پوسٹ تلاش کریں

ریشما سوات لاپتہ

ریشما سوات لاپتہ اخبار: نوشتہ دیوار

سوات کی12سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کے پیچھے اس کی ماں اور گھروالوں کی حالت بہت خراب ہے۔ خدا کے قہر سے ڈریں اور جہاں کہیں بھی ہو تو اس کو اپنی جگہ پر پہنچائیں۔ دلے اور دلال علماء کی بات رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مقابلے میں غلط ہے۔ کوئی بچی جبری اغوا کی جائے یا رضامندی سے تو رسول اللہ ۖ کی احادیث کے مطابق یہ نکاح باطل ہے جبکہ عدالت نے16یا18سال کے بعد جو پروٹکشن دی ہے وہ تو مفتی تقی عثمانی اپنے لئے اور میرے لئے قبول نہیں کرتا کہ عربی نسل کیلئے ولی کی اجازت ضروری ہے لیکن پٹھان، پنجابی، بلوچ اور سندھی کیلئے فتویٰ جواز کا ہے۔ یہ غلط ہے۔

بالفرض اگر ریشما12سال میں بالغ ہوچکی ہے اور مسلک حنفی کے مطابق اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور مولانا فضل الرحمن نے اپنی سیاسی ، اخلاقی اور مذہبی طاقت سے اس کو پناہ دی ہے اور حکومت نے ایسے حادثات سے بچنے کیلئے لڑکی کی عمر18سال کا قانون بنایا ہے۔ مفتی تقی عثمانی کا تو فتویٰ یہ ہے کہ جبری اغواء کرلی تب بھی نکاح درست اور جج خلع بھی نہیں دے سکتا۔پھرتو اسلام مسائل کو حل نہیں پیدا کرتا ہے؟۔

دلے طبقے نے دین کو چودین بنادیا۔

قرآن و حدیث کو مسخ نہ کیا ہوتا تو لڑکی پرپھر والدین اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتے۔

و لاتکرھوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنًا

”اور تم اپنی لڑکیوں کو بغاوت پر مجبور نہ کرو،اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں”۔ غلط تفسیر کر ڈالی کہ” اگر تمہاری لونڈیاں پاکدا منی چاہتی ہوں تو ان کو بدکاری پر مجبور مت کرو”۔
نبیۖ کے پاس ایک عورت نے شکایت کی کہ اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح ہوا ہے تو نبیۖ اس کو معطل کردیا۔ نہ کسی ولی کو اجازت ہے کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرے اور نہ اغواء کرکے اس کا جبری نکاح جائز ہے۔ شکار پور سندھ کے کچہ میں ملا وحید قتل کردیا گیا لیکن فتویٰ کس کا چل رہاہے؟۔ جس کی وجہ سے کچہ کا علاقہ مظلوم لڑکیوں ، بچیوں اور خواتین سے بھرا ہوا ہے؟۔ جس طرح حلالہ کی لعنت کیلئے عورت کو شوہر پیش کرتا ہے اور معاشرہ سمجھتا ہے کہ یہ لعنت مجبوری ہے اسی طرح

کچے کے علاقے میں اغواء اور خرید وفروخت کے پیچھے مفتی تقی عثمانی کا فتویٰ ہے۔
ــــــــــ

خان جرنلسٹ نے نمائندہBBCاردو پشاور عبدالحی کاکڑ کا حقائق سے بھرپور انٹرویو کیا

مگر پشتو زبان میں ہے جس میں سوات اور قبائل کے طالبان میں بہت فرق بتایا کہ ایک طرف پنج پیری میںشدت پسندی کے علاوہ خواتین سے زبردستی کا نکاح بھی کیا جاتا اور دوسری طرف بیت اللہ محسود کی شادی میں روایتی ڈھول تھا اور لوگوں پر سختی نہیں تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قبائل آزاد منش ہیں اور کسی کو ذاتی مداخلت کی اجازت نہیں دیتے اور سوات میں قبائلی اقدار نہیں ہیں۔ میزبان نے کہا کہ سوات میں روایتی ڈھول ناچ کا کوئی تصور بھی نہیں ہے تو عبدالحی کاکڑ نے کہا کہ ملافضل اللہ اور مسلم خان نے تبلیغ کے ذریعے سوات کی خواتین کو بھی متاثر کیا تھا اور پھر رضامندی اور جبری شادی کا بھی معاملہ چلایا تھا۔

اس پشتو پوڈ کاسٹ کو مکمل طور پر اردو میں بھی آنا چاہیے

اور عوام کو پھر یہ تاریخی تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے کہ ننگرہارکے اخوند درویزہ بابا نے ہندوستان میں تعلیم حاصل کی تھی اور پیر بابا کے مرید تھے۔ جس کی شہرت وزیرستان کی معروف شخصیت پیر روشان بایزید انصاری کے مقابلے کی وجہ سے ہوئی۔ مغل اکبر بادشاہ نے ایک طرف آئین اکبر اور دین الٰہی کی بنیاد رکھ دی تو دوسری طرف بایزیدانصاری کی بغاوت کیخلاف اخوند درویزہ بابا کو مکمل سپورٹ کیا۔ اخون دویزہ بابا کا پشاور کے پاس مزار ہے اور کئی کتابوں کے مصنف اور مشہور شخصیت پیر بابا کے خلیفہ تھے اور ان کی کتابیں اسی وقت سے حکومت کی مدد سے شائع ہوتی رہی ہیں لیکن بایزیدانصاری کی کتاب ”خیرالبیان” جرمنی کی لائلبریری سے ملی اور1980ء کی دہائی میں پہلی بار شائع کی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس کے صرف قلمی نسخے تھے۔

قائداعظم یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالب علم نے کہا کہ ”مذہب سے زیادہ مضبوط بیانیہ قومی روایات کا ہوتا ہے”۔

مولانا عبیداللہ سندھی نے لکھا کہ ”اسلام عرب میں نازل ہوا اور عربوں کی جاہلانہ اقدار کا خاتمہ کیا اور قوم کی اچھی اقدار کو معروف کے نام پر سپورٹ کیا۔ قرآن کا مخاطب نشاة ثانیہ میں عالم انسانیت ہے اور پوری انسانیت میں منکرات کا خاتمہ اور معروف اقدار کو سپوٹ کرنا قرآنی احکام کا تقاضہ ہے”۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ۖ کی بعثت کے وقت میں ایک طرف دنیا اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ فارس کے بادشاہ کو عرب شہزادی پسند آئی تو جبری نکاح پر ریاست بھی تہس نہس کی اور بادشاہ کو گرفتار کرکے قتل کردیا۔ پھر شہزادی ہندبنت نعمان کو بچانے کیلئے عرب قبائل نے فارس کیساتھ جنگ کرکے شکست دیدی۔ اس وقت لوگ فرسودہ مذہبی نظام سے بیزار تھے۔ کچھ صحابہ کرام جیسے ابوبکر صدیق اکبر نے بتوں سے ویسے ہی اپنی شدید بیزاری کا اظہار کیااور اسلام کو بلا چوں چراں قبول کرلیا۔

سورہ مجادلہ ظہار کیخلاف حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی مزاحمت سے بارگاہ پیمبرۖمیں نازل ہوئی۔

سورہ نور میں لعان کا حکم نازل ہوا تو انصار کے سردار سعد بن عبادہ نے اپنی غیرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کردیا۔ دنیا میں حضرت خولہ کی جرأت سے ظہار کا خاتمہ ہوگیا لیکن حضرت سعد بن عبادہ کی غیرت سے انصار نے بھی درگزر کی درخواست کردی۔ جو بیوی کو طلاق کے بعد کسی اور شادی کی اجازت نہیں دیتاتھا۔ قرآن میں رسول اللہ ۖ کی ازواج کا یہ حکم تھا کہ امہات المؤمنین ہیں اور ان سے نکاح کی کبھی بھی کسی کو اجازت نہیں ہے۔ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین کی بیویاں بھاگ کر مدینہ آگئیں تو رسول اللہۖ نے واپس نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس کی تائید کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ ”وہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں اور یہ ان کیلئے حلال نہیں ہیں” اور ساتھ میں قبائلی غیرت کا لحاظ رکھتے ہوئے حکم دیا کہ اپنی کوافر بیگمات سے تم بھی مت چمٹے رہو۔حضرت عمر نے کافرہ بیوی کو چھوڑ دیا تو اس کے ساتھ امیر معاویہ نے شادی کرلی تھی۔ جب مکہ فتح ہوا تو حضرت علی نے اپنے مشرک بہنوئی کو قتل کرنا چاہا مگر رسول اللہ ۖ نے پناہ دی۔ رسول اللہ ۖ کے بعد امت کے پہلے مولانا علی نے سمجھا کہ جب دو طرفہ مشرک و مؤمنہ اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کیلئے حلال نہیں تو رسول اللہۖ کی رہنمائی سے معاملہ حل ہوگیا اور جب رسول اللہ ۖ سے خولہ نے ظہار پر مجادلہ کیا تو اللہ نے عورت کے حق میں حکم نازل فرمایا اور رسول اللہۖ نے بھی عورت کے حق میں فیصلہ فرمایا۔

جب حضرت عمر کے دور میں شاید حضرت سعد بن عبادہ کی طلاق شدہ بیگمات نے شادیاں کیں تو انہوں نے مدینہ چھوڑ دیا اور شام میں دمشق کے قریب گاؤں میں رہائش اختیار کرلی لیکن شاید جن بیگمات کو طلاق کے بعد شادی نہیں کرنے دی تھی تو ان کے نئے شوہروں نے کہیں پہلے کا حساب چکایا نہ ہو۔ جس کو پھر جنات کے کھاتے میں ڈال دیا گیا تھا۔

ہمارے واقعہ میں13فراد مہمانوں سمیت شہید ہوگئے

اور طالبان نے معافی بھی مانگی لیکن یہ ہمارے اندر کا کوئی معاملہ تھا یا مذہبی شدت پسندی کا؟۔ اس پر جب تک درست تحقیق نہ ہو تو بہت ساری آراء ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح دوسرے واقعات کے محرکات تلاش کئے جائیں تو شدت پسندی کے حوالے سے اس کی بہت کم مقدار ہوسکتی ہے۔

جہاں تک سوات میں عورتوں کی جبری شادیوں کا معاملہ ہے تو وقت ٹی وی نے بھی بہت ساری خبریں دی تھیں۔البتہ سوات جیسے غیرتمند لوگوں کی بیٹیوںکے حوالہ سے طالبان جبری شادیاں کیسے کرسکتے ہیں؟۔

2007ء میں مفتی تقی عثمانی کا ”فتاویٰ عثمانی جلد دوم” شائع ہوئی ہے اور اس میں جبری نکاح کو شریعت کا تحفظ دیا گیا ہے۔

فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو کیا پتہ ہے کہ ان علماء ومفتیان نے کیا کیا گل کھلائے ہیں؟۔ فتاویٰ عثمانی جلد دوم2022ء میں دوبارہ شائع ہوئی اور مرتب کرنے والے لونڈے مفتی زبیر کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح کتے کو ہڈی جہاں سے بھی ملے تو اس پر لڑنے کیلئے تیار ہوتاہے۔ اسی طرح فرقہ واریت اور تنظیموں سے لیکر جہاں سے اوجھڑی میں کچھ بھی جارہاہو تو جو علماء اس کیلئے بک جائیں تو وہ بعلم باعوراء کی طرح ہیں جس کی مثال قرآن نے کتے سے دی ہے کہ اس کو چھوڑ دو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے اوربوجھ ڈالو تو بھی ہانپ رہا ہوتا ہے۔
ــــــــــ

سلطان رنداور صوبہ سندھ

سلطان رند کے چینل پر بہت ساری اغواء شدہ بچیوں اور بچوں کی ویدیوز ہیں۔ یہ سندھی میں بندہ کہہ رہاہے کہ اغواء کار پر پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے۔ جب قوم اپنے اندر چھوٹے بدمعاش طبقات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہوں تو ریاست پر بھی تھو تھو کرنے کے بجائے پہلے معاشرے میں برائی خلاف ایک پرامن آواز اٹھانے اور ہاتھ کے ذریعے برائی کو ختم کرنے کیلئے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔SSPشکار محمد کلیم نے بھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا جس کی وجہ سے پریشر پڑا اور حورم پٹھان کیساتھ دیگر خواتین بھی بازیاب ہوگئی ہیں اور ملا عبدالوحید بھی مارا گیا۔ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کا ماحول بھی نہیں۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ریشما سوات لاپتہ
بحری قذاقوںکی تحویل میں یاسرکی فریاد
آفریدی محسود قبائل جرگہ میں تنازعہ کا حل