پوسٹ تلاش کریں

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔ اخبار: نوشتہ دیوار

افغان طالبان اور پاکستان اسلام کی بنیاد پر اپنا ایسا پروگرام تشکیل دے سکتے ہیں جو خطے میں دہشت گردی کی روک تھام کا ذریعہ ہو اور دیرپا امن و استحکام اور خوشحالی کا پیغام دنیا بھر کودے۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

پاکستان میں سیاسی استحکام کے لئے عمران خان کی طرح تمام سول و ملٹری بیوروکریٹس اور سیاسی و غیر سیاسی رہنماؤں کو توشہ خانہ میں دھر لیا جائے ،جرمانہ وصول کیا جائے

ہم اپنوں اور پوری دنیا کو یہ بتادیں کہ اسلام نے انسانیت کو دورِ جاہلیت سے نکال کر کیا کیا تحائف دیے ہیں اور اپنی جہالت سے پھر کس طرح قرآن کی معنوی تحریف کا شکار ہوئے؟

جب امریکہ میں9/11کا واقعہ ہوا تو افغانستان کا کیا حال کردیا گیا؟۔ قندھار امریکی ائیر بیس سے گوانتا نامو بے تک کی داستانیں افغانستان کے سفیر مُلا عبد السلام ضعیف اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے علاوہ ان گنت داستانیں ہیں جو یوٹیوب پر دستیاب ہیں۔ پھرعراق اور لیبیا کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ پاکستان میں خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقہ جات سمیت تسلسل کے ساتھ چھوٹے بڑے واقعات ہوئے، سانحہ باجوڑ بھی اس تسلسل کا ایک حصہ ہے، اس کے بعد بھی خودکش دھماکوں کو کنٹرول کرنا افغانستان اور پاکستان کے بس کی بات نہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو پاکستان میں علماء قرآنی آیت پڑھتے تھے کہ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الملآ ئکةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاسَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْہُمْ کُلَّ بَنَانٍ(الانفال:12)
ترجمہ: ”جب آپ کے رب نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ عنقریب میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو تم کافروں کی گردنیں مارو اورہر جوڑ پر ضرب لگاؤ”۔
جب تلواروں کی جنگ ہو تو کارگر ضرب گردن پر ہوتی ہے لیکن کبھی گردن کا موقع نہیں ملتا تو کسی جگہ پر بھی ضرب لگا کر دشمن پر تسلط حاصل کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ علماء اور خطیبوں نے منبروں پر یہ کرنا شروع کردیا کہ ”کافروں کی گردنیں مارو اور ان کو ہر ہر جوڑ پر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کردو”۔ جنوبی وزیرستان علاقہ محسود میں پہلا گروپ عبد اللہ محسود کا تھا جو گوانتا ناموبے سے رہا ہوگیا تھا۔ دوسرا بیت اللہ محسود کا تھا جس کا گھر بار بنوں میں تھا اور وزیرستان کی سرزمین پر اس کی کوئی جائیداد نہیں تھی۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وزیرعلاقہ میں پہلے سے طالبان کے گروپ موجود تھے جن میں جنوبی وزیرستان کے نیک محمد اور شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر گروپ زیادہ مشہور تھے۔ شمالی وزیرستان میں مشہور بدمعاشوں کو طالبان نے کھمبوں پر لٹکایا تو عوام بڑی خوش ہوئی۔ طالبان کو عوام میں ہر جگہ زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ جتنے بدمعاش غنڈے تھے وہ بھی طالبان بن گئے۔ کمزور اور غریب طبقہ بھی طالبان بن گیا۔ سب سے زیادہ طالبان کا گڑھ وزیرستان کا محسود علاقہ بن گیا۔ وزیر علاقے سے جو ازبک وغیرہ بے دخل کئے گئے تھے وہ بھی محسود علاقے میں کیمپ لگاکر آباد ہوئے تھے۔
ایک مرتبہ ازبک اور مقامی طالبان کے کیمپ قریب قریب تھے تو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی طالبان پر بمباری کی گئی جس میں ہمارے اسکول کبیر پبلک اکیڈمی کا ایک برکی طالب علم شہید اور ایک اُستادزخمی ہوئے۔ جان محمد اورکزئی گورنر نے محسود قبائل کو پشاور گورنر ہاؤس طلب کیا اور ان کو پوری تفصیل بتائی کہ کس طرح ازبک محسود ایریا میں گئے اور کس کس نے کہاں کہاں ان کو ٹھہرایا تھا؟ جس پر جمعیت علماء اسلام ٹانک کے ضلعی جنرل سیکریٹری مولانا عصام الدین محسود نے کہا کہ صاحب! میں معافی چاہتا ہوں جتنی تفصیل آپ کو معلوم ہے اتنی ہمیں پتہ نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آپ نے ازبک کے کیمپ کو نشانہ کیوں نہیں بنایا؟۔ جس پر جنرل اورکزئی نے کہا کہ اگر ہم نہ کرتے تو امریکہ یہ کرتا۔ یہ تسلی بخش جواب نہ تھا لیکن طاقتور کے سامنے کون بول سکتا تھا؟۔
باجوڑ واقعہ کے بعد سابق سینیٹر مولانا محمد صالح شاہ قریشی سے شیر عالم برکی نے تفصیل سے انٹرویو لیا ہے جس کی کچھ معلومات عوام اور بااثر طبقات تک پہنچ جائیں تو مفید ہوگا۔ انگریز دور میں کچھ قبائلی سرکاری ملکان کو مراعات ملتی تھیں۔ ماہانہ2روپے ،5روپے ،50روپے،120روپے وغیرہ جن جن افراد کو ملتے تھے تو انگریز دور میں ان کیلئے یہ بہت بڑا اثاثہ ہوتا ہوگا۔ جب انگریز ہندوستان چھوڑ کر گیا تو بھی کافی عرصہ تک برطانیہ سے انگریز سرکار کے دُرِ یتیموں کو وظیفہ ملتا تھا۔ پھر آزادی کے بعد پاکستان نے بھی ان ملکان میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ قبائلی علاقوں پر سرکار کا جتنا خرچہ ہوتا تھا اس میں ملکان کے پیسے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں تھے لیکن انگریز کے نمک خوار کے نام سے بدنام ہوئے۔ سید یوسف رضا گیلانی جب وزیر اعظم تھے تو سینیٹر صالح شاہ کیلئے6ہزار ماہانہ وظیفہ مقرر کرکے پورے قبائل کا گرینڈ چیف بنادیا۔ امریکہ سے عبوری وزیر اعظم معین قریشی آئے تھے تو قبائل میں بھی قومی اسمبلی کے ممبر وں کیلئے سرکاری ملکان کی جگہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کردیا تھا۔ پہلے جنوبی وزیرستان میں1300ملکان کے ووٹوں سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہوتا تھا۔ جس میں ملکان کی اکثریت ووٹ بیچتے تھے۔جس طرح آج ٹانک میں بعض لوگوں نے قومی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے بھی فیس رکھی ہے اسی طرح ملکان بھی شناختی کارڈ کی تصدیق کیلئے کبھی دستخط کرتے تھے اور بعض اس پر مفاد بھی اٹھاتے ہوں گے۔ جب طالبان نے چندوں اور مالی مفادات کا مزہ چکھ لیا تو وہ بھی دیوانے ہوگئے۔ کئی کتابوں کے مصنف اسماعیل ساگر جس نے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ ویلاگ بھی کئے ۔ اس نے بتایا کہ پنڈی کے قریب بلیک واٹر نے بڑے پیمانے پر فوج اور پولیس سے نکالے گئے بدمعاش بھرتی کئے تھے اور اربوں روپے قبائل میں خرچ کئے۔
جب9/11کا واقعہ ہوا تو ہم نے ماہنامہ ضرب حق کا خصوصی شمارہ نکالا تھا اور اس میں بنوں کے ایک جوان حبیب اللہ کے خواب کی بڑی سرخی لگائی تھی۔ جس میں نبی کریم ۖ نے فرمایا تھا کہ” اللہ امریکہ کو تباہ کردے”۔ پہلے اس کو وہاں کے مذہبی طبقے نے تنگ کیا کہ تم شہرت چاہتے ہو پھر بڑے بالوں والے اٹھاکر لے گئے اور کہا کہ اگرپھر زبان کھولی تو پھر نظر نہیں آؤ گے۔ ہمیں یہ معمہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایک خواب میں کونسا ایسا جرم ہے کہ اس بیچارے کو دھمکیاں دی گئیں۔ جب اسماعیل ساگر نے کہا کہ میں پہلے ڈر کے مارے بتا نہیں سکتا تھا اسلئے کہ حالات بہت مشکل تھے تو ہم سمجھے کہ یہ کرایہ دار افراد کی کاروائی ہوسکتی ہے لیکن پھر جب مُلا ضعیف کی روداد یوٹیوب پر دیکھی تو سمجھا کہ یہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جنہوں نے ہمیں امریکیوں کی دسترس سے بچایا ہو۔
سینیٹر صالح شاہ کا یہ انٹرویو مکمل اردو ترجمے کے ساتھ تمام میڈیا چینلوں پر نشر ہونا چاہیے اسلئے کہ ایک تو انہوں نے اپیل کی ہے کہ عوام تک یہ باتیں پہنچائی جائیں۔ دوسرا یہ کہ جنرل فیض حمید نے جن قبائلی رہنماؤں کو افغانستان بھیج کر تحریک طالبان سے صلح کی کوشش کی تھی اس میں اس کا مکمل احوال ہے۔ ایک تو جنرل فیض حمید نے سرکاری ملکان کے معطل شدہ وظائف کو دوبارہ جاری کردیا تھا جو انضمام کے بعد ختم کئے گئے تھے۔ دوسرا یہ کہ پہلے یہ مذاکرات طالبان حکومت سے پاکستان کی حکومت کی طرف سے ہوئے تھے اور پھر جب بقول مولانا صالح شاہ کے جب ہم نے پاکستانی طالبان سے براہ راست رابطہ کیا تو افغان طالبان ناراض ہوگئے کہ تم نے براہ راست بات کیوں کی؟۔ جس سے یہ اعتراض بالکل لغو بن جاتا ہے کہ پاکستان کو افغان حکومت سے ہی براہ راست بات کرنی چاہیے تھی۔ ایک طرف پاکستانی یہ چاہتے تھے تو دوسری طرف افغان طالبان کی بھی یہی خواہش تھی۔ تیسرا یہ کہ تحریک طالبان پاکستان سے یہ طے ہوگیا تھا کہ اگر قبائل کی اکثریت دوبارہ انضمام چاہتی ہو تو ان کا مطالبہ مان لیا جائے گا اور اگر وہ انضمام نہ چاہتے ہوں تو وہ اکثریت کی مخالفت نہیں کریں گے۔ لیکن اس دوران جنرل فیض حمید کو تبدیل کردیا گیا اور بات ادھوری رہ گئی۔
مولانا صالح شاہ قریشی نے یہ بھی بتایا کہ جو قبائل پہلے انضمام کے حق میں تھے وہ بھی اب مخالف ہوگئے ہیں۔ قبائلی عوام بھی امن چاہتے ہیں اور فوجی بھی امن چاہتے ہیں لیکن وہاں امن ہے نہیں۔ کتے اتنے بڑھ گئے ہیں جو جانوروں کو کھاجاتے ہیں۔ ایک ایک آدمی کے کئی کئی جانور کھاکر کتوں نے عوام سے ان کا روزگار چھین لیا ہے لیکن سرکار نہ کتوں کو خود مارتی ہے اور نہ عوام کو مارنے کی اجازت دیتی ہے۔ خنزیر بہت زیادہ ہوگئے ہیں جو فصلوں کو تباہ کرتے ہیں جہاں گھاس میں خنزیر لوٹیاں لگاتے ہیں تو اس کو بدبو کی وجہ سے جانور نہیں کھاتے۔ عام آدمی کو پستول رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے لیکن جب دو قومیں آپس میں لڑتی ہیں تو بھاری اسلحوں سے ایک دوسرے کو تباہ کرتے ہیں۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان پر حکومت کی طرف سے پابندی کیوں نہیں لگتی؟۔ وزیر ، سلمان خیل اور دوتانی قبائل میں وانہ کے قریب بڑی لڑائی ہوئی، اس طرح شکئی اور شکتوئی میں لڑائیاں ہوئی ہیں۔ جب فوجی اور طالبان ایک دوسرے پر فائر کھولتے ہیں تو بھی عوام متاثر ہوتے ہیں۔ اتنے آپریشنوں کے باوجود آج تک امن نہیں آسکا اور ہمیں 7سالوں تک مہاجر بنادیا گیا تھا۔ ہم بنوں ، پنجاب، ژوب، سندھ اور مختلف علاقوں میں پناہ گزینی کی زندگی بھی گزار چکے ہیں اور بدامنی کی وجہ سے اکثریت ہمارے علاقے کی طرف اپنی آبادی آج بھی رُخ نہیں کرتی ہے۔ ہم سمجھاتے ہیں کہ بدامنی سندھ ، کراچی، بلوچستان، بنوں اور پنجاب ہر کہیں پر ہے، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں کون لوگ محفوظ ہیں؟۔ لیکن لوگ رہتے ہیں۔ کل بھی لکی مروت میں ایک بندے کو قتل کردیا گیا تو کیا لوگ اپنا وطن چھوڑ دیں؟۔ میری لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنا علاقہ آباد کریں گے تو امن آئے گا۔
لطیفے کی بات یہ ہے کہ مولانا صالح شاہ نے کہا کہ جن لوگوں کو انگریز نے وظائف دئیے تھے وہ کہتے ہیں کہ تم کونسا انگریز کا سر قلم کرکے لائے ہو جو اتنی بڑی ملکی مل گئی؟۔دوسرے جواب میں کہتے ہیں کہ وہ کونسے انگریز کے سر قلم کرکے لائے تھے جن کو یہ اعزاز دیا گیا؟ ۔ حالانکہ یہ اعزازات سرکار کی وفاداری میں دئیے گئے ہیں۔ انگریز کے سر لانے والوں کو کیوں اعزاز ملتا؟۔
تحریک طالبان پاکستان نے امریکہ کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں ان کے افغان طالبان معترف ہوں گے۔ دوسری طرف تحریک طالبان پاکستان نے جو دشمنیاں اپنوں سے مول لی ہیں وہ بھی خطرناک ہیں۔ بیت اللہ محسود اور عبد اللہ محسود گروپوں نے بھی ایک دوسرے کیخلاف کاروائیاں کی ہیں۔ ہم نے بھی تجویز پیش کی تھی کہ ان سے مذاکرات کرکے پاکستان میں آباد کیا جائے۔ ان میں بہت سے وہ لوگ ہیںجنہوں نے ایمانی جذبے کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف جہاد کیا اور اب اس ماحول میں بہت پکے ہوگئے ہیں۔ مفتی عبد الرحیم اور جنرل سید عاصم منیر نے ان کو خوارج قرار دیا ہے لیکن ان کو خوارج بنانے والے کون ہیں؟۔ ایک دن میں یہ لوگ من و سلویٰ کی طرح آسمان سے زمین پر نہیں اترے ہیں بلکہ20سال میں نوزائدہ بچے بھی جوان ہوجاتے ہیں۔ افغانستان میں داعش ، تحریک طالبان پاکستان ، حقانی نیٹ ورک ، ملا یعقوب اور دوسرے افراد کے درمیان اس سے زیادہ بد اعتمادی کی اطلاع ہے جو پاکستان کی فوج اور سیاستدانوں کے درمیان موجود ہے۔ اس طرح شیعہ سنی ، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے درمیان پاکستان میں بھی منافرت کی ایک فضاء ہے۔ اگر ہم سب نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو یہ خطہ پھر آگ اُگل سکتا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے کرے گا اور افغان طالبان ٹھکانے چھوڑ کر بھاگ رہے ہوں گے۔
پاکستان میں جب بد امنی کی فضاء تھی تو سرکاری گاڑیوں پر نمبر پلیٹ تک نہیں لگائے جاتے تھے۔ پہلے سے زیادہ سیاسی عدم استحکام اب پیدا ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی پارٹیوں عمران خان اور ن لیگ کے درمیان دشمنی کی فضاء ہے۔ مریم نواز کافی عرصے سے خاموش تھی اور اب سوشل میڈیا پرعمران خان کو سزا دینے والے جج ہمایوں دلاور کی ایک ویڈیو کسی نامعلوم عورت کے ساتھ وائرل ہوئی ہے، اس سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کی ویڈیو بھی بہت ہلکے انداز میں وائرل ہوئی تھی جس میں خاتون کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن جنرل باجوہ کی تصویر واضح تھی۔ اس سے پہلے بھی ایک جج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی اور اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گہری سازشیں چل رہی ہیں۔
قرآن میں سورہ یوسف کو احسن القصص قرار دیا گیا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی عام بدچلن نہیں تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام بھی ایک تو پیغمبر تھے اور دوسرا انہوں نے فرمایا :”میں اپنے نفس کو بری نہیں سمجھتا بیشک نفس سرکشی کی طرف لے جاتا ہے مگر جس پر میرا رب رحم کرے”۔ (تیرہواں پارہ) ۔
تحریک انصاف اور ن لیگ کے زرخرید افراد ایک دوسرے کو ویڈیو لیک کرنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور ویڈیوز بھی لیک ہوجاتی تھیں۔ جس سے پورا ملک بداعتمادی کی فضاؤں میں لٹک گیا۔ اب بھی پتہ نہیں کیا کیا ہے اور کس کس کی کیا کیا ویڈیو آئے گی؟۔ بلیک میلنگ کے ذریعے سے ملک میں استحکام نہیں آسکتا بلکہ فحاشی و عریانی اور بد اعتمادی کی فضائیں ملک و قوم میں بنتی ہیں۔
ہم نے اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں بہت مضبوط دلائل دئیے ہیں کہ اللہ نے قرآن کے ذریعے انسانیت کو کیا کیادیا تھا اور ہم نے کیا کیا کھویا ہے؟۔
1:سورہ محمدۖ میں ہے کہ جنگی قیدیوں کو احسان کرکے بھی آزاد کرسکتے ہیں اور فدیہ لے کر بھی آزاد کرسکتے ہیں۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن نے جنگ میں قید ہونے والے کسی بھی فرد کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت نہیں دی ہے اور اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور لمبے عرصے تک قید کرنے کی اجازت بھی نہیں دی ہے۔ جب نبی ۖ نے فرمایا کہ عورتوں پر ہاتھ بھی مت اٹھاؤ تو ان کو لونڈیاں بنانے کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟۔
جب عیسائیوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں سے فتح کیا تو مسلمانوں کو بے دریغ شہید کیا گیا، ان کی عزتیں لوٹی گئیں اور مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ لیکن جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تو عیسائیوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک نہیں کیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا اور نہ کسی عورت کی عزت لوٹی گئی۔ صرف فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور جن کے پاس فدیہ دینے کیلئے کچھ نہیں تھا تو ان کو بغیر فدیہ احسان کیساتھ چھوڑ دیا اور قرآن پر من و عن عمل کیا۔ آج مغرب کے عیسائی صلاح الدین ایوبی کو بہت اچھے حکمران کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ” اے بنی اسرائیل ! یاد کرو جب آل فرعون تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کی عزتیں لوٹتے تھے”۔(القرآن)۔ جب آل فرعون بھی نبی اسرائیل کو لونڈیاں بناتے تھے تو کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کوآل فرعون کی جگہ لوگوں پر لونڈیاں بنانے کیلئے مسلط کیا ہو؟۔
جب روس نے کمیونزم اور سوشلزم کے ذریعے سے انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کا پروگرام دیا تو اللہ نے روس کو سپر طاقت بنادیا۔ اسی طرح جب امریکہ نے اپنے ملک میں غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت پر پابندی لگائی تو اللہ تعالیٰ نے امریکہ کو بھی سپر طاقت بنادیا۔ اگر مسلمان بھی یہ طے کرلیں کہ دنیا کو غلامی سے آزادی دلانی ہے تو پھر ان کو بھی دنیا کی خلافت مل سکتی ہے۔
2: قرآن میں بیوی کا حق مہر شوہر کی استطاعت کے مطابق ہے لیکن قرآنی الفاظ پر علماء و فقہاء نے توجہ نہیں دی ہے۔ اگر شوہر ارب پتی ہے یا کروڑ پتی ہے یا لکھ پتی ہے یا پھر ہزار اور بالکل بھی حق مہر کی صلاحیت سے محروم ہے تو عورت بھی اس پر راضی ہوجائے تو حرج نہیں ہے۔ عورت کی شوہر کی طرف نسبت میں بھی اتنی اہمیت ہے کہ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے بھی طلاق دی جائے تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف اور اگر مقرر نہ ہو تو امیر پر اپنی وسعت کے مطابق اور غریب پر اپنی وسعت کے مطابق دینا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں یہ واضح کیا ہے کہ اگر عورت نصف سے کم پر بھی راضی ہو تو ٹھیک ہے اور مرد نصف سے زیادہ بھی دے تو ٹھیک ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے وہ نصف سے زیادہ دے اور ایکدوسرے پر فضل نہ بھولو۔
قرآن میں چونکہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق کا مسئلہ ہے اور طلاق شوہر ہی کی طرف سے ہوتی ہے اسلئے یہ واضح کردیا کہ جب شوہر چھوڑنا چاہتا ہے جس کے ہاتھ میں طلاق کا گرہ ہے تو اس کو اپنے حق سے زیادہ دینا مناسب ہے۔
نادان فقہاء نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کا حق خلع اس وقت ہے جب مردخلع دینے پر راضی ہو۔ حالانکہ یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسے غیر فطری فقہی مسائل نے جنم لیا ہے کہ جب مرد تین طلاق دے پھر اس سے مکر جائے اور عورت کے پاس دو گواہ نہ ہوں اور خلع بھی عورت کو نہ ملے تو عورت اپنے شوہر کے ساتھ حرامکاری پر مجبور ہوگی۔
حالانکہ اسلام ایسی جہالت کے تصور کا بھی قائل نہیں ہے۔ سورہ نساء آیت 19میں پہلے اللہ نے نہ صرف عورت کو خلع کا حق دیا ہے بلکہ حق مہر کے علاوہ جو چیزیں بھی شوہر نے دی ہیں اور وہ لے جانے والی ہیں جیسے کپڑے ، چپل، زیور، نقدی، گاڑی اور تمام منقولہ دی ہوئی اشیاء بھی ساتھ لے جاسکتی ہے۔ ان میں بعض چیزیں بھی شوہر واپس لینے کا حق نہیں رکھتا۔ مگر عورت کھلی فحاشی کرے تو ۔ اور عورت چھوڑ کر جارہی ہو تو بھی اس کے ساتھ حسن سلوک کا حکم ہے۔ اگر وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اللہ اس میں بہت سارا خیر پیدا کرے۔ آیت19النساء کو عوام و خواص اچھی طرح سے تدبر سے دیکھیں۔
پھر آیت20اور21النساء میں شوہر کے طلاق کا ذکر ہے۔ جس میں جتنی بھی چیزیں دی ہیں منقولہ و غیر منقولہ اشیاء مکان ، دوکان، پلاٹ، زمین، باغ، فیکٹری اورمل سب کی سب طلاق شدہ بیوی کی ملکیت ہوں گی بھلے خزانے دئیے ہوں۔ خلع اور طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرتی ہے اور اس کے پاس گواہ نہیں تو اس پر خود بخود خلع کا اطلاق ہوگا۔ اور اس کو خلع کے حقوق ملیں گے۔ اگر اس کے پاس گواہ ہوں گے تو طلاق کے حقوق ملیں گے۔
جب خلع و طلاق کے حقوق کا مسئلہ سمجھ میں آجائے تو پھر طلاق کی حساسیت بھی سمجھ میں آئے گی۔ طلاق کیلئے اشارہ کنایہ اور صریح الفاظ کے تمام ابحاث اس وقت کارآمد ہونگے جب خلع و طلاق کے حقوق کا پتہ چلے گا۔ قرآنی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بار بار صلح و اصلاح،باہمی رضامندی اور معروف کی شرط پر طلاق کے بعد رجوع کی اجازت دی ہے۔ جب میاں بیوی رجوع کیلئے راضی ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ نہیں ہوگا رجوع نہیں ہوسکتا تو یہ اتنی بڑی خباثت ہے کہ امریکہ نے جتنے مظالم مسلمانوں پر کئے ہیں اس سے زیادہ حلالہ کی لعنت اور بے غیرتی اس پر بھاری ہے۔ ہم نے اس پر اپنے اخبار اور اپنی کتابوں میں ہر طرح کے دلائل دئیے ہیں لیکن مولوی غیرت نہیں کھاتا ہے۔
مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھا ہے کہ ”قرآن میں معنوی تحریف بہت ہوئی ہے ”۔ (فیض الباری شرح صحیح بخاری)قرآن میں معنوی تحریف کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ خلع کیلئے سورہ نساء کی آیت19کے بجائے سورہ بقرہ کی آیت229سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں2مرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ طلاق کے درمیان خلع کا کیا تصور ہوسکتا ہے؟۔ اللہ نے آیت229البقرہ میں پہلے3مرتبہ طلاق کا ذکر کیا ہے نبی ۖ نے فرمایا کہ الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان میں تسریح باحسان تیسری طلاق ہے۔ جس کو دیوبندی مکتبہ فکر کے وفاق المدارس کے صدر مفتی تقی عثمانی کے اُستاذ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی کتاب ”کشف الباری شرح بخاری” اور بریلوی مکتبہ فکر کے تنظیم المدارس کے صدر مفتی منیب الرحمن کے اُستاذ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی کتاب ”نعم الباری شرح بخاری” میں نقل کیا ہے۔
آیت229میں3طلاق کے بعد عورت کے حق کا ذکر ہے کہ دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتے ہیں مگر جب دونوں کو یہ خوف ہو اور فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اگر وہ دی ہوئی چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں رابطے کا ذریعہ بنے گی اور اس کی وجہ سے دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا ہوجائیں گے تو پھر اس کو فدیہ کرنے میں دونوں پر حرج نہیں۔ یہ وہ صورت ہے کہ جب دونوں نے اور فیصلہ کرنے والوں نے یہ طے کیا ہے کہ اب صلح نہیں ہوگی تو پھر دنیا میں مرد کی غیرت بھی کارفرما ہوتی ہے اور طلاق کے بعد بھی دوسرے شوہر سے اپنی مرضی کے مطابق نکاح کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس کے بعد اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔ پھر اگر طلاق ہوجائے تو اس سے نکاح کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں ہے۔ آیت230البقرہ۔
جب اس سے پہلے کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے اور اس کے بعد کی آیات میں بھی معروف اور صلح کی شرط پر رجوع کی اجازت دی ہے تو حلالے کاجاہلانہ تصور بالکل باطل ہوجاتا ہے۔ لیکن جب جہالت اور خواہشات کا خبط سوار ہوجائے تو لوگ عزت کو لوٹنے اور لٹانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں اور ایسا اسلام کس کو قبول ہوگا؟۔
3: جس طرح نکاح میں حق مہر ایک اعزازی چیز ہے جو اگر بیوی شوہر کو بھی دے تو وہ خوشی خوشی اس میں سے کھاسکتا ہے۔ اگر نکاح و طلاق کا اسلامی قانون دنیا کے سامنے آجائے تو پوری دنیا کی خواتین اسلامی نظام کا مطالبہ کریں گی۔ آج عرب بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر اس کا مال کھاتے ہیں اور پختون جنہوں نے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کرنا ہے وہ بھی اپنی بچیوں کو بیچ کر مال کھاتے ہیں تو پھر دہشت گردی سے اسلام نہیں آسکتا۔ ہماری حکومت ، قبائلی عمائدین ، علماء اور تعلیم یافتہ طبقے سے اپیل ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے صف اول کا کردار ادا کریں اور اس میں وہ دوسروں کے محتاج نہیں آگاہی کا اعلان کریں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟