آپ دورِ انحطاط پرتوجہ دیں
جون 17, 2026
مولانا اشفاق صدیقی جامعہ اسلامیہ ریاض العلوم اسلام آباد نے اگر علامہ سید ریاض حسین شاہ کو متوجہ کیا تو امام اعظم ابوحنیفہ کے اس مسلک پر تمام مکاتب فکر متفق ہوسکتے ہیں جو اصول فقہ میں آیت230البقرہ کو دوٹکڑوں میں بانٹ کر پڑھایا جاتاہے اور پھر قرآن وسنت کی طرف لوگوں کے رحجانات بدلیں گے۔
ــــــــــ
نمبر1:حتی تنکح زوجًا غیرہ بمقابلہ ایما امرأة نکحت بغیر اذن ولیھا فنکاحھا باطل باطل باطل:حنفی اصول فقہ
درس نظامی کا مقصد یہ تھا کہ طالب علم ہر علم میں سے کچھ نہ کچھ سیکھ لے تاکہ اس میں مطالعہ کی صلاحیت پیدا ہوجائے اور دنیاوی علوم میں بھی یہی ہوتا ہے لیکن ہر سائنس پڑھنے والا پھر سائنسدان بھی نہیں بنتا ہے۔ اصول فقہ میں حنفی استدلال بتایا گیا ہے کہ آیت سے واضح ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں آزاد قرار دیا گیا گیا ہے لیکن حدیث صحیحہ میں عورت کو نکاح میں ولی کی اجازت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ جمہور عورت کا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر ناجائز قرار دیتے ہیں لیکن حنفی حدیث کو قرآنی آیت سے متصادم قراردیتے ہوئے ناقابل عمل قرار دیتاہے۔
ایک طالب کو عربی ، قرآن اور احادیث کچھ بھی پتہ نہیں مگر عبارت کا مفہوم سمجھ کر امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ چلو ہم نے یہ مان لیا لیکن اس کا نتیجہ ایک حنفی فقیہ کو کیا نکالنا چاہیے تھا؟۔
بڑااچھانتیجہ:وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا”اور انکے شوہر اصلاح کی شرط پراس (عدت) میں ان کو لوٹانے کا زیادہ حق زیادہ حق رکھتے ہیں”۔البقرہ آیت:228
سورہ بقرہ آیت228میں اللہ نے عدت کے تین ادوار کو بھی واضح کیا ہے اور حمل کو بھی۔ اور عدت میں صلح و اصلاح کی شرط پر شوہر ہی کو زیادہ رجوع کا حقدار قرار دیا ہے اور عورتوں کو بھی وہی حقوق حاصل ہیں جو ان پر معروف طریقے سے انکے شوہروں کے ہیں۔ یعنی شوہر کو اصلاح کی شرط پر رجوع کا حق حاصل ہے تو بیوی کو رجوع سے انکار کا بھی حق حاصل ہے۔
اگر ہم ذخیرہ احادیث کا بغور جائزہ لیں تو کوئی ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملتی ہے کہ جس کو اس آیت سے متصادم قرار دے دیا جائے۔ جہاں ایک شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہو اور وہ رجوع کرنا چاہتے ہوں باہمی اصلاح کی شرط پر لیکن نبیۖ نے اس آیت کے برعکس ان کو رجوع سے روک دیا ہو۔
الغرض ایک طرف اگر ہم ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی احادیث صحیحہ کے ذخیرہ سے آیت حتی تنکح زوجًا غیرہ کا ٹکراؤ اوراس سے استنباط دیکھ لیں اور دوسری طرف حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنے والی احادیث کے ذخیرہ سے
وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا
کاٹکراؤ اور اس سے استنباط دیکھ لیں تو ہم ایک بہت واضح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ہے جس کو آیت228البقرہ کے اس جملے سے متصادم قرار دیا جائے اور اگر بالفرض کوئی متصادم ہو بھی تو حنفی اصول فقہ کا واضح تقاضا یہ ہے کہ اس کو مسترد کردیا جائے اسلئے کہ حتی تنکح زوجًا غیرہ سے استنباط کی ضرورت ہے لیکن وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحًا اس درجہ واضح ہے کہ اس میں کسی استنباط کی بھی ضرورت نہیں ۔ ایک ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب عدت میں باہمی اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی گئی ہے تو اس میں کوئی ابہام نہیں ہے جبکہ حتی تنکح زوجًا غیرہ ”یہاں تک کہ وہ کسی اور شخص سے نکاح کرے” میں استنباط کی ضرورت ہے کہ عورت کو اپنے نکاح میں خود مختار قرار دیا گیا ہے۔پھر اس سے احادیث صحیحہ کو واقعی متصادم قرار دینا بھی کوئی ایشو ہے لیکن عدت میں رجوع کے مد مقابل کوئی ایسی حدیث ہی نہیں جو اس سے متصادم ہو ۔
امام اعظم ابوحنیفہ نے صرف اصولوں کی نشاندہی کی تھی مگر قاضی القضاة چیف جسٹس سے جسٹس مفتی تقی عثمانی تک سب حنفی اپنے اساتذہ کرام سے انحراف کرتے گئے تو امام ابوحنیفہ اور مسلک حنفی کا اس میں کیا قصور ہے؟۔ امام ابوحنیفہ نے تلقین کی تھی کہ ضعیف سے ضعیف حدیث کی تطبیق ہوسکے تو مسترد کرنا غلط ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے قاری محمد طیب تو مفتی محمد شفیع کے بھی استاذ تھے اور انہوں نے بھی اجتہاد وتقلید کی شرعی حیثیت پر کتاب لکھی ہے اور مفتی تقی عثمانی نے بھی لکھی ہے۔ دونوں میں اتنا بڑا فرق ہے کہ اگر حضرت عمر کے سامنے پیش کئے جاتے تو مفتی تقی عثمانی کے دانت توڑ دیتے کہ قرآ ن واحادیث کایوں بھی کوئی بیڑہ غرق کرتا ہے یہودیوں کے دلے اور دلال؟۔
قرآن وحدیث میں طلاق شدہ اور کنواری کے احکام الگ الگ ہیں۔
اگر حدیث سے کنواری مراد لی جائے اور آیت سے طلاق شدہ تو قرآن وحدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ہمارے استاذ مولانا بدیع الزمان نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں میری اس گزار ش پر میری زبردست تائید اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں دوسری کتابیں پڑھ کر اس مسئلے کا حل نکالوں ۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا کہ ” مسلک حنفی میں85%مسائل امام ابو حنیفہ کے خلاف ہیںاور ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکتے کہ کس کی بات درست ہے یا نہیں؟ مگر امام مھدی آئیںگے تو وہ جو بھی بات کریںگے وہ حق ہوگی”۔
جب امام ابوحنیفہ کے نام پر غلط مسلک رائج کرکے حلالہ کی لعنت سے عورتوں کی عزتیں لٹیں تو مہدی کا انتظار کریں؟ یا اگر اس سے پہلے درست بات سمجھ میں آئے توعورتوں کی عزتوں کو امام ابوحنیفہ کے درست مسلک سے بچانا شروع کریں؟۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے علماء دیوبند کا لکھا کہ ”تم اپنے استاذ شیخ الہند کی نہیں مانتے تو مہدی کی بھی مخالت ہی کروگے”۔
حنفی مسلک سے علماء کے انحراف کا ایک واضح آئینہ
اصول فقہ کے میرے استاذ مولانا بدیع الزمان جامعہ بنوری ٹاؤن سے پہلے دارالعلوم کراچی کے استاذ تھے ۔ جب کراچی میں صرف ایک مدرسہ دارالعلوم کراچی نانک واڑہ تھا۔ مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے بھی مولانا بدیع الزمان استاذ تھے اور ان دونوں کے ایک استاذ مولانا عبدالحق میرے پیر بھائی تھے۔
جب مرشد حاجی عثمان پر فتوے لگانے والوں کو دھول چٹائی تو میں مولانا بدیع الزمان نے اپنے بیٹے مولانا عطاء الرحمن سے پوچھا کہ یہ وہی طالب علم تو نہیں جو چائے زیادہ پیتا تھا اور پھر مولانا بدیع الزمان کے ہاں میں نے حاضری بھی دی تھی۔
حتی تنکح زوجًا غیرہ کے مد مقابل جو حدیث مسترد ہے فنکاحھا باطل باطل باطل تو یہ کتب میں نہیں ہے۔
اصول فقہ میں 200احادیث کا خلاصہ ہے جس کے متعلق حد تواتر تک پہنچنے کا دعویٰ ہے البتہ متواتر و خبر احاد کی تقسیم بعد کی اصطلاح ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قرآن کی مخالف ہر ایک حدیث غیر متواتر اور خبر واحد ہے جو مسترد ہے اور قرآن سے متصادم نہیں تو ضعیف حدیث بھی مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ ”امام ابوحنیفہ صرف اور صرف17احادیث مانتے تھے”۔جب عمر بن عبدالعزیز نے اپنے پونے تین سالہ دور اقتدار میںممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو پھر ان کی وفات کے بعد احادیث صحیحہ کو ضعیف قرار دینے اور من گھڑت احادیث کی کثرت کا سلسلہ بھی جاری ہوگیا۔
حنفی فقہاء نے ولی کی اجازت کے بغیرنکاح کو باطل قرار دینے کی احادیث صحیحہ کو اپنے زعم کے مطابق متصادم قرار دیا اور جب میں نے اپنے استاذ مولانا بدیع الزمان کے سامنے بات رکھی تو انہوں نے نہ صرف اس کو قبول کیا بلکہ تھپکی دی کہ یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔ کیونکہ جہاں اتنی ساری احادیث کا انکار تھا تو دوسری طرف جب ضرورت پڑتی تو مسئلہ کفوء کی بنیاد پر کمزور لوگوں کی بیٹیوں کو بھاگنے کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا تھا مگر طاقتور طبقے کی بیٹیوں کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کی اجازت نہیں تھی۔ بنوامیہ ، بنوعباس اورعربوں کی بیٹیاں عجم کیساتھ بھاگے تو ولی کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ، جعلی عثمانی مفتی تقی عثمانی بیٹی کو ٹیوشن پڑھانے کیلئے استاذ رکھے اور وہ اس پر فریفتہ ہوجائے تو مارپیٹ کر دوسری جگہ شادی کرنے پر مجبور کردے لیکن قرآن سے تصادم کے نام پر احادیث کا ذخیرہ مسترد کیا جاتا رہے؟۔
سورہ بقرہ228میںواضح ہے کہ ”عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہر ہی رجوع کا زیادہ حقدار ہے” جس سے صحیح، ضعیف حتی کہ من گھڑت حدیث بھی متصادم نہیں ۔قرآن متصادم نہیں اور اللہ کا دعویٰ باطل تو مدارس ہدایت یاگمراہی کے قلعے ہیں ؟۔
بڑے بڑے حنفی مدارس ایک کاروبار اور بڑامافیا بن گئے۔
مدارس میں اصول فقہ کی کتب اگر سورہ البقرہ آیت230کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک جگہ پڑھائیں تو مالکی، شافعی، حنبلی کے علاوہ اہل تشیع اور اہل حدیث بھی اپنی اپنی فقہ چھوڑ کر امام اعظم ابوحنیفہ کی فقہ کو رائج کردیں گے۔
وجعلوا القرآن عضین ”اور قرآن کو بوٹی بوٹی کردیا”۔حنفی اصول فقہ میں قرآن کو بوٹی بوٹی کرنے کی مثال البقرہ230ہے
فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ(سورہ البقرہ آیت230)
فان طلقہا فلاتحل لہ میں”ف” کا تعقیب بلامہلت کا تعلق اس سے متصل فدیہ سے ہے۔ فلاجناح علیھما فما افدت بہ ” اور ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں پھر عورت کی طرف سے وہ فدیہ کرنے میں”۔
اصول فقہ میں حنفی مسلک یہ ہے کہ آیت230البقرہ کی اس طلاق کا تعلق جس میں عورت کیلئے حلالہ کے بغیر چارہ نہیں رہتا ہے اس سے متصل آیت229البقرہ کے آخر فدیہ دینے کی صورت سے ہے جبکہ شافعی مسلک یہ ہے کہ اس کا تعلق اس آیت229البقرہ کے شروع الطلاق مرتان کیساتھ ہے۔
حنفی مدارس جان بوجھ کر اپنے معتقد کی بیوی چودھنے کیلئے یا جہالت کی بنیاد پر واللہ اعلم بالصواب امام ابوحنیفہ کے مسلک پر فتویٰ نہیں دیتے جو اصول فقہ میں آج بھی پڑھایا جارہاہے بلکہ شافعی مسلک کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔ جس میں اس طلاق کو آیت229کے آخر فدیہ کے بجائے شافعی مسلک کے عین مطابق آیت کے شروع الطلاق مرتان سے جوڑ دیتے ہیں۔
سوال تعصب کا نہیں کہ امام ابوحنیفہ کے مسلک کو ٹھیک قرار دیا جائے یا امام شافعی کے مسلک کو اور نہ یہ ہے کہ سنی مسلک میں مقلدین کی عورتوں کو حلالہ کی لعنت سے بچایا جائے یا نہیں؟ بلکہ سوال یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے جس مسلک کو اصول فقہ میں ہمارے مدارس بریلوی دیوبندی پڑھاتے ہیں یہ درست ہے یا غلط ہے؟۔ اگر درست ہے تو فبہا اور غلط ہے تو اصول فقہ سے بھی اس کو یکسر نکال دیں۔ میرے نزدیک مولانا بدیع الزمان نے جو اصول فقہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں پڑھائی تو وہ بالکل درست ہے اور ہدایت کا سب سے بہترین ذریعہ بھی لیکن میرے لئے بہت ہی قابل احترام بریلوی مفتی اعظم کے استاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے100فیصد حنفی مسلک کی غلط ترجمانی کی ہے کہ فان طلقہا تعقیب بلا مہلت کی وجہ سے اس کا تعلق الطلاق مرتان سے نہیں بنتا تو قرآن و احادیث سے واضح ہے کہ اکٹھی تین طلاق واقع نہیں ہوسکتی ہیں۔
علامہ سید محمد یوسف بنوری کے والد مولانا زکریا بنوری نے کہا تھا کہ ”ہندوستان میں مسلک حنفی کی بقاء کا ذریعہ صرف اور صرف اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی ہی ہیں”۔
مولانا غلام رسول سعیدی نے12جلدوں میں قرآن کی تفسیر تبیان القرآن اور بخاری ومسلم دونوں کی بہت بڑی بڑی شروحات لکھی ہیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ”اسکی یہ تفسیر فقہ حنفی کے مطابق نہیں ہے”۔ لیکن خدا کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ فقہ حنفی کے سر پر عزت کا تاج اس عتیق گیلانی کے ہاتھ سے رکھا جو علماء دیوبند کا ادنیٰ شاگردہے۔
مولانا سلیم اللہ خان اور علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی اپنی بخاری کی شرح میں الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کی تفسیر فقہ حنفی کے مؤقف کی تائید حدیث سے کی کہ عدی بن حاتم نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا تھا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔مسلک حنفی کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ ان دونوں طلاق کے بھی ”ف” کی وجہ سے تسریح باحسان ہی کو تیسری طلاق قرار دیا جائے۔ رسول اللہ ۖ نے عدت کے تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کا عمل بھی واضح کیا۔
جب حنفی مسلک اور احادیث کے مطابق دو مرتبہ طلاق کے ساتھ آیت229میں تسریح باحسان کی تیسری طلاق کو جوڑد دیا اور آیت230میں حلالہ کی طلاق کو اپنے سے متصل فدیہ کے ساتھ جوڑ دیا تو پھر اسلام دین فطرت کی بنیاد کو صحیح رکھ دیا ہے۔
پھر حتی تنکح زوجًا غیرہ سے عورت کی آزادی مراد لینا100فیصد درست ہے لیکن آیت میں آزادی کا ہدف ولی سے نہیں اپنے سابقہ شوہر سے آزادی ہے۔ تاکہ منکر طریقے سے عورت کی رضامندی کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو جائے اور کچھ عرصہ پہلے بنوں شہر پختونخواہ میں ایک شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں تو مولوی نے فتویٰ دیا اور عورت کا زبردستی کی بنیاد پر حلالہ کیا گیا۔ جس پر عورت نے کیس کیا اور مولوی جیل میں گیا۔ زبرستی سے نکاح کے درست ہونے کا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کی فتاویٰ عثمانی جلد دوم میںبھی موجود ہے جو چھوکرے مفتی زبیر نے مرتب کیا ہے اور جس کو اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن بھی بنادیا گیا ہے۔ جس طرح مفتی عزیز الرحمن نے صابر شاہ کو وفاق المدارس میں پاس کرنے کا جھانسہ دیکرہوس کا نشانہ بنایا تھا تو اس طرح کی سفارشات کا ایک مافیا بن گیا ہے۔
اگر اصول فقہ کی کتابوں میں آیت230البقرہ کو بوٹی بوٹی کرکے پڑھانے کے بجائے ایک ساتھ پڑھایا جائے تو اس سے پہلے کی آیات228البقرہ اور229میں عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر معروف رجوع کی اجازت واضح ہوگی اور بعد کی آیات231اور232میں معروف کی شرط پرباہمی رضا مندی سے رجوع بالکل واضح ہوگا۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں آئے گا اور علماء ومفتیان اور عوام قرآن سے ہدایت پائیں گے اور مالکی، شافعی، حنبلی، جعفری ،اہل حدیث، پرویزی ، غامدیہ کے دلے و دلال سب قرآن ، احادیث صحیحہ اور فقہ حنفی کو ماننے پر بہت خوشی کیساتھ تیار ہوں گے اور مذہب کے نام پر تفریق و انتشار اور فتنہ و فسادات پھیلانے کی سبھی دکانیں بند ہوں گی۔
مولانا سلیم اللہ خان نے لکھا کہ حنفی حتی تنکح پر جماع کا اضافہ حدیث سے نہیں کرتے بلکہ نکاح کو جماع کہتے ہیں۔
سعید بن جبیر نے حلالہ کیلئے نکاح کو کافی کہاتو حجاج نے کافر کہا اور شہید کردیا۔
یہ حضرت عمر اور حضرت علی کا اختلاف نہیں بلکہ دونوں کا اتفاق تھا کہ عورت رجوع پر راضی نہ ہو تو 3طلاق ہو یا حرام کا لفظ لیکن قرآن کا فیصلہ ہے کہ شوہر رجوع نہیں کرسکتاہے اور نبیۖ کو ایلاء میں بھی ازواج مطہرات کو اختیار کا حکم ملا۔ جو ایک طلاق کے بعد عورت کی رضامندی کے بغیر طلاق رجعی مانتے ہیںیہ بھی جاہلیت ہے اور تین طلاق کے بھی تو مزید بڑی جاہلیت ہے۔ قرآن، احادیث اور صحابہ کے اندر تضاد نہیں تھا ۔
ــــــــــ
مفتی ثمر قادری کی عقیدت
بالکل چھوٹی عمر تھی سیدی اعلی حضرت کی، نیکر نہیں صرف قمیص پہنی ہے۔ سامنے سے کچھ بازاری عورتیںآرہی تھیں، بے پردہ تو آپ نے جب انہیں دیکھا تو سامنے والا پلو اٹھا کے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ کچھ چھپانے والی چیز ظاہر ہوگئی۔ تو عورتیں ہنسنے لگیں، بازاری تھیں ناں انہیں کیا شرم؟ تو کہنے لگیں بچے چھپانے والی چیز کو ظاہر کردیا اور آنکھوں پر پردہ کرلیا۔ اعلی حضرت نے جو حکیمانہ جواب دیا ہلا کے رکھ دیا اس نے عورتوں کو، اس نے کہا میں نے اپنے گھر سے سنا ہے پہلے آنکھیں گندامنظر دیکھتی ہیں، پھر خیال ذہن میں آتا ہے، پھر وہ لالچ دل میں جاتا ہے، پھر دل بہکتا ہے، پھر بندے کا نفس گناہوں پر آمادہ ہوتا ہے، میں تمہارے جیسا گندا منظر دیکھوں گا نہیں میرے دل میں خیال آئے گا نہیں، میرا دل بہکے گا نہیں۔ اب آپ کو بات سمجھ آرہی ہے کہ نہیں آرہی آپ حضرات کو؟ یہ ہیں اعلی حضرت۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ