پوسٹ تلاش کریں

نوبل انعام کا حقدار پاکستان جس نے تیسری عالمی جنگ رکوائی ، حکمرانو!عوام پر رحم کرو اور لیوی ٹیکس ختم کرو

نوبل انعام کا حقدار پاکستان جس نے تیسری عالمی جنگ رکوائی ، حکمرانو!عوام پر رحم کرو اور لیوی ٹیکس ختم کرو اخبار: نوشتہ دیوار

کرنل انعام الرحیم :بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم جناب! آپ کو اور میرے ناظرین کو میرا سلام پہنچے۔

معمر قذافی:وعلیکم السلام اچھا سر!جو یہ معاہدہ کروایا ہے پاکستان نے، جس طرح فیلڈ مارشل نے اپنا کردار ادا کیا، پاکستانی وزیرِ اعظم نے اپنا کردار ادا کیا، جس طرح تہران میں ایران کو سمجھایا، پھر امریکہ کو سمجھایا ، جس طرح جے ڈی وینس (JD Vance) آئے ہیں۔ تیسری جنگِ عظیم کی جو باتیں لوگ کر رہے تھے، اس کو جس طرح اسرائیل طول دینا چاہ رہا تھا لیکن پاکستان نے کامیاب سفارت کاری (Diplomacy) سے اس جنگ کو نہ صرف بند کروایا بلکہ معاہدے پر دستخط تک کروائے ہیں، تو اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟۔

کرنل انعام الرحیم:میں سمجھتا ہوں اس صدی کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ یہ صدی کا عظیم فیصلہ ہے۔ پہلے کبھی یہ نہیں ہوا کہ جنگ جو شروع ہو گئی، امریکی صدر بغیر سوچے سمجھے اپنے تمام فوجی لیکر آیا اور اس نے کہاکہ میں تہذیبوں کو تباہ کر دوں گا، پہلے حملے میں ایرانی100نمایاں رہنما، جن میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کی کابینہ تھی پوری ٹیم کو امریکہ نے شہید کر دیا۔ اور امریکہ کا یہی خیال تھا کہ اتنی ہلاکتیں ہو جائیں گی کہ اگلے دن ایران ہتھیار ڈال دے گالیکن ایران کھڑا رہا، استقامت دکھائی، مزاحمت کی۔ ایران کا بنیادی ڈھانچہ، پل اور سڑکیں اس نے تباہ کر دیں اور سب سے پہلا حملہ جو شہر میں کیا گیا، اس میں66بچیاں شہید کر دی گئیں، اسکول پر اس نے حملہ کیا۔ اس کا ذہن یہ تھا کہ ہم ان لوگوں کے حوصلے توڑ دیں گے۔

اسرائیل اس حملے کے پیچھے تھا کیونکہ امریکہ نے خود کہا کہ پہلے ایران کیساتھ اوباما نے بڑا پرامن معاہدہ تھا۔ ایک بھی میزائل فائر کیے بغیر ہم نے ایران کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ اصولی طور پر اسی معاہدے کو آگے چلنا چاہیے تھا مگر اس نے کہا جی کہ یہ ایک فضول معاہدہ تھا، میں ایک اور معاہدہ کروں گا اورایران سے سب کچھ چھین لوں گا۔ ایران نے انکار کر دیا، پھر انہوں نے حملہ کر دیا اور اس حملے میں وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے اور ایران ان کے مقابلے پر ڈٹ گیا۔ یہ وہ نازک لمحہ تھا جب اس نے کہا جی کہ اب میں ان کی تہذیب کو تباہ کر دوں گا۔

یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی حکومت اور خاص طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر آگے بڑھے ، براہِ راست رابطہ کیا سینٹکام سے۔ پاکستان کی ہاٹ لائن پہلے سے قائم ہے۔ پہلی بار ایک اور ہاٹ لائن قائم کی گئی چین ، ایران اور ناٹو (NATO) ممالک کیساتھ بھی۔ تو دیکھا جائے تو یہ111دنوں کی ایک ریلے ریس تھی۔ یہ111دنوں کی جنگ ہے ہمارے لیے۔ ان کیلئے تو وہی جنگ تھی جب امریکہ نے حملہ کیا تھا، لیکن پاکستان کے لیے یہ جنگ111دنوں پر محیط تھی۔

اندازہ کریں چین کسی اور ٹائم زون میں رہ رہا ہے، امریکہ کسی اور ٹائم زون میں ہے، ناٹو کسی اور ٹائم زون میں ہے، روس کسی اور ٹائم زون میں ہے اور ایران کسی اور ٹائم زون میں ہے، لیکن جو سی ڈی ایس (CDS)سیکریٹریٹ تھا وہ چوبیس گھنٹے متحرک رہا اور اس نے تمام نمایاں رہنماں سے رابطہ کیا اور انہیں امن قائم کرنے پر مجبور کیا۔ یہ ناقابلِ تصور تھا کیونکہ ٹرمپ جیسا لاابالی آدمی، غیر متوقع شخص جو صبح بیان کچھ اور دیتا ہے اور شام کو کچھ اور، اس کو ایک معاہدے پر لے آنا اور میز کے اوپر بٹھا دینا، یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

صرف خطے کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ پوری دنیا کی معیشت متاثر ہو گئی تھی، امریکہ میں بھی لائنیں لگنے لگ گئی تھیں۔ ٹرمپ نے بڑی پلاننگ کی کہ اس نے پہلے وینزویلا پر قبضہ کیا اور کہا ہم نے اسکا تیل قبضے میں لیا لیکن جب جنگ چھڑ گئی اور امریکہ کے اندر جب تیل کی قیمت بڑھی تو تیل ایک بنیادی چیز ہے بھائی، اس سے ہر چیز کی قیمت جڑی ہوتی ہے، ہر چیز مہنگی ہو گئی۔اور یہ صرف امریکہ میں مہنگی نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کھلی تھی اور ایران بند کرنا نہیں چاہتا تھاکیونکہ اس کا دنیا پر بڑا برا اثر پڑتا، ہماری ساکھ بھی متاثر ہو گی لیکن ٹرمپ نے کہا میں بند کروں گا اور ایران کو تیل نہیں بیچنے دوں گا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں تیل ملنا مشکل ہو گیا اور یہی وہ وجہ تھی کہ ناٹو ٹرمپ کے خلاف ہو گیا۔ انہوں نے کہا:ہم سے پوچھا ہی نہیں ہے۔

یہ پہلا بڑا جھٹکا تھا جو ٹرمپ نے نیول چیف کو بلا کر کہا کہ آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لیں۔ نیول سیکریٹری نے کہا: ہمارا سب سے بڑا جو بحری بیڑہ ہے”ابراہام لنکن”وہ وہاں ہے۔35دیگر جہاز ہیں، ہم قبضہ کر لیں گے لیکن ہم قبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے، ہم وہاں سے نکل نہیں سکیں گے۔ ایران کے پاس تیز مقرر کشتیاں (Speedy boats)ہیں، وہ انتہائی پرعزم لوگ ہیں، وہ ہمارے بیڑے کا بیڑہ غرق کر دیں گے۔ امریکی نیوی کے سابق چیف نے کہا کہ امریکی نیوی تاریخ میں پہلی بار خوفزدہ ہوئی کہ ڈر کے مارے باہر کھڑی ہوئی ہے۔

ایران نے اگلا قدم یہ اٹھایا کہ ابراہام لنکن پر حملہ کیا،ان کا خیال تھا کہ اس پر حملہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ دنیا کا بہترین دفاعی نظام لگا ہوا ہے ۔12جہازاپنے حصار میں اسے سیکیورٹی فراہم کرتے ہیں۔انہوں نے اس کا ڈیک (Deck) ہیٹ کیا ۔ امریکہ کو ابراہام لنکن لے جانا پڑا، پہلے یونان پھر یورپ کے کسی ملک کی کسی طرف لے گئے، ابھی وہ تقریباً ناکارہ ہو چکا ہے۔ امریکہ چھپائے پھرتا ہے، یہ بتا بھی نہیں رہا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ جب وہ شپ یارڈ میں جائے گا مرمت کیلئے،تو کم از کم ایک دفعہ ایئر کرافٹ کیریئر شپ یارڈ میں مرمت کیلئے جاتا ہے تو ایک سال لگ جاتا ہے،یہ بہت بڑا جھٹکا تھا جو ان کو پہنچا۔

جب امریکہ نے ایرانی جہاز پر حملہ کیا ۔ عملے(Crew)کو گرفتار کر لیا، یہ بڑی نازک گھڑی تھی۔جب سی ڈی ایس نے فوری طور پر سینٹکام سے رابطہ کیا، یہ آپ ایک اور قدم آگے لے گئے، آپ جہاز اور عملے کو ہمارے حوالے کریں ورنہ ہم معاملے سے باہر نکل جائیں گے۔ تو ٹرمپ نے کہا کہ فیلڈ مارشل کہہ رہے ہیں، اسی طرح کریں۔ وہ ایرانی جہاز اور اس کا عملہ پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ پاکستان میں طبی معائنہ ہوا پھر ایران روانہ کیا۔ ایرانی سڑکوں پر نکل آئے جب عملہ بالکل خیر و عافیت سے پہنچا۔ جہاز کو ہم نے مرمت کے بعد حوالے کیااور اسکے بعد ایران کو اعتمادہواکہ پاکستان کچھ کر سکتا ہے، ورنہ دنیا والے مذاق اڑا رہے تھے کہ پاکستان نے کیا سمجھوتہ کرانا ہے، کس طرح ضامن (Guarantor) بن گیا، خاص طور پر بھارتی میڈیا ہمارے خلاف پوری مہم چلا رہا تھا۔

ہمارے ہاں کچھ عاقبت نااندیش تھے جنہوں نے بجائے یہ دیکھنے کے کہ اللہ نے ہمیں عزت دی، پوری دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ وقت گزرنے کیساتھ یہ عالمی بحران بن گیا، ایران نے جنگ کو پھیلا دیا۔ مڈل ایسٹ کے ان ممالک پر حملے کیے جہاں امریکی اڈے (Bases)تھے اور پیغام دیا کہ اگر آپ امریکہ پر تکیہ کر رہے ہیں تو وہ حفاظت نہیں کر سکتا، ہم ان اڈوں پر حملہ کریں گے جہاں امریکی طیارے ہیں۔ بے شمار امریکی طیارے… وہ تو بعد میں سامنے آئے گا کہ امریکہ کے کتنے نقصانات ہوئے۔ سعودی عرب نے کہا جی کہ ہمارا کوئی اڈہ ایران کے خلاف استعمال نہ ہوگا، یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ کیونکہ جیسے ہی سعودی اڈے پر حملہ ہوا تو یہ تھرڈ پارٹی حملہ تھا، ایران نے نہیں کیا۔ اسرائیل موقع کی تاک میں تھا کہ ایک میزائل وہاں مار دو اور پھر ایران کے ماتھے لگا دو۔

فوری طور پر سی ڈی ایس نے سعودی عرب کا دورہ کیا، قائل کیا کہ یہ حملہ ایران نے نہیں کیا پھر وہ ایران گئے اور قائل کیا ۔CDFاور شاہ سلمان (یا ولی عہد)نے اعلان کیا کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، یہ بڑی کامیابی تھی اور اس کے بعد پاکستان نے سیکیورٹی کیلئے اپنے فوجی وہاں تعینات کیے، ایئر فورس تعینات کر دی، ان سے کہا کہ آپ تسلی رکھیں ہم آپ کو تحفظ فراہم کریں گے کیونکہ اگر آپ امریکہ سے تحفظ لیں گے تو آپ ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن جائیں گے۔ یہ پورے مڈل ایسٹ کو بتا دیا گیا، جس کی وجہ سے ہمارا دفاعی معاہدہ ہو گیا سعودی عرب ، پھر قطر نے بھی ہم سے رابطہ کیا تو کئی دوسرے مڈل ایسٹ کے ممالک ہیں جو پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ معاہدہ کریں، ہمیں امریکہ کے تحفظ کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ خود غرض اسرائیل کے کہنے پر کچھ بھی کر سکتا ہے، جبکہ ان کی بلکہ پوری دنیا کی رائے ہے۔ ایران نے ابھی ایک فہرست شائع کی ہے کہ دنیا کے یہ ممالک ہیں جنہوں نے پاکستان کو سراہا ہے۔

یہ معاہدہ آخر میں سوئٹزرلینڈ میں ہوا لیکن ابھی بھی اس کا نام ”اسلام آباد اکارڈ(Islamabad Accord)”ہی ہے۔ نام تبدیل کر کے ”سوئٹزرلینڈ اکارڈ” نہیں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ دنیا کی جتنی قیادت ہے، روس نے کہا جی کہ پاکستان نے اس خطے میں بطور ضامن بہترین کردار ادا کیا۔ چین نے خصوصی شکریہ ادا کیا کیونکہ سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہوا۔ امریکہ چین کا تیل بند کرنا چاہتا ہے تاکہ چین کی ترقی کو روکا جا سکے اسلئے وینزویلا پر قبضہ کیا ۔ چین وہاں سے تیل لے رہا تھا۔ پاکستان نے چین کی لائف لائن کا تحفظ کیا۔ جو ڈرافٹ امریکہ نے بھیجا ایران نے مسترد کر دیا۔ ایران کا جوابی ڈرافٹ بھی مسترد ہو گیا، تو پاکستان نے ڈرافٹ تیار کیا جو انتہائی متوازن تھا پڑھیں تو آپ کو پتہ چل جاتا ہے کہ ایران کے تمام مفادات کا خیال رکھا گیا کہ ایران پر پابندیاں نہیں ہوں گی، تعمیر نو ہوگی، امریکہ فنڈز کا بندوبست کرے گا،300ارب ڈالر وہ دے گا اور لے کر دے گا اور اس کے جتنے ضبط شدہ اثاثے ہیں وہ بھی واشگاف کیے جائیں گے۔ امریکہ کی بڑی خواہش تھی کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی چھین لی جائے۔

امریکہ ہارے ہوئے ملک کے طور پر سامنے آیا۔ جنگوں میں صرف فاتح ہوتے ہیں، رنر اپ کوئی بھی نہیں ہوتا۔ امریکہ جس مقصد کیلئے آیا تھا وہ مکمل طور پر ناکام ہو ا، اپنی جان چھڑانا مشکل ہو گئی۔ پاکستان نے مداخلت کر کے بچایا اور ایک لحاظ سے امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا اور امریکہ کو تمام شرائط بھی ماننا پڑیں امریکہ کہتا تھا کہ ہم ایران پر پابندی لگائیں گے کہ اپنی میزائل ٹیکنالوجی یا میزائل پروگرام کو ختم کریںلیکن اب ٹرمپ نے خود بیان دیا کہ اور بھی ممالک میزائل بنا رہے ہیں تو ایران کو میزائل ترک کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ایرانی اس سلسلے میں بہت سخت تھے کہ ہمارے پاس میزائل ہی تو رہ گئے ہیں۔

نیوکلیئر پر اوباما کیساتھ معاہدہ ہوا تھا کہ اتنے فیصد، چھ فیصد کے قریب یورینیم کی افزودگی وہ کر سکتا ہے، وہ جاری رہے گی؛ اور وہ ایران پہلے بھی اعلان کر چکا کہ ہمارا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

دنیا کے تمام ممالک نے، یہاں تک کہ یو این او کے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کو مبارکباد دی کہ آپ کی بروقت مداخلت سے جنگ بند ہوئی، خطہ امن میں آیا۔ ورنہ اسرائیل، یو اے ای اور بھارت کی خواہش تھی کہ جنگ ہو۔ تینوں نے سراہا نہیں۔ اسرائیل تو سب سے زیادہ اس کا ناقد ہے، اور یہی واحد وجہ بنی اس دفعہ کہ اسرائیل نے معاہدے کے دوران بھی لبنان کے اوپر حملہ کیا اور اس کی وجہ سے ٹرمپ اتنا پریشان ہوا، اس نے کہا اسرائیل ہمارے اس معاہدے کو ختم کرانا چاہتا ہے، ہمیں اس جنگ کے اندر گھسیٹنا چاہتا ہے۔ تو اس نے پہلی بار اسرائیل پر تنقید کی اور یہ بھی کہا کہ آپ ہماری وجہ سے ہیں، اگر امریکہ پیچھے سے ہٹ گیا تو آپ زندہ ہی نہیں رہ پائیں گے۔

پہلی بار جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس میں اسرائیل کی مذمت کی کہ آپ اپنی پوزیشن پہچانیں،ہمیں جنگ میں گھسیٹنا چاہتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہوئی کہ امریکی سینیٹرز نے یہ کہا کہ پہلی بار امریکی عوام دیکھی، جو اسرائیل کی محبت میں مری جا رہی تھی، ان کو پتہ چل گیا کہ جنگ کے پیچھے اسرائیل تھا۔ یہاں تک کہ جو ویٹرن سوسائٹی سابق فوجیوں کی تنظیم نے کہا جی ہم اپنے بچے اسرائیل کیلئے مرنے کیلئے نہیں بھیجیں گے، اور ٹرمپ کو بھی پتہ چل گیا کہ جس نیتن یاہو کو خوش کرنے کیلئے میں یہ کر رہا تھا وہ تو میری بات بھی نہیں مان رہا، اس نے بھی اسے جھڑکا اور پہلی بار اسے ڈانٹا کہ تم کوئی بات مانتے ہی نہیں ہو، تم کیا چاہتے ہو خطے سے؟ اور یہ بھی امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ ان کا ایک انتہا پسند وزیر امریکہ کا دورہ کرنا چاہتا تھا، امریکہ نے اس کو ویزا نہیں دیا کہ ہم آپ کو امریکی سرزمین پر بھی نہیں اترنے دیں گے۔ تو یہ دیکھیں، یہ ہوتا ہے، حالات بدلتے ہیں اور اس میں نفرت اتنی بڑھ چکی ہے۔

معمر قذافی:اچھا سر! اس خطے پر اس کا کیا اثر ہوگا؟ ۔

کرنل انعام الرحیم:پوری دنیا پر کیا اثرات بنیں گے؟ اس کے دو اثرات ہیں؛ ایک اثر تو پوری دنیا پر پڑا کہ تیل کی قیمتیں واپس آ گئیں، جو دنیا کی معیشت تباہ ہو رہی تھی وہ خطرے سے بچ گئی اور چیزیں معمول پر آ گئیں، اور اگلے15-20دن میں تیل کیساتھ جڑی ہوئی چیزوںکے نرخ نیچے آ جائیں گے۔ یہ پہلی نعمت ہے ۔اگر جنگ اور پھیلتی تو شاید تیل پیٹرول پمپوں پر بھی نہ ملتا اگر کنویں تباہ ہو جاتے جو اسرائیل چاہتا تھا۔ تو ایک لحاظ سے پوری دنیا کی معیشت بچ گئی۔ خطے میں سے امریکہ کا اثر ختم ہو گیا، امریکہ اب اس خطے میں کوئی طاقت نہیں رہے گا۔

تیسرا، دنیا میں تصور تھا کہ امریکی جہاز آئیں گے۔ حکومت تبدیل ہو جائے گی، اب امریکہ اپنے جہاز چھپاتا پھر رہا ہے۔ امریکہ نے خود اعلان کیا ہے کہ خطے سے جہاز نکال رہا ہوں اور ہم بحر الکاہل (Pacific)کی طرف جا رہے ہیں، اور ناٹو کو کہا کہ آپ اپنا دفاع خود کریں کیونکہ اس کو اتنا بڑا جھٹکا مل گیا کہ ہم کسی جگہ نہیں کھڑے ہو سکتے، کوئی بھی ملک5-10میزائل مارے گا ہمارا سب سے بڑا ایئر کرافٹ کیریئر اس کو ڈبو دے گا، ہماری بے عزتی الگ ہوگی اور اس کے اوپر آپ کو پتہ ہے ایئر کرافٹ کیریئر کے اوپر کتنے فوجی ہوتے ہیں، اگر ایک جہاز ڈوب جائے تو سمجھ لیں کہ امریکی نیوی ہی ڈوب گئی۔

چوتھا اثر یہ پڑا کہ ہماری مڈل ایسٹ کی ریاستیں سمجھتی تھیں کہ امریکہ ہمارا اتحادی اورمحافظ ہے، اب محسوس کر لیا کہ امریکہ ایک خطرہ ہے۔اگر ہم نے امریکہ سے معاہدہ کیا، کوئی اڈہ دیا تو ایران ہم پر حملہ کرے گا، تو امریکہ اس خطے سے صاف ہوگیا۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ہے بغیر جنگ لڑے اس خطے میں۔ یہاں تک کہ ڈیگو گارسیا (Diego Garcia) کے اوپر جو برطانیہ اور امریکہ کا قبضہ تھا، اب یو این او کی رپورٹ آ گئی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے حوالے کریں، آپ ڈیگو گارسیا پر غیر قانونی قابض ہیں۔ اگلے چند مہینوں میںتحریک شروع ہوگی یو این او کے اندر کہ جناب ان کو اس خطے سے نکالا جائے، ڈیگو گارسیا سے بھی نکالا جائے۔ اصل میں جب ایک دفعہ آپ کے پاں اکھڑ جائیں، پھر آپ کھڑے نہیں ہو سکتے۔

معرقذافی:پاکستان اور اپنی عوام کو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟۔

یہ ہمارے حکمرانوں کی بدنیتی ہے۔ پہلی بات ہے یہ لیوی ٹیکس (Levy tax) ہے، یہ نہیں ہوتا اور نہ حکومت لیوی نافذ کر سکتی ہے۔ ہاں ہنگامی صورتحال میں پارلیمنٹ جانا پڑتا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ دور میں سیلاب آئے تو پیپلز پارٹی نے پہلی بار لیوی ٹیکس پیٹرول پر متعارف کروایا کہ ہمیں پیسہ چاہیے کیونکہ سیلاب آ گئے ۔ سیلاب اتر کر ختم ہو گیا، وہ اربوں روپے اکٹھے کیے گئے، پتہ نہیں چلا کہاں گئے، وہ لوگ ابھی بھی اسی طرح رہ رہے ہیں ، ہر سال سیلاب آتا ہے۔پھر یہ رواج پڑ گیا کہ لیوی ٹیکس کو جاری رکھا جائے۔ مسلم لیگ ن تنقید کرتی تھی کہ یہ عوام پر ڈاکہ ہے لیوی، لیکن اب ان کیلئے یہ مناسب ہو گیا۔ جیسے ہی جنگ لگی، انہوں نے پیٹرول پر لیوی لگا کر اس کو مہنگا کر دیا حالانکہ اس وقت ہمارے معاہدے پرانے نرخ پر ہو چکے تھے، ابھی ہمیں پرانے نرخ پر ہی تیل ملے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ سرے سے لیوی کو ختم کرے یہ صوبوں کو نہیں ملتی، یہ مرکز کے پاس جاتی ہے اور مرکز اپنے ٹھاٹ باٹھ اللے تللوںپر خرچ کرتے ہیں۔ جو گرانٹس، گاڑیاں آئیں، بڑے بڑے گھر بنائے گئے، طیارے خریدے گئے، وہ اس لیوی سے آتے ہیں۔ ہمیں قوم کو یہ شعور دینا چاہیے کہ اب اللہ نے ہمیں عزت دی ہے، حکمران خدا کا خوف کریں اور لیوی کو ختم کریں۔ اب دنیا کو سوچنا چاہیے کہ نوبل امن انعام کا حقدار کون ہے؟ پاکستان ہے جس نے جنگ بند کرائی۔ ٹرمپ جارح (Aggressor) تھا، وہ ہار گیا، ہتھیار ڈال دیے اور ایران کی تمام شرائط قبول کیں اور خطے سے پیچھے ہٹ گیا، واپس گیا۔ ایران فاتح لیکن پاکستان امن کا ضامن ہے، کس کا کیا کردار ہے؟ یہ ہمیں سوچنا چاہیے،میں یہ سوال ناظرین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ کون ہے جس نے کردار ادا کیا؟۔

میں کہتا ہوں فیلڈ مارشل کے جتنے اقدامات ہیں، بڑے شاندار ہیں کہ جنگ جاری، میزائلوں کی بارش میں ایران میں داخل ہوئے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ ایران کی پارلیمنٹ نے پاکستان کے حق میں قراردادِ تشکر پاس کی، وہاں پہنچے تو لوگ سڑکوں پر نکل آئے پاکستانی پرچم اٹھا کر کہ پاکستان ہمارے ساتھ ہے۔ پہلی دفعہ امریکی سینیٹ نے، جہاں ہمارے خلاف قرارداد پاس ہوتی تھی کہ پاکستان کی امداد بند کریں، پاکستان کے حق میں قرارداد پاس ہوئی کہ ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں جس نے امن قائم کیا۔ یو این او کے سیکریٹری جنرل نے بیان دیا، پھر روس، پھر چین… دنیا کا کوئی ملک ایسا ہے ہی نہیں قابلِ ذکر جس نے اس کی حمایت نہیں کی۔تو میں سمجھتا ہوں یہ اس دلیر قیادت کا حق ہے جس نے جنگی حالات میں زندگی خطرے میں ڈالی، وہاں پہنچے، ان کو اپنے ہاں دعوت دی، پورا اسکارٹ (حفاظت) دیا گیا کہ جب آپ آئیں گے… کیونکہ پہلے بھی اسرائیل کئی دفعہ ان طیاروں کو نقصان پہنچا چکامگر اللہ نے مہربانی کی ہمیں سرخرو فرمایا ۔دنیا میں پاکستان کا پہلی بار نام آیا کہ یہ ملک جوہری طاقت (Nuclear power) ہے اور امریکہ جیسے ملک کو میز پر بٹھا سکتا ہے، ڈکٹیٹ کر سکتا ہے کہ یہ شرائط و ضوابط ہیں جس پر آپ صلح کریں گے اور یہاں سے واپس جائیں گے۔ میں کہتا ہوں یہ اللہ تعالیٰ نے ایک تاریخی کامیابی دی ہے جو پاکستان کو ملی۔ اب دنیا میں پاکستان کو نوبل امن انعام کیلئے غور کیا جانا چاہیے۔ کسی اور ملک کو یہ اعزاز نہیں ملا آج تک۔ اتنا بڑا اعزاز! یہ جنگ پھیلتی تو شاید تیسری جنگِ عظیم بن جاتی اس خطے کے اندر اور بہت بڑی تباہی آتی۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوار شمارہ جولائی 2026
ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ
سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ