افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟ اخبار: نوشتہ دیوار

افغانستان پر امریکی ڈرون پرواز وں کی بازگشت سے تیسری عالمی جنگ کے خطرات ہیں؟

افغانستان کی سرزمین پر روس اور امریکہ کے بعد چین نے بڑ ے پیمانے پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا ہے تو کیا اب روس و امریکہ کے بعد تیسری عالمی طاقت چین کیخلاف جنگ ہوگی؟

پاکستان کا پلیٹ فارم افغانستان میں تیسری بار چین کے خلاف استعمال ہوگا تو افغان طالبان اور پاکستان کی فوج کو شدید خطرات کا سامنا ہوگا اسلئے باہمی صلح و اصلاح کا ماحول قائم کرنا ہوگا

جب امریکہ نے روس کے خلاف جہاد کے نام پر پاکستان کو استعمال کیا تو ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر ہمارا مقدر ٹھہر گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس وقت افغان جہاد کو پاکستان کیلئے سونے کی چڑیا قرار دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمن کو افغان جہاد کا مخالف اور مولانا سمیع الحق شہید ومولانا عبداللہ درخواستی کو حامی سمجھاجاتا تھا۔ خاموش مجاہدISIچیف جنرل اخترعبدالرحمان نے اپنے بیٹوں کے نام پر اس وقت آف شور کمپنیوں کے نام پر کروڑوں ڈالر بیرون ملک رکھے ہوئے تھے۔ جماعت اسلامی کو جہاد کی وجہ سے واحد ایماندار اور جمہوری پارٹی قرار دیا گیا۔ حالانکہ میاں طفیل محمد امیر جماعت اسلامی میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں تھی کہ جنرل ضیاء الحق نے اس کواپنا ماموں بنایا تھا۔
گلبدین حکمت یار کو ہمیشہ پروامریکہ اور پرو پاکستان پیش کیا گیا اور باقی مجاہدین لیڈر شپ کو میدان میں لڑایا گیا لیکن ان پر کبھی اعتماد نہیں کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن اپنے باپ مفتی محمود کے فوت ہونے کے بعد سے ہمیشہ یہ کہتا رہاہے کہ پاک فوج ہماری آنکھوں کی پلکیںہیں جو زینت اور حفاظت کا واحد ذریعہ ہیں لیکن پلکوں کا ایک بال بھی آنکھیں برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتیں تو ساری پلکیں آنکھوں میں کیسے برداشت ہوسکتی ہیں؟۔ مولانا نے ہمیشہ پاک فوج کے خلاف جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔MRD،MMAاورPDMتک ہمیشہ اس کے خلاف سیاسی جدوجہد کی جو سیاسی جماعت پاک فوج کیلئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کررہی تھی۔ اگر مولانا فضل الرحمن کو آج کہیں سے وزیراعظم کی پیشکش آجائے تو قبول نہیں کریں گے۔ آج وہ عمران خان کیساتھ تلخ مخالفت کی یاد گار کو بھلاکر اپوزیشن بھی کرسکتے ہیں لیکن عمران خان کے نام جب قرعہ نکلے گا تو اس پر یہ اعتماد کرنا مشکل ہے کہ وہ اس پیشکش کو قبول نہیں کرے گا۔
عمران خان اور مولانا فضل الرحمن دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جنرل پرویزمشرف کی طرح امریکہ کا آلہ کار بن کرہم کوئی کردار ادا نہیں کریں۔ حالانکہ دونوں پرویزمشرف کیساتھ ظاہروباطن میں اچھے تعلقات کیلئے بھی بدنام تھے لیکن ق لیگ کے خلاف دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے۔ اپوزیشن و حکومت آج اگر دونوں مل جائیں تو بھی استحکام نہیں آسکتا ہے اسلئے کہ سیاسی استحکام کیلئے معاشی استحکام ضروری ہے اور معاشی استحکام کیلئے پڑوسی ممالک چین، افغانستان، ایران اور بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب بھی اس طرف قدم اٹھنے کو ہوتا ہے تو ہمارے اندر کسی نہ کسی طرح کوئی غیرت کے نام پر بے غیرتی کو جگاتا ہے۔ بھارت کیساتھ بھی اچھے تعلقات ضروری ہیں۔ دوبئی بھارت کیساتھ سمندر میں جو بہت بڑی قیمت پر سرنگ بنارہاہے اور ہم ایک کلچر وپڑوسی سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے تو کشمیر کے نام پر ہمیں امریکہ ہی لڑاتا ہے۔ ہندوستان کی چین ، ایران ،دوبئی اور سعودی عرب کیساتھ بڑی تجارت ہے مگر پاکستان سے نہیں۔ ایران و سعودیہ کے تعلقات درست ہوگئے لیکن ہم ایران سے تیل وگیس نہیں لے سکتے۔ بھارت افغان طالبان سے اچھے تعلقات رکھ سکتا ہے۔ چین افغان طالبان سے اچھا تعلق رکھ سکتا ہے لیکن صرف پاکستان چین، افغانستان اور ایران سے اچھے تعلقات نہیں رکھ سکتا ہے؟۔ امریکی صدر فلسطین پر رحم نہیں کھاتا لیکن پاکستان کا ماما بنتا ہے؟۔ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان کو اسلئے حکومت سے باہر کیا گیا کہ امریکی مفادات کیلئے پاکستان استعمال نہیں ہوسکتا تھا۔ پنجاب اور سندھ میں کچے کے ڈاکوؤں سے جب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر زرداری لڑنے کو تیار نہیں ہیں تو امریکی جنگ کیلئے کس طرح دونوں نے لنگوٹ باندھ لی ہے؟ جو اترسکتی ہے۔ طالبان بھی کھلم کھلا اعلان کریں کہ ہم نے کسی صورت بھی نہیں لڑنا ہے ورنہ پاک فوج اور افغان طالبان کو تباہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری