الحآقةOماالحآقةOوماادراک ماالحآقةO-جو حق ثابت ہوا، کیا حق ثابت ہوا،آپ کیا جانو کہ کیا حق ثابت ہواہے۔
جون 26, 2026
الحآقةOماالحآقةOوماادراک ماالحآقةO
جو حق ثابت ہوا، کیا حق ثابت ہوا،آپ کیا جانو کہ کیا حق ثابت ہواہے۔
”سورہ الحاقہ” کو خطاء سے قیامت کا عذاب قرار دیا گیا حالانکہ یہ دنیا ہی کے عذاب سے متعلق ہے اور اس میں ماضی کے معاملات اور مستقبل کا انقلاب عظیم ہے جس کی خبر رسول اللہۖنے دی جو قرآن ہی میں ہے اور جس میں کوئی ابہام بھی نہیں ہے اور بالکل روز روشن کی طرح واضح ہے”۔
عربی زبان کا کمال یہ ہے کہ اس کے الفاظ میں حقائق روح کی گہرائی تک اتر جاتے ہیں۔ مثلاً الحاقہ کا تعلق ایسے واقعہ کے ساتھ ہے جو متحقق ہوچکا ہے جو ماضی میں وقوع پذیر ہوگیاہے۔ قوم عادو ثمود، قوم فرعون اور اس سے پہلے تباہ بستیاں ، حضرت نوح کی کشتی کا واقعہ اور مستقبل میں عظیم انقلاب ایسا ہی ہوگا۔
جبکہ القارعہ کا تعلق مستقبل کی ایسی پیش گوئی ہے جو رسکی ہے اور اس کو قرعہ اندازی کی طرح کہہ سکتے ہیں جیسے جوئے میں ہار جیت ہوتی ہے اس طرح القارعہ میں دونوں چیزیں ہوسکتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا میں انقلاب کیلئے قربانی دینے والوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ کچھ لوگ انقلاب سے پہلے اجل کی موت مرتے ہیں اورکچھ دنیا میں منتظر رہتے ہیں۔ زندگی داؤ پر لگنے کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ انقلاب کی امید پر قربانی دی جاتی ہے۔
من المؤمنین رجال صدقوا ما عاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضٰی نحبہ ومنھم من ینتظر و مابدّلوا تبدیلًا O
” مسلمانوں میں کچھ مرد وں نے سچ کر دکھایاجو عہد اللہ سے کیا تھا ،ان میں کوئی اپنی نذر پوری کرچکااور کوئی راہ دیکھ رہاہے اور وہ ذرہ برابر بھی نہیں بدلے”۔(الاحزاب23)
صحابہ کرام میں کچھ فتح مکہ اور سپر طاقتوں کو شکست دینے سے پہلے اللہ کو پیارے ہوگئے اور کچھ نے سب کچھ دیکھ لیا تھا۔
الحاقةOماالحاقةOوماادراک ما الحاقةOکذبت ثمود و عاد بالقارعةO
”جو متحقق ہوچکااور کیا متحقق ہوچکا اور تمہیں کیا خبر کہ کیا متحقق ہوچکا ہے،جھٹلایا ثمود اور عاد نے متوقع رسکی خبر کو (دنیا میں ان پر عذاب آسکتاہے)
الھاکم التکاثرO…(سورہ التکاثر )
تمہیں زیادہ کمانے کے چکر نے غفلت میں ڈال دیا یہاں تک کہ مقبروں میں پہنچ گئے۔ہرگز نہیں تم جان لوگے پھر ہرگز نہیں تم جان لوگے۔ہرگز نہیں کاش تمہیں علم الیقین ہوتا۔ضرور تم دوزخ کو دیکھوگے پھر تمہیں اس کو دیکھ کر عین الیقین ہوگا۔ پھر تم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (التکاثر)
ایک درجہ علم الیقین کا ہوتا ہے اور دوسرادرجہ حق الیقین کا اور تیسرا درجہ عین الیقین کا ہوتا ہے۔ جیسے رسول اللہ ۖنے خبر دی کہ دنیا میں طرز نبوت کی خلافت دوبارہ قائم ہوگی۔ اس کے علم الیقین پر مسلمانوں کا ایمان ہے لیکن جاویداحمد غامدی اس علم الیقین کی بیخ کنی کرنے کیلئے جھوٹ سے قرآن و حدیث کو ماننے کا ڈرامہ کررہاہے۔ جب عاد اور ثمود جیسی قوموں کو اللہ نے تباہ کیا تو موجودہ دور میں بھی اللہ مسلمانوں کے ہاتھ پر بڑا انقلاب لاسکتا ہے اور یہ حق الیقین ہے اور جب انقلاب عظیم برپا ہوگا تو اس وقت پھر اس پر عین الیقین کا اطلاق ہوگا۔
اللہ نے سورہ الفجر میں بھی اس انقلاب کا نقشہ کھینچا ہے۔
”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کیساتھ کیا کیا۔جو نسل ارم سے ستونوں والے تھے کہ انکے جیسے پیدا نہیں کیے گئے شہروں میںاور وہ ثمود جو چٹانوں میںجیب (گھر) بناتے تھے اور فرعون میخوں والا۔جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی تھی تو بہت فساد پھیلایا تھا۔پھر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔بیشک تیرا رب گھات میں ہے”۔(سورہ الفجر)
فاما ثمود فاھلکوا بالطاغیةO
”پس ثمود جو تھے تووہ ہلاک کئے گئے سرکشی سے ”۔(سورہ الحاقہ آیت5)
میرے کہستاں ! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں
تیری چٹانوں میں ہے میرے اب وجد کی خاک
امریکہ ، یورپ اور چین کی طرح عاد اور ثمود کی قوموں کا بھی اپنے دور میں نام تھا جیسے سندھی، پختون ، بلوچ اور دیگر اقوام کا نام ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ثمود کو جب سر کشی میں مبتلا ء کردیا تو وہ آپس کی جنگ وجدل سے اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔
واما عاد فاھلکوا بریحٍ صر صرٍ عاتیةٍO
” اور عاد ہلاک کردئیے گئے پاگل بنانے والی آندھی سے”۔(الحاقہ:6 )
عاتیہ ”عتو ” سے ہے جس میں دماغ کام چھوڑ دیتا ہے اور مسلسل ٹارچر کرنے سے بھی دماغ مفلوج ہوجاتا ہے۔ ایک سرکشی اور دوسرا مسلسل ٹارچر ہوتوپھر یہ دونوں عذاب یکجا ہیں۔
سخرھا علیھم سبع لیالٍ و ثمانیة ایامٍ حسومًا فتری القوم فیھا صرعٰی کانھم اعجاز نخلٍ خاویةٍO
آندھی کے تیر سات رات اور آٹھ دن چلتے رہے تو آپ دیکھتے کہ اس قوم میں مرگی ہے۔جیسے کہ وہ گھری ہوئی کھجور کی تنوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں”۔ (الحاقہ:7)
دنیا میں آج انسان بہت پریشانی کے دھانے پر کھڑاہے مگر اپنی قومیت کی رٹ بھی لگا رکھی ہے لیکن قرآن تنبیہ کرتا ہے ۔
ھل ترٰی لھم من باقیةٍO
”کیا ان (ثمود و عاد) میں کوئی باقی نظر آتا ہے”۔ (الحاقہ:8)۔قوم کی طاقت قابل فخر نہیں ہوتی ہے بلکہ قوموں کا کردار بہت کام کی چیز ہوتا ہے۔
وجاء فرعون ومن قبلہ والمؤتفکات بالخاطئة
”اورفرعون اور اس سے پہلے بھی لوگ آئے اور جن قوموں کی چولیں ڈھیلی کردی گئی خطاکی وجہ سے ”۔ (الحاقہ:9)
ان کے دماغ میں یہ نہیں ہوتا تھا کہ دنیا میں حالات بدل کر اس نہج تک پہنچ سکتے ہیں۔وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں رہے۔
فعصوا رسول ربھم فاخذھم اخذة رابیةًO
”پس انہوں اپنے رب کے رسول کی نافرمانی کی تو اس نے ان کو پکڑا ایسا پکڑنا کہ سود سمیت حساب پورا کردیا”۔ (الحاقہ:10)
یعنی یہ نہیں کہ جتنا کیا اتنا ان کو عذاب دیا بلکہ سود سمیت ان سے وصولی کی گئی۔ رابیة کا معنی اضافی ربو ٰہے۔ یادگار جملہ۔
انا لما طغی الماء حملنا کم فی الجاریةO لنجعلھالکم تذکرةً و تعیھااذن واعیةO
”بیشک ہم نے جب پانی نے سرکشی کی تو تمہیں کشتی میں پناہ دی تاکہ اس کو ہم تمہارے لئے یادگار بنائیں۔اور اس کو یاد رکھنے والے کان یاد رکھیں ”۔ (الحاقہ11،12)
کشتی نوح کی کہانی قوموں نے یاد رکھی ہوئی ہے اور مختلف مواقع پر قوموں کیساتھ واقعات ہوتے ہیں لیکن کشی نوح کے واقعہ کو تاریخ انسانی میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ نبیۖ نے فرمایا کہ” میرے اہل بیت کشتی نوح کی طرح ہیں جو سوار ہوا تو محفوظ رہا اور جو رہ گیا تو ہلاک ہوگیا”۔ (مسند احمد بن حنبل)
تبلیغی جماعت والے خود کو کشتی نوح قرار دیتے تھے مگر پھر دوبڑے مراکز اور حصوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ۔اور اہل بیت کے ایک فرد حافظ سید عاصم منیر نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچانے میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔
فاذا نفخ فی الصور نفخة واحدة O
”پس جب صور پھونکا جائے گا ایک پھونک”۔ (الحاقہ:13)
حضرت نوح کے دور میں پانی کا طوفان آیا تھا اور اب اس بارلگتا ہے کہ انسانی سمندر کا طوفان آئے گا۔”آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو ”۔ معروف شاعر فیض احمد فیض نے ترانہ گایا ہے کہ
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیںگے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیںگے ، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹیں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
اس انسانی سمندر کا تعلق نظام عدل کے قیام سے ہوگا اور یہ منظر کشی قرآن میں بہت واضح انداز میں موجود ہے۔
وحملت الارض و الجبال فدکتا دکةً واحدةًO
”اور پناہ دینی ہے زمین اور پہاڑ وں نے پھر دونوں ایک بار ہل جائیںگے”۔ (الحاقہ:14) اگر اس سے قیامت مراد ہو تو زمین اور پہاڑوں کا وجود ایک ہے تو پھر دونوں کی طرف نسبت کیوں ہوتی ؟۔ جیسے فرعون اوتاد یعنی میخوں والا تھا اور پہاڑ بھی بذات خود میخیں ہیں۔ پہاڑی سلسلوں کوہ سلیمان، ہندو کش کی طرح سلطنتیں بھی لنگر انداز ہوتی ہیں۔ پرتگال، سلطنت عثمانیہ ، فرانس ،برطانیہ، روس کی عظیم سلطنتوں کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔
جب ایک بھونچھال آئے گا تو زمین اور اقتدار کے مراکز کا بعض لوگوں کیلئے پناہ گاہ بننا قرین قیاس ہے۔ وہ کشتی نوح والا معاملہ اس وقت کے سونامی کا تھا اور اب انسانی سونامی ہوگا۔
فیومئذٍ وقعت الواقعةO
”الحاقہ کی خبر اس دن واقعہ ہوجائے گی”۔ (الحاقہ:15)جب انقلاب عظیم برپا ہوگا توپھر اہل شر اور اہل خیر دونوں کیلئے آسمان بدلا بدلا معلوم ہوگا۔
وانشقت السماء فھی یومئذٍ واھیةO
”اور آسمان کھل جائے گا تو اس دن واہ اس کامنظر ہوگا”۔(الحاقہ:16)
خوش نصیبوں کیلئے واہ واہ کا منظر پیش کرے گا اور یہی آسمان کم بخت دلوں دلالوں اور کمینوں کیلئے آہ آہ کا منظر بنے گا۔
والملک علی ارجائھا ویحمل عرش ربک فوقھم یومئذٍ ثمانیةO
”اور فرشتے ان کی امیدوں کے مطابق کام کریںگے اور آٹھ نے تیرے رب کے عرش کو اٹھایا ہوگا”۔(الحاقہ:17) جیسے بدر کے میدان میں ہزار مشرکین کو شکست دینے کیلئے ہزاروں فرشتے اترے تھے۔ انقلاب عظیم کا یہ منظر آسمان اور زمین کی مخلوقات پہلی مرتبہ دیکھ لیں گے اور یہ نظام عدل اعلیٰ ترین انسانی معیارات پر ہوگا۔
سورہ الفجر میں انسان کا نقشہ یہ پیش کیا گیا ہے کہ
”پس انسان جو ہے جب اس کا رب اس کو آزمائش میں ڈالتاہے، عزت دیتاہے اور نعمتیں دیتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی ۔(میری قابلیت ہے) پس جب اس کو آزماتا ہے اور رزق تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا۔(یعنی زیادتی کرڈالی) ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیموں کو عزت نہیں دیتے ہو اور نہ مسکین کو کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور میراث کا ترکہ ناجائزسمیٹنے کے چکر میں ہوتے ہو! اور مال سے خوب جم کر محبت کرتے ہو۔ہرگز نہیں جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہلا دیا جائے گا اور آئے گا تیرا رب اورقطار اندر قطارفرشتے۔اور جہنم کو سامنے لایا جائے گا ،اس دن انسان پھر نصیحت حاصل کرے گا اور بیشک اسی کیلئے نصیحت ہے۔کہے گا کہ اے کاش میں اپنی زندگی کیلئے بھیجتا۔پس اس دن کوئی اس کو عذاب نہیں دے گا اور نہ کوئی اس کو رسی ڈالے گا۔اے نفس اطمینان والے اپنے رب کی طرف رجوع کرو تو اس سے راضی اور اللہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہوجاؤ اور میری جنت میں داخل ہوجاؤ”۔ سورہ الفجر آیت16تاآخر۔
یہ دنیا کا منظر ہوگااور جب نظام عدل قائم ہوگا تو خلافت کا عظیم مشن پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ سورہ واقعہ میں تین اقسام کا ذکر ہے۔ السابقون پہلوں میں بہت اور آخر میں تھوڑے ہوں گے اور اصحاب الیمین پہلوں میں بھی بہت اور آخر میں بھی بہت۔ اصحاب الشمال میرے خیال میں پہلوں میں بھی کم تھے اور آخر میں بھی کم ہی ہوں گے۔ اسلئے کہ قرآن میں جھٹلانے والوں کو مکذبین اور مجرمین قرار دے دیا گیا ہے۔ صحابہ کرام میں انصار و مہاجرین کے السابقون الاولون کیلئے رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ تھا اور اٰخرین منہم لما یلحقوا بہم کیلئے راضیةً مرضیةً ہے۔رسول اللہۖ کیلئے سورہ الشرح میں فرمایا کہ ”کیاہم نے آپ کا سینہ نہیں کھولا،کیا آپ سے آپ کا بوجھ نہیں اتارا۔جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی اور ہم نے تیرا ذکر بلند کیا ۔بیشک مشکل کیساتھ آسانی ہے ۔بیشک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔پس جب آپ فراغت حاصل کریں تو پھر اپنے ہدف پر توجہ دیجئے گا۔ اور اپنے رب کی طرف راغب بن جائیں”۔ اسی طرح خلافت علی منہاج النبوة کے قیام کے بعد محنت کرنے والوں کو فراغت کے بعد عبادت کی تلقین ہے جس کا سورہ الفجراور دیگرسورتوں میں بہت تفصیلات سے ذکر ہے۔
سورہ رحمان میں مجرموں کی نشاندہی الیکڑانک مشینوں کے ذریعے سے ہونے کی خوشخبری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”پس اس دن کسی انسان اور نہ جن سے اسکے گناہ کا پوچھا جائے گا ۔ توتم دونوں اللہ کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤگے۔مجرموں کو چہروں کے نشان سے پہنچان لیا جائے گا تو ان کو پیشانی کے بالوں اور پاؤں سے پکڑا جائے گا۔ تو تم اللہ کی کس کس نعمت کو دونوں جھٹلاؤں گے۔ یہ ہے وہ جہنم جس کو مجرم جھٹلاتے تھے۔ اور چکر کاٹیں گے اسکے درمیان اور گرمی میں اب ” دنیا کی اس جہنم کا نقشہ ان کی رہائشگاہوں اور فیکٹریوں کے حوالے سے سورہ واقعہ میں پیش کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان سے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر آغاز کردے اور جدید مشینی الات کے ذریعے بڑے مجرموں اور بڑے کرپٹ لوگوں کو پکڑنے کا پروگرام بن جائے جس میں کسی کو رعایت کا تصور نہیں ہوسکتا ہے تو پھر دنیا میں آنے والی اس تبدیلی کا آغاز مشکلات کے بغیر ہوگا۔
ہم عمران خان سے بھی اس دور میں مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ کوئی درست نظام قائم کریں لیکن وہ غفلت میں تیر رہا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سوہ الحاقہ میں بالکل واضح فرمادیا ہے کہ
یوم تعرضون لا تخفٰی منکم خافیةO
” اس دن تمہیں پیش کیا جائے گا اور کچھ مخفی نہ رہے گا”۔ (الحاقہ:18)
دنیا بھر کے ممالک میں طاقتور لوگ اچھے بھی ہوں تو بدنام اسلئے ہیں کہ دنیا میں طاقتوروں کا حساب کتاب نہیں ہوتا ہے۔ جب ایک عالمی عدالت انصاف کی حکومت اسلامی انقلاب کی بنیاد پر قائم ہوگی تو پھر کوئی بھی شخص خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو لیکن احتساب سے بچ نہیں سکے گاجو ٹھیک ہوگا تو وہ خوش ہوگا۔
فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھاؤم اقرء وا کتابیہOانی ظننت انی ملاقٍ حسابیہOفھو فی عیشةٍ راضیةٍOفی جنةٍ عالیةٍOقطوفھا دانیةOکلوا واشربوا ھنیئًا بما اسلفتم فی الایام الخالیةO
” پس وہ جو ہے جس کو دائیں ہاتھ سے اعمالنامہ مل جائے گا تو کہے گا کہ یہ میرا اعمال نامہ پڑھو۔بیشک میں سمجھتا تھا کہ مجھے اپنا حساب دینا ہے۔پس وہ عیش وعشرت میں راضی ہوگا۔بلند باغ میں ہوگا جس کے میوے جھکے ہوئے ہوں گے۔ کھاؤ پیو خوش باش جو تم نے خالی دنوں میں کیا ”۔ (آیات19تا24)
دنیا میں90فیصد سے زیادہ اچھے لوگ مصائب میں زندگی گزارتے ہیں۔ محنت کا انہیں کوئی صلہ ملنے کے بجائے مشکل کی زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب عظیم انقلاب کے سبب وہ خوش حال زندگی بسر کریں گے تو دنیا میں اس نظام سے اللہ کی یاد آئے گی اور آخرت کیلئے محنت کرنے کی طرف راغب ہوں گے اور شیطان کبیر اپنی موت اس دن مرجائے گا۔
واما من اوتی کتابہ بشمالہ فیقول یا لیتنی لم اوت کتابیہOو لم ادر ماحسابیہOیا لیتھا کانت القاضیةOما اغنی عنی مالیہOہلک عنی سلطانیہOخذوہ فغلوہOثم الجحیم صلوہOثم فی سلسلةٍ ذرعھا سبعون ذراعًا فاسلکوہOانہ کان لا یؤمن باللہ العظیمOولا یحض علی طعام المسکینOفلیس لہ الیوم ھاھنا حمیمOولا طعام الا من غسلینٍOلایأکلہ الا الخاطئونOفلا اقسم بما تبصرونOو مالا تبصرونOانہ لقول رسولٍ کریمٍOوما ھو بقول شاعرٍ قلیلًا ما تؤمنونOولا بقول کاھنٍ قلیلًا ما تذکرونOتنزیل من رب العالمینO(سورہ الحاقہ25سے43)
”پس وہ جس کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا گیا۔تو کہے گا کہ اے کاش مجھے میرا اعمالنامہ نہ ہی ملتا۔اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ کاش یہ میری موت کا فیصلہ ہوتا۔ مجھے میرا مال بھی نہیں بچا پارہاہے۔میرا اقتدار بھی مجھ سے گیا۔ پکڑو اس کو اور طوق پہنادو۔ پھر جحیم تک پہنچادو۔ پھر اس کو (مچھ جیل) تک پہنچانے کیلئے قیدیوں کی اس گاڑی میں ڈال دو جس کی لمبائی70ہاتھ ہے۔ بیشک یہ اللہ عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور نہ مسکین کو کھانے کی ترغیب دیتا تھا۔پس یہاں آج اس کا کوئی گرم جوش دوست نہیں ہے۔ اور نہ اس کیلئے کوئی کھانا ہے لیکن لوگوں کا بچا ہوا۔ جس کو نہیں کھائیں گے مگر وہی خطاء کرنے والا طبقہ (جن کے دماغ میں دنیا کا جحیم نہیں تھا)پس نہیں۔ میں قسم کھاتا ہوں جو تم دیکھتے ہو (سمجھتے ہو) یا نہیں دیکھتے۔ (یا نہیں سمجھتے کہ جدید ترقی یافتہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچے گی) بیشک یہ رسول کریم کا قول ہے۔ اور نہ وہ قول شاعر ہے لیکن کم لوگ ہو تم جو ایمان لاتے ہیںاور نہ کاہن کا قول ہے لیکن کم لوگ ہو تم جو نصیحت حاصل کرتے ہیں یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے”۔
ان آیات میں انقلاب عظیم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ رب العالمین کا نازل کردہ اور رسول کریم ۖ کا قول ہے۔ جن کی علت ہے کہ احادیث کو نہیں مانتے تو وہ قرآن سے کہاں فرار ہوسکتے ہیں؟۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بالکل ننگا کرکے فرمایاکہ
ولو تقول علینا بعض الاقاویلOلاخذنا منہ بالیمینOثم لقطعنا منہ الوتینOفما منکم من احدٍ عنہ حاجزینOوانا لنعلم ان منکم مکذبینOو انہ لحسرة علی الکافرینOوانہ لحق الیقینOفسبح باسم رب العظیمO(الحاقہ:آیت44سے آخرتک)
”اور اگر وہ کوئی ہماری طرف خود ساختہ اقول کو منسوب کرتا ہے تو اس کو دائیں طرف سے پکڑلیتے۔پھر اس کی گردن کاٹ ڈالتے ۔پھر تم میں سے کونئی اس سے رکاوٹ نہ بن سکتا تھا ۔اور بیشک یہ متقیوں کیلئے نصیحت ہے۔اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیںاور بیشک یہ کافروں پر حسرت ہوگی۔اور بیشک یہ حق الیقین ہے۔ پس اپنے رب کی تسبیح کرو جو بہت عظیم ہے”۔ (سورہ الحاقہ)
جس کی خبر قرآن نے دی ہے وہ الحاقہ دنیا میں پہلی قوموں پر بھی اپنے اپنے وقت کے مطابق عذاب کی شکل میں متحقق ہے اور صحابہ کرام نے بھی عرب اور سپر طاقتوں کو شکست دی تھی۔
اللہ نے کہیں فرمایا حقت کلمة ربک تیرے رب کی بات کافروں پر متحقق ہوئی اور کہیں فرمایا کہ فاسقون پر متحقق ہوئی اور الحاقہ کا مطلب قیامت نہیں اور یہ اقوال اللہ کی طرف غلط منسوب کئے گئے ہیں اور بعض قرآن کو جھٹلانا چاہتے ہیں۔
عالم برزخ کی جنت کا عرض زمین اور آسمان کے برابر ہوگا لیکن دنیا میں دو دو جنت میں دو دو چشمے اور دو دو فوارے ہوں گے اور آخرت کی جنت کا معاملہ بالکل مختلف ہوگالیکن متشابہ ضرور ہوگا،ماں کے پیٹ اور دنیا میں جنت کافرق ہے اتنا فرق عالم برزخ اور اس دنیا میں ہے اور عالم برزخ اور آخرت کے بعد کی دنیا میں پھر اس سے بھی زیادہ فرق ہے۔ دنیا کی یہ فلم تو عالم ارواح میں پہلے جاری ہوچکی ہے اور دنیا کا ہر شخص سمجھ رہا ہے کہ اس پر کوئی جبر نہیں اورعالم ارواح سے پہلے اپنے لئے امتحان میں پاس ہونے کیلئے اداکاری کا انتخاب بھی خود کیاہے اور قرآن و حدیث اور سائنس کی دنیا میں ملتے جلتے شواہد ہیں۔
عالم برزخ:
سابقوا الی مغفرةٍ من ربکم و جنةٍ عرضھا کعرض السماء والارض اعدت للذین اٰمنوا باللہ و رسلہ ذٰلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء واللہ زوالفضل العظیمO
”دوڑو! اللہ کی طرف مغفرت کیلئے اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کی طرح ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان والو کیلئے تیار کی گئی ہے یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے”۔(سورة الحدید:21)
ہمارے شہدا میری بہن ، میرابھائی، بھتیجا، بھانجی،خالہ زاد، ماموں زاد، مسجد کا امام ، گھر کا خادم ، رشتہ دار آفریدی، دوست آفریدی، مجذوب محسود اور تبلیغی عالم سرائیکی اور میرے ساتھ مشن میں شریک دوست احباب عالم برزخ کی بڑی جنت کے مزے لے رہے ہوں گے۔ بھائی میں فرق ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے ویران کنوئیں میں ڈال دیا تھا لیکن جب میرے بھائی نے مجھے جیل میں ڈال دیا تومجھے اپنی گرمی اور تکلیف کا احساس نہیں تھا بلکہ شیر جیسے بھائی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر پیر عبدالحمید شاہ اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ مجھے ان کی بات سے بڑی خوشی ملی کہ بھائی کا کہا کہ ”شہادت کے بعد چہرے پر رعب کا ایسا اثر تھا جیسے ابھی وہ حملے کیلئے الرٹ ہوں”۔ انسان کو تکلیف تو پہنچتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ بھائی کی شہادت کے دن اتنا بڑا واقعہ ہوا مگر اس سے زیادہ تکلیف مجھے اس وقت ہوئی جب مجھے گرمی میں جیل کے حوالے کیا اور آنسو بہہ گئے۔
مجھے خوابوں اور ظاہری حرکات سکنات سے بتایا گیا تھا کہ ”پیر عبدالواحد منافقت کررہاہے” لیکن میں چاہتا تھا کہ اس حد تک پہنچ جائے کہ اپنی باتوں سے پکڑ میں آجائے اسلئے ڈھیل دینا مناسب سمجھا۔ جھوٹ سے ڈرامہ رچایا کہ بیٹی کی طلاق لینی ہے اور میری معلومات حاصل کرنے کیلئے تربت تک پیچھا بھی کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ کرائے کے قاتل کا بندوبست ہواہے۔ مجھے کچھ معاملات کا ادراک ہے جس کو میں نے اللہ کے فضل و کرم سے نوٹ کرکے رکھ رہاہوں جس سے کچھ معاملات تک رسائی حاصل کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ انشاء اللہ
ویبقٰی وجہ ربک
ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم وستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم مسند پر بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
پیر ضیاء الدین شاہ نے کہا تھا کہ ”مجھ پر تمہارے بھتیجے الزام لگاتے ہیں کہ واقعہ میں نے کروایا”۔ میں نے کہا کہ یہ تو پھر مجھ سے زیادہ تکلیف تجھ پر گزری۔ پیر عابد نے جو لکھا تو گویا زبانی باتیں تحریر میں آگئی ہیں تو کم ازکم اس کی صفائی بنتی ہے۔
میرا مشن ایک انقلاب عظیم ہیں اور اس کیلئے صرف قرآن و سنت کو اجنبیت سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور سمجھ میں آگیا تو کم ازکم مسلمان آپس میں لڑنے کے بجائے اسلام کے نفاذ پر متفق ہوں گے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جو مولانا فضل الرحمن جس زکوٰة کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتا تھا تو جب بینظیر بھٹو کے دوسرے دوراقتدار میں حکومت کیساتھ شمولیت اختیار کی تو جمعیت علماء اسلام کے علماء کو اسی زکوٰة کی کمیٹی کا چیئرمین بنایا۔ پھر سودی بینکاری کے خلاف سارے مدارس کے علماء ومفتیان نے متفقہ فتویٰ دیا کہ اسلام کے نام پر یہ فراڈ ہے تو پھر مفتی تقی عثمانی کو ان علماء کے انتقال کے بعد وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا صدر بنادیا گیا۔
جب تک اسلام کے علمبردار قرآن وسنت کی بنیاد پر درست تصویر پیش کرنے کے بجائے اسلام کیساتھ کھلواڑ پیش کرینگے تو معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ عام تعلیم یافتہ طبقات کو اٹھنے کی ضرورت ہے اسلئے کہ اسلام کے فطری احکام میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے لیکن جب سودی نظام کو سود کی پرسنٹیج بڑھاکر اسلامی قرار دیں گے تو نتائج کیا نکلیںگے؟۔ اللہ کے واضح احکام کے ساتھ کھلواڑ کرنے سے اللہ کے عذاب اور اس کی پکڑ سے ڈرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ پوری دنیا میں امن وسلامی کیساتھ اسلام کے نظام حکمرانی کو جلد ازجلد نافذ کرے اورنافذ ہوگی۔ انشاء اللہ
شیعہ سنی دونوں مرکزی عقیدے سے قرآن کی طرف جب آجائیںگے تو فرقہ واریت کا ناسور ختم ہوگا ورنہ شیعہ شیعہ کا اور سنی سنی کا دشمن ہوگا اور فرقہ واریت کے سہارے روزی روٹی کی سبیل ڈھونڈیں گے۔ اللہ !ہم سب کو ہدایت عطافرما۔ آمین
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ