قرآن کی یہود ونصاریٰ کیلئے ہدایت
ستمبر 4, 2026
واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس وما جعلنا الرؤیا التی اریناک الا فتنة للناس والشجرة الملعونة فی القراٰن و نخوفھم فما یزید ھم الا طغیانًا کبیرًاO
”اور جب نے ہم نے آپ سے کہا کہ تیرے رب نے لوگوں کو گھیرا ہے اور آپ کا خواب نہ بنایا مگر لوگوں کی آزمائش اور قرآن میں شجرہ ملعونہ اور انہیں ڈراتے تو ان کو نہیں بڑھاتا مگر بڑی طغیانی میں”۔ (بنی اسرائیل:60) شجرہ ملعونہ حلالہ کی لعنت ہے۔
وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقًا لما بین یدیہ من الکتاب و مھیمنًا علیہO(المائدہ آیت:48)
”اور ہم نے تیری طرف حق کیساتھ کتاب نازل کی جو اسکے ہاتھ میں کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پر محافظ ہے”۔
یہود نوح کی بیوی بدکار، عیسائی پاکدامن کافرہ اور ابن عباس ، جمہور کے نزدیک پاکدامن، حسن بصری اور مجاہد کے نزدیک بدکار ۔ (تفسیر قرطبی) قرآن تصدیق بھی کرتا ہے اور غلطی کی درستگی بھی؟۔
امرات فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتًا فی الجنة ونجنی من فرعون و عملہ و نجنی من القوم الظالمینO
”فرعون کی بیوی نے جب کہا کہ اے میرے رب ! میرے لئے جنت میں گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے ”۔ (سورہ التحریم آیت:11)
3 طلاق اور حرمت پر جبری حلالہ کیا جاتا تھا اور اسلئے فرعون کی بیوی نے حلالہ سے پناہ مانگی تھی۔
نوح نے بتایا کہ حلالہ نہیں ،3طلاق دی مگر اس نے مجنون کہا۔ چھپاکر حلالہ کیا تو پھروہ لڑکا جم گیا ۔
قال یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالحٍ فلا تسألن مالیس لک بہ علم انی اعظک ان تکون من الجاھلینO(سورہ ھود:آیت:46)
” فرمایا: اے نوح یہ تیرے اہل میں سے نہیں۔ یہ نادرست عمل ہے۔ پس مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں ،میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جاہلوں میں سے مت بنو! ”۔
یہ نہیں کہا:
ان عملہ غیر صالح
اس کا عمل صالح نہیں بلکہ
انہ عمل غیر صالح
”بیشک وہ غیر صالح عمل ہے”۔
غیر صالح ”حلالہ کی پیدوار” اور حلالہ زنا تو نہیں لیکن جب نوح نے واضح کیا کہ حلالہ کے بغیر رجوع ہے ۔ اس نے نہیں مانا تو کافرہ ہوگئی اور شوہر سے خیانت کرکے چھپا کرحلالہ کیا ۔
امرات نوحٍ و امرات لوطٍ کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا ھما
”نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی جو میرے صالح بندوں کے نیچے تھیں اور پھر ان دونوں نے ان دونوں سے خیانت کی ”۔ (سورہ تحریم:10)
قال النبیۖ لولا بنوا سرائیل لم یخنز اللحلم و لولا حواء لم تخن انثی زوجھا صحیح بخاری نمبر 3330۔
”نبی ۖ نے فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور حوا نہ ہوتی تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ”۔
اہرام مصر کی ترقی میں پیش رفت بنی اسرائیل نے نافرمانی سے روکی ،ورنہ گوشت نہیں سڑسکتا تھا۔ اگر حوا حضرت آدم کے ساتھ شریک نہ ہوتی توکوئی عورت اپنے شوہر سے چھپ کر حلالہ نہ کرتی۔
اناجیل میں ہے کہ حضرت مریم یوسف نجار کی منگیتر تھی لیکن جبرائیل نے یوسف نجار کی شکل میں خدا کی روح پھونک دی ۔یوسف نجار نے توراة کے مطابق سزا سے بچانے کیلئے مریم کو تحفظ دیا۔
مریم ابنت عمران التی احصنت فرجھا فنفخنا فیہ من روحنا و صدقت بکلمات ربھا و کتبہ
”مریم بنت عمران جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا پھر ہم نے اسمیں اپنی روح پھونکی اور اس نے اپنے رب کی باتوں اوراسکی کتابوں کی تصدیق کردی”۔ (سورہ التحریم:12)
عیسائی3سوسال پہلے طلاق کے قائل ہوگئے۔ یہود حلالہ چھوڑیں گے ۔ سورہ نور میں لعان کا حکم اور زنا پرسوکوڑوں کی سزا ہے۔ شوہررنگے ہاتھ پکڑلے اور عورت جھوٹ بولے توبھی کوئی سزانہیں ہے ۔
قرآن سے توراة وانجیل کو سمجھاتو عیسائی مذہبی طلاق کومانیںاور یہود حلالہ چھوڑدیں۔نبیۖ کی نرینہ اولاد کو اللہ نے بچپن میں اٹھایا۔ عیسیٰ کی آمد تو نبیۖ کا مقدمہ تھادادا نہیںنانا کے وارث تھے۔ میرے اجداد نے یتیم نواسوں کو ذاتی و قومی جائیداد میں حصہ دیا۔ ”میراث آدھا علم ہے”۔نبیۖ۔ داؤود کا وارث سلیمان ذاتی و قومی جائیداد، خاندانی املاک ، حجرات اور باغ فدک میں فرق ۔ ازواج مطہرات کے اخراجات تھے مگر اولاد نہ تھی تواولاد فاطمہ کو ملنا تھا۔ طلاق اور مسائل کا فضول حجم ختم تو میراث اور باقی علم کا توازن برابر !۔ مفتی تقی عثمانی وارث تومولانا ولی رازی کیوں نہیں؟۔ زکی کیفی کے یتیم بچوں کو داداکی میراث کا حق کتنا مل سکا؟۔
ــــــــــ
اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv
لوگوں کی راۓ