آفریدی محسود قبائل جرگہ میں تنازعہ کا حل
جون 17, 2026
آفریدی و محسود قبائل جرگہ میں اتنا کمال ہے کہ مسئلہ فلسطین و اسرائیل کو بھی یہ حل کرسکتے ہیں۔ قبائل روایات کے امین عظیم وکیل ہیں جو اخلاقیات، اقدار، قانون، دھونس اور تحفظات کے اعلیٰ معیارپر پورا اترتے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے فرد کیساتھ کھڑے ہیں۔ علمائ، مذاہب، سیاسی جماعتوں، علاقائی معاملات اوربین الاقوامی تنازعات کو ان کے حوالے کیا توحل بھی کرلیںگے۔ قائد ملت اسلامیہ مولانا فضل الرحمن کا بیٹا اور جمعیت لکی مروت کی پولیس کمیٹی سے الجھ گئی ۔میرا مشورہ ہے کہ محسود اور آفریدی قبائل کو ثالثی سونپ دیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈنڈابرداروں اور فتویٰ فروشوں کو ہمارے مہمانوں کیخلاف لگایا تو مولانا فضل الرحمن کو آخر میں شرمندہ ہوکر میرے گھر آنا پڑا تھا اسلئے کہ قبائل سے میری نسبت ہے۔
شاہد آفریدی کے بھائی طارق آفریدی اور محسود کاروباری یاسر کے درمیان تنازعہ ہے۔بادشاہی خان محسود نے کہا کہ ”یہاں آنے کے بعد تین دفعہ لڑکے کا فون آیا ہے کہ مجھے بہت اذیت دی جارہی ہے۔ کرنٹ لگارہے ہیں اور میری برداشت ختم ہوچکی ہے۔میری دکانیں، پلازے اور اثاثے ان کے نام کردو لیکن عذاب سے مجھے نکالو۔ جبکہ محسود قوم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر اس طرح ہم لوگوں کیلئے بلیک میلنگ میں آئے توبڑا بھگتنا پڑے گا ،لوگ اغواء برائے تاوان سے لوٹ لیںگے ۔ اسلئے اگر یاسر کو یہ لوگ کاٹ کر بھون بھی لیں تو ہم نے ایک روپیہ نہیں دینا ہے۔ ہماری حکومت سے کوئی دشمنی نہیں اسلئے کہ یہ شاہد آفریدی کا معاملہ ہے۔ اگر وہ محسود قوم کے ساتھ دشمنی مول لیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے لیکن یہ ہمارا فیصلہ ہے”۔
آفریدی رہنما نے کہا کہ ”دنیا میں ہر چیز کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ تم لوگ محسود قبائل ہمارے لئے بہت قابل احترام ہو اور ہمارے مہمان ہو۔ جرگے کا اصول یہ ہے کہ آپ نے ہم تک بات پہنچائی۔ اب ہم ان سے پوچھ لیں گے کہ مسئلہ کیا ہے؟۔ پھر دونوں فریق کی باتیں سن کر کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ کس کی بات میں وزن اور کیا مسئلہ ہے؟”۔
چونکہ سوشل میڈیا پر باتوں کی ترتیب کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ کس نے کیا کہا ،جواب میں کیا کہہ دیا ؟۔ اسلئے گفتگو کو من و عن نقل کرنا مشکل ہے۔ فریقین کا تصادم سے گریز اور بات چیت سے مسئلہ کا حل خوش آئند ہے۔ ایک محسود قبائلی رہنما نے بہت مؤثر تقریر کی کہ ہم تمہارے پاس آئے ہیں ۔ خدا کرے کہ تم ہمارا بندہ اغواء کرکے قتل کردو۔ ہم انگریز دور میں18ہزار شمار ہوئے (اب تو لاکھوں میں ہیں) اور ایک بندے کے قتل سے ہم بالکل بھی کم نہیں ہوتے لیکن یہ تمہارے لئے عار ہے۔
قبائل فطرت کے ترجمان ہیں۔ طالبان نے کئی بہت اچھے اچھے نامور محسود قتل کئے تو انہوں نے ایکشن نہیں لیا لیکن جب ہمارے واقعہ میں تین آفریدی سمیت مہمان شہید ہوگئے تو وہ محسود جو خود کو امریکہ سمجھتے تھے لیکن مہمانوں کے قتل سے بہت خراب ہوگئے۔ حالت اتنی پتلی ہوگئی کہ مولانا فضل الرحمن نے حالت زار دیکھی تو طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا۔
آفریدیوں سے ایک محسود قبائلی رہنما نے کہا کہ” ایک ایسا شخص جس کا کاروبار ہے ۔ ہم بھی ذمہ داری اٹھاتے ہیں کہ اس نے بھاگنا نہیں ہے تو پہلے آپ اس کو آزاد کریں اور پھر اس پر بات کریں اور بالکل وہ کہیں بھی جائے گا تو ہم ذمہ دار ہیں”۔
آفریدی رہنما نے کہا کہ ” ذمہ راری اس بات کی لو کہ اگر پیسہ نکلتا ہے تو اس رقم کی ادائیگی بھی آپ کی ذمہ داری ہوگی”۔ طارق آفریدی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گلٹی ہونے کے ثبوت ہیں اور وہ میرے پاس نہیں۔ میں نے قانونی مقدمہ درج کیا ہے اور متعدد مرتبہ فیصلوں کے بعد مجبوری تھی” ۔
امید ہے کہ عدل وانصاف کے مثالی تقاضوں کے مطابق معاملہ حل ہوگا۔ پہلے مرحلہ فریقین دلائل پیش کریںگے ۔پھر ثالثی مان کر دونوں کی خواہشات پر نہیں بلکہ حق پر فیصلہ ہوگا۔ قبائل میں پوری دنیا کے مسائل نمٹانے کی صلاحیت بھی ہے اور کمزوریاں بھی۔ کمزوری پر قابو پالیا تو پھر امام بن سکتے ہیں۔
قرآن میں منافقین کا جہنم میں نچلا درجہ ہے اور ایمان نفاق کی ضد ہے۔ ایک آدمی اپنی اولاد کو گالیاں دیتا تھا اور مقامی رسم کے مطابق دعوت میں لوگوں کو گوشت ہاتھ میں دیا جاتا تھا اور وہ شخص گالی کیساتھ اپنوں کو گوشت کا بڑا حصہ بھی تھمادیتا تھا۔ جس پر ایک شخص نے کہا کہ مجھے بھی گالی دو تاکہ گوشت بھی ملے۔
مولانا فضل الرحمن نے26ویں ترمیم سے پہلے بڑی گرم گرم تقریریں کرکے مغالطہ دیا اور آخر میں مقتدرہ کو رسکیو کردیا۔ ممکن ہے کہ طالبان کو رسکیو کرنے کیلئے خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا ہو اسلئے کہ افغان طالبان کی حامی ہماری ریاست بھی تھی اور اس کو دجال اور دجال کا لشکر قرار دینے پر نیٹو کے خلاف جہاد کا جذبہ ختم ہوسکتا تھا۔ پاکستانی ریاست اپنے خلاف جہاد کی حامی نہیں تھی۔ بیت اللہ محسود نے قاری حسین کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن قاری نے کہا کہ تمہارے کہنے پر خاندان محسود اور اس کی فیملی کو شہید کیا تو تجھے بھی قتل کیلئے خود کو پیش کرنا ہوگا۔ قاری نے قبائل سے کہا کہ طاقت میں بیت اللہ محسود سے کمزور ہوں لیکن دلائل کی بنیاد پر پلڑا بھاری ہے۔ جب قوم اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی توبیت اللہ محسود کمزور ہوگیا۔ کانیگرم میں طالبان نے جرگہ رکھا تھا تو محسود قوم نہیں آئی۔
اصل میں اقدار کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
مذہبی طبقہ ایمان کیساتھ عمل صالح عبادات کو سمجھتا ہے ۔حالانکہ عبادات تمام مذاہب کے الگ الگ ہیں۔ سورہ حج میں تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کے تحفظ اور ان میں اللہ کا نام کثرت سے ذکر کی سند سب کو حاصل ہے اور اس انقلابی فکر سے دنیا بھر میں بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے کہ قرآن نے لائن میں تمام مذاہب کی عبادگاہوں میں سب سے آخر میں مساجد کا ذکر کیا ہے۔
یہود ونصاریٰ نے مذہبی وعبادات اور دنیاوی معاملات کو بانٹ دیا تھا۔اعمال صالحہ کا تعلق عبادات سے نہیں معاملات سے ہے۔ صالح کا معنی درست اور اس کی ضد مفسد ہے۔ جب مشرک بیٹا مانگتا تھا تو صالح مانگتا تھا لیکن صالح کا معنی تندرست تھا اور جب اقدار بدل جائیں گی۔ یہودو نصاریٰ کی طرح ہم بھی مساجد میں حاجی صاحب اور معاملات میں ماجی صاحب بن جائیں گے تو صالح ہونے کے تصورات بھی ختم ہوں گے۔
جنرل پرویز مشرف کے ایمر جنسی کو مولانا فضل الرحمن نے1973ء کے آئین کی روشنی میں پارلیمنٹ سے منظوری دیدی پھر حامد میر کے پروگرام میں انصار الاسلام عباسی نے انکشاف کیا کہ مولانا صاحب نےGHQسے زمینیں بھی لے لی ہیں اور اس سے بڑھ کر سودی بینکاری کو مشرف بہ اسلام قرار دیا ہے تو پھر بقول مولانا منظور مینگل کے اسلامی ہیرہ منڈی نام رکھ دو لیکن کنجریوں میں بھی غیرت ہوتی ہے۔نواب آف کالاباغ نے ایک کو زبردستی سے نچانے کیلئے لایا تو اس نے زہر کھالیا۔
دارالعلوم کراچی کے چھپے ہوئے مواعظ ہیں کہ شادی بیاہ کی رسم میں لفافے کی لین سود اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے۔ پھر بھی مفتی تقی عثمانی نے سودکو جواز بخش دیا ہے۔
علماء ومفتیان میں کچھ لوگوں کا ضمیر قوم لوط کے عمل کی وجہ سے بالکل ناکارہ ہوجاتا ہے۔
مولانا محمدیوسف لدھیانوی کو شہید کرکے ان کی مقبول کتاب”عصر حاضر حدیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰة والسلام کے آئینہ میں” مارکیٹ سے غائب نہیں کی جاتی تو علماء ، مفتی صاحبان ، حکمران، عوام اور سب لوگوں کو آئینہ میں اپنی شکل نظر آتی اور اعمال کی اصلاح بھی کرتے۔
مولانا محمدامیر بجلی گھر نے مجھ سے کہا کہ ”اتحادکا جذبہ اچھا ہے لیکن فضل الرحمن اور مولاناسمیع الحق اکٹھے نہیں ہوں گے”۔ پھر جب جنرل پرویزمشرف کی قید سے رہا ہوئے تو تقریر میں کہا کہ
” ملاؤں نے بھی سودی زکوٰة کھانا شروع کردی”۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، خصوصی شمارہ جون2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ