پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
اگست 4, 2026
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف ،
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
اور ان دونوں سے مو دبانہ گزارشات :سید عتیق الرحمن گیلانی
پیر طریقت ڈاکٹر فدا محمد خلیفہ مولانا اشرف
حضرت مولانا اشرف صاحب سلیمانی کا واقعہ
(ڈاکٹر فدا محمد صاحب دامت برکاتہم)
پروفیسر ڈاکٹر خان بہادر وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی نے کہا کہ سالِ اول کے طالب علم سرفراز چند دن میڈیکل کالج میں گزارنے کے بعد ہمارے شیخ و مربی مولانا محمد اشرف (سابق پروفیسر و صدر شعبہ عربی پشاور یونیورسٹی) سے ملنے کیلئے آیا۔ برخوردار تبلیغی دینی لحاظ سے فکر مند تھا، ملتے ہی کہا، ”حضرت میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑنا چاہتا ہوں یہاں کا مخلوط ماحول اور بے دین فضا مجھے بالکل پسند نہیں”۔ فرمایا ”بھلے آدمی!لڑکیاں تو نہیں بھاگ رہیں تو مرد ہو کر ہتھیار ڈال رہا ہے۔ یہ تعلیم چھوڑ کر کرو گے کیا؟”اس نے کہاکہ دینی مدرسے جانا چاہتا ہوں۔ فرمایا دیکھو علما ء بہت ہیں علما ء کے خادم کم ہیں۔ تم ڈاکٹر بن کر علما ء کا خادم بنو۔ ڈاکٹر بنا، حضرت کی صحبت کا نتیجہ کہ عملی لحاظ سے کئی علما ء کیلئے قابلِ رشک بنا اور واقعی علماء کا ایسا خادم بنا کہ جہاں بھی رہا وہاں کے علماء کی خوب خدمت کی۔ ایک حادثے میں شہادت ہوگئی لیکن آج تک ان کی خدمات دوست احباب اور علمائے کرام کے حلقوں میں یادگار ہیں۔ ہمارے حضرت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے مریدوں کو دنیا کے کاموں میں ایسا چلاتے تھے کہ اس دنیا کو دین اور عبادت بنا دیتے تھے۔
تمنا دردِ دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
مسلک صاحبِ فتاوی
صاحبِ فتاوی مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر طعن نہیں کرتے
احقر العباد بندہ رشید احمد گنگوہی عفا اللہ تعالی عنہ بخدمت اربابِ فہم و دیانت عرض کرتا ہے کہ بندہ کا مذہب حسب مسلکِ حق جملہ حق و دین یہ ہے کہ جس مسئلہ میں صحابہ و مجتہدین علیہم الرحمة کا اختلاف ہو تو اس میں جس جانب کو اپنی تحقیق سے یا تقلید کسی مجتہد اہل حق سے راجح سمجھے اس پر عمل درآمد رکھے اور دوسری جانب پربھی بے جا کوئی طعن و تشنیع نہ کرے۔ عند الضرورت اس پر بھی عمل کر لے۔ اسی وجہ سے یہ بندہ عاجز حنفی المذہب ہے کسی اہل مذہب پر طعن نہیں کرتا اور نہ اپنے مذہب کی خواہ مخواہ ترجیح کے درپے ہوتا ہے مگر عندالضرورت جہاں کچھ رفعِ فساد یا اصلاح متصور ہوتی ہے تو اس مسئلہ میں کچھ لکھ دیتا ہے۔فقط کتبہ الاحقر بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ
تبصرہ: سید عتیق الرحمن گیلانی
جب1982میں رائیونڈ کے اندر حاجی عبدالوہاب سے میں نے مشورے کا کہا تو فرمایا کہ ”بھائی مجھ سے مشورہ نہیں لینا”۔ کانیگرم کے مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ جماعت میں تشکیل کریں ۔ مولانا شاہ حسین محسود نے کہا کہ نیوٹاؤن کراچی میں داخلہ لیں۔ دارالعلوم کراچی میں انڈسڑیل ایریا کی وجہ سے داخلہ لیا جہاں کام بھی ملا لیکن جب میں نے کہا کہ زکوٰة میرے لئے جائز نہیں اور بلا معاوضہ دین کی خدمت کروں گا تو داخلے سے انکار کردیا۔ پھر مولانا یوسف لدھیانوی شہید سے کہا کہ والدین کی اجازت نہ ہو جبکہ میری خدمت کی ان کو ضرورت نہیں تو کیامیرے لئے علم حاصل کرنا جائز ہے ؟۔فرمایا: مشورہ ہے کہ ان کی بات مان لو۔ میں نے کہا کہ مشورہ نہیں فتویٰ مانگ رہاہوں تو فرمایا کہ ”پھر پڑھ سکتے ہو”۔ ایک سال مدرسہ میں پڑھا تو بہت فضول لگا اسلئے کہ سارے معاملات الٹ تھے اور اپنے مرشد حاجی عثمان سے کہا کہ علم چھوڑ کر حفظ کرنا چاہتا ہوں تو فرمایا : میں عالم نہیں ہو ں ،کسی استاذ سے مشورہ لو۔ میں مولانا عبدالیقوم چترالی کے پاس گیا تو فرمایا کہ ”حفظ کی ایسی حیثیت نہیں علم حاصل کرو”۔ آج اگر مولانا چترالی کا مشورہ نہیں ہوتا تو میں علم کی یہ خدمت نہیں کرسکتا تھا۔ رحمان بابا نے فرمایا:
” جب تم علم کے بغیر پیری فقیری کروگے تو اپنی کھوپڑی کو آگ لگادوگے”۔ مولانا انورشاہ کشمیری نے کہا تھا کہ میں نے قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی اور عمر ضائع کردی”۔ اسلئے مولانا بنوری نے علماء کو قرآن، حدیث اور عربی سکھانے کیلئے مدرسہ کھول دیا لیکن جب دارالعلوم کراچی شہر سے کورنگی منتقل ہوا تو طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت آگئی اور درس نظامی کی تکمیل کیلئے پھر جت گئے۔ الحمدللہ مولانا بنوری کے اخلاص کی برکت سے اساتذہ کرام سے تعلیم کی درست رہنمائی مل گئی۔
ــــــــــ
الجزائر کا بریلوی صوفی عالم دین اور پیر طریقت
” ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک مکان و زمان کی قید سے آزاد و مطلق ہے ۔ روح مطلق ہوتواسکے نزدیک ماضی، مستقبل، حال، ظاہر باطن سب برابر ہیں ۔ روح کے نزدیک ہر چیز ایک جیسی ہوتی ہے۔ ہمارے آقا نبی کریم ۖ اگر آپ عقل یا دل سے سوچیں تو آقا نبی کریم ۖسنتے ہیں۔
فتحِ مکہ کے دن، جب ہمارے آقا نبی کریم ۖ کعبہ کے پاس تھے، تو ایک شخص آیا، اس نے اپنے دل میںکہا: ‘آج میں محمد (ۖ)کو قتل کر دوں گا عربوں کو ان سے نجات دلاؤں گا۔ ”ہمارے آقا نبی کریم ۖ وفود کا استقبال کر رہے تھے اور فتح کا موقع تھا، جبکہ وہ کہہ رہا تھا: ”آج میں محمد(ۖ)کو قتل کر کے عربوں کو ان سے راحت دلاؤں گا۔اس نے ایک خنجر (چھری)لیا اور ہمارے آقا نبی کریم ۖ کے قریب آنے لگا، اور اپنے دل میں کہہ رہا تھاوہ کیا کہہ رہا تھا؟ ”آج میں محمد (ۖ) کو قتل کر کے مخلوق کو ان سے آرام دلاؤں گا۔”
ہمارے آقا نبی کریمۖ دیکھ رہے تھے۔ وہ شخص رسول اللہ ۖ کے پاس کہہ رہا تھا، چاہے وہ زبان سے کہتا یا دل میں سوچتا، ایک ہی بات تھی، ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ چنانچہ ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اس سے فرمایا:تم نے کیا کہا؟۔
اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول!میں تو اللہ سے استغفار کر رہا تھا، میں تو استغفار کر رہا تھا۔آپ ۖ نے فرمایا: نہیں، سچ بتا تم نے کیا کہا تھا، کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ آج میں محمد کو قتل کر کے اس سے خلقت کونجات دلاؤں گا؟۔اس نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں! پھر ہمارے آقا نبی کریمۖ نے اسے اپنے پاس کیا، اپنا دستِ مبارک اس کے سینے پر رکھا اور اس کیلئے دعا فرمائی۔ وہ شخص کہتا ہے: رسول اللہ ۖنے مجھے اس حال میں چھوڑا کہ آپ میرے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ محبوب ہو چکے تھے۔
شایدیہ ہے کہ ہمارے آقا نبی کریم ۖکی روحِ مبارک مطلق (آزاد)ہے، اسلئے ان کے ہاں ظاہر باطن برابر ہیں۔ اور یہ چیز ہم نے اللہ کے ولیوں کے ہاں بھی دیکھی ہے۔ ولی کے پاس جب اس کی روح مطلق ہوتی ہے چاہے آپ اپنے دل میں سوچیں یا اپنی زبان سے بولیں، دونوں ایک ہی بات ہوتی ہے؛ چاہے آپ اکیلے ہی کیوں نہ سوچ رہے ہوں۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عقل تسلیم نہیں کر سکتی، یہ روح کی دنیا ہے، اور روح کی دنیا کا جسمانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے، روح کی دنیا میں ہر چیز (موجود)ہے۔
مثال کے طور پر، آپ اپنے شیخ سے ملتے ہیں، آپ اور شیخ کے درمیان کچھ بات چیت ہوتی ہے۔ پھر آپ کسی دوسرے شیخ سے ملتے ہیں، تو وہ دوسرا شیخ آپ سے کہتا ہے: کیا آپ کے شیخ نے اس دن آپ سے یہ بات نہیں کہی تھی؟۔ روح کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ اگر اولیاء کی روحوں کا یہ حال ہے تو ہمارے آقا نبی کریم ۖ کی روحِ مبارک کا مقام کیا ہوگا؟ ہمارے یہ آقا نبی کریم ۖہر چیز کو دیکھتے ہیں، ہر چیز کو سنتے ہیں، ہر چیز میں اجازت دیتے ہیں اور ہر چیز میں تصرف فرماتے ہیں۔
یہ ہم ایسی باتیں کر سکتے ہیں جسے شاید (ظاہری)عقل قبول نہ کرے، لیکن روحِ محمدی ایسی روح ہے جس کی کوئی سرحد و حد نہیں۔ تمام کائناتیں رسول اللہ ۖکے نور سے پیدا کی گئیں، اور فرشتے رسول اللہ ۖکے نور سے تخلیق کیے گئے، اور آپ ۖ تمام موجودات کے سردار ہیں، اور اللہ کی مخلوق میں اللہ کا اور اس کی مخلوق کا سب سے زیادہ علم رکھنے والے ہیں۔
تبصرہ : سید عتیق الرحمن گیلانی
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رحمة للعالمین ۖ سے یہ فرمایا کہ
فلم تقتلوھم و لٰکن اللہ قتلھم وما رمیت اذ رمیت ولیکن اللہ رمٰی ولیبلی المؤمنین منہ بلآئً حسنًا ان اللہ سمیع علیمO
”تو تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور آپ نے نہیں پھینکے بلکہ اللہ نے وہ کنکر پھینکے تاکہ مسلمانوں کو اچھی آزمائش میں مبتلا ء کردے۔ بیشک اللہ سننے جاننے والا ہے”۔ (سورہ الانفال آیت:17)
پھر غزوہ ، احزاب اور غزوہ حنین میں مشکل کا اللہ نے شکار کیا۔ تاکہ صوفیا ء کرام تزکیہ نفس کو مشاہدات کے علاوہ آزمائش کے حقیقی میدانوں میں بھی جانچ سکیں۔ کبھی کمزور انسان کو اللہ بلا سے لڑادیتا ہے۔جیسے فرعون سے موسیٰ علیہ السلام لڑے۔
ــــــــــ
مودبانہ گزارشات
سید عتیق الرحمن گیلانی
ڈاکٹر فداء محمد ہمارے بچپن میں غالبًا کانیگرم تشریف لائے تھے اور مولانا اشرف ہمارے ہاں اللہ کے ولی مشہور تھے جن کی ہمارے مرشد حاجی عثمان نے بھی تعریف کی تھی۔
مولانا اللہ یار خان نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔1982ء میں اسٹیل مل میں ان کے مرید تھے اور ان کے رسالہ ”المرشد” کے مضامین مجھے بہت اچھے اور اعتدال والے لگے۔ خاص طور پر نبیۖ کے نور وبشریت پر ادنیٰ مثال کرنٹ والے بجلی کے تار اور عام تار میں فرق کا دیا تھا اور مجھے انہوں نے پیشکش کی تھی کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہیں کریں ،براہ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت ہوگی لیکن میں نے پہلے سے منع کردیا تھا۔ امام مسجد مولانا بیعت تھے ان سے پوچھا کہ آپ نے کبھی نبیۖ کی زیارت کی ہے؟۔ تو اس نے کہا کہ میری ایسی قسمت کہاں ؟۔ پہلی بار آپ کیلئے یہ پیشکش سنی ہے۔ سردار امان الدین شہید نے انکے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اخوان تحریک ،MNAجنوبی وزیرستان مولانا نور محمد شہید اور مجھے ایک پروگرام میں دعوت دی تھی۔ مشرق اخبار کی معروف کالم نگار مریم گیلانی نے امان الدین شہید کی طرف سے تحریک کو اسلامی انقلاب کا پیش خیمہ قرار دیا تھا۔ جبکہ مولانا اکرم اعوان نے وزیرستان کے لوگوں کیلئے فرمایا تھا کہ ” اس بیچ کو اللہ نے انقلاب کیلئے رکھا ہے”۔ اگر تحریک طالبان و دیگر ہتھیار اٹھانے والی سب تنظیمیں ہتھیار رکھ دیں اور علماء و صوفیاء اور ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں قرآن کے احکام کی طرف آجائیں تو بغیر کسی مشکلات کے دنیا میں ایک انقلاب آسکتا ہے۔ سب اس نظام سے تنگ اور مایوس ہوچکے ہیں۔
مشاہدات، خواب اور انقلابی جدو جہد کے نتائج دیکھنے کی حسرت اس وقت پوری ہوسکتی ہے کہ جب قرآن کے احکام کو معاشرے میں زندہ کریں گے اور مردہ لوگوں کی روح کو زندگی مل جائے گی۔ پاکستان، افغانستان، ایران، عرب ممالک اور ہندوستان کے مسلمان اسلام کی نشاة ثانیہ سے زندہ و تابندہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی سمیٹ لیں گے۔ جب اسلامی جمہوری محاذ جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء پاکستان میں ہوا تھا اس وقت مولانا شاہ احمد نورانی زندہ تھے۔ قبر پر فاتحہ سے متعلق ایک پرانی ویڈیو نیٹ پر دستیاب ہے۔ عقائد میں سب ایک ہوسکتے ہیں۔ مولانا خان محمد شیرانی سے اس وقت جمعیت علماء اسلام کا ایک عالم دین الجھ رہاتھا تو میں نے اجازت مانگ کر مطمئن کیا تھا اور اس نے مجھ سے نام پوچھا تو میں نے بتادیا۔ اس نے کہا کہ مجھے پہلے گمان تھا کہ آپ ہوسکتے ہیں۔ آپ نے چھڑا دیا۔
ہمیں ہار جیت کیلئے نہیں اسلام کی نشاة ثانیہ کیلئے مسلمانوں کو ہی نہیں تمام مذاہب کو بھی قرآن کی درست تعبیرات سے وہ نشان منزل قائم کرنا چاہیے جس سے جلد منزل کو پہنچ جائیں۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اگست2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ