پوسٹ تلاش کریں

سیاسی بے چینی کا حل سیاستدان خود کیوں نہیں نکالتے؟

سیاسی بے چینی کا حل سیاستدان خود کیوں نہیں نکالتے؟ اخبار: نوشتہ دیوار

آصف علی زرداری نے 11سال جیل میں گزارے مگر عدالت سے سزا نہ ہوئی ۔ نواز شریف نے سعودیہ جلاوطنی کے دوران جیو ٹی وی اور جنگ کے مشہورصحافی سہیل وڑائچ سے انٹریو میں کہا کہ ’’ زرداری کیخلاف کیس آئی ایس آئی کے کہنے میں آکر بنائے تھے‘‘ ۔ جب بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد زرداری کو حکومت ملی تو پھر نوازشریف اور شہباز شریف نے زرداری کو قومی دولت لوٹنے کا مرتکب قرار دیا اور پیٹ چاک کرکے سڑکوں پر گھسیٹنے اور چوکوں پر لٹکانے کی تقریر شروع کردیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سعودیہ میں جھوٹ بولا ؟۔ زرداری کی قیدکا ذمہ دار کون تھا؟، دوبارہ بھی فوج کے کہنے پر شور برپا کیا تھا یا یہ سب بکواس اور غلط بیانی ہے؟۔ اگر زرداری جرم ثابت ہونے سے پہلے جیل میں سزا کاٹے، دنیا بھر کی گالیاں، مغلظات اور دھمکیاں کھائے تو وہی سلوک پانامہ لیکس کے بعد اپنے لئے بھی برداشت کرلو۔ جب سوئس اکانٹ پر زرداری کو گالیاں دی جارہی تھیں تو لندن جائیداد اور پانامہ لیکس کی دولت سے نوازشریف اور شہباز شریف بے خبر تھے یا یہ ضمیر کی آواز تھی؟۔ اگر زرداری کی ہتک نہیں تو تمہاری عزت کیا بہت انوکھی ہے؟۔ یہ طے کرنا بھی عزت کے خلاف لگتا ہے کہ مریم نواز صفدر کی بیگم ہے یا نہیں رہی ؟،غریب کی عزت لٹ رہی ہے۔علماء گونگے ہیں ،فتویٰ دیا جاتاکہ قرآن میں طلاق شدہ کی شادی کرانے کا حکم ہے اور شادی شدہ کا تعلق چھپانا جائز نہیں۔
پاکستان کی تعمیر نو کیلئے بچوں کو مال ودولت سمیت بلالو، تاکہ ان کی خداداد صلاحیتوں سے قوم کو بھی فائدہ پہنچے۔ مجرم سے حقائق اگلوانے کیلئے تفتیشی حکام الگ الگ بیان لیتے ہیں مگر تمہارے بچے وکیلوں سے مشاورت کیساتھ میڈیا پر بھی بات کیلئے تیار نہیں۔ متضاد بیانات سے سچ یا جھوٹ کا پتہ چل چکاتھا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ خاتون نے اسحاق ڈار کیساتھ پریس کانفرنس میں کہہ دیاکہ ’’جدید دور میں احتساب کرنا مشکل کام نہیں رہا‘‘۔ وزیراعظم اخلاقی ، قانونی ، شرعی ، سیاسی ہر قسم کی ساکھ کھوچکے ہیں،یہ الگ بات ہے کہ تمام تضادات کے باوجود عدلیہ کو غلاظت کا ایسا ڈھیر سمجھ رکھا ہے جہاں غلیظ سے غلیظ تر انسان کو بھی چھپنے کا مواقع مل سکے، عدلیہ کو کسی کا داغ دھونے کی بجائے ڈٹ کر ایسے فیصلے کرنے چاہیے کہ عدالت کو مجرم اپنی پناہ گاہ سمجھنے کی بجائے رعب ودبدبہ اور گرفت کا ذریعہ سمجھیں، چیخ کر مجرم پکاریں کہ’’ عدالت میں معاملہ لیجانے کی بجائے ہم پر رحم کیا جائے‘‘۔
شہبازشریف اتناکہہ دیتا کہ ’’میں نے ہمیشہ جنرل کیانی کی ٹانگوں میں سر دیا، پرویز مشرف سے مخاصمت کا بھی حامی نہ تھا، نواز شریف کی طرح میں نمک حرام نہیں کہ جس نے گود میں پالا ، اسکے منہ پر پاؤں رکھوں‘‘۔ تو بات بالکل ختم ہوجاتی۔ فوج کیخلاف صاف مؤقف تھا کہ ’’ہم تیرآزمائیں اور تم جگر آزماؤ‘‘ ،جب ہوا کا رخ بدل گیا تو پھر ’’تم تیر آزماؤ، ہم چوتڑ آزمائیں‘‘۔بھائیوں کا مسئلہ نہ ہوتا تو ن لیگ کئی گلوبٹ قربان کرچکی ہوتی، عاصمہ جہانگیر اور مولانا فضل الرحمن بتائیں کہ گلوبٹ اور پرویز رشید سے زیادہ شہبازشریف اور نوازشریف استعفیٰ کے مستحق نہ تھے؟۔

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی