وماقدروااللہ حق قدرہ- اورانہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا قدر کرنیکا حق تھا(قرآن)
جون 16, 2026
وماقدروااللہ حق قدرہ
اورانہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا قدر کرنیکا حق تھا(قرآن)
دیوبندی بریلوی اہلحدیث شیعہ اگراس قدر کی ترازومیں کھڑے ہوں توپھرسدھر بھی جائیںگے
پاکستان میں دیوبندی بریلوی اکثریت ہے اور درس نظامی مدارس کا نصاب ایک ہے۔ جمہور کے مقابلے میں یہ حنفی ہیں۔ امام شافعی امام مالک کے شاگرد اور امام احمد بن حنبل کے استاذ تھے۔ اہل حدیث اور شیعہ بھی احناف کے خلاف ہیں۔
درس نظامی میں دین کے4اصول ہیں۔ قرآن، حدیث، اجماع اور پھر آخر میں ان تینوں پر کسی چیز کا قیاس کرنا ہے۔
دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا کہ
”قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہے مگرلفظی بھی ہے جو جان بوجھ کر کی یا مغالطہ سے” ۔
(فیض الباری شرح صحیح بخاری)
کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان کے قاضی عبدالکریم نے مفتی محمد فرید کی خدمت میں خط لکھ دیا کہ ”یہ عبارت پڑھ کر میرے پیروں سے زمین نکل گئی کہ کافروں کی طرف تو ہم یہ نسبت نہیں کرسکتے ہیں کہ جان بوجھ کر تحریف کی یا مغالطہ سے اوراگر صحابہ کرام کی طرف یہ نسبت کرتے ہیں تو ہم دوسروں پر کفر کے فتوے جس بنیاد پر لگاتے ہیں اس کے مرتکب ہم خود ہیں”۔
اس پر علامہ غلام رسول سعیدی نے دارالعلوم کراچی سے فتویٰ لیا تو اس پر کفر اور کافر کا فتویٰ لگادیا گیا۔ دیوبندیوں کے خلاف فتوؤں کا طوفان آتا لیکن میں نے لکھاکہ” یہ درس نظامی کا معاملہ ہے”۔ شیعہ پر دیوبندی نے تین وجوہات سے فتویٰ لگایا کہ قادیانی سے بدتر کا فر ہیں ۔ پہلی وجہ قرآن کی تحریف کا عقیدہ تھا پھر دیوبندی اپنے اس فتویٰ سے پیچھے ہٹ گئے ۔
اتحاد، اتفاق اور وحدت کیلئے ضروری ہے کہ پیمانہ (قدر) ایک ہی ہو۔ جب پیمانہ اور ترازو میں فرق ہوگا تو اتحاد، اتفاق اور وحدت کے نام پر ڈھکوسلہ ہوسکتا ہے حق اور حقیقت نہیں۔
اصول فقہ میں ہے کہ ” شافعی کے ہاں خبر واحد کی حدیث حجت ہے لیکن قرآن کی کوئی اضافی آیت نہیں اور حنفی کے ہاں قرآن سے باہر آیت بھی حجت ہے لیکن حدیث صحیحہ نہیں”۔
عورت کا نکاح بغیر اجازت ولی باطل ہونا200احادیث حد تواتر ہیں لیکن احناف خبرواحد کے نام پر مسترد کرتے ہیں اور کفارہ یمین میں متتابعات کا لفظ قرآن کی خبر واحد ہے جو حنفی کے ہاں آیت اور شافعی کے ہاں قابل قبول نہیں ہے۔
چلو قرآن وحدیث پر اتفاق نہیں تو اجماع پر اتفاق ہے؟۔ ”اہل سنت کا اجماع معتبر ہے، ائمہ مجتہدین ، اہل مدینہ کا بھی اور اہل بیت کا بھی ”۔(نورالانوار: ملاجیون) گویا انتشار کا نام بھی اجماع رکھ دیا ہے۔ ایک کا اجماع کچھ تو دوسرے کا کچھ؟۔
مولانا منبر پر کہتا ہے کہ قرآن میں کوئی تحریف نہیں ہوئی، ایک ایک لفظ محفوظ ہے لیکن کتابوں میں بدل جاتا ہے۔ صدر تنظیم المدارس مفتی منیب الرحمن کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھاکہ قرآن میں اصل کے اندر آیت ”وماخلق الذکر والانثیٰ” نہیں ہے بلکہ ”والذکر والانثیٰ ” ہے۔لیکن عوام میں فتنہ برپا ہوگا اسلئے اس پر گزارہ کرنا چاہیے۔ سورہ احزاب کا لکھا ہے کہ آدھی غائب( تبیان القرآن: علامہ غلام رسول سعیدی)۔
جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ
”سورہ النساء و دیگر سورتوں کا کچھ حصہ قرآن اور باقی قرآن نہیں اضافہ ہے”۔
مصحف ابن کعبمیں سورہ احزاب سورہ بقرہ جتنی تھی، زانی کو سنگسار کرنے کا حکم تھا۔ دعائِ قنوت ”سورہ خلع” اور”سورہ حفد” تھیں۔ رضاعت اور سنگسار والی آیات بکری کھاگئی۔ابن ماجہ
صدر وفاق المدارس مفتی تقی عثمانی کے استاذ مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ بخاری نے حضرت علی کی روایت اسلئے نقل کی ہے کہ ”رسول اللہ ۖ نے مابین الدفتین (دو گتوں میں) کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑا” کہ شیعہ کی تردید ہے کہ تم قرآن کی تحریف کا عقیدہ غلط رکھتے ہو اسلئے کہ تمہارے حضرت علی نے قرآن کی تحریف کی تردید کی ہے لیکن جہاں تک قرآن میں تحریف کے عقیدے کی بات ہے تو امام بخاری تحریف کے قائل تھے اور قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ (کشف الباری)
قرآن :” جو رسول پر نازل ہوا مصاحف میں لکھا ہوا نقل متواتر بلاشبہ”۔ مصاحف میں لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں، لکھائی نقوش ہیں۔ متواتر سے غیر متواتر آیات نکل گئیں، بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی اگر چہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شک ہے اور شک اتنا قوی ہے کہ اس کا منکر کافر نہیں ”۔
لکھائی قرآن نہیں، اس پر حلف نہیں ہوتا ،سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے (قاضی خان اور فتاویٰ شامی )
قرآن متواتر ہے توغیر متواتر آیات کیوں؟
۔ اپنی تعریف کو خود بھی نہیں مانتے؟۔ پھر عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں متعہ غیر متواتر آیت لیکن حنفی پھر کیوں نہیں مانتے ہیں؟۔بلاشبہ سے بسم اللہ نکل گئی تو ذٰلک الکتٰب لاریب فیہ پر ایمان ختم؟۔
امام مالک کے ہاں نماز میں بسم اللہ پڑھی تو نماز نہیں ہوگی اور امام شافعی کے ہاں نہیں پڑھی تو نماز نہیں ہوگی مگر یہ کیوں؟۔
ٹانک کے مولانا فتح خان (مولانا فضل الرحمن نے اپنی بچکانہ حرکت سے ڈسٹرکٹ خطیب کا سرکاری منصب چھین کر کسی اور کے حوالہ کے کیا تھا)سے پوچھ لیا کہ ” جب بسم اللہ قرآن وحدیث میں ہے تو کیا پھر اس پر اجتہاد کی گنجائش ہے کہ مالکیہ کے ہاں قرآن کا حصہ نہیں ، شوافع کے ہاں قرآن اور سورہ فاتحہ کا حصہ ہے اور احناف کے نزدیک قرآن کا حصہ ہے مگر اس میں شک ہے؟”۔ تو مولانا فتح خان نے فرمایا کہ ” پیر صاحب تجھ پر اللہ کا فضل ہے ،اگر میں یہ بات کروں گا تو میری مسجد کو گرا دیں گے اور گھر پر حملہ کرکے ہم سب کو مار دیں گے۔ آپ بازارمیں گھومتے ہیںاور کوئی کچھ نہیں کہتا۔ آپ کے ذریعے راستہ ہموار ہوگا تو اپنی زبان کھول سکیں گے ۔ شیخ الحدیث مولانا زکریاکی اورادکو شروع کیا تو تبلیغی جماعت نے پروپیگنڈہ کیا کہ سفید داڑھی کے بعد گمراہ ہوگیا۔ جس کی وجہ سے میں نے وہ اللہ کا ذکر چھوڑ دیا۔ دین کا علم اور سمجھ ہمارے پاس ہے مگر آپ جتنی جرأت نہیںرکھتے ہیں’ ‘۔
شدت پسندی ہم کو نبی کریمۖ نے سکھائی نہیں
ابن ابی کی لاش بھی بے حرمتی سے دفنائی نہیں
دین کے نام پر دنیا ہم نے الحمد للہ کمائی نہیں
اسلام انقلاب ہے ملاؤں کی جگ ہنسائی نہیں
میں بندہ گناہ گار ہوں مانا مری بے خطائی نہیں
پر ہاشمی حسنی حسینی سید ہوں حلالے کا فدائی نہیں
ٹھوکریں کھائیں بہت لیکن تحریک مرجھائی نہیں
رکنا محال ہے جب تک دنیا ہم نے سلجھائی نہیں
ہرمشکل کے ساتھ آسانی مایوسی کفر لب کشائی نہیں
واللہ خیر الماکرین سادگی ہے بدچلن خدائی نہیں
ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک شیعہ وکیل جو سنی حافظ عالم لگتا تھا جب میں نے کہا کہ قرآن میں سورہ مجادلہ میں نبیۖ کی رائے کے خلاف وحی نازل ہوئی، اس طرح بدری قیدیوں سے فدیہ لینے اور انشاء اللہ کہنے وغیرہ پر تو کیا ائمہ اہل بیت نبیۖ سے بڑھ کر تھے کہ ان سے اختلاف کی گنجائش نہ ہو؟۔ اس نے کہا کہ ”آپ نے میری سوچ کا محور بدل دیا ، اس زاویہ سے سوچوں گا” لیکن بدقسمتی سے وہ شہید کردئیے گئے اپنوں یا غیر کے ہاتھوں؟۔ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ قرآن کی وجہ سے شیعہ کا عقیدہ امامت بھی ٹھیک ہوجائے گا جس کو علامہ ضیا ء الرحمن فاروقی نے سنی شیعہ اختلاف کا محور قرار دیاہے۔ جب میں نے علامہ طالب جوہری سے پوچھا کہ نبی اکرم ۖ سے اختلاف جائز تھا؟۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ میں سورہ مجادلہ کا حوالہ دیا تو اس نے قرآن منگوایا اور دیکھنے کے بعد کہا کہ ”یہ متشابہات میں سے ہے”۔ میں نے کہا کہ ”یہ محکمات میں سے ہے”اور وہ مان بھی گیا اور مولانا فتح خان کی طرح کہا کہ ”آپ اپنا کام کریں تو ہمارے لئے بھی راستہ ہموار ہوگا”۔ میں اور پیر عبدالوہاب شاہ ڈاکٹر اسرار احمد کے پاس گئے اور قرآن کے تحفظ کے حوالہ سے درس نظامی کا بھانڈہ پھوڑ دیا تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ”میں کھل کر ساتھ نہیں دے سکتا مگر جس طرح امام زید کا چھپ کر امام ابوحنیفہ نے ساتھ دیا ،میری خاموش حمایت ہوگی”۔
فما لھم عن التذ کرة معرضینOکانھم حمر مستنفرةOفرت من قسورةO
”اور انہیں کیا ہوا ہے کہ تذکرہ سے اعتراض کرتے ہیں۔گویا بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے بھاگے ہیں”۔ (سورہ مدثر آیات49،50،51 )
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلۂ عالم افکار
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ