پوسٹ تلاش کریں

ہر بندہ بھگوان خدا کا خلیفہ ہے:ہندولڑکی

ہر بندہ بھگوان خدا کا خلیفہ ہے:ہندولڑکی اخبار: نوشتہ دیوار

گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاںرا رہنما
خدا ایشوراور اللہ والا بھگوان
ہر بندہ بھگوان خدا کا خلیفہ ہے:ہندولڑکی

ہندو سادھنا پٹھ نے کہا:آج کا موضوع ہے کہ ”آتم گیان (خود شناسی) کیا ہے؟۔” کیا اپنی طاقتوں یا صلاحیتوں (Capabilities)کے تئیں باخبر ہو جانا؟ نہیں!یہ میں نے اسلئے بولا کہ کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں (Hidden abilities)کو جان لینا ہی خود شناسی یعنی آتم گیان ہے، لیکن وہ آتم گیان نہیں ہے۔ ہمارے اندر جو ایشور (خدا)ہیں، اس خدائی صفت کے ذریعے مکمل آگاہی (Awareness)آ جانا آتم گیان(خود شناسی) ہے۔

سننے میں تو یہ کافی متضاد (Contradictory)اور کبھی کبھی گستاخانہ (Disrespectful)بھی لگتا ہے کہ کیا انسان اپنے آپ کو بھگوان سمجھنے لگتا ہے؟۔ ہم جانتے نہیں ہیں کیونکہ ابھی ہم بھٹکے ہوئے ہیں۔ خود شناسی کا یہی سفر ہے کہ آپ آگاہ ہوجائیں اپنے اندر کے بھگوان سے۔ اپنے آپ کو اتنا پاک اور خالص (Refine) کیجیے۔ یہ بات تو سنی ہے کہ ہمارے اندر بھگوان ہیںتو آگاہی کی کیا ضرورت ہے؟ ۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم ”لفظوں میں جانتے ہیں،(Experience) تجربے میںنہیں جانتے۔ہمیں اس کا احساس اور تجربہ نہیں ہے کہ یہ جیون فانی ہے، روح کپڑوں کی طرح جسم بدلتی رہتی ہے۔ پتہ تو سب کچھ ہے، لیکن ہم نے اس کا تجربہ کیا ؟ نہیں کیا ہے؟کیونکہ اب تک کا گیان تو سنا سنایا اور پڑھا پڑھایا گیان ہے۔ لیکن اس کو آگے بڑھانے کیلئے تجربے میں اتارنا ضروری ہے۔ آگے میں کوئی پروچن (وعظ و نصیحت) دوں کہ ”نہیں بھائی، آپ یہ ٹھیک نہیں کر رہے ہو، یہ آپ کا مسئلہ ہے”۔ تو وہ جاننے کیلئے مجھے خود وہ تجربہ ہونا چاہیے۔

سوچ سکتے ہیں کہ بھگوان ہمارے اندر ہیں تو محسوس کیوں نہیں ہوتے؟ کیونکہ پرابلم موجودگی (Presence) کی نہیں ، مسئلہ آگاہی(Awareness) کا ہے۔ پرابلم توجہ (Attention)کی ہے، کیونکہ ہماری جبلت و شعور مستقل باہر کی طرف دوڑ رہی ہے۔ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، لوگ کیا سوچ رہے ہیں، ہم کیا دے رہے ہیں، ہمیں کیا مل رہا ہے۔ جیسے کہ سورج چمک رہا ہے لیکن اگر ہم نے آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی ہے تو ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ سورج چمک رہا ہے۔ اسی طرح ایشور (خدا) کو پانا نہیں ہے، دیکھنا ہے اور ایشور کو دیکھنے کیلئے کیا چاہیے؟ جاگتا ہوا شعور، جاگتی ہوئی بیداری۔ بس اتنا ہی فرق ہوتا ہے اس بات میں کہ ”ہم جانتے ہیں ایشور ہے اورہم نے ایشور کو اپنے اندر محسوس کیا ہے”۔ ان دو اسٹیٹمنٹ کے بیچ۔ یہ احساس کہ جو میں خود ڈھونڈ رہا ہوں، وہ تو میں خود ہی ہوں، یہ احساس آنے میں وقت لگتا ہے لیکن ایسا ہوتا ہے۔

جیسے لوگ بولنے آئیں گے کہ ”ارے یہ سب سچ نہیں ہوتا، سب حقیقی نہیں ہوتا” وغیرہ۔ لیکن بھائی، اگر آپ کو گڑ کا ذائقہ جاننا ہے تو گڑ کھانا تو پڑے گا ناں؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ گڑ کیسا ہوتا ہے؟ اور میں کہوں کہ میٹھا ہوتا ہے۔ آپ کو لگے گا کہ میٹھا کیسا میٹھا؟ چینی جیسا میٹھا؟ میں کہوں کہ نہیں مٹیالا (Earthy) میٹھا ۔ توآپ سوچیں گے یہ ارتھی میٹھا کیا ہوتا ہے؟۔ کیا مٹی کا ذائقہ آتا ہے؟ نہیں۔ لیکن اس کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے، یہ جاننے کیلئے آپ کو خود تھوڑا چکھنا تو پڑے گا نا۔اسی طرح سادھنا (روحانی مشق)کام کرتی ہے یا نہیں ؟، بھگوان ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے، یہ فیصلہ (Judgment) سنانے کیلئے آپ کو پہلے وہ قدم اٹھانا ہوگا۔ کہ ”انسان تھوڑی بھگوان ہوتا ہے، بھگوان نے انسان کو بنایا ہے” یہ کہنے کیلئے آپ پہلے سادھنا (روحانی مشق)کر کے دیکھو۔ پھر آپ بتاؤ، پھر آپ فیصلہ کرو، لیکن آپ صرف پڑھ کر ایسا نہیں کر سکتے۔یہ لکھا ہوا تو بہت جگہ ہے کہ ”ہم ہی ایشور ہیں”، اہم برہماسمی (میں ہی سچ ہوں/میں ہی خدا ہوں)۔ لیکن صرف ”اہم برہماسمی” بولنے سے ہم ایشور تھوڑی ہو جاتے ہیں، جب تک کہ ہم اپنے اندر کے ایشور کو بیدار نہیں کر لیتے ہیں تب تک ہم میں ایشور کی کوئی صفات ہی نہیں ہو سکتیں، اور آپ کے اندر خدائی صفات تب ہی ہو سکتی ہیں جب آپ دوسرے کے اندر بھی اس ایشور کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔”

حجاب خاص کے پردے اٹھے ہیں کیف و مستی میں
نہ جانے کس کی ہستی دیکھتا ہوں اپنی ہستی میں
نہ بہکا آج تک میں نشۂ الفت کی مستی میں
بتوں کو بھی اگر پوجا تو پوجا حق پرستی میں
تلاش بت میں مجھ کو دیکھ کر جنت میں سب بولے
یہ کافر کیوں چلا آیا مسلمانوں کی بستی میں
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

ریشما سوات لاپتہ
بحری قذاقوںکی تحویل میں یاسرکی فریاد
آفریدی محسود قبائل جرگہ میں تنازعہ کا حل