حضرت خضرعلیہ السلام کے عجیب کمالات
جون 17, 2026
مردہ مچھلی کا زندہ ہونا بہت کمال کی بات ہے۔ رسول اللہ ۖ سے صحابی نے پوچھا کہ مردے کیسے زندہ ہوںگے؟۔فرمایا: بنجر زمین سرسبز وشاداب ہوتے نظر آئی ہے۔ کہا کہ ہاں۔ فرمایا: ایسے زندہ ہوں گے۔ قرآن میں مردہ قوموں کے زندہ ہونے کیلئے بنجر زمین شاداب ہونے کی مثال دی گئی ہے۔جاویداحمد غامدی کہتا ہے کہ” مسلمان قوم اپنی امامت کی باری نگل چکی ہے اور یہ کبھی زندہ ہوگی اور نہ اقتدار ملے گا”۔ مسلمان سائنسدان جابر بن حیان نے اپنے دور میں اپنی لیباٹری کے اندر ایسا کاغذ تیار کرنا شروع کیا تھا جس کو آگ نہیں جلاسکتی تھی تاکہ علوم کے ذخائر محفوظ رہیں لیکن جاہل فقہاء اور حکام نے اس کی لیباٹری تباہ کردی۔
حضرت علی نے یہ فرمایا تھا کہ ”میں آبشاروں سے دنیا کو روشن کرسکتا ہوں ”
لیکن اس دور میں بجلی کے موجودہ آلات اور کارخانے نہیں تھے۔ زمانے کی ترقی کیساتھ ایجاد کا فائدہ ہوسکتا تھا۔ حضرت علی نے تین محاذوں پر لڑتے ہوئے فتنوں میں اپنا وقت گزار دیا۔ قابل احترام ساتھیوں عشرہ مبشرہ کے صحابہ کرام، ام المؤمنین حضرت عائشہ کے ساتھ جنگ جمل ہوئی اور اونٹنی کے پیر جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم نے کاٹے تو وہ تباہ ہوگئے۔ امیر حمزہ نے نشہ میں حضرت علی کی اونٹنی کاٹ ڈالی تھی اور حضرت علی نے جنگ کے خاتمہ کیلئے اماں عائشہ کی اونٹنی کے پیر کاٹے اور احترام سے محمد بن ابی بکر کے ساتھ رخصت کیا۔ صحابہ رہنماتھے توحسین پر یزید کو کیوں تم ترجیح دوگے؟۔
قرآن میں حضرت خضر کے بعد ذوالقرنین کا ذکر ہے۔
قرن زمانے کو کہتے ہیں اور ذوالقرنین کے معنی دو زمانے والا اور آج میں کہہ سکتا ہوں کہ میرے زمانے والے سب ذوالقرنین ہیں اسلئے کہ ہم موبائل کے جدید نظام کا اپنے بچپن میں تصور نہیں کرسکتے تھے۔قرآنی قصے اسلئے ہیں کہ جب زمانہ کروٹ بدل رہاہو تو مسلمانوں کا غیب پر ایمان متزلزل نہ ہو۔ معتزلہ حسن بصری کے دور میں پیداہوئے ۔ بنوامیہ کے آخری حکمران اور پھر بنوعباس کے کئی حکمرانوں کے بعد آخر میں ان کا جبری خاتمہ کیا گیا۔ پھر سرسید احمد خان، وکالت کے پیشہ میں ناکام شمس العلماء شبلی نعمانی سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ علامہ تمنا عمادی ، غلام احمد پریز اور پھر جاویداحمد غامدی تک جا پہنچا۔ سرسیداحمد خان کا انتقال1898ء میں ہوا۔
1930ء کی دہائی میں البرٹ آئن سٹائن نے نظریہ اضافیت کو دریافت کرکے جدید سائنس کی بنیاد رکھ دی۔
معراج کے سفر کو عقل کی بنیاد پر ناممکن قرار دینے والے کیلئے سائنس کی بنیادپر لمحہ بھر میں طویل سفر ممکن بن گیا۔حضرت خضر کے واقعہ میں حکمت تھی تو صحابہ کے واقعہ میں بھی حکمت تھی۔ اہل عقل کیلئے اشارہ کافی ہے۔ حضرت علی نے باغیوں اور خوارج کے خلاف بھی جنگیں لڑیں ۔ حضرت شاہ ولی اللہ نے قیامت تک حضرت علی کو اسلئے اعلیٰ نمونہ قرار دیا۔
1981ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لیہ پنجاب میں اساتذہ اللہ والے تھے اسلئے فیلڈ مارشل اورDGISPRکے والدین کو اللہ والا سمجھتا ہوں۔ بیالوجی کے استاذ حضور بخش بغیر داڑھی اللہ والے تھے۔بیالوجی میں زندگی کے دو متضاد نظرئیے پرسوال اٹھایاتو استاذ نے خاموش تائید کی۔ کتاب پر اعتماد نہ ہوتو پڑھا نہیں جاتا۔ پھر کوٹ ادو میں خدا بخشKBبیالوی کے استاذ کٹر تبلیغی تھا ۔ میں بھی تبلیغی تھا۔ جو ٹیوشن نہیں پڑھتاتھا اس کو مارتا۔ میں نے داخلہ لیا، پڑھانہیں۔ پیسے مانگے تو گھر میں بتایا نہ تھا۔SDOواپڈا بھائی تبلیغی جماعت کا کہتے تھے کہ” راستہ خراب ہے ، اچھے لوگ بگڑ جاتے ہیں”۔KBکا بھائی کو بھی نہیں بتایا اور جان بھی چھڑائی۔
1982ء میں لیہ، رائیونڈ اور چیچہ وطنی کے دوست سے ملتے ہوئے کراچی اسٹیل مل پہنچا۔مولانا اللہ یار خان کے مریدوں نے نوکری اور مشکلات ختم کرنے کا لالچ دیکر بیعت ہونے کیلئے کہا اور پھر انکار کیا تووہ اس بات پر آگئے کہ حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے بیعت نہ ہو، رسول اللہ ۖ سے براہ راست بیعت ہوگی لیکن میں نے مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کے شاگرد اور ایک اللہ والے کی یہ بات بھی نہیں مانی۔ جب کراچی دارالعلوم میں داخلہ لیا اور بلامعاوضہ دین کی خدمت کرنے کی بات کہی تو اس جرم میں میرا داخلہ کینسل ہوگیا۔ پھر حاجی محمد عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تو اس وقت مشاہدہ دیکھا جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے درجہ اولیٰ میں تھا لیکن مزاحمت کرکے مشاہدہ دیکھنے سے انکار کردیا۔ اقبال نے اپنی عزیمت بھی لکھ دی ہے اور صوفی کو بھی مخاطب کیا ہے۔
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
تری نگاہ میں ہے معجزت کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا
تخیلات کی دنیا غریب ہے لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا
عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بلا رہی ہے تجھے ممکنات کی دنیا
قرآن کی سادہ زبان اور واضح الفاظ میں مسئلہ طلاق کو جاوید غامدی نہیں سمجھتا تو پیچیدگی ؟۔ تحریف کی ضرورت نہیں جدید تسخیرکائنات کا نظریہ قرآن نے پیش کیا۔
غیرت کے نام پر قتل اور عورت کو لباس کی آزادی کا جامعة الرشید کے مفتی ولی مظفر صدر ٹرمپ وغیرہ کو خط لکھے تو عروج ملت اسلامیہ کے فیصلہ کن مرحلے کاآغاز ہوگا۔
مفتی ولی مظفر نے وفاق المدارس میں اپنی خدمات دی ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کا رسالہ ”الفاروق” عربی میں آپ نکالتے تھے۔ کراچی بہادر آباد کے مشہور مدرسہ مولانا یحییٰ مدنی کے جامعہ مہدالخلیل کے منتظم کو مفتی ولی مظفر نے انٹریو دیا ہے جو قارئین کیلئے حوصلے کا باعث ہے۔ سہیل وڑائچ نے جیوپر افراسیاب خٹک کا مختصر انٹرویو کیا ہے وہ بھی بہت معلوماتی ہے۔
مذہبی ، سیاسی اور حکومتی طبقات مفادات سے بالاتر ہوکر صرف ہتک عزت کا قانون بھی سب کیلئے یکساں بنادیتے جیساکہ قرآن میں موجود ہے تو مردہ امت مچھلی کی طرح زندہ ہوسکتی ہے۔
ــــــــــ
ہدایت اللہ بیٹنی کا کارنامہ
وافی چینل شیر عالم برکی: ہدایت اللہ بیٹنی نے کہا: وزیرستان ”جیر :جرک، زیرک سے بنا۔ یہ مدبر تھے”۔ کانیگرم برکی سکندر اعظم کے دورمیں تھے۔ محسود بچے کی بات سے سکندر واپس گیا۔ وزیرستان دریائے گومل اور دریائے کرم کے درمیان میں ہے۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ