پوسٹ تلاش کریں

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان اخبار: نوشتہ دیوار

کال کریں ہم دیکھتے ہیں کہ کون آتا ہے؟۔ اُم حسان

جامعہ حفصہ کی خواتین نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے دھرنے میں آکر یکجہتی کا اظہار کیا
یہ صحافی نہیں میراثی ہیں یہ پیسے کے پتر اور پجاری ہیں۔ جو پیسہ دے اس کی خبر لگاتے ہیں

السلام علیکم ورحمة اللہ، میں جامعہ حفصہ سے اُم حسان ہوں اصل میں جس دن ان پر رات کے وقت انہوں نے ظلم کیا، زیادتی کی اس وقت تو ہمیں نہیں پتہ لگ سکا بعد میں میں نے اس ساری جگہ چکر لگایا تو ان کی جگہ پولیس بیٹھی ہوئی تھی۔ ماشاء اللہ دونوں گراؤنڈ بھرے تھے ہمارے جوانوں سے ،جن کی جوانیاں شاید اسی لئے وقف ہیں کہ مظلوموں پر ڈنڈے برسائے جائیں اور ان پر ظلم کیا جائے ،زیادتی کی جائے۔ تو انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے آئے ہیں اور ہم نے انہیں کہا کہ جب کوئی پولیس یا انتظامیہ آپ کو دھمکی دے ہمیں کال کریں ہم آپکے شانہ بشانہ کھڑیں ہوں گے اور دیکھتے ہیں کون آتا ہے اور انہیں ہاتھ لگاتا ہے۔ کسی کو انہیں ہاتھ نہیں لگانے دیں گے۔ یہ اس ملک کا وطیرہ بن گیا کہ جو ظالم ہے وہ ظلم کرتا چلا جاتا ہے ، اس کا کوئی ہاتھ نہیں روکتا۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ ہاتھ روکیں گے بھی اور توڑیں گے بھی۔صحافی آواز اٹھائیں گے، پہلے مظلوم کا ساتھ دیا؟۔ جامعہ حفصہ آپریشن میں یہ سب اور اکبر بگٹی کو بھی مروانے میں پیش پیش تھے۔ یہ لاشوں پر دھمال ڈالنے والے پیسے کے پتر پجاری ہیں۔ جو پیسہ دیتا ہے اس کی ڈفلی بجاتے، راگ گاتے ہیں۔ تو ان بیچاروں کے پاس پیسہ تو نہیں تو میڈیا والے بات کریں گے۔ پاکستانی میڈیا کوئی میڈیا ہے؟۔ یہ مراثیوں کا گڑھ ہے۔ سارے مراثی بیٹھے ہیں جس مراثی کو پیسے مل جاتے ہیں اسی کے حساب سے زبان چلتی ہے اسی کے حساب سے اس کے ٹھمکے لگتے ہیں بات ختم۔
سوال: آپ کب تک اظہار یکجہتی کریں گے؟۔
اُم حسان: جب تک یہ یہاں پر ہیں۔ جب یہ چلے جائیں گے تب بھی۔ پاکستان میں، دنیا بھر میں کہیں پر بھی کوئی مظلوم ہے اسکے لئے ہم آواز اٹھاتے ہیں کیونکہ ہم نے ظلم خود برداشت کیا ہے اور آج تک کررہے ہیںلیکن اب بہت ہوچکا۔ جیسے اسلام آباد پولیس نے ان کو مارا ہے وہ بہت ہی شرمناک عمل ہے۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ جنوری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟