پوسٹ تلاش کریں

سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ

سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ اخبار: نوشتہ دیوار

آپ اپنا آدھا بجٹ سود پر لگارہے ہیں۔ ہندو سینیٹر دنیش کمار

پاکستان کا آدھا بجٹ سود کی نذر ہو رہا ہے۔ میں قرآن پاک کی آیات کوڈ کرتا ہوں تو پتہ نہیں سر، نہیں فتوی تو نہیں آتا ، میں حقیقت بتاتا ہوں، سورہ البقرہ آیت نمبر275میں:جو لوگ سود کھاتے ہیں، قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہونگے جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہے ، پاگل بناد یا ، اس طرح کھڑے ہوں گے ۔ سورہ البقرہ279،278میں:اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کیلئے تیار ہو جاؤ۔

جنہوں نے اسلام قبول کیا ، مسلمان کے افعال ایسے ہیں تو میں کیسے اسلام قبول کروں ؟ ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ آئیں، بٹ صاحب، ن لیگ کی حکومت ہے، اسلامی بن جائیں، میں اسلام قبول کر لوں گا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے، حدیث نمبر1598، ٹھیک ہے سر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ حضور پاک ۖ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ پھر بھی ہم اپنے بجٹ کا50فیصد حصہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ جنگ میں دے رہے ہیں، سر یہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے۔

پاکستان نے پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچایا ، سر یہ کس کی وجہ سے ہوا؟۔اگر ہم اس شخص کا نام نہ لیں تو منافقت ہوگی، یہ سید برادری عاصم منیرفیلڈ مارشل کی وجہ سے ہوا ، جن کی وجہ سے یہ چیز ہوئی، کیونکہ ہم نے آج سے14سو سال پہلے اہل بیت کی خدمت کی، مجھے پتہ ہے سید عاصم منیر کیساتھ کوئی غیبی طاقت ہے جس نے یہ ناممکن کام ممکن کر کے دکھایا ہے۔

آج ہم بجٹ پر بحث کر رہے ہیں، کن کو سنائیں؟ سر بجٹ پر بحث کرسیوں کو سنائیں، دیواروں کو سنائیں، اتنی سیریسنیس حکومت کی کہ کوئی منسٹر موجود نہیں، ہمارے لیے شرم کا باعث ہے، ہمیں شرم سے ڈوب مرنا چاہیے چلو بھر پانی میں، اگر چلو بھر پانی ہے مجھے دیں میں ڈوب مروں سر، اور کسی کو نہیں۔

آپ(یوسف رضا گیلانی) کسٹوڈین آف ہاس ہیں، آپ آج انہیں کہیں کہ اگر یہ نہیں آتے تو اجلاس منسوخ کریں۔ سر کہاں ہے؟ (بشری بٹ وزیر ہوتی روز بیٹھی ہوتی ہیں:یوسف رضا گیلانی)۔ نہیں سربشری بٹ صاحبہ کا میں بتاتا ہوں، ان کے ساتھی انہی کے پاؤں کاٹتے ہیں، اس بیچاری کو منسٹر نہیں ہونے دیتے تو اس کی کیا حیثیت ہے؟ یہ بشری بٹ کا یہ میں آپ کو سناتا ہوں، بشری بٹ منسٹر ہوتے ہوتے رہ گئی ہے کیونکہ ان کے اپنے ساتھیوں کی سازشوں کی وجہ سے۔

یہاں پر کوئی بھی بیٹھا نہیں جو ہماری سنے، میں صرف اور صرف دیواروں کو سناؤں، قائد اعظم محمد علی جناح کو اپنا دکھڑا سناؤں سر، آپ اجازت دیں تو سناؤں یا نہیں۔ میں ابھی آپ کو اپنا دکھڑا سناتا ہوں اور تو اور سنگین مذاق دیکھیں۔ آپ کے سائے تلے سنگین مذاق ہو رہا ہے، پہلے بجٹ میں افسران کی کرسیاں بھری ہوتی تھیں، ہماری تجاویز وہ نوٹ کرتے تھے، آج دو تین پتہ نہیں کون سے افسر بیٹھے ہیں بیچارے، سینیٹ کو کوئی سیریس نہیں لیتا، حیران ہوں کہ کس قسم کا ایوان بالا ہے، ہم گھر سے پگ باندھ کر آتے ہیں کہ ہم ایوان بالا کے ممبر ہیں اور یہاں پر آکر یہ حشر ہے ہمارا کہ کوئی بھی ہماری نہیں سنتا۔ شکر ہے منسٹر صاحب آگئے ، میرے خیال میں ڈیسک بجائیں رانا صاحب آگئے ۔ دیر کر دی مہربان آتے آتے، (ویسے20گریڈ کے افسرز ، ایف بی آر، فنانس سے بیٹھے ہیں، فنانس کمیٹی کے چیئرمین خود نوٹ کر رہے ہیں:گیلانی)۔ سر فنانس کمیٹی کے چیئرمین نے خود اپنی بے بسی کا اعلان کیا کہ میری کوئی نہیں مانتا، یہ سن لیں ان سے۔ تو ان کا بیٹھنے کا فائدہ ؟۔یہ سچ نہیں بولتے ، باہر آکر بولتے ہیں کہ ہماری اس حکومت میں ذرہ برابر نہیں چلتی، فنانس کمیٹی کے چیئرمین کا فائدہ کیا؟

(زیادہ سچ نہیں بولو دنیش:ایوان سے آواز) ۔اگر ہم سچ نہیں بولیں گے تو ملک کا بیڑا غرق کریں گے جھوٹ پر رہے تو اسی طرح سے نہیں چلے گا۔ میں آتا ہوں بجٹ پر۔ اپوزیشن نے کہا کہ یہ غریب دشمن بجٹ ہے، حکومت نے کہا کہ یہ غریب دوست بجٹ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں کہوں کہ دشمن بجٹ ہے تو بھی غلط ہے، دوست بجٹ ہے تو بھی غلط ہے سر۔ ہم ایسی مشکلات میں ہیں کہ عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے ہیں میں ایمانداری سے اپنے اوپر لیتا ہوں، یہ آپ بتائیں، یہ کتابوں کا پلندہ اتنا بڑا بجٹ کا، کیا یہ میں14دن میں پڑھ سکتا ہوں اور ہم بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمیں عبور حاصل ہے، میں کہتا ہوں کہ نالائق ترین ہوں کہ ایک پرسنٹ بھی یہ کتابیں نہیں پڑھیں، اپنے اوپر لیتا ہوں دوسروں کو نہیں بولتا ۔ اتنی بڑی کتاب ہے، یہ بیوروکریٹک بجٹ ہے، کوئی عوامی بجٹ نہیں، جو بیورو کریسی چاہتی ہے، جو ڈکٹیشن ملتی ہے وہی آتا ہے ۔بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ سے60ارب کے قریب کٹوتی کی گئی اور وفاق کو دیا گیا ۔ بلوچستان ملک کا آدھے سے زیادہ ہے۔ سمندری ایریا کاؤنٹ کریں بلوچستان کا تو پاکستان کا60فیصد بنتا ہے،آپکے شاید علم میں نہیں ہو،250ارب، دو کھرب50ارب ٹوٹل بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ ہے جو لاہور کے بجٹ سے بھی کم ہے ،60ارب کی کٹوتی بہت بڑی ناانصافی ہے۔ رانا ثنا اللہ صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ بلوچستان کے لوگ عذاب میں ہیں۔ دہشت گردی ہے، وہاں کے لوگوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، مگر بلوچستان کے اوپر وفاق بھی اگر ایسا کرے تو ہم کہاں جائیں؟
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ جولائی2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

نوشتہ دیوار شمارہ جولائی 2026
ایران کے شہر قم میں استاذ کربلا عراق کے رہائشی سیدکمال حیدری اور پاکستانی شیعہ کا موازنہ
سود اللہ اور رسول اللہ ۖ کے خلاف کھلی جنگ