملاعلی قاری نے مرقاة المفتاتیح میں لکھا ہے کہ رسول اللہۖ کو مخاطب کرکے سلام کریں۔استاذ جی فتویٰ کے بعد حاجی عثمان سے بیعت ہوگئے تھے۔ مولانا بدیع الزمان کو میرا پتہ چلا کہ فتویٰ فروشان اسلام کی مٹی پلید کردی تو پوچھا کہ وہی ہے جو چائے زیادہ پیتا تھا؟۔ پھر میں حاضر خدمت ہوا تھا اور بہت خوش ہوگئے۔ مرجع قدیم وجدید ضرور پڑھ لیں۔
قل ھو نبؤا عظیمO انتم عنہ معرضونO ما کان لی من علم بالملا الاعلٰی اذ یختصمون Oان یوحی الیّ الا انما انا نذیر مبینO
” کہہ دو کہ وہ بڑی خبر ہے۔ تم اس سے منہ پھیرتے ہو۔ مجھے علم نہ تھا کہ جب ملااعلیٰ جھگڑ تے ہیں۔ مجھے وحی کیا گیا مگر میں تو کھلا ڈرانے والا ہوں”۔ ( ص67تا70)
اس خبر عظیم کا ذکر سورہ النباء میں بھی ہے جس پر زمین کے لوگوں کا اختلاف ہے۔ آخر یہ کیا بڑی خبر ہے جس پر نہ صرف زمین والوں کا بلکہ ملا اعلیٰ میں جھگڑا ہے؟۔ جس طرح دنیا میں تمام مذاہب والے کہتے ہیں کہ ہم غالب آجائیں اور ہمارے ہاتھوں سے بڑا انقلاب برپا ہواور نجات دہندہ ہمارا ہو تو ملا اعلیٰ کے پیغمبربھی اپنے ماننے والوں سے فطری تعلق رکھتے ہیں۔ جس پر زمین اور ملا اعلیٰ میں اختلاف اور جھگڑاجاری رہتا ہے۔
انبیاء تبلیغ پر اجر نہیں مانگتے مگر قرابت کی موودة ،یہ اجر نہیں فطری ہے۔جیسے والدین اوربچوں کی ہے۔یہ جھگڑا عالم برزخ میں ہے اورعالم ارواح میں بھی ہوچکا ہے ۔یہودکو جرم پر سخت سزا دی گئی اور ہند نے کلیجہ چبایا تھا۔ موسی ہندکو زیادہ سخت سزا دیتے ۔ملا اعلیٰ میں بھی موودة فی القربیٰ ہے۔
قاری عبیدالرحمن یوسف اہل حدیث نے کہاہے کہ لاہور کے ایک خطیب نے معراج کا واقعہ سنایا اور اس میں امام غزالی کے حوالہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مناظرہ سنایا تو میں اس کے گھر پر گیا اور حوالہ پوچھا تو اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اپنے بچوں کو بھی میرے مدرسہ میں بھیج دیااور کہا منبر پر قرآن و حدیث کے حوالے کے بغیر کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل حدیث بھی اپنے مطلب کی احادیث مانتے ہیں اور تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم سے ایک ایسی آواز کی ضرورت ہے کہ قرآن و احادیث صحیحہ پر سب کا اتفاق ہوجائے اور ساری کی ساری غلط فہمیاں آپس میں دور کردی جائیں۔
رسول اللہ ۖ نے قیامت تک آنیوالے مستقبل کے کچھ واقعات بیان فرمائے ہیں یہاں تک کہ موجودہ ترقی یافتہ دور کا بھی ذکر ہے جس میں دور سے بیٹھ گھر کے حالات دیکھنے اور کسی آلہ کے ذریعے رکارڈ کرنے کا بھی ذکر ہے ۔اپنی ران کیساتھ بات کرنے کی ہم یہ توجیہ کرسکتے ہیں کہ ٹریفک پولیس کا خوف ہوتا ہے تو موبائل ڈرائیونگ کے وقت ران پر رکھتے ہیں۔
رسول اللہ ۖ کی حدیث میں عالم ارواح کا بھی ذکر ہے
جس میں ساری انسانیت اپنا اپنا ایک روحانی دور گزارچکی ہے اور وہاں کی دوستی اور دشمنی کے آثار یہاں بھی نمایاں ہیں اور یہ صرف ایک حدیث نہیں بلکہ قرآن میں عہدالست کا عالم ارواح سے بھی پہلے پشت در پشت نسلوں کا ذکر ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہاں جو کچھ برپا ہونے والا ہے چھوٹی اور بڑی تمام مصائب اور کامیابیاں پہلے سے واقع ہوچکی ہیں تاکہ تمہیں نہ افسوس ہو اور نہ اس پر اتراؤ اسلئے کہ اللہ شیخی بگارنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا ۔ سائنسی ترقی سے ماضی اور مستقبل کو دیکھنا اب ایسا مسئلہ نہیں رہاہے جو سمجھ میں نہ آئے۔
تمام مسلمانوں کی ایک عرصہ سے ایسی حالت رہی ہے کہ وہ طلاق کے حوالے سے بہت موٹی موٹی آیات کو بھی سمجھنے سے بالکل قاصر ہیں اور اگر تھوڑی توجہ کی جائے تو لوگ اپنی اس قسم کی حماقت پر شاید خود ہی کالک لیکر برسر منبر اپنے منہ پر مل دیں کہ ہم نالائق گدھوں نے اتنی موٹی موٹی باتوں کو نہیں سمجھا؟۔
آج کے دور میں ایک قانون ہے کہ پارٹی کا ایک منشور ہوتا ہے اور اس پر لوگوں سے ووٹ کے ذریعے حکومت لی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم مسلمانوں کیلئے دوسرے مذاہب کی گنجائش ہے یا نہیں؟۔ اس کا جواب ہم قرآن سے لیں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ دنیا میں ایک عظیم انقلاب کا منشور پیش کرنا بھی ضروری ہے اور لوگوں کو ایک پیکیج بھی دینا ضروری ہے۔
قرآن دنیا کے تمام انسانوں کو ایک ایسا منشور دیتاہے کہ جس میں تین قسم کی آبادیاں ہوں گی۔
ایک کرپٹ لوگ ہوں گے جن کیلئے خود کا ر نظام ہوگا اور ان کو معلوم کیا جائے گا کہ کتنی ناجائز دولت کمائی ہے اور اس کو انڈسٹریل آبادی میں دولت سمیت ڈال دیا جائے گا۔تاکہ اس کی دولت سے ملک و قوم کی ترقی کا سامان ہواور وہ بھی برزخ سے پہلے سختیاں جھیل کر گناہ بھی معاف کروائے، صحت بھی بنائے اور نیکیاں کمانے کا بھی موقع ملے تاکہ اس کی آخرت کی بہتری کا بندوبست ہوجائے۔ جس کا ذکر سورہ رحمن میں پہلے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں تیسرے نمبر پر تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سورہ الحاقہ اور سورہ ق، ص اور الزمر وغیرہ میں بھی وضاحت سے موجود ہے۔
دوسری آبادیVIPلوگوں کی ہوگی۔ جن میں ہر شہری کیلئے دنیا میں بہترین گھر ، باغیچے اور دنیا کی سہولیات کی تمام اشیاء کی فراہمی جس کا ذکر سورہ رحمان اور سورہ واقعہ میں دوسرے نمبر پر کیا گیا ہے۔ یہ عوام الناس کیلئے بہترین قسم کا ماڈل ہوگا۔
تیسری آبادیVVIPلوگوں کیلئے ہوگی جس کا ذکر سورہ رحمن میں تیسرے نمبر پر اور سورہ واقعہ میں پہلے نمبر پر ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس میں مذاہب اور قوموں اور ملکوں کے درمیان کوئی تعصبات کے مسائل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ جرائم پیشہ بھی اس تمام نظام سے عدل وانصاف کی وجہ سے خفا نہ ہوں گے۔
اس منشور کو عملی جامہ پہنانے میں دنیا اور ملا اعلیٰ میں سب کا اتفاق ہوگا۔قرآن سے عالمی انسانیت کیلئے ایک بڑا پیغام :
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہ فا حکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھواء ھم عما جاء ک من الحق لکل جعلنا منکم شرعةً و منھاجًا ولو شاء اللہ لجعلکم امةً واحدةً ولکن لیبلوکم فی ما اٰتا کم فستبقوا الخیرات الی اللہ مرجعکم جمیعًا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون O(سورة المائدہ آیت:48)
”اور ہم نے آپ کی طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی ہے جو تصدیق کرتی ہے ہاتھوں کے درمیان کتاب کی جو اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے ۔پس جو اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ان کے درمیان فیصلہ کرو۔اور ان کی خواہشات پر مت چلواسکے خلاف جو حق تیری طرف آیا ہے۔ ہر ایک کیلئے ہم نے شریعت اور طور طریقہ مقرر کیا ہے ۔ اگر ہم چاہتے تو تم سب کو ایک ہی امت بناتے۔لیکن اللہ تمہیں آزمائش میں ڈالتا ہے جو تمہیں اللہ نے دیا ہے ۔پس ایکدوسرے سے خیر کے کاموں میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو ۔تم سب کا ٹھکانہ اللہ کے پاس ہے پس وہ تم سب کوتنبیہ کرتا ہے جس میں تم اختلاف کرتے ہو”۔
یہود ونصاریٰ ، پارسی، بدھ مت ، سکھ ، ہندو اور دنیا کے تمام مذاہب کیلئے قرآن کی یہ آیت قابل قبول ہوگی کہ خدا نے سب کو اپنی اپنی جگہ پر اپنی اپنی شریعت اور طریقہ کار کے مطابق رکھا ہے اور مسلمانوں کے دماغ سے یہ بات نکل جائے کہ سب کو مسلمان بنانا ضروری ہے تو یہ خوش آئندہے۔ لیکن مسلمانوں کو یہ آیت کیسے ہضم ہوگی؟۔ لیکن جو آیت کو نہیں مانتا ہے تو پھر اس کو مسلمان کہا جائے گا یا کافر؟۔ پھر دوسرے مان جائیں گے اور مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ اس کے پہلے کافر تو مت بنو۔
اللہ نے تمام مذاہب کو باقی رکھ کر یہ پیغام دیا ہے کہ جس کو سبقت لے جانی ہے تو وہ خیر میں سبقت لے جائے۔ جبر و شر میں سبقت لے جانا بہت غلط ہے۔ مسلمانوں کو سمجھانے کیلئے یہ بات کافی ہے کہ اگر لوگ شیعہ مسلمان بنتے تو عاشورہ، جلوس اور ماتم سے دنیا کے لوگ تنگ آجاتے۔ بہت سارے شیعہ بھی ملحد بن گئے ہیں۔ اگر سنی مسلمان بنتے اور حلالہ کی لعنت میں دنیا پڑتی تو کہتے کہ سکھ ، ہندو، پارسی اور عیسائی ہی رہتے تو بہتر تھا۔ اللہ نے بہت منصوبہ بندی کیساتھ فرمایا دیا کہ یہ میری چاہت ہی نہیں ہے کہ سب ایک امت بن جائیں بلکہ ایک دوسرے کا اچھائی میں مقابلہ کرو اور جو اچھا ثابت ہوگا تو یہ طے شدہ بات ہے کہ زمین کی وراثت اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو ہی دینی ہے۔ یہود اور مسلمان سینہ زوری سے دنیا پر حکومت نہیں کرسکتے ہیں۔(پنجاب پر ہندو اور مسلمان کی جگہ سکھ حکومت بنی تھی)
ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر ان الارض یرثھا عبادی الصالحونOان فی ھذا لبلاغ لقومٍ عابدینOوماارسلنک الا رحمة للعالمینO
البتہ ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا: زمین کی وراثت میرے صالح (درست عمل والے) بندوں کو ملے گی۔بیشک اس میں پیغام ہے غلامی کرنیوالی قوم کیلئے اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہان والوں کیلئے رحمت”۔(الانبیائ:105تا107)
رسول اللہ ۖ رحمت للعالمین ہیں اور وہی بات حضرت داؤد علیہ السلام کے زبور میں لکھی ہے
قرآن اسی کی تائید کررہا ہے۔ یہ نصیحت ہو کہ اچھائی میں سبقت لے جاؤ تو پھر خدا خود اپنے بندوں کو زمین کا وارث بنادیتا ہے۔ آج حکمران تو عوام سے بھی چھپ کر رہتے ہیں اور دوسروں سے بھی خوف ہے۔
یا ایھا النبی حرض المؤمنین علی القتال ان یکن منکم عشرون صابرون یغلبوا مائتین وان یکن منکم مائة یغلبوا الفًا من الذین کفروا بانھم قوم لایفقھون O
”اے نبی ! لوگوں کو جہاد پر ابھارو ، اگر تم میں بیس آدمی ثابت قدم رہے تو دو سو پر غالب آجائیں گے اور تم میں سو ہوں گے تو ہزار پر غالب آجائیں گے ان لوگوں میں سے جو کافر ہیں اسلئے کہ یہ قوم سمجھتے نہیں ہیں”۔ (انفال:65)
1965ء میں بھارت نے جنگ مسلط کی تو پاکستان کے ایئرفورس، نیوی اور ملٹری نے کمال کردیا تھا
اور نصیراللہ بابر غلطی سے بھارت میں اتر کر بھی بڑی تعداد میں کم عقل دشمن فوج کو گرفتا ر کرکے لایا تھا۔ پاکستان سے بھارت کئی گنا بڑے ہونے کے گھمنڈ میں لاہور کے اندر دو پہر کا کھانا کھانے کی وہ تیاری کرکے آئے تھے مگر ناکام ہوگئے۔1964ء میں عائلی قوانین میں تبدیلی کرکے قرآن کے مطابق ایک3ماہ کا فریم ورک طلاق کیلئے تیار ہوا لیکن مدارس اور عدالتوں میں اس پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ پھر قدرت نے معاملہ بالکل الٹا کردیا اور بھارت کے10ہزار فوجیوں نے ہمارے لاکھ بندے پکڑے اور تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کی فضاؤں میں پھر حلالہ کی لعنت کی ایک فضا چلی تو اللہ نے اس پر حملہ اور بھارت کو بدتر شکست سے دوچار کردیا اور جب جسٹس عائشہ ملک نے حلالہ کے خلاف پہلا فیصلہ دے دیا تو پھر اللہ نے عالمی جنگ رکوانے میں پاکستان کو بہت بڑا اعزاز بخشا۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ ہندو کے ویدوں میں وہی ہے جو قرآن میں ہے۔ شاعرہ لتا حیا کہتی ہیں کہ جو نوح پر نازل ہوا قرآن وہی تو ہے۔ہندو ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں اور انسان ظاہر یا باطن میں اللہ کا خلیفہ بنتا ہے تو اس کو بھگوان کہتے ہیں۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے مولانا قاسم نانوتوی کی سوانح میں عورت کا قصہ لکھا جس کا بیٹا بند تھا اور وہ چرواہا کے پاس گیا۔
سورہ المائدہ کی آیت48میں اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ سب کو اپنی اپنی شریعت کے مطابق چلنے کا حق ہے۔ مسئلہ طلاق کو جس طرح شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، غامدی اور انجینئر محمد علی مرزا نے بگاڑدیا ہے اس سے مودی جیسا خر دماغ بھی لاکھ درجہ بہتر ہے اور قرآن کی آیت کا یہی مقصد ہے کہ جس نے بھی اپنی کتاب کے مطابق سبقت حاصل کرلی تو وہ دنیا اور آخرت میں سبقت لے جائیگا۔ امت مسلمہ پر سب کو متحد کیا جاتا تو یہ سب کا بیڑہ غرق کرنے کے مترادف تھا۔ اسلئے اللہ نے امت واحدہ سب کو بنانے کے خلاف قرآن میں فیصلہ جاری کردیا۔
ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا و الصابئون والنصاریٰ من اٰمن باللہ وا لیوم الاٰخر و عمل صالحًا فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون O
” بیشک جو مسلمان ہیں، جو لوگ یہودی ، ہندو غیرہ ہیں جو عیسائی ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور آخرت کے دن پر اور درست عمل کریں تو ان پر نہ خوف ہوگاتو وہ غمین ہوں گے”۔(المائدہ:69)
حضرت نوح کے پوتوں کا نام ہند اور سندھ تھا۔
ویدوں پر عمل نہیں کیا تو محکوم رہے۔ عیسائیوں نے طلاق کے مسئلے پر عمل کیا تو ان کو عروج مل گیا اور مسلمان حلالہ کی لعنت میں لگ گئے تو شکست کھائی۔ سورہ الحدید اور سورہ بنی اسرائیل کے مطابق مسلمانوں نے یہود ونصاریٰ پر فتح حاصل کرنی ہے۔ جب عیسائیوں کو عروج ملتا ہے تو اچھائی کی وجہ سے ملتا ہے اور زوال برائی کی وجہ سے ملتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا روحانی فیض ان کو حاصل ہوتا ہے۔ جب مسلمان ان سے اچھے بچے بن جائیں گے اور عیسائی ہاتھ میں آجائیں گے تو اس کا مکالمہ قرآن کی زبان میں اللہ نے کیا بتایا ہے؟۔ چنانچہ فرمایا:
واذ قال اللہ یا عیسٰی ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی و اُمی الٰھین من دون اللہ قال سبحٰنک مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق ان کنت قلتہ فقد علمتہ تعلمہ ما فی نفسی ولا اعلم ما فی نفسک انک انت علام الغیوبO ما قلت لھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدو اللہ ربی و ربکم و کنت علیھم شھیدًا ما دمت فیھم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم و انت علیٰ کل شی ئٍ شھیدOان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفر لھم فانک انت العزیز الحکیمO (المائدہ116تا118)
یہ مکالمہ معراج کی رات، قیصر روم کے فتح کے دور میں اور بیت المقدس کے فتح کے وقت عالم اعلیٰ میں ہوتا رہاہے اور اس کا معاملہ آئندہ بھی عیسائیوں کو شکست دیتے وقت چلے گا۔
ثم رددنا لکم الکرة علیھم وامددناکم باموالٍ و بنین و جعلناکم اکثر نفیرًاOان احسنتم احسنتم لانفسکم وان اساتم فلھا فاذا جاء وعد الاٰخرة لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرةٍ و لیتبروا ما علوا تتبیرًاOعسٰی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا و جلعلنا جھنم للکا فرین حصیرًاOان ھٰذا لقراٰن یھدی للتی ھی اقوم و یبشر المؤمنین الذین یعملون الصالحات ان لھم اجرًا کبیرًاO(سورہ بنی اسرائیل آیت6تا9)
”پھر ہم نے بال تمہارے کورٹ میں پھینک دی اور تمہاری مدد کی اموال اور اولاد کے ساتھ اور تمہیں آبادی کے لحاظ سے بڑی اکثریت دیدی۔ پس اگر تم نے بھلائی کی تو اپنے لئے کی اور برائی کی تو جس نے کی اس پر پڑے گی۔جب آخری وعدہ آئے گاتاکہ تمہارے چہرے سیاہ کردئیے جائیں اور وہ مسجد میں داخل ہوں جیسے پہلے داخل ہوئے تھے ۔تاکہ باطل نظام کی اعلیٰ سطح پر تباہی پھر جائے۔ ہوسکتا ہے کہ تم پر اللہ رحم کرے اور اگر تم پھر لوٹ گئے تو ہم بھی مڑ کر آئیں گے۔ بیشک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے جس کا سب سے زیادہ ٹھیک راستہ ہے اور ان مؤموں کو بشارت دیتا ہے جن کے اعمال درست ہوں۔ بیشک ان کے لئے بہت بڑا بدلہ بھی ہے”۔
سورہ النباء میں عظیم خبر اور یوم الفصل کا میقات انقلاب ہے۔جو فتح مکہ کے وقت برپا ہوا اور اب پھر برپا ہوگا۔ سورہ النباء آیت21تا30تک عالم برزخ کا عذاب مراد ہے۔ ایک حقب80سال کا ہے اور ابوجہل وابولہب احقاب سے برزخی عذاب میں ہیںاور ان کی غذا پپپ ہے۔جب رسول اللہ ۖ کی ولادت ہوئی تو ابولہب نے اس کی خوشخبری دینے والی لونڈی کو آزاد کردیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جس انگلی کے اشارے سے آزاد کی تھی تو اس انگلی سے پیر کے دن ابولہب کو راحت پہنچتی ہے۔ ایک طبقہ عذاب قبر کا منکر پیدا ہوگیا۔
جس طرح سورج کی روشنی سے عالم شمسی کو فیض ملتا ہے اور اس میں سورج کا اختیار نہیں بلکہ فیض اٹھانے والے پر ہے کہ وہ شاہین بنتا ہے یا چمگادڑ؟۔ اللہ نے فرمایا:
قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب ولا اقول لکم انی ملک ان اتبع الا ما یوحٰی الیّ قل ھل یستوی الاعمی و البصیرافلا تتفکرونO(الانعام:50)
”اے رسول ! کہہ دو کہ میں تمہیںنہیں کہتاکہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں کہتا ہوں کہ بیشک میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف وحی کی اتباع کرتا ہوں جو میری طرف ہوتی ہے کہہ دو کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہوسکتے ہیں۔ تو تم سوچتے کیوں نہیں ہو”۔
عرب کے دورِ جاہلیت میں لوگوں کے دل و دماغ میں اس کا امکان نہیں نظر آرہاتھا کہ رسول اللہ ۖ کے ذریعے بہت بڑا انقلاب آئے گا جو عرب کی خصلتوں کو بدل کر رکھ دے گا اور دنیا کی سپر طاقتوں قیصرروم اور کسریٰ فارس کو شکست دی جائے گی لیکن ایمان والوں نے سب کچھ کر کے دکھا دیا ہے۔ تاریخ بدل گئی تھی اور1924ء تک خلافت عثمانیہ کے باقیات تھے۔
آج دنیا گلوبل ویلج ہے اور اگر قرآن کا منشور پیش کردیا تو روس، چین، یورپ ، امریکہ ، آسٹریلیا ،جاپان ، بھارت ، کوریا اور مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی ساری دنیا اس پر بہت جلد متفق ہوسکتی ہے اسلئے کہ آج زمین کو امن وسلامتی کی سخت ضرورت ہے۔ بے راہ روی سے بچانا لازم ہے۔ معیشت کی بہتری بہت ضروری ہے۔ دنیا کو جنگ کے ماحول سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ زمین کو آلودگیوں سے بچانے کیلئے ساری دنیا کو مشترکہ نظام کی ضرورت ہے۔ مذہبی رحجانات کو بہت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خاندانی نظام کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ قدرتی آفات، موسمیاتی تبدیلی اور زلزلے ، سمندری طوفان اور ہرطرح کے معاملات کو اچھے انداز سے کرنے کیلئے سب کو ایک جگہ کام کرنا ہوگا اور جب قرآن و سنت کے ذریعے سے ہوگا تو پھر سارے مسلمان رضا کار بن کر پوری دنیا کی خدمت کریں گے۔ جب سارے مذاہب کے لوگ میرٹ پر بھرتی ہوں گے تو سرکاری ملازمین کو ”درجہ اعراف” حاصل ہوگا۔سورہ اعراف کا تعلق بھی آخرت سے نہیں دنیا کے عظیم انقلاب سے ہے جہاں بروں کو سزا اور اچھے لوگوں کو انعام ملنے پر وہ خوش ہوںگے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کیلئے اور ان کی عبادت گاہوں کیلئے بہت احترام کا درجہ حاصل ہے۔ یہود ونصاریٰ کی تاریخ میں ہمیشہ دشمنی رہی ہے اور پہلی بار ان کو اقتدار اور کاروبار کیلئے اکٹھا ہونا پڑا ہے۔ مسلمان تو یہودی اور عیسائی بیگمات کو اپنے بچوں کی مائیں بناتے تھے لیکن افسوس کہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا وہ مذہبی طبقات نے ختم کیا۔
جب دنیا میں اسلامی خلافت کا آغاز ہوجائے تو یہ بہت بڑا زلزلہ ہوگا
جس کی گونج آسمانوں تک پہنچے گی اور بڑے بڑے پیغمبر اور جلیل القدر رسول بھی پریشان ہوں گے کہ مسلمان اب ان کے پیروکاروں کی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیویوں کو پھر سے لونڈی بنانا شروع کردیںگے؟ لیکن یہ بنوامیہ، بنوعباس، خاندان غلاماں اور سلطنت عثمانیہ و مغل حکومت کی طرح نہیں ہوں گے اور نہ فاطمی خلافت کی طرح بلکہ نبیۖ کی سنت ہی کو زندہ کریںگے۔ یہود نے جو ظلم مسلمانوں کے ساتھ کیا تھا اس کی سزا نبیۖ نے نہیں دی تھی بلکہ یہود نے جس مسلمان کو اپنا فیصل بنایا تھا انہوں نے خدا کی قدرت سے سخت سزا دی تھی۔
جہاں تک ملا اعلی کے جھگڑے کا تعلق ہے تو اس سے رسول ہی مراد ہیں جن کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ
یا ایھا الرسل کلوا من الطیبات واعملوا صالحًا انی بما تعملون علیمOوان ھذہ امتکم امة واحدة وانا ربکم فاتقونOفتقطعوا امرھم بینھم زبرًا کل حزب بما لدیھم فرحونOفذرھم فی غمرتھم حتی حینٍOایحسبون انما نمدھم بہ من مالٍ و بنین Oنسارع لھم فی الخیرات بل لایشعرونO
ترجمہ :” اے رسولو! طیبات میں سے کھاؤ اور درست کام کرو ۔ بیشک میں جانتا ہوں جو تم کرتے ہو۔ اور بیشک یہ امت تمہاری ایک مشترکہ امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو۔ پس انہوں نے اپنے کام کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا ہر گروہ کے پاس جو ہے اس پر خوش ہیں۔ پس ایک انقلاب کی آمد تک ان کو چھوڑ دو۔کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں مال اور اولاد سے ترقی دے رہے ہیں۔ہم انہیں فوائد جاری کررہے ہیں بلکہ یہ شعور نہیں رکھتے”۔ (سورہ المؤمنون آیات51تا56)
رسولوں کا اجتماع تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
قرآن نے بتایا کہ عالم بالا میں بھی ان کو روزی ملتی ہے۔جب عالمی خلافت کا عالم بالا میں فیصلہ ہوگا تو ان کو مخاطب کیا جائے گا کہ یہ ساری کی ساری امت بھی ایک ہے اور زمین کے ٹکڑے اور مذاہب کی تقسیم بھی انہوں نے خود کی ہے اسلئے اس پر راضی ہوجائیں۔
جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور مرکز جمعیت علماء اسلام کے بانی دارالعلوم دیوبند کے فاضل مولانا سید محمد میاںنے اپنی مقبول ترین کتاب ”علماء ہند کا شاندار ماضی ” میں لکھا ہے کہ
” شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی کو سب مشائخ اپنی خلافت دینا چاہتے تھے اور رسول اللہ ۖ نے پھر فیصلہ کیا کہ سب اپنی اپنی خلافت دو لیکن کام نقشبندیہ کیلئے کرے گا”۔ مولانا عبدالحق محدث دہلوی نے اپنی کتاب ”اخبار الاخیار” میں لکھا ہے جس کا ترجمہ مفتی تقی عثمانی کے استاذ شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی نے کیا: ”جب سید عبدالقادر جیلانی اپنی مجلس کرتے تو تمام انبیاء کرام اور اولیاء عظام موجود ہوتے تھے اور نبی اکرم ۖ بھی آپ کی تعلیم وتربیت کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے”۔ جب میں نے حوالہ دئیے بغیر روحانیت کی اندھیر نگری میں رہنے والے اکابرمفتیان سے فتویٰ لیا تو کفر و زندقہ اور قادیانیت کے فتوے لگائے گئے۔ یہی ایک عبارت دارالعلوم کراچی کی تھی اسلئے انہوں نے دستخط نہیں کئے لیکن دوسروں کو بھی حقائق سے آگاہ نہیں کیا اورجب ہم نے فتویٰ چھاپنے کا پروگرام بنایا تو مولانا سبحان محمود نے نام مولاناسحبان محمود میں تبدیل کیا۔ جیسے آخری وقت میں ہندو سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوا ہواور یہ جہالت کی بھی دلیل تھی کہ اپنے نام کا پتہ نہ چلے مگر دوسروں کو حلالہ کے فتوے جاری کررہے ہیں؟۔ اور اصل بات یہ خوف کہ سعودی عرب کو پتہ چل گیا تو مشکلات کھڑی ہوں گی اور اس وقت ایک عربی مصری عالم سے ہم معاملات کا ترجمہ بھی کروارہے تھے اور مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ بکرے کو لٹایا ہے چھرا پھیر دو ، ٹانگیں ہلائیں تو ہم بھی پکڑلیں گے۔ لیکن ہم نے نہ فتویٰ چھاپا اور نہ سعودی عرب میں ان کو خراب کیا۔
رسول اللہ ۖ کی رحمت للعالمینی تعصبات سے نہیں چلتی بلکہ قرآن نے سب کیلئے زبردست درست اعمال اور بندگی کا معیار مقر ر کردیا اور یہ پہلے سے کتابوں میں بالکل واضح ہے۔
اور انبیاء کرام و صحابہ عظام کی ارواح کو روزی ملتی ہے۔ رحمة للعالمین ۖ بیت المقدس میں انبیاء کرام کے امام بن گئے اور معراج میں انبیاء سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔سب ہی انبیاء اور اچھے لوگوں کا فیض میرٹ کی بنیاد پر پہنچتا ہے لیکن ان سب کا اپنے اپنے سے وابستہ لوگوں سے پیار بھی قائم ہے۔
یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذا اجبتم قالوا لا علم لنا انک انت علام غیوب O
” جس دن اللہ تمام رسولوں کو جع کرے گا کہ تمہاراکیا جواب ہے؟۔ وہ کہیں گے کہ ہمیں علم نہیں ، تو ہی غیب کو خوب جانتا ہے”۔( المائدہ:109 )
قبر میں رسول اللہ ۖ کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ وماتقول فی ھذا الرجل ”اور اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہو؟”۔ (صحیح بخاری)تمام انبیاء کرام کی خدمت میں ان کی قومیں پیش ہوں گی۔ رسول اللہ ۖ نے تو مشرکین مکہ اور یہود مدینہ کیساتھ بھی صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تھا۔
یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ واللہ یعصمک من الناس ان اللہ لا یھدی القوم الکافرینOقل یا اہل الکتاب لستم علی شی ئٍ حتی تقیموا التوراة والانجیل و ما انزل الیکم من ربکم ولیزیدن کثیرًا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانًا و کفرًا فلا تاس علی القوم الکافرینO(سورہ المائدہ :67،68)
”اے رسول ! پہنچادے جو تیری طرف سے تیرے رب نے نازل کیا ہے اور اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو رسالت کو نہیں پہنچایا۔اور اللہ آپ کو لوگوں سے تحفظ دے گا۔بیشک اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو یہاں تک کہ قائم کرو توراة اور انجیل کو اور جو نازل کیا ہے اللہ نے تمہاری طرف اور ضرور بڑھائے گا بہت ساروں کو ان میں سے کفراور سرکشی کے اندرجو تیری طرف نازل کیا سے توآپ کفر کرنے والی قوم پر افسوس نہیںکریں ”۔
قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمةٍ سوائٍ بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئًا ولا یتخذ بعضنا بعضًا اربابًا من دون اللہ فان تولوا فقولوا شھدوا بانا مسلمونO ( آل عمران:64)
”کہہ دو کہ اے اہل کتاب آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم غلامی نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی چیزکو شریک نہ کریں اور ہم ایک دوسرے میں سے بعض بعض کو رب نہیں بنائیں”۔
آج یہود ونصاریٰ کے نقش قدم پر مسلمانوں کا مذہبی طبقہ حلال و حرام قرار دینے میں رب بنادیا گیا ۔ قرآنی آیات میں واضح ہے کہ تمام ادیان میں مشترکات تین ہیں۔ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرنی، اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا ہے اور آپس میں ایک دوسرے کو رب نہیں بنانا ہے۔
ان دین عنداللہ اسلام
کا مطلب نام کا مسلمان ہونا نہیں ہے۔اگر ہندو، سکھ ، عیسائی ، یہودی، مجوسی، پارسی ، بدھ مت اور کسی بھی مذہبی طبقے کا عقیدہ اور عمل اپنی جگہ درست ہے تو وہ مؤمن بھی ہے اور مسلمان بھی لیکن جب مسلمان خدا کے کلام سے منحرف ہوجائے اور انکار کرے تو وہ کافر ہے۔ کیونکہ دین کی اصل خدا کے احکام کو دل سے تسلیم کرنا ہے۔
قالت الاعراب اٰمنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا و لما یدخل الایمان فی قلوبکم (الحجرات:14)
”دیہاتی بولے کہ ہم ایمان لائے۔کہہ دو کہ تم ایمان نہ لائے مگر کہو کہ ہم اسلام لائے ،جب تک تمہارے دلوںمیں ایمان داخل ہوجائے” ۔
ومن الاعراب من یؤمن باللہ وا لیوم الاٰخر و یتخذماینفق قربٰتٍ عنداللہ وصلوٰت الرسول الا انھا قربة لھم سیدخلھم اللہ فی رحمتہ ان اللہ غفور رحیم
”اور کچھ دیہاتی وہ ہیں جو اللہ اورآخرت کے دن پر ایمان لائے۔ جو خرچ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی نزدیکیوں اور رسول کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، بیشک اللہ غفور رحیم ہے”۔ (التوبہ:99)
وممن حولکم من الاعراب منٰفقون ومن اہل المدینة مردوا علی النفاق لاتعلمھم نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذابٍ عظیمٍ
”اور اردگرد کے دیہاتیوں میں منافق ہیں اور اہل مدینہ میں کچھ نفاق پر اڑ گئے۔آپ ان کو نہیں جانتے ،ہم جانتے ہیں ان کو عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے۔پھر ان کو عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جائے گا”۔ (التوبہ:101)
رحمت للعالمینۖ23سالہ بعثت تک محدود نہیں ۔
جب قاری محمد طیب نے تکلیف اٹھانے کے بعد نعت پڑھی جسے علماء دیوبند کے اکابر نے آنکھوں کے آنسوؤں کیساتھ سنا تو شرک کے فتوے لگانے والے کہاں گئے؟۔ آفرینش عالم سے پہلے نور نبوتۖ کی رحمت للعالمینی کا سراج منیر بالکل حق ہے۔
” بیشک آپ میت ہو اور وہ سب میت ہیں”۔ کا مطلب برزخی زندگی نہیں بلکہ دنیا کی زندگی ہے۔ احمق اور گمراہ طبقہ اس سے برزخ کی حیات کا انکار ثابت کرتاہے، اللہ نے فرمایا:
وما ھذہ الحیٰوة الدنیا الا لھو ولعب وان الدار الاٰخرة لھی الحیوان لو کانوا یعملونO(عنکبوت:64)
”اور یہ دنیا کی زندگی کیا ہے مگر فالتو اور کھیل ، بیشک آخرت کا گھر وہی تو اصل زندگی ہے ۔کیا اچھا تھا کہ یہ لوگ جانتے”۔
تبارک الذی خلق الموت والحیاة ۔
اس زندگی کا ہر لمحہ موت اور پھر اصل زندگی عالم برزخ سے شروع ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا :
واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالًا و علی کل ضامر یاتین من کل فجٍ عمیقٍ O ……………ولیطوفوا بالبیت العتیقO
ترجمہ :” اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے ۔تیرے پاس لوگ آئیں گے پیدل اور پتلے دبلے اونٹوں پر دور دراز کی ہر راہ سے آئیں، تاکہ اپنے فائدے کیلئے حاضر ہوں اور جو جانور اللہ نے انہیں دئیے ہیں اللہ کا نام یاد کرکے (قربانی) کریں۔ پھر ان میں سے خود بھی کھاؤاور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ،پھر چاہیے کہ اپنا میل کچیل بھی دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور قدیم گھر کا طواف کریں”۔( سورہ الحج آیت27،28،29)
یہ دنیا میں بغیرٹاور کے سنگنل پہنچانے کی دلیل ہے۔
جب ہمارے گھر پر2007ء میں دہشت گردوں نے13افراد کو شہید کیا تو کانیگرم کے برکی نے خواب دیکھا کہ” میرے والد پیر مقیم شاہ ہنگامی حالت میں ہیں اور بتایا کہ شہداء آرہے ہیں ان کیلئے تیاری کررہاہوں”۔علماء حق کی ارواح خوش ہوں گی کہ ہمارے سلسلے کے شاگرد نے کام کردکھایا ہے۔ انشاء اللہ
مولاناقاضی فضل اللہ ایڈوکیٹ سابقMNAچھوٹا لاہور صوابی حال مقیم امریکہ نے کہا کہ ”مجھے اور مولانا فضل الرحمن کو مولاناعبداللہ درخواستی کے نواسے مولانا شفیق الرحمن درخواستی نے اپنے مدرسہ جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور میں بلایا تھا تو ہم وہاں قریب اپنے بزرگوں کے قبرستان کی زیارت کرنے دین پور بھی گئے جہاں خلیفہ غلام محمد ، مولانا عبدالہادی اور مولانا عبید اللہ سندھی کی قبریں ہیں۔ فاتحہ پڑھی تو مولانافضل الرحمن نے کہا کہ ”مجھے مولانا عبیداللہ سندھی کے افکار و عقائد سے تھوڑی کراہت ہے ”۔ میں نے کہا کہ چلو مراقبہ کرتے ہیں جب ہم نے مراقبہ کیا تو مولانا فضل الرحمن رونے لگے اور کہا کہ” یہ تو بہت ہی بڑے مرتبے کی شخصیت ہیں”۔تفردات پر لوگوں کو اگر کافر قرار دینا شروع کیا تو کوئی مسلمان نہیں رہے گا۔ سندھی کی شخصیت انقلابی تھی جس کسی نے کہا کہ امام مہدی اور عیسیٰ علیہ اسلام نے انقلاب لانا ہے تو جذباتی ہوکر کہا کہ یہ کام انہوں نے نہیں کرنا ہم نے خود کرنا ہے تاکہ لوگ انتظار میں نہ رہیں مگر پھر ان کی اس بات کو پکڑ انہیں خوب بدنام کردیا گیا تھا”۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ جب قرآن کی آیات سے عقائد اور مسائل میں پختگی مل جائے تو اختلافات بھی رفع ہوجاتے ہیں اور جاہلوں کا مقابلہ پہلے موجودہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے نہیں کیا جاسکتا تھا لیکن آج بہت زیادہ معاملہ آسان ہوگیاہے اور قرآن سے تعلق نہ ہونے کی وجہ سے عقائد خراب ہوگئے۔
قرآن میں معجزات ہیں اور معجزات کا عقیدہ شرک نہیں ہے لیکن بزرگوں کی کرامات کو سچ یا جھوٹ سمجھنے سے عقائد کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن شرک قرار دینے سے قرآن پر زد پڑے گی اور ماننے سے بہروپیہ طبقات بھی بہت فائدہ اٹھائیں گے۔
قرآن کی محکم آیات کو بھی اختلافات کی نذر کردیا گیا ہے اور مشتابہات کا تو تعلق ہی ترقی یافتہ ادوار سے ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ”زمانہ قرآن کی تفسیر کرے گا”۔
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:
”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف دیتا ہے ، وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ زمانہ میں خود ہوں۔ سب تبدیلیاں میرے قبضہ میں ہیں اور شب وروز کی گردش میرے حکم سے ہے”۔
الرحمٰن Oعلم القراٰن O
” رحمن نے قرآن سکھایا۔ (سورہ رحمان) قرآن ایک آئینہ ہے اور جب زمانہ ترقی کرتا ہے تو متشابہ آیات کی مشابہ چیزیں دنیا میں آتی ہیں اور اللہ اس کی تفسیر بھی انسان کو زمانے میں سمجھا دیتا ہے۔
قرآن میں سورج، چاند اور زمین وغیرہ کے اپنے مدار میں گھومنے کا ذکر14سوسال پہلے تھا لیکن چاند اور سورج گرہن کا اب پہلے سے پتہ چل جانا دراصل قرآن کی تصدیق ہے لیکن اگر ہمارے دعوت اسلامی کا تعلیم یافتہ طبقہ نہیں مانتا ہے تو یہ ان کے مذہب کا نہیں روزی کا مسئلہ ہے۔ ساری دنیا کو تبلیغی بنادو یا دعوت اسلامی میں شامل کردو تو یہود و نصاریٰ کا کم عقل طبقہ اپنا مذہب چھوڑ کر ان کے پاس آتا ہے اور ویڈیوز سے پتہ چلتاہے کہ اسلام قبول کرکے مفادات حاصل کرنا بھی تجارت ہے۔
محمد علی دوبارہ آیوش ملک بن گیا لیکن کسی نے بھی مرتد اور واجب القتل کا فتویٰ جاری نہیں کیااسلئے کہ نتائج کا پتہ ہے۔ رسول اللہ ۖ کے خلاف گستاخانہ کتاب1923میں لاہور کے ایک ہندو دکاندار نے لکھی ۔ مسلمانوں نے بڑا احتجاج کیا اور انگریز نے گرفتار کرنے کے بعد چھوڑا ۔پھر تانگے وال کے بچے غازی علم الدین شہید نے1829ء میںقتل کیا اور مذہبی جماعتوں کے کارکن، مدارس کے طالب علم اور خانقاہوں کے مریدوں نے یہ کام نہیں کیا ۔ آیوش ملک کو چاہیے کہ ویدوں کو پڑھ کر پورے ہندوستان کو شرک سے بچائیں اور ہم اپنے جاہل مسلمانوں کو تعلیم دیکر حقیقی معنوں میں مسلمان بنائیں۔
قسمت کی بات ہے کہ ابولہب نے ایک انگلی کے اشارے سے لونڈی نبیۖ کی پیدائش پر آزاد کردی تو پیر کے دن اس کو بخاری کے مطابق سپلائی ہوتی ہے اور ابوطالب نے ساری کی ساری زندگی لگادی اور جہنم کے نچلے طبقے میں منافق کی طرح پہنچ گیا اسلئے کہ علی کا باپ تھا اور حجاج بن یوسف علی کو بھی جہنمی قرار دیتا تھا اور آج میں علی کا بیٹا ہوں اور یہی میرا قصورہے؟۔
ہمارے ضلع ٹانک کی تمام مذہبی جماعتوں کے امیروں نے مجھ پر کھل کر تحریر اور تقریر میں اعتماد کا اظہار کیا اور صوبائی سطح اور ملکی سطح پر تمام مکاتب کے بڑوں نے تائید کی لیکن پھر بھی مجھ پر فتوے؟۔کوئی ابوطالب کا کافر کہتا ہے تو خیر ہے اور یزید کا بھی احترام کرتا ہے تو مسئلہ نہیں لیکن قرآن کی طرف جس دن آگئے تو تاریخ اور حقائق سب تشت از بام ہوجائیں گے۔ انشاء اللہ
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ