فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام اخبار: نوشتہ دیوار

فلسطین : فلس(پیسہ)جمع فلوس ،طین (مٹی) بچوں اورخواتین کو مرواکر پیسہ بٹورنے کا نام

اسرائیل کے وجود سے بہت پہلے جب بیت المقدس عیسائیوں کا مرکز تھا تو اللہ اپنے بندے رسول اللہ ۖ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جہاں کا ماحول بڑابابرکت تھا

اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھاجس کا معنی اللہ کا بندہ۔ آج اسرائیل بیت المقدس کو اپنے مذہبی رنگ میں رنگ رہا ہے اور سعودی عرب اپنی حکومت کو مغرب سے رنگ رہا ہے

آج دنیا میں بڑا مسئلہ فلسطین ہے۔ دوسرا شیعہ سنی تنازعہ ہے۔ تیسرا مذہبی و سیکولر طبقات کے درمیان چپقلش ہے۔ چوتھا مسالک کے درمیان قرآن وسنت پر لڑائی ہے۔ ……….
جب برصغیر پاک وہند میں ہندو مذہب اپنے ویدوں اور مسلمان قرآن سے ہٹ گئے تو بابا گروہ نانک نے نئے الہامی مذہب کی بنیاد ڈالی ،پھر30لاکھ سکھوں نے7کروڑ لوگوں پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ جن میں مسلمان اور ہندو شامل تھے۔
آج اسرائیل فلسطین پر مظالم کے پہاڑ ڈال رہاہے لیکن مسلمان بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بھی مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دے سکتے اسلئے کہ اسرائیل کی پشت پر امریکہ اور مغربی ممالک کھڑے ہیں۔ افغانستان، عراق اور لیبیا کو تباہ کیا گیا تو بھی مسلم ممالک مغربی ممالک کا کچھ نہیں بگاڑ سکے تھے۔
فلس عربی میں پیسے و کرنسی کو کہتے ہیں جس کی جمع فلوس ہے اورطین مٹی کو کہتے ہیں۔ فلسطین کے معنی کرنسی کی مٹی ہے۔ جب مسلمان اپنی زمینیں فلسطین میں یہودیوں کو بیچ رہے تھے تو یہود اپنے مذہب کیلئے قربانی دے کر زمینیں بہت مہنگی قیمت میں ہی خرید رہے تھے اور مسلمان مہنگی قیمت وصول کرکے اپنی زمینوں کو بیچ رہے تھے۔ یہود محنت کرکے زمینوں کو آباد کررہے تھے مگر مسلمان امام مہدی کی توقع پرہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے تھے۔ عبدالغفار خان نے فلسطینیوں کو پٹھانوں کی طرح قرار دیا تھا۔
علامہ اقبال نے مسلمانوں کو جگانے کیلئے بہت نصیحت کی کہ ”تو خود تقدیر یزداں ہے” مگر کسی نے کان نہیں دھرے، ہم نے اسلام کے نام پر ہندوستان کو تقسیم کردیا،پھرآدھا پاکستان بھی ہاتھ سے نکل گیامگر کوئی سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
جب امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملہ کیا تو پاکستان اور ایران نے کیا کردار ادا کیا؟۔ سنی اور شیعہ دونوں امریکہ ہی کیلئے استعمال ہوگئے۔ پاکستان اور ایران سے فلسطین کیلئے کسی قسم کی کوئی توقع رکھنا دل بہلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پاک فوج کی چھاؤنیوں کے پاس انگریز دور میں لال کرتیاں بنائی گئی تھیں جن میں غریب نائی، دھوبی، موچی وغیرہ رہائش پذیر ہوتے تھے اور فوج کے افسروں و سپاہیوں کو خدمات مہیا کرتے تھے۔ جیسے بڑے شہروں میں غریبوں کی کچی آبادیاں ہوتی ہیں اور وہاں سے امیر طبقے کومزدور، چوکیدار اور ماسیاں ملتی ہیں۔
فلسطین دو حصوں میں تقسیم ہے۔ بیت المقدس کے پاس فلسطین کا بڑا حصہ ہے اور غزہ کی پٹی فلسطین کا چھوٹا حصہ ہے۔ جب1948میں عسقلان شہر میں مسلمان اپنا گھر بار، زمینیں اور کاروبار بیچ باچ کر مکمل طور پر چلے گئے تو اسرائیل نے اس کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا ۔اس سے پہلے بھی یہودیوں اور عیسائیوں کی اکثریت اس شہر میں موجود تھی ،عسقلان غزہ کی پٹی کے بالکل قریب ہے،عسقلان میں شراب وکباب اور فحاشی کی سرگرمیوں کی وجہ سے مسلمانوں نے وہاں سے جانا پسند کیا تھا۔
غزہ کی پٹی سے مسلمانوں نے ایک طرف یہودیوں کے ہاں کلاس فور ٹائپ کی نوکریاں تلاش کرنی شروع کیں اور پھر دوسری طرف اچانک بڑے پیمانے پر حملہ کر کے اسرائیل کے یہودیوں کو موقع فراہم کردیا کہ اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کرکے عالم انسانیت اور مسلمانوں کا ضمیر چیلنج کردے۔ عیسائی ممالک میں طاقت ہے لیکن وہ اسرائیل کیساتھ کھڑے ہیں اور مسلمانوں کا دل خون کے آنسو روتا ہے مگر طاقت نہیں رکھتے۔
آج اگر اسرائیل اعلان کردے کہ مفتی محمد تقی عثمانی وغیرہ کو جہاد کیلئے ہم غزہ جانے کی اجازت دیتے ہیں یا خود ہی پہنچا دیتے ہیں تو صورتحال بہت واضح ہوجائے گی لیکن ایک طرف سودی بینکاری سے اسلامی بینکاری کے نام پر مسلمانوں کو مکمل غلامی کی طرف دھکیلا جارہاہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا خون بہا کر انسانیت کے ضمیر کو مارا جارہا ہے۔ آج عیسائیوں کو اپنے بیت المقدس اور حضرت عیسیٰ و حضرت مریم کے خلاف یہود کے گھناؤنے عزائم پر غیرت نہیں آرہی ہے تو کل جب وہ مدینہ اور مکہ پر قبضہ کرلیں گے تو مسلمانوں کیلئے کیوں غیرت آئے گی؟۔ عالمی اسلامی خلافت کے قیام کا خوف اہل مغرب کے دلوں میں چھایا ہواہے اسلئے وہ مسلمانوں کو انکے مراکز مکہ ومدینہ سے محروم کرنے کے درپے ہوگئے ہیں۔
وزیرستان میں ایک ایسی قوم یا قبیلہ یا شاخ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ”وہ کسی کی بھی زمین پر اپنی حق ملکیت کا دعویٰ کرنے کیلئے یہ دلیل دیتے ہیں کہ یہاں ہمارے اجداد کی بیٹھک رہی ہے”۔ ایک طرف مسلمانوں کی روایات میں ہے کہ کچھ عرصہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ رہاہے اور پھر انہوں نے اپنا رخ اللہ کے حکم سے کعبہ شریف کی طرف پھیر دیا۔اس بنیاد پروہ بیت المقدس کو اپنا قبلہ اول قرار دیکر اس پر اپناہی حق سمجھتے ہیں۔پھر بات یہاں تک محدود نہیں رہتی ہے بلکہ وہ تمام غیر مسلم افراد کی بیگمات کو بھی چھین لینے اور ان کو اپنی لونڈیاں بنانے کا شرعی حق سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حال یہ ہے کہ افغانستان و دیگر ممالک میں مسلمان اپنی خواتین کی عزتیں نہیں بچاسکے ہیں اور اگر معاملات بگڑگئے تو بہت خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
شیعہ سنی تنازعہ اس حد تک ہوتا کہ انصار وقریش میں جب مسئلہ خلافت پر اختلاف جائز تھا اور پھر خاندانی بنیادوں پر یزید اور بنوامیہ وبنوعباس اور سلطنت عثمانیہ کا قبضہ رہا تھا تو حضرت علی اور آپ کے خانوادے کا خلفاء راشدین ابوبکر، عمر اور عثمان سے بھی زیادہ حق تھا تو بات بالکل جائز اور قابل فہم ہے اسلئے کہ جب انصار خلافت سے اس بنیاد پر محروم ہوگئے کہ قریش نہیں تھے تو باقی قریش کے مقابلے میں علی کے حق کی بات بھی اسلامی تعلیمات اور صحابہ کرام کی ذہنیت کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ جب مسلمانوں کے اقتدار کی نفی کردی جائے کہ علی کی جگہ کفار نے خلافت پر قبضہ کرلیا تو پھر اللہ نے جو اہل ایمان سے وعدہ کیا تھا اور اہل ایمان صرف اہل بیت اور چند صحابہ تھے اور میرے نصیب کی بارش کسی اورکے چھت پر برس گئی تو اس سے قرآن اور اسلام کی بالکل نفی ہوجاتی ہے جس میں اہل بیت نہ صرف مظلوم بلکہ شریک جرم بھی جاتے ہیں۔ حسن اللہ یاری کا اپنا شجرہ معلوم نہیں اور دوسروں سے تعارف کو ضروری سمجھتا ہے لیکن اس کو شیعہ بھی قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ قرآن سے دُوری ہے اور قرآن سے دوری کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ عام مسلمان اس کے مجرم اور قصور وار ہیں۔ غلام احمد پرویز اور مولانا طاہر پنج پیری کے شاگرد لوگوں کو قرآن کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اسکے باوجود بھی امت مسلمہ راہِ ہدایت کی طرف نہیں آسکتی ہے اسلئے کہ اصل معاملہ قرآن کی معنوی اور لفظی تحریف ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے لکھاہے کہ ” قرآن کی معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے لفظی بھی ہوئی ہے یا تو انہوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے یا مغالطہ سے ”۔ اس پر قاضی عبدالکریم کلاچی نے مفتی فرید اکوڑہ خٹک سے سوال پوچھا لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔
قرآن میں لفظی تحریف کی مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ نے زانیہ اور زانی کیلئے100،100کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے، علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے کہ آیت رجم الشیخ والشیخة اذا زنیا فرجموھما ”جب بوڑھا اور بوڑھی زنا کریں تو دونوں کوسنگسار کرو”سورہ احزاب میں تھی اورسورہ بقرہ جتنی سورہ احزاب بھی تھی۔ پھر کم ہوتے ہوتے آدھی رہ گئی۔
ابن ماجہ میں ہے کہ آیت رجم اور بڑے شخص کا کسی عورت کا دودھ پینے پر رضاعت ثابت ہونے کی آیات نبی ۖ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے پڑی تھیں اور بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں۔ (کتاب رضاعت کبیرابن ماجہ)
علامہ غلام رسول سعیدی نے نعم الباری شرح صحیح البخاری کتاب الخلع میں یہ بھی لکھا ہے کہ ” شافعی مسلک کے معروف عالم کے نزدیک آیت خلع سورہ بقرہ:229منسوخ ہوگئی ہے سورہ النساء آیت:20آیت طلاق کی وجہ سے ”۔
مفتی محمد شفیع مفتی اعظم پاکستان اور مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم پاکستان نے لکھا ہے کہ ” سورہ النساء میں اللہ نے عورتوں پر فحاشی کے ارتکاب میں چار گواہوں کے بعد گھروں میں بند رکھنے کا حکم دیا ہے تو اسی سے سنگساری کا حکم ثابت ہوتا ہے”۔
قرآن کے تراجم اور تفاسیر ایسے کئے گئے ہیں کہ علماء کرام کو خود بھی ان سے راہ ہدایت نہیں ملتی ہے اسلئے وہ امام مہدی کا انتظار کررہے ہیں کہ وہ آئیں گے تو ہدایت نصیب ہوگی۔

شریعت اور بربریت
جب تک قرآن کی درست تعلیمات کو فروغ نہیں بخشیں گے اس وقت تک مسلمانوں کے اپنے حالات بھی نہیں سدھر سکیں گے اور غیر مسلم بھی اسلام اور مسلمانوں کے دشمن رہیں گے اسلئے بہت ضروری ہے کہ عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہمارا باشعور طبقہ قرآن وسنت کو سمجھ کر جاہلیت سے نکال باہر کرے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں چند وضاحتیں کردی ہیں۔
1: وانزلنا الکتاب تبیانًا لکل شئی ” اور ہم نے کتاب کو نازل کیا ہے ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے”۔
2:ولوکان من عندغیراللہ لوجدوا فیہ اختلافًا کثیرًا ”اور اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بہت سارا اختلاف (تضادات) پاتے”۔
3: وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہٰذا القراٰن مھجورًا ” اور رسول کہیں گے کہ اے میرے رب بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ”۔
4:قل انی انا النذیرالمبینOکما انزلنا علی المقتسمینOالذین جعلوا القراٰن عضینOلنسئلنھم اجمعینO” کہہ دو کہ میں کھلا ڈارنے والا ہوں۔ جیسا کہ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے بٹوارہ کرنے والوں پر۔ جنہوں نے قرآن کو بوٹی بوٹی بنادیا ۔ہم ضرور ان سب سے پوچھ لیں گے”۔
ہمارے ہاں کی فرقہ واریت اور مسلک سازی کے نام پر تباہ کاری اور ہلاکت خیزی کی مِلیں اور فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ شیعہ سنی، حنفی شافعی ، مقلدو غیر مقلد اور اہل حدیث واہل قرآن کے نام پر بہت سارے فرقے اور مسالک نے اسلام کا بیڑہ غرق کردیا ہے اس کی ایک ادنیٰ مثال سمجھنے کی کوشش کریں!

نکاح وطلاق میں کھلواڑ
اللہ تعالیٰ نے نکاح اور طلاق کے مسائل قرآن میں واضح انداز میں بیان کئے ہیں لیکن نکاح وطلاق کے حوالے سے ہمارا مسلمان عورت کیساتھ اسلام کے نام پر جتنے مظالم روا رکھتا ہے اور جس طرح کے ظالمانہ وجابرانہ مسائل ایجاد کئے ہوئے ہیں ان کا تصور بھی بہت بھیانک ہے۔ جب ایک پٹھان اپنی بساط سے بڑھ کر20،25لاکھ میں ایک بیوی خرید لیتا ہے تو پھر اس کیلئے ناممکن بن جاتا ہے کہ وہ یہ تصور بھی رکھے کہ اس کو خلع کا حق دے۔ اگر ایسا ہوگا تو پھر لوگ عورت کو کاروبار بناکر پیسے بٹوریںگے اور نکاح وخلع کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اسلئے وہ ایک ہی بار میں سودا کرلیتے ہیں۔ ابھی بعض لوگوں نے یہ بھی سلسلہ شروع کردیا ہے کہ لڑکی کو بیچ کر کئی کئی بار واپس لینے کیلئے اور بار بار بیچنے کو دھندہ بنالیا ہے۔ پنجاب میں جہیز بھی دیا جاتا ہے اور حق مہر بھی برائے نام ہوتا ہے لیکن عورت کو پھر بھی خلع کا حق حاصل نہیں ہوتا ہے۔ ایک شوہر جب چاہتا ہے تو زندگی بھر کیلئے عورت کو بسانے اور طلاق دینے سے محروم رکھنے کا حق رکھتا ہے۔ عورت کیساتھ اسلام کے نام پر وہ ظلم وجبر ہوتا ہے جو فلسطین اور کشمیر کے مسلمان یہود اور ہندو سے اس طرح کا ظلم وجبر روا رکھنے کا چتصور بھی نہیں کرسکتے ہیں۔ جب میاں بیوی راضی ہوتے ہیں تو پھر پٹھان اور پنجابی کے غلط رسومات خاطر میں نہیں لائے جاتے ہیں لیکن جب معاملہ لڑائی جھگڑے اور طلاق تک پہنچ جاتا ہے تو پھر ان ظالمانہ وجابرانہ مسائل کا تصور سامنے آتا ہے کہ دنیا کے کسی ملک اور مذہب میں اس کا تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا ہے۔ عورت کو بلیک میل کرکے خلع کے نام پر اس سے منہ مانگی رقم بٹوری جاسکتی ہے۔ اس کو طلاق نہ دینے کی صورت میں زندگی بھر رلایا جاسکتا ہے۔ باپ اپنی کم سن لڑکی کا نکاح کرے تو بلوغت کے بعد بھی اس کی مرضی سے چھٹکارا نہیں ملتا ہے۔ باپ کے علاوہ کوئی کم سن لڑکی کا نکاح کردے تو بلوغت کے فورًا بعد اس کو اختیار مل جاتا ہے لیکن بر وقت اس کو معلوم نہ ہو اور اپنے اختیار کا استعمال نہ کرے تو زندگی بھر وہ حق سے محروم ہوجاتی ہے۔ اگر زبردستی سے اس کا نکاح کیا جائے اور اس کا کوئی عربی خاندان نہ ہو تو اس کیلئے شوہر سے طلاق لئے بغیر چارہ نہیں ہے ۔اگر شوہر3طلاق دے اور مکر جائے تو عورت کیلئے2گواہ لانا لازم ہیں۔ اگر گواہ نہ ہوئے تو عورت کو خلع لینا لازم ہے لیکن شوہر خلع نہ دے تو عورت حرام کاری پر مجبورہے ۔پھر وہ مباشرت میں لذت نہ اٹھائے ۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ اپریل2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری