حسینی ہندو لڑکی کا شریفانہ لباس بمقابلہ یزیدی غامدی کابڑابیہودہ جعلی استنباط
جون 26, 2026
اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو لڑکی کھنک جوشی کی امام حسین سے محبت، رمضان کے روزے رکھنا ،تقریریں کرناخوش آئند ہے۔ باشرم با حیاء ہندوقوم برصغیر پاک وہند کیلئے فخرہے۔ عرب ، ایرانی، افغانی سخت گیر حکومتیں نہ ہوتیں توپھر عورتیں ایڈوانس ہوتیں۔
جاویداحمد غامدی نے ایک تو پردے کو ہندو انہ رسم قرار دیا۔ دوسرپردے کی احادیث کا انکار کیا اور تیسرا قرآن سے انتہائی گمراہ کن غلط استنباط کیا۔ نالائق ہے ورنہ کیا کیا کھلواڑ کرتا ؟۔
سورہ نور آیت30،31میں مردوں و عورتوں کو اپنی نظریں ڈِ م رکھنے اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کا حکم ہے۔ گاڑی لائٹ تیز ،ڈِم ہوتی ہے ۔گھورنا نظریں گاڑھنا منع ہے۔ سیاحوں کو یہ شکایت تھی کہ پاکستانی تاڑ تے ہیں۔ لائٹ تیز رکھ کر بھی لوگوں کو تنگ کرنا غیر اخلاقی اور گھورنا بھی غیر اخلاقی عمل ہے۔
شرمگاہ کی حفاظت کا تعلق لباس نہیں کردار سے ہے۔ دوبئی میں ساحل سمندر پر غیرملکی سیاح جلدی مرض کے علاج کیلئے دھوپ لیتے ہیں اور مقامی لوگ ہوٹلوں میں چکلے چلاتے ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ بنی اسرائیل ننگے نہاتے تھے اور حضرت موسٰی کے کپڑے پتھر نے اٹھائے ۔ عوام کے سامنے برہنہ کیا۔
جاویداحمد غامدی کیلئے قرآن سے لباس ڈھونڈنا مسئلہ نہ تھا لیکن نیت کھوٹی اور جان بوجھ کر گھناؤنی حرکتیں کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ مردوں کو شرمگاہ کی حفاظت سے لباس کا استنباط کرتے ہوئے کہا کہ شرمگاہ سے ذرا نیچے اور ذرا اوپر لباس کا حکم ہے اور دلیل یہ دی کہ میرامزارع والد مختصر تہبند پہنتا تھا۔ پھر عورت کیلئے کہا کہ ذرا اوپر سینے کی طرف ہاتھ کا اشارہ کرکے ۔ تو داماد حسن الیاس نے گھبرا کر کہا کہ تھوڑا مزید اوپر۔ حالانکہ قرآن میں واضح طور پرعورتوں کیلئے لباس کیساتھ دوپٹوں کو اپنے سینوں پر لپیٹنے کا بھی حکم ہے لیکن گھر کے افراد اس سے اللہ نے مستثنیٰ قرار دئیے ہیں۔ آیت کی تفصیل عام آدمی سمجھتاہے۔
لونڈی اور غلام بنانے کا تصور جنگوں میں نہیں تھا بلکہ مزارع کے خاندانوں کو جاگیردار چاہتے تو مارکیٹ میں بیچ دیتے تھے ۔ جاویداحمد غامدی نے آیات کے واضح الفاظ کو نظرا نداز کرکے اپناDNAبتایا ۔ لونڈی1949میں اقوام متحدہ نے غیر قانونی قرار دی، لونڈیوں کا ستر مردوں کی طرح لیکن سینوں کو چھپانے کا حکم تھا۔ پیٹھ، پیٹ، کندھوںاور سرکے بال کھلے رکھتی تھیں۔ چوہدری افضل حق کی کتاب ”زندگی” میں چوہدری کی مزارع بننے کی کہانی ہے، اس کی بیوی گرتی پڑتی کھیت میں کھانا لے گئی تو زبردست تصویر کشائی کی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا:”مسلمانوں میں شرعی پردہ نہیں ہے بلکہ اشرافیہ کا پردہ ہے”۔ مذہبی حکومتوں نے جبری پردہ نافذ کیا تو بہت انوکھا اسلئے تھا کہ یہ پردہ قرآن کے بجائے فقہی کتابوں کا بدترین شاخسانہ تھا۔
مسلمان لونڈیوں کا برہنہ لباس قابلِ قبول تھا تو پردہ غیر مسلموں پر مسلط کرنا اسلام ہے؟۔افغان طالبان نے عورت کو ملازمتیں دیں، فورس کی لڑکی موٹر سائیکل بھی چلاتی ہے۔ برقعہ، حجاب اور دوپٹہ کچھ بھی عورتین پہن سکتی ہیں۔ میںنے ”جوہری دھماکہ” تصویر کے جواز پر لکھی تو مذہبی طبقہ بدل گیا، اب الحمدللہ پردے کے معاملے میں فقہاء اور جاویداحمد غامدی کے غلو کے درمیان درست معاملے کی نشاندہی کردی ہے۔ پشتون بھائی اگر غلو کو نہیں سمجھتے ہیں تو یہ سمجھیں کہ دونوں غل خور ہیں اور ہم نے ان کو اللہ کے فضل سے ٹھیک علمی راستہ دکھا دیا ہے۔
امام ابوحنیفہ سے امام مالک یا اپنا شاگردقاضی ابویوسف کا اتفاق تھا؟، نہیں!۔امام شافعی کا اساتذہ سے اتفاق تھا؟۔ نہیں! امام شافعی کے شاگرد امام احمد بن حنبل کا استاذ سے اتفاق تھا؟۔ کیا سنی ائمہ اہل بیت کو مانتے ہیں بالکل بھی۔ پھرجب حلالہ کی لعنت قرآن، حدیث، خلفاء راشدین سے ثابت نہیں تو اجماع کیسے ہوا؟۔سود خورمفتی تقی عثمانی جاویدغامدی جیسے دلالوں نے ہمیشہ لوگوں کو مغالطہ میں ڈالا ہے جو علماء حق کو مسترد کرنا ہوگا۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ