بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟ اخبار: نوشتہ دیوار

بھارتی پارلیمنٹ میں بنگلہ دیش،پاکستان،افغانستان ، سری لنکا کا نقشہ اکھنڈ بھارت کاحصہ؟

اسرائیل سودی نظام کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کو اپنے ہاتھوں میں نچارہاہے اور فلسطین وعرب کو تباہ وبرباد کررہاہے ۔برما کے مسلمانوں پر بھی شدید مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں!

برما میں اراکانی مسلمانوں کو مذہبی طبقے نے تعصبات سے بھر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ مشکلات کا شکار ہیں ان غریبوں پرکوئی بھی توجہ نہیں دیتا،ان کو مشکلات سے نکالنا ایک اہم فریضہ ہے

نریندرمودی سے تعصبات کو ہوا مل گئی۔ ہم اکھنڈ بھارت کے نقشے میں بنگلہ دیش،پاکستان اور افغانستان کا علاقہ شامل کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ قائداعظم اور قائد ملت لیاقت علی خان نے ہندوستان کو تین ٹکڑوں میں تقسیم کیاتھا، جس میں لاکھوں جانیں گئیں اور عزتیں پامال ہوگئیں۔ مشرقی ومغربی بنگال ، پنجاب، کشمیراور ہندوستان کی تقسیم سے ہم نے بھارت میں مسلمانوں کو ہندؤوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جس کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کو خطرات کا سامنا ہے۔ اگر پاکستان بنگلہ دیش اور افغانستان تک کا علاقہ پھر گریٹر بھارت میں ضم کردیا گیا تو ایک طرف قرضوں اور دہشتگردی سے جان چھوٹ جائے گی اور دوسری طرف مجاہد متعصب ہندؤوں کو سبق سکھا دیں گے۔ لتاحیاء جیسی شاعرہ کی بات بالکل درست ہے کہ ”اسلام وہی تو ہے جو حضرت نوح پر اترا تھا اور جو ویدوں میں موجود ہے”۔ جس طرح ہندؤوں نے اپنے دین کو مسخ کردیا ہے اسی طرح مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ وہی سلوک کیا۔ بھارتی مسلمان دھڑلے سے کہتا ہے کہ
میں اللہ کے نبی کا باغی نہیں ہوں
میں ہندو تو ہوں وہابی نہیں ہوں
جنرل ضیاء الحق وانہ جنوبی وزیرستان میں آئے تھے تو نامور عالم دین مولانااحمد حسن لسوندی سے پوچھا کہ”یہ لوگ پگڑیاں سروں پر ہلاتے ہیں تو میری بات سمجھ بھی آتی ہے یا نہیں؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا: ایک پٹھان نے فارسی بان عورت سے شادی کی تھی تو اس خاتون نے اپنا یہ دکھڑا سنایا تھا کہ
یارمو افغان شد من نہ دانم چہ کنم
او بگوید دلتہ راشہ من نہ دانم چہ کنم
”میرا شوہر افغان ہے۔ میں نہیں جانتی ہوں کہ میں کروں کیا؟۔ وہ کہتا ہے یہاں آؤ اور میں نہیں جانتی کہ کیا کروں”۔
جس پر جنرل ضیاء الحق اپنے پروٹول کو نظرانداز کرتے ہوئے خوب کھلکھلاکر ہنس پڑے تھے۔ یہی حال ہمارے عجم کے مسلمانوں کا بھی ہے کہ قرآن وحدیث کی زبان عربی ہے اور ہمارا مذہبی طبقہ کچھ کا کچھ مفہوم لیتا ہے لیکن سمجھتا نہیںہے۔
جنرل ضیاء الحق نے قبائلی عمائدین سے پوچھا کہ روس آپ کے پڑوس میں آیا، تمہیں پریشانی تو نہیں ؟۔ مولانا احمد حسن نے کہا کہ ”ہم بہت خوش ہیں”۔ یہ خلافِ توقع جواب سن کر جنرل صاحب نے پریشانی سے پوچھا کہ کیوں؟۔ مولانا احمد حسن نے جواب دیا کہ ”قبائل بہادر قوم ہے۔ اسکے پاس اسلحہ نہیں ہے لیکن ہم روسی ہتھیار چھین کر یہاں سے مار بھگائیںگے”۔ جس پر جنرل ضیاء الحق بہت زیادہ خوش ہوگئے۔ بھارت اگر توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور افغانستان تک اس نے قبضہ کرنا ہے تو نیٹو سے اس نے سبق سیکھ لیا ہے۔ اس کو پاگل کتے نے نہیں کاٹا ہے لیکن ہم اپنی فوج کی خوشنودی کیلئے یہ نہیں کہتے۔ بھارت نے بنگلہ دیش کو جب اس فوج سے آزاد کردیا تو بنگال سے نکل گیا۔ فوج کو چاہیے کہ اس قوم کو اس حد تک نہ لے جائے کہ لوگ اپنی جان چھڑانے کیلئے لڑیں اور پھر باہر کی افواج عوام کی مدد کو پہنچ جائیں۔ غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارا کوئی بھی ایسا ریاستی ادارہ اور سیاسی پارٹی نہیں جس پر عوام کو اعتماد ہو اور ملک وقوم کو مشکل صورتحال سے نکال سکے۔ سراج الحق دوفیصد سودی اضافے کو اسلامی بینکاری قرار دیتا تھا اور لوگوں میں سود کے خلاف وہ مذہبی جذبہ بھی ابھارتا تھا جس کو گالی کہہ سکتے ہیں مگر باشعورعوام نے بالکل مسترد کردیا تھا۔
جب برما کے مسلمان بڑے پیمانے پر بنگلہ دیش پہنچ گئے تو حامد میر سے ن لیگی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے جہاز تیار کھڑے ہیں صرف اجازت دیں تو پاکستان لے آئیں۔ یہ میاں محمد شریف کے نام لیوا ہیں جس نے بوسینیا کے مسلمانوں کی مدد کی لیکن آج یہ کچے کے ڈاکو کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری