پوسٹ تلاش کریں

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری اخبار: نوشتہ دیوار

ترمذی کی شرح معارف السنن علامہ سیدیوسف بنوری نے لکھی ۔بخاری استاذ اور ترمذی شاگرد ہیں،ترمذی کی قرآن سے متعلق حدیث علماء دیوبند میں سب سے زیادہ اچھی فکر کے عالم دین مولانا سید محمد میاں نے خطبات مسنونہ میں نقل کی ہے۔

طلاق سے متعلق اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر قرآن سے رہنمائی لے گا تو منٹوں میں اس کا دماغ کھلے گا۔احادیث میں جتنا الجھاؤ ہے اور قرآن میں جتنی صفائی ہے دونوں میں بڑا فرق ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے جب ممنوعہ احادیث کی اجازت دی تو ساتھ میں من گھڑت اور ضعیف اور الجھے ہوئے واقعات کی ایسی بھر مار کردی گئی کہ لوگ فرقہ فرقہ بن گئے ۔

طلاق پرقرآن کی سب واضح آیات البقرہ228ہے جس میں عدت کے تین ادوار کا تصور واضح ہے اور حمل کا بھی ذکر۔ پھر اس روڈ میپ کے اندر باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر وں کو اپنی عورتیں لوٹانے کا زیادہ حقدار قرار دیاہے اور ساتھ میں واضح کیاہے کہ عورتوں کے مردوں کی طرح وہی معروف حقوق ہیں۔

سورہ الطلاق آیت4میں واضح ہے کہ جو عورتیں حیض سے ناامید ہوں اور عدت میں الجھن ہو یا حیض نہ آتا ہو تو3ماہ ہے اور حمل والوں کی عدت جب بچہ جننے تک ہے۔ بچے کی پیدائش بھی واضح ہے اور3مہینے کی عدت بھی واضح ہے۔ عورت دعویٰ کرے کہ حیض مہینے تین یا دو مہینے میں ایک تو یہ فضو ل ہے۔

پاکستان کے آئین ترمیمی بل1964میں طلاق کا معاملہ بالکل قرآن کے مطابق ہے۔ جس میں حلالہ کی لعنت کو ختم کیا۔ باہمی رضامندی سے صلح کی گنجائش دے دی گئی ہے۔ یہ چیز پھر سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ النساء آیت35میں ہے۔

قرآن میں کوئی چیزبالکل متصادم اور غیر واضح نہیں ہے مگر احادیث نے بہت غلط انداز میں وضاحتوں کو الجھا دیا ہے۔

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان
”طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے”۔ البقرہ آیت229

یہ آیت228کی بہت واضح تفسیر ہے ۔پہلی صورت وہی ہے کہ معروف یعنی باہمی اصلاح کی شرط پر صلح ہوسکتی ہے جس میں نہ جبر کا کوئی تصور ہے اور نہ قرآن کی واضح کردہ عدت کی۔ بخاری کی کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق، کتاب العدت اور کتاب التفسیر ہر جگہ رسول اللہ ۖ کی عبداللہ بن عمر کے واقعہ میں وضاحت ہے کہ3مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے3مراحل کے ساتھ ہے ۔ معروف رجوع کا معنی منکر رجوع نہیں ہے کہ حنفی مسلک میں نیت نہیں تھی اور شہوت آگئی تو بھی رجوع ہے اور شافعی کے نزدیک نیت نہ تھی تو جماع بھی رجوع نہیں ہے۔

جیسے انکے باپ کے مال کی شریعت ہو؟۔ عورت راضی ہو تو یہ معروف رجوع ہے اور باہمی صلح کے بغیر رجوع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بغیر عورت کی رضامندی کے طلاق رجعی کا تصور ہی آیت228البقرہ کے حدود کو پاش پاش کردیتا ہے۔ عدت بھی بڑھ سکتی ہے اور عورت کی رضامندی بھی ملیا میٹ ہوجاتی ہے۔ اکٹھی3طلاق کے بعدباہمی صلح کی رجوع پر پابندی بنوامیہ اور بنوعباس کے دلوں اوردلالوں کی عدالتیں نہیں رجواڑے تھے۔

قرآن نے رجوع کیلئے باہمی رضامندی کی معروف شرط واضح کی ہے۔
اسے منکر میں بدلنا غلیظ ذہنیت کی انتہائی غلاظت ہے جس کے گند کیلئے احترام کا لفظ استعمال کرنا کفر ہے اور مجھے کسی سے عقیدت ہو مگر کفر کا ارتکاب بالکل نہیں کرسکتاہوں۔

لوگوں کی ماؤں ، بہنوں، بیویوں ، بیٹیوں ، بہوؤں اور دیگر خواتین کی عزتیں قرآن، اسلام، صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین اور علماء ومشائخ کے نام سے قرآن وسنت کے خلاف لٹ جائیں؟ اور ہم اس کو خندہ پیشانی سے احترام کے ساتھ برداشت کریں؟ یہ ہماری رگوں میں دوڑنے والے خون کو برداشت نہیںہے۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے100فیصد درست فیصلہ کیا تھا کہ اکٹھی تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر وہ کوئی فتویٰ نہیں فیصلہ تھا۔ فتویٰ اور فیصلے میں فرق ہے۔ فیصلہ تنازعہ میں ہوتا ہے اور فتویٰ مسئلے کی وضاحت کیلئے ہوتا ہے۔ جب عورت رجوع کیلئے راضی نہیں ہو تو البقرہ آیت228اور229کے اندر بالکل واضح ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا ہے۔ اکٹھی3طلاق ہی نہیں بلکہ ایک طلاق کے بعد بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ رجوع کو باہمی رضامندی ،اصلاح اور معروف کیساتھ مشروط کردیاہے۔

حضرت عمر سے سب سے پہلا اختلاف عبداللہ بن عمر نے کیا تھا اسلئے کہ وہ تین طلاق دے چکا تھا اور نبیۖ نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا اور پھر عدت و طلاق کو ایکدوسرے سے لازم وملزوم قرار دینے کا تصور دیا تھا ۔ جیسے عدت ظرف ہے اور طلاق مظروف ہے۔ تین روزے تین دن کیساتھ ظرف اور مظروف کا تعلق رکھتے ہیں۔ دن ظرف اور روزہ مظروف ہے اور جس طرح رمضان کے مہینے میں دنوں کیساتھ روزوں کا تعلق ہے ویسے تین مرتبہ طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل کے ساتھ ہے۔ اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ عدت کے بھی تین مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے بعد بھی اللہ نے فتویٰ کے اعتبار سے باہمی رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے بلکہ رجوع میں رکاوٹ ڈالنے کے اوپر پابندی لگائی ہے جیسے سورہ البقرہ آیت228میں عدت کے اندر شوہر کو رجوع کا زیادہ حقدار قرار دیا تو اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ عورت کسی اور سے عدت میں نکاح نہ کرنے کی پابند ہے۔ اگر اس کی ترجیحات خاور مانیکا کی جگہ عدت میں بھی عمران خان بن جائے تو خاور مانیکا عدت میں شوہر ہوکر بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا تھا۔ عدالت کا فیصلہ اعلیٰ عدلیہ نے بعد میں جیسے کیسے بھی مگر ٹھیک دیا ہے اور جس نے پہلے فیصلہ دیا تھا کہ خاور مانیکا کا حق مجروح ہواہے وہ غلط تھا۔

قرآن یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عدت کے بعد بھی معروف طریقے سے رجوع کا شوہر کو حق ہے لیکن جب عورت راضی ہو تو بھی اسلئے شوہر کو رجوع نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو ضرر پہنچائے ۔ آیت231البقرہ میں وضاحت دیکھ لیں۔ پھر مفتی تقی عثمانی جیسے لوگ قرآن کے تراجم تک میں تحریف کر ڈالتے ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آخری حد کردی کہ جب کافی عرصہ گزر چکا ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عورتوں کو اپنے شوہروں سے نکاح سے مت روکو ، جب وہ اپنے شوہروں کے ساتھ نکاح کرنے کیلئے آپس میں باہمی رضامندی سے معروف طر یقے سے راضی ہوں۔ البقرہ232۔ بہت بہترین وضاحت ہے۔

آیت229میں دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ جب شوہر چھوڑنے کا فیصلہ کرے تو اس میں طلاق شدہ عورتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ جس کا واضح مطلب عدت کے تیسرے مرحلہ میں عورت کے اپنے حقوق سے بھی احسان کرکے زیادہ حقوق دینے ہیں۔ سورہ النساء آیت19خلع کا عورت کاحق اور حقوق ہیں۔ حدیث میں خلع کی عدت ایک حیض یا ایک ماہ ہے۔ اور سورہ النساء آیت20میں طلاق اور عورت کے طلاق کے اندر خلع سے زیادہ حقوق ہیں۔ البقرہ آیت229میں طلاق کی وضاحت ہے۔خلع کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے یہ واضح ہے کہ کوئی دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے اور پھر اس صورت میں استثناء رکھا ہے کہ جب آپس میں رابطے اور حدود کے توڑنے یعنی جنسی بے راہ روی کا خدشہ ہو تو وہ چیز عورت قربان کرسکتی ہے اور اس میں بنیادی شرط فیصلہ کرنے والے کے کردار کا بھی ہے۔ جب وہ بھی یہی سمجھیں۔ پھر جب عورت وہ چیز واپس کردے تو کنفرم ہوجاتا ہے کہ اس نے اب رجوع نہیں کرناہے اور جب یہ کنفرم ہو کہ اس نے رجوع نہیں کرنا ہے تو آیت230کا حکم ہے جس کا مقصد حلالہ کی کوئی سزا نہیں بلکہ عورت کو مکمل آزادی دینی ہے جو بالکل واضح ہے۔
ــــــــــ

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ ستمبر2026
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسی بارے میں

قرآن و حدیث ترمذی و بخاری
قرآن و حدیث کے آئینہ میںپاکستان کے روشن مستقبل اور دنیا میں انقلاب عظیم کی خبر ؟
3باتین یاد رکھو!