پوسٹ تلاش کریں

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی اخبار: نوشتہ دیوار

سن2024کے اندر یقین کیساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں منتخب آزاد ارکان کی تعداد تمام پارٹیوں سے بھی بہت زیادہ ہوگی

بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات میں آزاد ارکان کی تعداد پارٹیوں کے مقابلہ میں زیادہ تھی۔ عمران خان پرویزمشرف کے ریفرینڈم کا حامی اور تحریک انصاف کا جنرل سیکرٹری معراج محمد خان ریفرینڈم کا مخالف تھا۔ یہ جمہورت کا وہ گھناؤنا چہرہ تھا جس کا عوام کو آج تک شعور نہ مل سکا ہے پھر انتخابات ہوئے تو عمران خان صرف اپنی سیٹ پر جیت سکا۔ پرویزمشرف اس کو وزیراعظم بناسکتا تھا لیکن عمران خان نے اچھا کیا کہ نہیں بنا تھا اور پھر بلوچستان سے مرحوم ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا۔
ظفر اللہ جمالی میں جمہوریت، اسلام اور انسانیت تینوں چیزیں واضح مقدار میں تھیں لیکن مولانا فضل الرحمن کے مقابلہ میں ایک ووٹ سے وزیراعظم بن گیا تھا۔ اس وقت اس ایک ووٹ کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔جس کے ذریعے سے ظفراللہ جمالی وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمن میں کانٹے دار مقابلہ تھا۔ عمران خان نے اپنا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا تھا اور کالعدم سپاہ صحابہ کے مولانا اعظم طارق نے اپنا ووٹ ظفراللہ جمالی کو دیا۔ درست و صحیح صحافت کا ایک پروگرام ڈان نیوز میں وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی کا ” ذرا ہٹ کے” تھا۔ جس میں یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ظفراللہ جمالی کو زیادہ ووٹوں سے بھی منتخب کروایا جاسکتا تھا لیکن فوج نے جمہوریت کو طاقتور نہیں ہونے دینا تھا اسلئے کچھ ووٹ چھپا ئے تھے۔ ظفراللہ جمالی ایک ووٹ سے کمزور وزیراعظم بنادیا گیا تاکہ جب فوج کو ضرورت ہو تو ایک ووٹ کو ادھر سے ادھر کرکے جمالی کو اتاردیا جائے۔ حالانکہ یہ بات اس وقت کی جاتی کہ اگر جمالی کے پاس اپنے علاوہ کوئی دوسرا ووٹ بھی ہوتا۔
اگر درست جمہوری تصور ہو تو طاقتور کے مقابلے میں کمزور لوگ بھی اقتدار میں آسکتے ہیں۔افغانستان میں طالبان طاقت کے ذریعے سے اقتدار تک پہنچے اگر جمہوریت نہیں آتی توپھر وہاں تبدیلی طاقت کے بغیر نہیں آسکتی ہے لیکن پاکستان میں یہ نہیں ہے کہ بندوق اٹھائی جائے تو تبدیلی آسکتی ہے۔
رسول اللہ ۖ نے اقتدار کیلئے جنگ نہیں کی تھی مکہ والوں نے مجبور کیا تو ہجرت کی اور مدینہ میں جمہوری اقتدار کی بنیاد رکھ دی ۔ نبیۖ نے فرمایا کہ ” قلم اور کاغذ لاؤ۔ میں ایسی چیز لکھ کر دیتا ہوں کہ تم میرے بعد کبھی گمراہ نہ ہوگے”۔ حضرت عمر نے کہا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ نبیۖ نے اپنا ایجنڈہ زبردستی نہیں منوایا اور یہ جمہوریت کی بنیاد تھی۔
قوم پرست انصار نے کہا کہ ہم خلافت کے حقدار ہیں۔ نبی ۖ کے عزیز واقارب بھی تھے۔ اگرچہ ووٹ کا نظام نہیں تھا لیکن جمہورکی بنیاد پر حضرت ابوبکر پہلے خلیفہ منتخب ہوگئے۔ پہلا خلیفہ انصار بنتا تو قوم پرستی کی بنیاد مضبوط ہوجاتی۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی نامزدگی جمہوری بنیاد پر کی تھی ورنہ ایک احتجاج کی صورت پیش آتی۔ حضرت عثمان کا انتخاب بھی شوریٰ نے جمہوری اور اکثریت کی بنیاد پر کیا تھا اور اس کی وجہ سے سب نے سرتسلیم خم کیا۔پھر حضرت علی خلیفہ بن گئے تو حضرت عائشہ کی قیادت میں مسلح جنگ ہوئی اور وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان کے قاتلوں کا بدلہ لیا جائے۔ پھر حضرت علی کے بعد امام حسن نے امیرمعاویہ سے معاہدہ کیا اور30سالہ خلافت راشدہ کے بعد امارت کا آغاز ہوگیا۔ اس کے بعد ایک غیر صحابی یزید سے خاندانی بادشاہت کا آغاز ہوگیا اور یزید ہی باطل نظام کا ایک استعارہ بن گیا۔آج ہم آزاد ا رکان کا اقتدار قائم کرکے پاکستان میں خلافت راشدہ لاسکتے ہیں۔ حضرت علی نے مدینہ کی جگہ کوفہ کو دارالخلافہ بنایا اور ہم اسلام آباد کی جگہ ڈیرہ غازی خان کو دارالخلافہ بنائیں گے۔ انشاء اللہ العزیز
پنجاب ، سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ کے آزاد ارکان اپنا ایک مختصر منشور شائع کریں۔ پھر کامیاب ارکان آپس میں ہی اتحاد کرکے ایک شخص پر ووٹنگ کرکے اتفاق کرلیں۔ پہلے سب میں جن جن کوبھی ووٹ مل جائیں اورپھر زیادہ ووٹ لینے والا منتخب نہ ہو بلکہ کم ووٹ لینے والوں کو درمیان سے نکال کر زیادہ ووٹ لینے والوں کے درمیان ایک ہی مجلس میںمقابلہ ہو اور پھر پہلے تین پوزیشن حاصل کرنے والوں کے درمیان ووٹنگ کرائی جائے۔ پھر پہلی دو پوزیشن میں ووٹنگ کرائی جائے۔
پھر جس کے زیادہ ہوں اس پر سب متفق ہوں۔ جمہوریت کا ایک نیا طریقہ کار رائج کرنے کی ضرورت ہے جس میں پیسہ خرچ اور ایکدوسرے کے خلاف غلط پروپیگنڈے کا موقع بھی نہ دیا جائے۔ اگر آزاد ارکان خود جیتنے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو اپنے منشور کے تحت کسی اور پارٹی کو جتوائے لیکن قرآن وسنت کے بنیادی معاشرتی ڈھانچے کو نافذ کرنے کیلئے اپناکردار ادا کرے۔خلع وطلاق کے مسائل ۔ خلع وطلاق کے حق اور نکاح اور حق مہر کے معاملات قرآن میں بالکل واضح ہیں لیکن علماء و مفتیان نے مسخ کرکے رکھ دئیے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان اسلام کی طرف نہیں جارہاہے۔ جمہوریت کے دور میں سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ ہم غلطیوں کو ٹھیک کرکے اس پر مرہم و پٹی رکھ سکتے ہیں۔ شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور اہلحدیث کے متفق ہونے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ اسلام روشنی ہے جو اندھیروں کو کسی طاقت کے بغیر بھی بالکل اڑادیتا ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟