پوسٹ تلاش کریں

مولانا اکرم سعیدی کا مشورہ بہترین ہے۔ اس نے لوگوں کے غرور کو تباہ کر دیا ہے، اس لیے لوگ حلالہ کے خلاف انقلاب کے لیے تیار نہیں!

مولانا اکرم سعیدی کا مشورہ بہترین ہے۔ اس نے لوگوں کے غرور کو تباہ کر دیا ہے، اس لیے لوگ حلالہ کے خلاف انقلاب کے لیے تیار نہیں! اخبار: نوشتہ دیوار

مو لانا اکرم سعیدی کا مشورہ بہترین ہے۔ علماء کرام کو بالمشافہہ سمجھانابھی ضروری ہے۔ اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں غیرت تھی اسلئے اسلامی انقلاب پہلے دور میں آیا تھا اور اب اس دور میں حکمرانوں ، سیاستدانوں، مذہبی طبقات اور تاجروں وغیرہ نے عوام میں غیرت ختم کردی ہے اسلئے حلالہ کے خلاف انقلاب پر لوگ آمادہ نہیںہیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

علماء کرام ، مفتیان عظام اور عوام کالانعام کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ چودہ سوسال سے صحابہ کرام ، فقہ کے ائمہ عظام نے طلاق کے جس مسئلے کو قرآن سے بالکل واضح طور پر نہیں سمجھا تو15ویں صدی ہجری ،21ویں صدی عیسوی میں جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے طالب کانیگرم جنوبی وزیرستان کے عتیق گیلانی کے سر پر کونسا ہما بیٹھا اور کس سرخاب کے پر لگے ہیں کہ ” اس کو قرآن وسنت میں طلاق کا مسئلہ اتنی وضاحتوں کیساتھ سمجھ میں آیا ”۔ اسکا جواب تحدیث نعمت کے طور پر یہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سید انور شاہ کشمیری نے ساری زندگی مدرسے کی تعلیم وتعلم میں گزاردی لیکن پھر آخر میں فرمادیا کہ ” میں نے اپنی ساری زندگی مسلک کی وکالت میں ضائع کردی اور قرآن وحدیث کی کوئی خدمت نہیں کی”۔ جسکے گواہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع تھے۔ امام ابوحنیفہ نے اپنی جوانی علم کلام کی گمراہی میں گزار دی اور پھر عمر کے آخری حصہ میں فقہ و اصول فقہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے ساری زندگی تعلیم وتدریس کرکے بڑے بڑے نامور شاگرد پیدا کئے لیکن جب مالٹا میں اسیر ہوئے تو قرآن کی طرف توجہ گئی اور آخری عمرکی گھڑیاں اس افسوس میں گزاردیں کہ نامورشاگردبھی اس روایتی تعلیم وتدریس کو چھوڑ کر قرآن کی طرف توجہ دیں اور امت مسلمہ کو فرقہ واریت سے نکالیں۔
امام غزالی نے ساری زندگی فقہ واصول فقہ کی خدمت کی اور آخر میں توبہ کیا اور تصوف کی طرف گئے۔ کتاب کا نام المنقذ من ضلال ”گمراہی سے نکالنے والی رکھا”۔ عربی میں کتاب مذکر اور اردومیں مؤنث ہے۔ علماء نے اس کتاب کے نام کا ترجمہ بھی غلط کیا ہے۔ ”اندھیروں سے روشنی کی طرف”۔ جس کا عربی میں ترجمہ من الظلمات الی النور بنتاہے۔ امام غزالی نے فقہ کی گمراہی سے نکالنے کیلئے تصوف کی روشنی کی نشاندہی کردی ہے۔لیکن یہ ترتیب بھی بالکل ہی اُلٹی لگتی ہے اسلئے امام غزالی کے اس خواب کو بیان کیا جاتا ہے کہ کوئی کتاب اور کوئی دینی خدمت کام نہیں آئی لیکن مکھی کو سیاہی پلانے سے بخش دیا گیا ہوں۔
میںنے اپنی ابتدائی زندگی میں دین کی طرف رغبت میں قدم رکھا تھا۔جب گورنمنٹ ہائی سکول لیہ پنجاب میں7ویں کلاس سے9ویں کے ابتدائی سال تک سکول سے زیادہ مذہبی کتابوں کی طرف رحجان ہوگیا۔ پھر کوٹ ادو میں بھائی کے تبادلے کے باعث منتقل ہوا اور10ویں کا امتحان دینے سے پہلے گھر چھوڑ کر کراچی کا سفر کیا۔ رزق حلال کیساتھ مدرسے کی تعلیم کو اپنا مقصد بنایا۔حضرت مولانا اللہ یار خان کے رسالے ”المرشد” میں اعتدال نظر آیا تو ان کے مریدوں کیساتھ جامع مسجد ابوبکر ڈیفنس مجلس ذکر کیلئے پہنچ گیا۔ ان کے خلیفہ سے ان کے مریدوں نے میرا حال بیان کیا تو مجھے پیشکش کی گئی کہ نوکری ، مالی امداد اور سب مسائل حل کردیں گے لیکن بیعت ہونا پڑے گا۔ میں نے کہا کہ دنیاوی پیشکش کے بعد میں کسی صورت بھی بیعت نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مرشد مولانا اللہ یار خان آپ کو خود بیعت نہیں کریں گے بلکہ براہِ راست نبیۖ کے ہاتھ پر بیعت کرائیںگے۔ میں نے عرض کیا کہ اب ایک مرتبہ دنیا کی پیشکش کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کسی بھی صورت بیعت نہیں ہونا ہے لیکن یہ بتاؤ کہ آپ کو نبیۖ سے بیعت کروائی ہے؟۔ مسجد کا امام چار ماہ پہلے بیعت ہوچکا تھا اور اس نے میرے سوال کا یہ جواب دیا کہ یہ ہرکسی کی اپنی استعداد اور قسمت ہوتی ہے۔ اللہ نے جو آپ کی قسمت اور استعداد رکھی ہے ۔یہ مجھ میں نہیں ہے۔
جب مولانا اللہ یارخان کے خلیفہ مولانا اکرم اعوان اورمولانا نورمحمد شہیدMNAجنوبی وزیرستان کیساتھ مجھے سردارامان الدین شہید نے پروگرام میں مدعوکیاتھا۔ تومولانا اکرم اعواننے اپنی تقریرمیں کہاتھاکہ” میں زمیندارہوں۔ جب کاشتکار اپنی فصل اٹھاتا ہے تو کچھ اناج سے قرضے اتارتا ہے، کچھ کو بیچ کر گھر کے خرچے پورے کرتا ہے اور کچھ سے دیگر ضروریات پوری کرتا ہے لیکن جوسب سے بہترین گندم ہوتی ہے ،اس کو بیج کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔ وزیرستان کے لوگوں کو اللہ نے بیج کیلئے رکھا ہے اور اس سے دنیا کی امامت کا کام لینا ہے”۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں کچھ دن پہلے مولانا عبدالقدوس سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پیشکش کی کہ یارک میں میری مسجد میں جمعہ کی تقریر کریں لیکن میں نے معذرت کی کہ میرے لئے گوشہ ٔ عافیت میں لکھنے پڑھنے کا کام کافی ہے اور میرے ساتھ سکیورٹی کے مسائل بھی ہیں۔ مولانا نے حضرت انس کے واقعہ کو بیان فرمایا کہ” حجاج نے کہا کہ میں اپنے ہاتھ سے تجھے قتل کروں گا۔ حضرت انس نے فرمایا کہ تو مجھے قتل نہیں کرسکتا ہے۔ حجاج نے تلوار سے وار کیا تو خود ہی پٹخ کر گرگیا۔ پھر وار کیا تو پھر اوندھے منہ ہوکر گرگیا۔ تیسری بار حملہ آور ہونا چاہا تو رُک گیا۔ حجاج کے جلادوں نے کہا کہ کیوں رُک گئے ہو؟۔ حجاج نے کہا کہ اس کے پاس اردگرد میں دوشیر ہیں۔ پہلے ان کے منہ بند تھے اور اب وہ منہ کھولے کھڑے ہیں ،اگر میں نے حملہ کیا تودونوں شیر مجھے کھاجائیں گے”۔
میں نے عرض کیا کہ ایسا ہوجاتا ہے ۔ مجھے اور دوسرے دو افراد کو گاڑی میں دہشت گردوں نے شدید فائرنگ کا نشانہ بنایا لیکن اللہ تعالیٰ نے حفاظت رکھی۔ اور پھر جب رات کو دوبارہ ملاقات ہوئی توبلا تکلف ازراہِ مزاح کہہ دیا کہ جب اہل بیت کو کربلا میں دہشت گرد گھیر لیتے ہیں تو پھر ہمیں بچانے شیر نہیں آتے۔ حالانکہ حضرت عثمان کو شہادت سے حضرت حسن و حسین بھی نہیں بچا سکے تھے۔ مولانا عبدالقدوس نے بتایا کہ ” جب وہ23،24سال کی عمرکے تھے تو مدرسے کے فاضل تھے۔ مولانا اللہ یار خان ڈیرہ اسماعیل خان تشریف لائے تھے تو مجھے اپنے پاس چارپائی پر بٹھادیا۔ بڑے بڑے علماء کرام نیچے بیٹھے تھے اور یہ عجیب لگ رہا تھا۔ مولانا اللہ یار خان نے عربی کے کچھ اشعار پڑھے جس کو میں نے لکھ لیا اور دوسرے عالم دین نے لکھنے کی کوشش کی تو نہیں لکھ سکا ۔ مولانا اللہ یار خان نے فرمایا کہ یہ اس جوان کا کام ہے ۔ تم سے یہ نہیں ہوسکتا”۔ مولانا عبدالقدوس اب سکول سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزاررہے ہیں۔ طارق کلاچی کے ساتھ وہ ایک سکول میں ڈیوٹی کرتے رہے ہیں۔ جب طارق کلاچی نے میرے والد سید مقیم شاہ سے کہا تھا کہ محسود افسر سے سفارش کردیں کہ وہ افغان رفیوجز میں کسی نوکری پر لگادیں تو والد صاحب ان کی بیٹھک میں طارق کلاچی کو لیکر گئے۔ جب پتہ چلا کہ واش روم میں وضو بنارہے ہیں تو محسود افسر سے کہا کہ ” نماز چھوڑ و، اس آدمی کو نوکری پر لگاؤ۔ شرمگاہوں کو دھونا، وضو کرنا اور نمازیں پڑھنا بوڑھی عورتوں کا کام ہے۔ مردوں کا کام دوسرے انسانوں کی خدمت کرناہے”۔ مجھے ابھی یاد بھی آرہاہے کہ طارق کلاچی نے مولانا عبدالقدوس کا بہت پہلے کہیں ذکر بھی کیا تھا۔
مولانا عبدالقدوس نے بتایا کہ ” مولانا اللہ یار خان نے کہا تھا کہ کانیگرم میں بہت پتھر ہیں اور ایک ہیرہ بھی ہے اور میں اس ہیرے کی تلاش میں آیا ہوں اور کوشش کررہا ہوں کہ وہ ہیرہ میرے ہاتھ لگ جائے”۔ مولانا اکرم اعوان نے تحریک الاخوان کے نام سے انقلاب لانے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگئے تھے۔
جب ہم نے پاکستان کی تمام زبانوں میں نبیۖ کے آخری خطبے کے چند الفاظ ، کچھ منکرات سے منع کرنے اور کچھ معروفات کی علمی اور عملی ذمہ داری کو پورا کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے ” اللہ کی راہ میں جہاد کرو اور پوری دنیا پر چھا جاؤ”۔” اللہ اور اسکے رسول ۖ کی اطاعت میں وہ طاقت ہے کہ جس سے کمزور سے کمزور تر جماعت بھی فاتح عالم بن سکتی ہے”۔ تواس وقت جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا عبدالکریم بیرشریف لاڑکانہ سمیت بہت سارے علماء کرام نے پاکستان بھر سے ہماری تائید بھی فرمائی اور ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے والد نے ہمارے ساتھیوں سے کہا کہ”40سال سے قرآن وسنت کا درس دیتے ہوئے مدارس میں ہم چوتڑ رگڑ رہے ہیں اورامام سیدعتیق گیلانی کو مان لیں؟”۔ ہمارے ایک سندھی بلوچ ساتھی مختار سائیں نے کہا کہ ” آپ کو کس نے کہا تھا کہ چوتڑ رگڑیں؟۔ چوتڑ نہ رگڑتے ، امام تو سیدعتیق گیلانی ہی ہیں”۔
آج پاکستان کو قوم پرستی اورفرقہ پرستی کی طرف دھکیلا جارہاہے اور کئی لوگ چلے ہوئے کارتوس ہونے کے باجود پٹاخوں کی قیادت کرنے کے متمنی ہیں مگر لوگوں کو معروف چہرے بالکل منکر لگتے ہیں۔ جب بھی کوئی لاش سامری کے گوسالے کی طرح کمال جادوگری سے آواز بلند کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کو منکر نکیر فرشتوں کے سوال وجواب کا سامنا اسکے سابقہ کردار کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے۔ پیپلزپارٹی، نوازشریف، تحریک انصاف، مذہبی طبقے ، قوم پرست عناصر اور کراچی کے مختلف دھڑے بندیاں۔ کوئی کسی پر اعتماد کیلئے تیار نہیںہے۔
آؤ شخصیت پرستی اور گروہ پرستی کی جگہ قومی، مذہبی ، سیاسی ، معاشی ، معاشرتی، ملکی ، صوبائی اور شہری مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی مسائل سے آغاز کریں۔ حلالہ کی لعنت بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ عورت کے حقوق بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ مذہبی منافرت بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جب وژن بہت بڑا ہوگا تو چھوٹے اور بہت ہی چھوٹے مسئلے بھی حل ہوجائیں گے۔ اسلام نے جائز اور ناجائز کیساتھ ہمیشہ زبردست راستہ بھی دیا ہے۔ بنی اسرائیل کی خواتین کو اہل فرعون زبردستی لونڈیا ں بناتے تھے۔ اسلام نے اس کو بدترین ظلم قرار دیا لیکن عورت کیساتھ کوئی جبر وزبردستی ہو تو اس کو حرامکاری اور زنا قرار نہیں دیا۔ ہمارے دور میں اکابرین علماء ومفتیان نے اتنے اندھے ہونے کا ثبوت دیا تھا کہ حاجی محمد عثمان کے مرید و معقتدین کے آپس کے نکاح کا انجام بھی اولادالزنا اور حرامکاری قرار دیا تھا۔ حالانکہ اسلام نے غیر مسلموں کے آپس کے نکاح کو بھی بالکل جائز اور درست قرار دیا ہے۔ نکاح وطلاق کے مسائل میں علماء وفقہاء کے آپس کا اختلاف بھی اتنا گھناؤنا ہے کہ اگر اس پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث ہوگئی تو مدارس اپنے نصاب کو ٹھیک کرنے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائیں گے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیات222سے232تک خواتین کے حقوق بیان کئے ہیں لیکن علماء وفقہاء کا قرآن کی واضح آیات پر اختلاف ہی اسلئے تھا کہ انہوں نے اصل مقصد خواتین کے حقوق کا تحفظ نظر انداز کرکے شوہر کے حق پر بحث کی ہے کہ اس نے اپنا حق استعمال کیا یا نہیں کیا؟۔ آیت226البقرہ میں ایلاء یعنی شوہر کی بیوی سے طلاق کا اظہار کئے بغیر ناراضگی پر 4ماہ کے انتظار کا حکم ہے ۔ پھر اگر وہ آپس میں راضی ہوگئے تو ٹھیک ورنہ عورت کی عدت پوری ہے اور وہ پھر جہاں چاہے شادی کرسکتی ہے۔ جمہور فقہاء ومحدثیں نے کہا کہ ” چار ماہ کیا چار سال اور عمر بھر نکاح میں رہے گی اسلئے کہ شوہر نے اپنا حق طلاق کے اظہار کو استعمال نہیں کیاہے”۔ احناف نے کہا کہ ” چار ماہ تک عورت کے پاس نہ جانے سے شوہر نے اپنا حق استعمال کرلیا اسلئے وہ طلاق ہوگئی”۔
حالانکہ اللہ نے عورت کے حق کے تحفظ کیلئے چار ماہ کی عدت بیان کی ہے کہ اس کے بعد عورت پر کوئی انتظار نہیں ہے اور اس میں بھی اس کی رضامندی کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔ جب نبیۖ نے ایلاء کیا تھا تو اللہ نے حکم دیا تھا کہ ” ان کو نکاح میں رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیدیں”۔ قرآن نے صنف نازک کمزورعورت کو جو تحفظ دیا ہے وہ طلاق کا اظہار ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں اس کا اختیار ہے۔ حنفی مسلک حق کے قریب تھا۔ لیکن جب اللہ نے ناراضگی اور طلاق کی صورت میں عورت کو اختیار دیا ہے تو پھر طلاق رجعی میں اس کا اختیار چھین لینا قرآن وسنت کے بالکل منافی ہے۔ صحابہ کرام اور ائمہ عظام نے دراصل عورت کے اختیار ہی کو تحفظ دیا تھا لیکن بہت بعد والوں نے اسلام کا بیڑہ غرق کردیا۔ جب حضرت عمر کے سامنے مسئلہ آیا کہ عورت کو شوہر نے حرام قرار دیا ہے اور عورت رجوع کیلئے راضی ہے تو رجعت کا حکم دیا اور جب حضرت علی کے سامنے یہی مسئلہ آیا لیکن عورت رجوع کیلئے راضی نہیں تھی تو علی نے پھر رجوع کرنے کو حرام قرار دیا۔ قرآن وسنت کا بھی یہی تقاضا تھا لیکن بعد کے علماء نے قرآن ولاتصفوا بالسنتکم الکذب ہذا حلال وہذا حرم ” اور اپنی زبانوں کو جھوٹ سے ملوث مت کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام”۔ کے خلاف صحابہ کرام ، خلفاء راشدین اور ائمہ عظام کی طرف جھوٹ کی نسبت کردی ہے۔
آیت229کے آخر میں230کے ابتداء میں نہ خلع کا ذکر ہے اور نہ ہی تیسری طلاق کا بلکہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد ایسی جدائی کا ذکر ہے جس میں دونوں میاں بیوی اور فیصلہ کرنے والے اس بات پر اتفاق کرلیں کہ آئندہ کیلئے ان دونوں میں رابطے کا کوئی ذریعہ بھی چھوڑا گیا تو یہ دونوں ایکدوسرے کیساتھ لگ کر اللہ کی حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ جب آپس میں رجوع نہیں کرنے کی بات طے ہوجائے تو پھر عورت کیلئے بھی خدشہ رہتا ہے کہ سابقہ شوہر اس کو کسی اور سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے اور اس ظلم کا خاتمہ قرآن نے کردیا ہے کہ جب تک دوسرے شخص سے نکاح نہ ہو تو پہلے کیلئے حلال نہیں ہے۔ پھر اس کے بعد کی آیات231اور232میں پھر بھی واضح کردیا ہے کہ عدت کی تکمیل کے فوراً بعد اور عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد بھی معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔ آیات226،228اور229میں عدت کے اندر باہمی رضامندی سے معروف رجوع کی وضاحت بھی عورت کے حق کی حفاظت کیلئے ہے تاکہ عورت عدت کے بعد آزاد ی کا سانس لے سکے اور آیات231اور232میں عدت کی تکمیل کے بعد معروف رجوع اور باہمی رضامندی کی وضاحت اسلئے ہے تاکہ یہ ابہام نہ رہے کہ عدت کی تکمیل کے بعد رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے اور سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات میں بھی یہ خلاصہ پیش کیا گیا ہے لیکن حنفی علماء کرام اور مفتیان عظام بھی حقائق کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں۔ میں نے سنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن اپنی نجی مجالس میں ہمارا یہ کہتا ہے کہ اپنا آدمی ہے اور اگر کامیاب ہوگیا تو یہ ہماری جیت ہے۔ مولانا میرے سامنے بھی یہ بات کہہ چکے تھے اور آج ہم یہی کہتے ہیں کہ ” ہرکوئی ہمارا ہے اور ہم ہر کسی کے ہیں”۔ قاری محمد طیب کی نعت دیوبندی بریلوی اتحاد کیلئے اچھی ہے لیکن ایک عالم دین کی ایسی غزل بھی ہے کہ جس میں سب کی اپنائیت ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

عدت کی علت کیا ہے؟ جاوید احمد غامدی
طلاق کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقے کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی؟
نکاح کے بارے میں قرآن وسنت کے درست تصورات اور مذہبی طبقات کے اختلافات کے حل کی طرف پیش قدمی