پوسٹ تلاش کریں

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست اخبار: نوشتہ دیوار

صحرائے چولستان کا3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ27ہزار کسان خاندانوں کو الاٹ کردیا گیا ہے: واہ زبردست

ہمارا مسلسل مطالبہ تھا کہ ریاستِ مدینہ کی طرح مزارعین کو مفت زمین دی جائے۔ الحمد للہ یہ خبر بڑی حوصلہ افزا ہے کہ حکومت پنجاب نے صحرائے چولستان کے رہائشی27ہزار خاندانوں کوزمین فراہم کردی ۔ آخری مرتبہ1978میں صحرائے چولستان کے لوگوں کو لیز پر زمین دی گئی تھی۔ ہر آنے والا حکمران زمین دینے کے دعوے کرتا رہا مگر ان بیچاروں کو زمین نہیں دے سکا۔ شہباز شریف نے10سال بہت کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کام نہیں ہوسکا۔PTIنے اپنی ساڑھے3سالہ دور میں 6مرتبہ کمیٹیاں بنائیں لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ پرویز الٰہی نے اپنے7مہینے کی مدت میں کمیٹیاں بنائیں اس سے بھی کام نہیں ہوسکا۔ بالآخر وہ تمام کام نگران حکومت کے ہتھے چڑھا انہوں نے تھوڑا ساکام تیز کیا اور41ہزار میں سے27ہزار خاندانوں کی درخواستوں کو قبول کیا گیا وہ لوگ جن کے شناختی کارڈ چولستان کے مقامی ہیں۔ فی خاندان ساڑھے12ایکڑ زمین الاٹ کی گئی۔ کل ملا کر3لاکھ44ہزار ایکڑ رقبہ5سال کیلئے لیز پر دیا گیا ہے۔ یہ وہاں کاشتکاری کرسکیں گے اور5سال بعد پھر اوپن آپشن ہوگا۔ اگر مناسب سمجھاگیا تو میرٹ پر اگلے5سال کیلئے بھی انہی کو یہ زمین دے دی جائے گی۔ اکثر لوگ لیز پر زمین لیکر اس پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ زمین ریاست کی ہوتی ہے۔ صحرائے چولستان64لاکھ ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔20لاکھ رقبہ ہموار ہے جہاں ریت کے ٹیلے نہیں۔ ہریالی سے بھی بارشیں برستی ہیں۔ اب انشاء اللہ پاکستان کے صحراؤں ، جنگلات اور پہاڑوں کوبھی آباد کیا جائیگا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،خصوصی شمارہ دسمبر2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟