پوسٹ تلاش کریں

ریاست ہو ماں کی جیسی اور ماں ہوپھر کھدڑی جیسی؟،پاکستان کی حد ہوگئی !

ریاست ہو ماں کی جیسی اور ماں ہوپھر کھدڑی جیسی؟،پاکستان کی حد ہوگئی ! اخبار: نوشتہ دیوار

ریاست ہو ماں کی جیسی اور ماں ہوپھر کھدڑی جیسی؟،پاکستان کی حد ہوگئی !

قرآن وسنت کو دیکھا جائے تو صحابہ کیلئے رسول اللہ ۖ سے اختلاف کی گنجائش تھی جس میں مذہبی فتوے اور اقتدار سے متعلق معاملات ہے۔ سورہ ٔ مجادلہ اوربدری قیدیوںپرفدیہ لیکر معاف کرنے پر حضرت عمر و سعد کے اختلاف کی توثیق ہے اور حضرت عمر نے حدیث قرطاس اور حضرت علی نے محمد رسول اللہ سے صلح حدیبیہ رسول اللہ کے لفظ کو کا ٹنے سے اختلاف کیا تھا۔
یہ علامہ طالب جوہری کاخطیبانہ غلو تھا کہ” رسول اللہ ۖ نے خود رسول اللہ کا لفظ کاٹ دیا اوراگر علی یہ کاٹ دیتا تو زمین و آسمان میں اسلام تلپٹ ہوجاتا”۔ قرآن وسنت جہالت کی دنیا کا نام نہیں ہے بلکہ علم وعمل کا وہ خزانہ ہے جس پر کافروں کا عمل ہوجائے تووہ بھی دنیاپر امامت وخلافت کا حق ادا کرسکتے ہیں۔
اسلام کیلئے اقتدار لازم۔ اسلام اسکے بغیر نافذ نہیں ہوسکتا۔ ہندوستان میں اسلامی اقتدار کا تصور نہیں تھا۔ پاکستان اسلامی اقتدار کیلئے بنا۔ جس کی بنیاد نظام عدل ہے۔ اقتدار کفر کیساتھ چل سکتا ہے ظلم کیساتھ نہیں۔ انگریز گیا نظام نہیں۔ تاجکستان، افغانستان، پاکستان ، انڈیا گیس پائپ لائنTAPIپر امریکی اجارہ داری کا کوئی جواز نہیں ۔ چین،روس، ایران، افغانستان، ہندوستان،پاکستان اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان، افغانستان ، انڈیااور ایران اتنے خطرناک نہیں ہیں جتنا روس و چین سے مل کر امریکہ کو نکالنا ہے۔مذہب، دہشتگردی، قوم پرستی ،سیاسی پارٹی کے نام سے امریکہ اپنا کھیل کھیلتا ہے۔ جمہوریت کی جگہ اسلامی امارت اور عام بینکاری کی جگہ اسلامی سودی بینکاری اس کھیل کا حصہ ہیں۔ افغان طالبان اگر قرآن کا حقیقی نظام پیش کریں گے تو مغرب جمہوری طالبان بنے گا۔
جمہوریت کی وجہ سے جو میڈیا آزاد ہے ، اگر خلافت کے نام پر اس کا گلہ دبایا گیا تو جس طرح مارشل لاء بدنام ہے اسی طرح خلافت بدنام ہوگی۔اسلام کی راہ میں سب سے زیادہ رکاوٹ مولوی خود ہے۔ جمعیت علماء اسلام کے منشور میں جب کسان اور مزدور کے حق کی بات رکھی گئی تو علماء نے بڑی تعداد میں سن1970میں یہ فتویٰ دیا کہ” جمعیت کے اکابراسلام سے خارج ہیں”۔ حاجی عثمان نے جنرل ضیاء کا ریفرینڈم غلط قرار دیا تو مرید خلفائ، علماء اور جرنیلوں نے بغاوت کردی۔ مفتی تقی عثمانی نے زکوٰة کی بنیاد کو جڑ سے ختم کردیا اور سود کو اسلامی قرار دیا تو شیخ الاسلام بن گیا۔ جمہوریت میں اس سے بڑا کفر کیا ہوگا کہ سود اور اللہ ورسول ۖ سے جنگ کو جائز قرار دیا جائے؟۔
مولانا فضل الرحمن کہتا ہے کہ” اللہ نے دین کی تکمیل کردی اور نعمت کا اتمام کردیا۔ جس کی تفسیر یہ ہے کہ اب نیا دین نافذ نہیں ہوسکتا ہے اور حکومت بھی ملے گی”۔حالانکہ مدارس وعلماء نے دین کو مسخ کردیا اور اقتدار کی جب زکوٰة ملتی ہے توپھر خوش رہتے ہیں۔ یزید ومروان کو اقتدار مل گیا تو سعید بن المسیب و دیگر فقہاء کو بکریوں کی طرح ذبح کردیا گیا۔ امام ابوحنیفہ قید میں اور اسلام کو مسخ کرنے والا ابویوسف چیف جسٹس بن گیا تھا۔
جمہوریت اور مارشل لاء بہت بدنام ہوچکے ہیں۔ سب سے پہلے علماء ومفتیان کو قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ میثاق مدینہ اور صلح حدیبیہ کا معاہدہ اسلامی قانون سازی کی روح ہیں۔ اس طرح دورِ جاہلیت کا حلف الفضول بھی۔
البتہ مشرکینِ مکہ نے مسلمانوں سے قطع تعلق کیلئے جو بھی جمہوری معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے شعب ابی طالب میں3سال مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ بھی غلط مگر قابل قبول تھا اور جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ اچھائی سے رکاوٹ کے تصورات نہیں بن سکتے ہیں۔ اگر طالبان سرکاری سطح پر نہ سہی مگر لڑکیوں کے سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کی پرائیوٹ بھی اجازت دے دیں تو افغانستان کی خواتین کو بیرون ملک در در کی ٹھوکریں نہیں کھانی پڑیں گی۔ اگر خواتین کیلئے بہترین طرح کی یونیورسٹیوں کا بندوبست کیا گیا تو کرغستان کے بجائے کئی لوگ اپنی بچیوں کو افغانستان میں پڑھانا پسند کریں گے۔
پاکستان چین اور ہندوستان کو بحری اور بری راستے سے راہداری دے ۔ امریکہ ان پر پابندیاں نہیں لگاسکتا ہے۔ جب ایران کے گیس وتیل سے چین وہندوستان کو استفادہ ملے گا تو پاکستان بھی اس کے فیوض وبرکات سے محروم نہیں رہے گا۔
نبی کریم ۖ کے مختلف معاملات پر اختلاف اور اس کی توثیق سے جمہوری نظام کو تقویت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش رکھی ہے تو حضرت ابوبکر وعمر سے بھی سعد بن عبادہ نے اختلاف کیا تھا جس کو جنات نے ماردیا تھا؟ یا پھر ریاستی جنات کا مسئلہ اس وقت شروع ہوا تھا؟۔
نبی ۖ نے ابن صائد دجال کو مارنے کی اجازت بھی نہ دی جس نے نبی ۖ سے کہا کہ آپ امیوں کے رسول ہیں اور میں تمام جہاں والوں کیلئے رسول ہوں۔ریاست پہلے ماں تھی جس کو سینے سے لگاتی تھی ،وہ خوش ہوتا تھا، جس کو دور کرتی تھی تو وہ چیخناچلانا شروع کردیتا تھا۔ اب کھڈری ماں بن چکی ہے جو سینے سے لگانے والے کو بھی خوش نہیں رکھ سکتی۔اقتداراور اپوزیشن والے سبھی اس سے نالاں ہیں جو مکافات عمل ہے۔

فرنٹ لائن ڈیفینڈرسمی بلوچ کو مبارکباد بلوچوں کے حقوق کیلئے ان کی مسلسل جدوجہد مظلوم بلوچ قوم کیلئے حوصلے کی علامت ہے۔ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ

بلوچ قوم خاص طورپر بلوچ خواتین نے بلوچوں کے حقوق کیلئے جس حوصلے کیساتھ جدوجہد کی، اس کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ سمی دین بلوچ مسنگ پرسن ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بہادر بیٹی ہیں۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈر ایوارڈ جیتنے پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے مبارکباد پیش کی ۔جو ظالم ریاست اور مظلوم عوام کی عکاسی کرتا ہے لیکن پاکستان کو دیگر برادر اسلامی ممالک سے بھی جدا کرتا ہے۔جہاں یہ آزادی اور اس کیلئے جدوجہد کا تصورنہیں!

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جون2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

احمد شاہ ابدالی کی پہلی دُرّانی آزاد پشتون ریاست تاریخی حقائق کی روشنی میں
سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا