قرآنی آیات، احادیث صحیحہ اور جدید سائنسی اور تاریخی حقائق کا ایک بڑا آئینہ
جون 17, 2026
قرآن کریم کی سورہ کہف میں اللہ فرماتا ہے۔
واری المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یجدوا عنھا مصرفًاO(سورہ کہف آیت53)
”اور دیکھ لی مجرموں نے آگ ، پس گمان کیا کہ بیشک وہ اس میں گرنے والے ہیں اور بچنے کی کوئی راہ نہیں پاتے”۔
اس آیت میں دنیا کے اندر مجرم قوموں کے عذاب کو دیکھنے کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ جب رسول اللہ ۖ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کیا اور پھر مشرکین مکہ نے اس معاہدے کو توڑ دیا تو ابوسفیان نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا اور نبیۖ کا سسر بھی تھا اور مشرکین مکہ نے مشاورت سے بھیج دیا تھا کہ اس صلح کو دوبارہ بحال کریں اور اس کی وجہ یہی تھی کہ مجرموں کو پتہ تھا کہ اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں اور خلاصی کی بھی صورت نہیں پاتے۔ قرآن کی اس آیت میں دنیا کی تاریخ پر مجرموں کا یہی نقشہ پیش کیا گیا ہے کہ وہ ایک دن اپنے انجام پر گمان بلکہ یقین کی حد تک پہنچ جاتے ہیں جو تاریخ کا آئینہ واضح کرتا ہے۔
آگے اللہ نے تاریخ کے ماضی ، حال اور مستقبل کا بتایا:
”اور کس چیز نے منع کیا ان کو کہ ایمان لائیں جب انکے پاس ہدایت آئی اور اپنے رب سے معافی مانگ لیں مگر انہوں نے گزرے ہوئے لوگوں کی سنت کو زندہ کرنا تھا یا ان کے پاس سامنے سے عذاب آجائے۔ اور ہم نے رسولوں کو نہیں بھیجا مگر خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور انکے ساتھ کافر باطل کے ساتھ جھگڑا کرتے تھے اور میری آیات اور جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا مذاق بناتے تھے۔اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جس کو میری آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے تو اس سے منہ موڑ لے اور جو اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا ہے وہ بھی بھول جائے۔ بیشک ہم نے انکے دلوں پرپردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس کو سمجھ سکیں اور اس کے کانوں میں بھاری پن ہے اوراگر تم ان کو بلاؤ ہدایت کی طرف تو وہ ہرگز کبھی بھی ہدایت نہیں پاسکتے ہیں۔ اور تیر ا رب بخشنے والا رحمت والا ہے اور اگر وہ ان کو اپنی کمائی پر پکڑتا تو عذاب میں جلدی کردیتا بلکہ ان کیلئے ایک مقررہ وقت ہے جس سے وہ پناہ کی جگہ نہیں پائیں گے۔ اور وہ بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کیلئے ایک وقت مقرر کیا ۔ (الکہف54سے59)
ماموں سے خانی پر گل امین نے جھگڑا کیا اور پھر شاید گڑے ہوئے مردے اکھاڑنے سے بچنے کیلئے زمینوں میں دواپنجہ کی تقسیم اور قبضہ میں دیگر کزنوں کی بھی تذلیل کاراستہ اپنایاتھا۔
سورہ کہف میں آیت60سے82تک حضر ت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کا واقعہ ہے اور پھر ذوالقرنین کا۔
واذ قال موسٰی لفتاہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین او امضی حقبًاO(سورہ کہف آیت 60)
”اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا کہ میں ٹلوں گا نہیں یہاں تک کہ دو ندی کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچ جاؤں یا بہت ساری مدتیں گزر جائیں ”۔
یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ ایک حقب80سال کا ہوتا ہے اور یہاں حقب جمع ہے جس میں کم ازکم3حقب ہیں۔ اور80کو3سے ضرب دیں تو240سال کا وقت بنتا ہے۔ جس طرح معراج کا سفر ایک طرف سے لمحہ بھر تھا تو دوسری طرف وہ بہت لمبی مدت کا تھا۔ سورہ معارج میں روح اور ملائکہ کے ایک دن چڑھنے کی مقدار50ہزار سال کے برابر بتائی گئی ہے لیکن آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت نے ریاضی کے حساب سے اس بات کو ثابت کیا کہ وقت کی رفتار ایک ہی وقت میں مختلف ہے۔ ایٹم بم کا وجود بھی اسی نظریہ سے تشکیل پاسکا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واقعہ کو مختصر بیان کیا ہے لیکن اس میں بہت ہی زبردست حقائق کا نقشہ ہے۔
فلما بلغا مجمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سربًاO
”جب وہ دو ندیوں کے جمع ہونے کی جگہ پر پہنچے تو دونوں ہی اپنی مچھلی بھول گئے۔ مچھلی نے پانی میں سرنگ کی طرح راستہ بنایا” ۔
خانہ کعبہ میں جس طرح حجر اسود ہے اس طرح سے پانی کے اندر سرنگ بھی بہت تعجب کی بات تھی اور وہ مچھلی مردہ تھی اور زندہ ہوکر وہاں گم ہوگئی۔ غلام احمد پرویز اورجاوید احمد غامدی کو قرآن کے محکمات طلاق کی آیات کا پتہ نہیں چلتا ہے تو سائنس کے اعتبار سے متشا بہات کی آیات عوام کو سمجھاتے لیکن افسوس کہ دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا کے بالکل صحیح مصداق ہیں۔
فلما جاوزا قال لفتاہ اٰتنا غدا ء نا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبًاO
” پس جب دونوں آگے نکل گئے تو اپنے جوان سے کہا کہ دوپہر کا کھانا لاؤ ہم اپنے اس سفر میں ہدف سے اُلجھ گئے ”۔Something is wrong
”اس نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم چٹان کے پاس رک گئے تھے تو میں مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان نے بھلادیا کہ اس کا تذکرہ کروں۔اس نے تو ندی میں اپنار استہ لیا بہت ہی عجیب طریقے سے ۔ کہا کہ یہی تو ہم چاہتے تھے۔ پھر لوٹ گئے اپنے نقوش پر دونوں قصے بیان کرتے ہوئے۔ پھر دونوں نے پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں سے جس کو ہم نے اپنی طرف سے رحمت سے نوازا اور اپنی طرف سے ایک علم اس کو سکھایا۔ موسیٰ نے اس سے کہا کہ کیا میںآپکے ساتھ اسلئے رہوں کہ مجھے آپ سکھادو اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رشد سکھایا ہے۔ کہا کہ بیشک تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکوگے اور کیسے صبر کروگے جس خبر کا آپ احاطہ نہیں کرسکتے۔کہا کہ آپ مجھے انشاء اللہ صابر پاؤگے اور میں تمہاری مخالفت نہیں کروں گا، کہا : اگر آپ میرے پیچھے چلو تو مجھ سے سوال مت کرو کسی چیز کے بارے میں یہاں تک میں تجھے خود وضاحت نہ دوں”۔
(سورہ کہف 61سے70تک ) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینة خرقہا قال اخرقتہا لتغرق اھلھا لقد جئت شیئًا امر ًاO
پھر وہ دونوں چلے۔یہاں تک جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اسے پھاڑ دیا ۔ کہا کہ آپ نے اسلئے پھاڑ دی کہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کردے ،تحقیق یہ غلط کام کیا۔ (سورہ کہف آیت:71)
فانطلقا وہ دونوں چلے۔لڑکے کو چھوڑ دیا۔ کہاں چلے ؟تو یہ مدتوں کا سفر تھا۔ صدیوں پرانے حالات کے اس سفر میں پہلا واقعہ یہ پیش آگیا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر خیر اور شر کی قوتوں کا یہ کھیل اللہ نے اس آیت میں سمجھانا تھا۔ نمرود اور فرعون نے یہ نہیں چاہا کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کی پیدائش ہو لیکن اللہ نے شر کی قوتوں کو ناکام بنادیا۔ رسول اللہ ۖ نے اپنے اہل بیت کو کشتی نوح قرار دیا لیکن جہاں کربلا میں شریروں نے اپنا کام کیا تو خیر کی قوتوں نے اپنا کام دکھایا۔ خدائی خدمت گار خان عبدالغفار خان کے بیٹے غنی خان نے پشتو میں حضرت حسین پر جو مرثیہ لکھا اور سردار علی ٹکر نے پڑھایا تو وہاں سے یہی معلوم ہوتاہے کہ شریروں نے اپنا کام کیا اور اللہ نے خیروالوں کی تقدیر سے ایک دوسرے قسم کا انقلاب برپا کرنا تھا۔
فانطلقا حتی اذا لقیہ غلامًا
”پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ جب ایک بچہ مل گیا تو اس کو قتل کردیا۔ کہا کہ آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے قتل کیا بہت غلط کام کیا”۔
یہ پھر کسی اور زمانے میں پہنچ گئے دونوں اور بچے کو قتل کیا مگر راز بتانے کی جگہ بتایا کہ میں نے نہیں کہا تھا کہ صبر نہیں کرسکتے۔ پھر موسٰی علیہ اسلام نے آخری چانس بھی مانگ لیا۔
فانطلقا: ”پھر دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں آیا تو ان سے کھانا مانگا تو انہوں نے انکار کیا کہ مہمانی کریں۔ پھر اس میں دیوار ملی جو گرنے والی ہی تھی تو اس کو سیدھا کردیا۔ اس نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تواجرت لے لیتے۔ کہا کہ یہ میری اور آپ کے درمیان جدائی ہے۔ اب میں تجھے ان باتوں کا راز بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کرسکتے۔وہ کشتی تو مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کرتے تھے تو میں نے اس کو عیب دار کردینا چاہا اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو چھین لیتا تھا۔ اور جو بچہ تھا تو اس کے والدین مؤمن تھے تو ہم ڈرے کہ انہیں بھی سرکشی اور کفر میں نہیں ڈال دے۔تو ہم نے ارادہ کیا کہ انکے بدلے میں بہتر دیں پاکیزگی میں اور رحم میں بڑھ کر دیں۔ جو دیوار تھی تو دو یتیم بچوں کی تھی اور ان کا والد صالح تھا۔تو تیرے رب نے چاہا کہ جب وہ جوانی کو پہنچ جائیں …” (سورہ کہف)
آفرینش عالم سے پہلے اپنے کردارکیلئے والدین کا انتخاب اپنی مرضی سے ہوتاہے ۔سیداکبر نے صنوبر شاہ کے غلط استعمال میں کردار ادا کیا جیسا کہ حاجی سریرالدین مغالطہ کھاتے تھے اور خضر نے مروان بن حکم اور سیداکبر کو اسلئے قتل نہیں کیا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور پیرعالم شاہ باباجیسی شخصیات نے آنا تھا۔
مسند احمد، صحیح مسلم ، ترمذی ،تفسیر ابن کثیر، تاریخ دمشق،مجمع الزوائد، خصاص کبری ابی بکر سیوطی، طبرانی ، ابونعیم، جامع الاحادیث جلد20 سیوطی اور اخبار مکہ للفاکھی جلد4وغیرہ میں ایک نادر اور عجیب حدیث قوم زط( جٹ قوم) کے حوالے سے عبداللہ بن مسعود سے ذکر کی گئی ہے جو صحیح اسناد بھی ہے۔
قرآن میں فانطلقا اور حدیث میںیہی فانطلقنا ہے۔
ان قوم الزط رکبوا الرسول طوال اللیل حتی الصباح و خرج عند ھم متوجعا من کثرة الرکوب قال عبداللہ بن مسعود استبتعنی رسول اللہ ۖ فانطلقنا حتی اتیت مکان کذا وکذافخط لی خطة مکان یعنی یقف فیہ فقال لی کن بین الزھری ھذہ لا تخرج من الخط فان خرجت منہا ھلکت فمضی رسول اللہ ۖ ثم ذکر ھنیاً فأتوا الرجال کانھم الزط لیس علیھم ثیاب طوالا قلیلاً لحمھم فأتوا یرکبون رسول اللہ وقال جعلوا یأتون یدرووں حولی و یضرط یعنی یضرطون ای یخرجوا ریح یعنی ذورائحة فرعبت منھم رعبًا شدیدًافلم انشق عمود الصبح جعلوایذہبون قال ان رسول اللہ ۖ جاء ثقیلًاوجعًا مما رکبوا . . . . روایات میں مختلف الفاظ میںوضاحت ہے۔
خلاصہ: عبداللہ بن مسعود سے نبیۖ نے اپنے پیچھے چلنے کا فرمایاپھر دونوں چلے۔ ایک جگہ پر دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ اس سے مت نکلو،اگرنکل گئے تو ہلاک ہوگئے پھر نبیۖ کے کچھ تہنیتی کلمات کے بعد کچھ لوگ آئے جیسا کہ وہ جٹ ہوں۔ کپڑے مختصر اور گوشت کم تھا، وہ رسول اللہ ۖ کو ساتھ سواری پر لے گئے۔ وہ میرے ارد گرد امنڈ آئے اور پدو ماررہے تھے ۔ پوری رات یہاں کہ علی الصبح رسول اللہ ۖ کوواپس لائے اور آپ کو تکلیف کا احساس تھا۔ مسند احمد بن حنبل میں ان کو جنات اور تاج العروس میں سندھ کی جٹ قوم قرار دیا۔ جو کچھ بصرہ میں ہیں۔جاوید غامدی کے والد گاؤں میں مزارع تھے۔ غامدی نے بتایا کہ اس کی دھوتی بھی چھڈے کی طرح مختصر تھی۔
صحیح بخاری میں عالم ارواح کا ذکر ہے کہ دنیا میں آمد سے پہلے وہاں جن کی دوستی یا دشمنی تھی تو دنیا میں اس کا اثر ہے۔ سورہ اعراف میں عہد الست ،سورہ حدید میں دنیا میں رونما ہونے سے پہلے سب لکھا ہوا واضح ہے ۔ سانئس ترقی کرے تو سورہ احزاب میں آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کا امانت اٹھانے سے انکار اور خوفزدہ ہونا اور ظالم جاہل انسان کا ثبوت مل جائے گا۔
عبادت و معاشرت کے واضح احکام میں تحریف کر ڈالی اور قرآن میں تسخیرکائنات کی خبر پر توجہ نہ دیکر سائنسی ترقی میں پیچھے رہ گئے، قرآن و حدیث میں سائنسی معاملات متشابہات آیات سے سمجھ سکتے ہیں۔ جاوید غامدی جیسے دلے انکو مشابہ کی جگہ مشتبہ سمجھ کر مسترد کرتے ہیںمگر یہ نہیں ہوگا۔ انشاء اللہ العزیز
احادیث میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے واقعہ کی بھی مختلف طرح کی تفصیلات ہیں اور عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے بھی مختلف قسم کی روایات اور تفصیلات ہیں۔
اہرام مصر عجوبہ ہے نبیۖ نے فرمایا کہ ”اگر بنی اسرائیل نافرمانی نہ کرتے تو گوشت خراب نہ ہوتا”۔(صحیح بخاری) یعنی سائنس کی ترقی تک وہ پہلے پہنچ جاتے۔ موجودہ دور کے سائنسی ترقی اور انٹرنیٹ کیمرہ موبائل وغیرہ کا احادیث میں ذکرہے۔
عبداللہ بن مسعود اور حضرت موسٰی کا جوان مشابہ تھے البتہ وہ سفر باطنی علوم کا تھا لیکن رسول اللہ ۖ نے عبداللہ بن مسعود کو مستقبل کا آئینہ دکھایا۔ جس کا تعلق اسلامی انقلاب اور جٹ قوم سے تھا۔ جہادی کمانڈرز خالد زبیرشہید، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا مسعود اظہر، مفتی عبدالرحیم سبھی جٹ جن میں کچھ بہت اچھے اور کچھ تکلیف پہنچانے والے محض پدو مار ہیں۔
دریا نیل کے قریب1898ء میں فرعون کی لاش مل گئی تھی جب8جولائی1907ء کو اس کے جسم سے غلافوں کو اتارا گیا تو لاش پر نمک کی ایک تہہ جمی ہوئی تھی جو کھارے پانی میں اس کی غرقابی کی علامت تھی ۔ جس کا حال1912ء میں لکھی ہوئی کتاب میں درج ہے اور قاہرہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔
عربی میں بحر سمندر، دریا، ندی اور نالے کو کہتے ہیں ۔ جب قرآن کے الفاظ پر غور کیا جائے تو اس میں دو ندیوں کا ملنا ہی زیادہ قرین قیاس لگتا ہے۔ کانیگرم شہر میں چٹان کی مانند ایک پتھر بھی معجزاتی اور تاریخی لگتا ہے اسلئے کہ جہاں اہرام مصر کے بڑے پتھر سے تعمیر ایک عجوبہ ہے تو کانیگرم میں موجود پتھر سے بھی تعجب ہوتا ہے ۔ کانیگرم میں بچے کی قبر کی عجب کہانی کہ ”اگر فلڈ نے بہا لیا تو پورا شہر بھی میرے پیچھے بہہ جائے گا”۔ ممکن ہے کہ یہ وہی بچہ ہو جس کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا اسلئے کہ اس پہاڑی پر فلڈ کی وجہ سے کٹائی نے اس قبرستان کا نظارہ دکھایا ہے جہاں اوپر نیچے چار چار قبریں بھی ہم نے دیکھی ہیں۔
کانیگرم کبیرالالیائ کی قبر کے پاس سوناملنا مشابہ تھا۔ حاجی قریب برکی نے دیوار بنائی ۔قبرستان کی راہ پر ایک طالب علم کی قبر مشہور ہے جیسے سورہ کہف میں جوان کا ذکر ہے۔ انوکھی بات کانیگرم کی ایک ندی کا نام ”مردار ندی” ہے جس کی وجہ تسمیہ کا پتہ نہیں لیکن ممکن ہے کہ مری ہوئی مچھلی کے گم ہونے کی وجہ سے مردہ مچھلی کی مناسبت یہ نام ہو۔ کانیگرم میں سلام کی جگہ ارمڑی اور پشتو میں الفاظ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو سلام کیا تھا تو حضرت خضر نے سلام کو بنی اسرائیل کا رواج قرار دیا تھا۔ والدہ نے بتایا کہ ماموں غیاث الدین کی آنکھیں خراب تھیں ،بوڑھا شخص نظرآیا تو دم کرنے کا کہا اور پھر وہ غائب ہوا تو بتایا گیا کہ خضر نظری ہوگا اور پھر ٹھیک بھی ہوا۔ میرے کلاس فیلومفتی اعظم امریکہ مفتی منیر احمد اخون نے کہا کہ ”خضر نے سکہ دیا” دروغ بر گردن راوی۔
محمود غزنوی نے خضر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی اور یہ بہت کمال اور اصلاح کا قصہ ہے۔
محمود غزنوی نے دربار میں سب کو مخاطب کر کے کہا ہے کوئی اللہ کا بندہ جو مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکے؟۔ ایک دیہاتی نے کہا کہ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔ سلطان سے کہا کہ خضر علیہ السلام کی زیارت کروا سکتا ہوںلیکن ایک شرط ہے۔ سلطان محمود غزنوی طیش میںکہا کہ شرطوں پر؟۔ مشیرانِ دربار نے کہاکہ حضور شرط سن لینے میں کوئی حرج نہیں۔ تو اس نے کہاکہ چھ ماہ کیلئے چلہ کاٹنا پڑے گا، غریب آدمی ہوں اسلئے میرے گھر کا خرچہ اٹھانا پڑے گا۔ شرط منظور ہوگئی۔
چھ ماہ بعد محمود غزنوی نے طلب کیا تو اس نے کہا:وظائف اور عملیات الٹ ہو گئے ، چھ ماہ کا چلہ اور کاٹنا پڑے گا۔ سلطان نے چھ ماہ کا مزید ٹائم دیا ۔پھر دوبارہ دربارِ غزنوی میں طلب کیا کہ پورا سال ہو گیا، اب تو مجھے زیارتِ خضر علیہ السلام کروا۔ اس نے کہا کہ جھوٹ بولا تھا۔ میرے گھر میں فاقہ تھا۔سلطان غزنوی کو بہت تعجب ہوا اور شدید غصہ بھی آیا۔ وزیروں مشیروں کو طلب کیا کہ اس کی کیا سزا ہونی چاہیے؟۔ ایک نے کہا کہ سر قلم کر دیا جائے۔ دربار میں ایک نورانی چہرے والے بزرگ تھے وہ بولے اے بادشاہِ وقت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا۔
سلطان نے ایک اور وزیر سے پوچھا تو اس نے کہاکہ اس کو خونخوار جانوروں کے آگے زندہ ڈال دیا جائے تاکہ سسک سسک کر اور انتہائی اذیت سے مرے ہو۔ نورانی بزرگ نے کہا کہ اے بادشاہِ وقت یہ وزیر بھی بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔
پھر غزنوی نے خادم خاص سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو؟۔ وہ نہایت عقلمند اور سلجھا ہوا آدمی تھا، عرض کی کہ حضور یہ خدا پاک کی عظمت ہے کہ ایک سال تک ایک غریب کا گھر چلتا رہا، بچے پلتے رہے۔ یہ جھوٹ بولنے پر مجبور تھا۔ اس کے جھوٹ سے نہ تو آپ کے خزانے میں کمی آئی اور نہ ہی آپ کی شان میں۔ میں یہ کہوں گا کہ غریب کو معاف کر دیں۔ اگر اس کا سر قلم کر دیا گیا تو گھر تباہ ہو جائے گا اور بچے بھوک سے مر جائیں گے۔
خادم خاص کی بات سن کر نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا کہ یہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ محمود غزنوی نے بزرگ سے پوچھا کہ تو ہر ایک کی بات کو صحیح کیوں کہہ رہا ہے؟ تو بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت پہلا وزیر ذات کا قصائی ہے اور قصائی کا کام ہے گوشت کاٹنا، گلے کاٹنا۔ اس نے اپناDNAخاندانی رنگ دکھایا، غلطی آپ کی ہے کہ قصائی کو وزیر بنایا۔ دوسرے وزیر کے اجداد بادشاہوں کے جانور نہلاتے تھے، جانوروں سے شکار کھیلتے تھے تو اس نے مشورہ دیتے ہوئے اپنے خاندان کا تعارف کروایا۔ یہ بھی آپ کی غلطی ہے کہ اس کو اپنے دربار میں وزیر رکھا۔ جہاں اس قسم کے وزیر ہوں گے وہاں غریب عوام اور لوگوں کے ساتھ اسی قسم کا سلوک کیا جائے گا۔ آخر میں جس خادم خاص نے مشورہ دیا یہ سید زادہ ہے اور سید کی شان ہے کہ وہ اپنا سب کچھ جی ہاں سب کچھ کربلا کے میدان میں بھی لٹا دیتا ہے مگر بدلہ نہیں لیتا اور کبھی بدلہ لینے کا سوچتا بھی نہیں۔
سلطان محمود غزنوی تخت سے کھڑا ہوا اور خادم خاص سے کہا کہ کیوںنہیں بتایا کہ سید زادے ہو؟ تو اس نے کہا کہ آج تک کسی کو علم نہ تھا کہ میں سید ہوں ۔ میں بھی یہ راز کھولتا ہوں کہ یہ بزرگ کوئی عام ہستی نہیں بلکہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔
موجودہ دور کے حکمران طبقات، مشیر، وزیر اور صحافی لوگوں کے اصل نسل حسب نسب چیک کرلیں اسلئے کہ فضاؤں کو آلودہ کرنے اور مظالم ڈھانے میں ان کا بنیادی کردار ہوسکتا ہے۔
قارئین اس بات کا خیال رکھیں کہ دو بھائی بھی ایک جیسے کبھی نہیں ہوتے۔ میں نے اپنے بڑے بھائی امیرالدین شاہ سے کہا کہ آپ جیسے اخلاق خدا مجھے دیتا تو انقلاب آجاتا۔ جبکہ حضرت یوسف کے بھائی ،ایک نبی کے بھائی ،ایک کے بیٹے، ایک کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پڑپوتے تھے۔
میرے ایک ماموں غیاث الدین کے اندر اپنی محسود ماں کی غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میرے بھائی کیلئے رشتہ مانگا تو مامی نے درست کیا کہ گھر والے لینے میں خوش نہیں لیکن ماموں نے کہا کہ رشتہ دینا ہے تو دیدو نہیں تو زندگی بھر بیٹھی رہے گی۔ مامی نے دینے سے انکار کیا اور پھر اچھارشتہ بھی آیا لیکن نہیں دیا۔ ہماری مامی مرحومہ بایزید انصاری کے خاندان سے تھی جبکہ دوسرے ماموں سعدالدین لالا کا یہ حال ہے کہ اسکے بیٹے شہر یار نے اپنی کزن لینے سے انکار کیا تو پھر چاہیے تھا کہ اپنی بیٹی کا بھی کہتے کہ مت لو۔ جس طرح سے تھوپ دی تو میرا کلیجہ بھی جلتا تھا کہ ایک ماموں غیاث الدین فوت ہوگئے ۔پھر بھتیجے کیلئے ایک طرف چچا اور سسر اور دوسری طرف ماں تھی۔ اور جس دن رخصتی ہورہی تھی تو میں اس وقت مامی سے پردہ کرتا تھا لیکن مجھے پتہ تھا کہ دلہے اور دلہن کی دوسرے دن شادی ہے مگر بول چال بند ہے۔ پھر مامی کے پاس گیا کہ یہ غلط ہے تو اس نے کہا کہ ”میرے بیٹے کی شادی ہے۔ میرا گلہ تمہارا چھرا ”پھر میں دوسری مامی کو اس کے پاس لایا۔ اس نے کہا کہ میں نہیں جاتی اور ایک لحاظ سے بات ٹھیک تھی کہ بیٹی والی کیلئے مناسب نہیں لیکن دوسری طرف جبری تھوپنے میں شرم نہیں تھی اسلئے اسی کو لیکر آگیا اور پھر یہ دائمی ناچاکی کا باعث تھااسلئے میں نے خطرات کے طوفان میں ماموں سعد الدین لالا کو منانے کی ٹھان لی کہ ایک بیٹے کیلئے اپنی بھتیجی کا رشتہ لو لیکن لالا نے نہیں مانا اور اس کے بعدمعمولی تقسیم پر ایک دوسرے کے دشمن تھے۔
میرے ماموں پیر غیاث الدین اور بھائی اورنگزیب شہید کے سامنے مولوی پیر گل حلیم شاہ کی جو حیثیت تھی وہ سب جانتے ہیں لیکن اس دلے نے میری ماں کا نام لیا اور مجھے بند کروایا ۔
ماموں سعدالدین لالا کی بہو میری بھتیجیاں میرے پاس اپنے والدین کے گھر میں نہیں آسکتی تھیں لیکن اس کی بیوی اور بیٹیاں آجاتی تھیں اور پھر میری گھر والی کو اپنے گھر کی دعوت بھی دے رہے تھے؟۔ہم نے ان کی بیٹی بھائی کی بہو کو عزت دی تو اس پر تذلیل کی کہانی گھڑ دی کہ لالا کی بیٹی ہے؟۔ شہید کی بیٹی کے بچے چھین کر اس کو خون بہانے اور بھائیوں کا خون بہنانے سے دھمکاؤ اور دوسری بہو کی تذلیل کرو تو وہ کتے کی بچیاں؟۔
میرا اصل ہدف14افراد کے قتل کے پیچھے میٹنگ ، لالچ، اوراخلاقی گراؤٹوں کو دور کرنے کیساتھ منہاج اور یوسف شاہ کو آپس میں ایک دوسرے پرسرداری جمانے کا خاتمہ بھی تھا ۔ یوسف شاہ کی بہن ملوث بھی تھی تو مسئلہ نہیں تھا اس کو اپنے بھائی پیر یونس شاہ کا دکھ ہوگا اور اس کی زندگی میں کبھی اس کا تذکرہ میں نے اسلئے نہیں کیا کہ عورت ذات کو تکلیف بھی نہیں پہنچے۔ میرے خیال میں عبدالرحیم کی بیوی اور یوسف شاہ کی غیرت کا مسئلہ ہوسکتا تھا لیکن پیر کریم اور پیر عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ کوڑ کے پیر کہتے ہیں کہ جٹہ قلعہ والے منافق ہیں تو میں اس تعصب میں نہیں آیا اسلئے کہ ہمارا ان کا ساتھ کوئی معاملہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ لوگ دل سے بہت عزت دیتے تھے۔زمینوں پر قبضہ اور تذلیل ہم نے تو نہیں کی تھی۔ ڈاکٹر ظفر علی شاہ نے بہت پہلے کہا تھا کہ حاجی عبدالرزاق نے کہا کہ ”دشمنی خدا کا قہر ہے تو یہ قہر میں مانگتا ہوں”۔لیکن یہ میں نے نہیں بتایا کہ وہ کیوں ایسا کہتا ہے؟۔ پہلے اس نے جس طرح کی تذلیل تمہارے ہاتھوں برداشت کی تو اپنے اقارب کے ہاتھوں بھی؟۔ اور یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟۔
جب میں نے کریم پیر کو ماموں کے ہاں دیکھااور خدشہ تھا کہ کہیں پلاننگ کے تحت عبدالرزاق شاہ کے بیٹوں کو پار لگانے کا معاملہ نہ ہو اسلئے پیر کریم سے پوچھا کہ واقعہ کی کچھ معلومات ہیں؟۔ کہتے ہیں کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ لیکن میں چوہے کے پیچھے بھاگا اور حضرت خضر کی مچھلی کی سرنگ مل گئی۔
ہمارا واقعہ وہ عزت تھی جس کے ہم خود کو قابل بھی نہیں سمجھتے اور میں نے اللہ کا شکراداکیا ہے کہ ماموں کا گھر گڈ طالبان کے گھسنے سے بچ گیا جس سے عزت خراب ہوتی۔ جہانزیب نے کہا کہ ”یہ ہماری بے عزتی چاہتے ہیں” ۔ میں نے کہا کہ لالچ ہے۔ منہاج سے کہا کہ ” تم لوگوں نے اس پر فائرنگ کی ” تو اس نے کہا کہ ”وہ تو تم بھی شریک تھے”۔ میں رفع دفع کرنے کے چکر میں تھا کہ ہمارے لئے ایک پہاڑ کھڑا ہے اور اس میں کوئی غیرت نہیں دکھائی اور زمین کے ٹکڑے پر خون خرابہ کریں تو بہت بڑی حماقت اور بے غیرتی سے تاریخ لکھی جائے گی۔
ماموں نے مظفر شاہ کی اولاد کو دبانے کیلئے شاید ان کا حصہ تین بیٹوں کے مقابل چار بیٹوں کا چار بیٹیوں کا رکھا تھا تاکہ وہ اتنا دب جائیں اور تذلیل محسوس کریں کہ خانی کا معاملہ کبھی بھی نہیں چھیڑیںجس کے پیچھے کرائے کے قتل ، شجرہ کی تبدیلی اور خانی پر قبضہ کیلئے گھٹیا ترین حرکت کا پول نہیں کھلے۔
سید ایوب شاہ کو معلوم تھا کہ محمود شاہ نے فراڈ سے محسود قوم میں خانی کی خاطر شمولیت اختیار کی ہے حاجی بدیع الزمان نے کہا تھا کہ مظفرشاہ مولانا عبداللہ درخواستی کے پیر بھائی تھے اور مولانا درخواستی نے ان کو شہید قرار دیا تھا۔ جس کا مطلب فراڈ سے مروایا گیا اور اس پر میرے بھانجے عبدالرحیم نے فخرکیا اور پیرزاہد شاہ کو طعنہ دیا کہ دل بند شاہ کی خانی پر قبضہ کرنے کیلئے ہمارے والوں نے تمہارے والوں کو مروایا تھا۔ پیر منہاج کہتا تھا کہ انگریز کیلئے براہِ راست وزیر کے لشکر پر حملہ کرکے پسپا کیا تھا اور پیر فیاض کہتا تھا کہ وزیروں کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ،وزیر و محسود قومی جنگ میں ان کا بڑا مقاتلہ کیا ہے۔ اقبال شاہ نے کہا کہ ” فلاں خاتون کو ہمارا شجرہ یاد تھا”۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ سیدایوب شاہ کے پاس موجود شجرے کو وہ اپنا نہیں سمجھتا تھا۔
میری والدہ نے میرے دادا سیدامیر شاہ سے پوچھاتھاکہ ”کوئی مشاہدہ ہوا ہے توانہوں نے کہا کہ لیلة القدر کو تین مرتبہ وامتازیوالیوم ایھا المجرمنون سنا”۔
جرائم کا آغاز کرایہ پر قتل ،شجرہ کی تبدیلی، زمینوں پر قبضہ پھر کرایہ پر قتل تک پہنچا؟۔ مجھے غیرت کے نام پربے غیرتی کی میٹنگ کی تلاش ہے۔ ہاہاہا
عبدالرحیم اور عبدالواحد کی خبر لالچ، نفاق اور تکبر کی وجہ سے لی۔چیلنج کیا تھا کہ اگر ہمارا نام آیا تو جرگہ ہوگا ۔اگر ڈاکٹر ظفر علی کے کہنے پر امیرالدین مجھے پشاور منہاج کیلئے بلاتا۔ کراچی میں میرا قتل ہوتا تو ضیاء الدین نہیں بتاسکا کہ اسلحہ اکٹھا کرنے کی خبر کیوںدی تھی؟ تو پھر منہاج پر بھی بوجھ پڑتا؟۔ اورنگزیب شہید نے اعتماد کیا اور اب امیرالدین شاہ بھی ؟۔ پھر ڈاکٹر ظفر علی شاہ پر بوجھ آتا؟۔ شہریار اور اسفند یار کاDNAماں نہیں باپ سے ملتا ہے۔
نبیۖ کا داماد قیدہوا تو فدیہ میں حضرت خدیجہ کے جہیز کا ہار دیا،جس پر رسول اللہ ۖ کو دکھ ہوا۔
سیدنا عمر نے ماموں کو قتل کیا۔نبیۖ نے سسر ابوسفیان کو عزت دی ، ہند نے چچا کا کلیجہ چبایا تھا۔ ہم اپنوں کو قتل کرسکتے ہیں اور نہ دشمن کو عزت دے سکتے ہیں۔وہ عظیم لوگ تھے اور ہم اچھے والدین کی عام سی اولاد ہیں۔ منہاج کے بچے شہید چچا کا غم دیکھ چکے ، ماموں پہلے قتل ہوا۔ مصیبت زدہ کومزید تکلیف میں ڈالنا نہیں۔یہ پیکیج میری زندگی تک ہے۔ سوالات کے جواب چاہتا ہوں۔ اگرغیرت خراب ہوئی تو مہربانی ہے چھپ کر حملہ کیا۔ لالچ آئی تو آباپر گئے۔ حسد و بغض تھا تو مسئلہ نہیں ہے۔ کزن کی زمین پر قبضہ کی طرح قومی زمین نہیں کہ کسی کو گھر نہیں بنانے دیا تو جیت لی؟۔ یہ تو وہ گند ہے کہ کوئی تمہیں بھی نہیں بنانے دے گا۔ قبائلیDNAایک نعمت ہے۔ ملنگ پیر نے مفت میں زمین کی پیشکش اسلئے مسترد کی کہ کوڑ والوں کی تھی اور قیمت دیکر خریدی۔ جب حد کراس کی کہ بغیر اجازت چھت میں لکڑی استعمال کی تو چھت اکھاڑ دی ۔نورالھدٰی شاہ نے سندھ کاDNAسمجھایا اور وطن کاDNAآباد کار نہیں سمجھ سکتا ہے۔ سورہ قلم میں اسلئے خالد بن ولید کے باپ کی تذلیل ہوئی کہ وہ اشراف مکہ کاDNAنہیں تھا۔ زنیم حرامی کو نہیں کہتے۔
اگر عورت کی ذہنیت ہو کہ میں نے خاندان کو نقصان پہنچایا تو مسئلہ نہیں لیکن مرد نظرثانی کریں۔ عورت کا مرکزی کردار ہے تو وہ مرد کیاجسے عورت ہنکارہی ہو؟۔قصۂ خضر میں کشتی کابگاڑ ، بچے کا قتل اور یتیموں کی مدد سبق ہے کہ اجداد نے جو کیا ہمارے ساتھ جو ہوایہ قدرت کا راز تھا کیونکہ تحریک کا سہارا جٹ تھے۔ یہ تو ہمارے ساتھیوں کو کہتے تھے کہ ہمارا عزیز ہے…..ہاہاہاہاہا
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ