ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔ - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔ اخبار: نوشتہ دیوار

ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔

عمار :یہاں جو ہیرو بنائے جاتے ہیں ۔سعدیہ بلوچ : چھوٹا سا ہی آنسر دونگی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
منظور پشتین :ہمارے وطن پر خود کو طاقتور سمجھنے والے آئے لیکن آج وہ نہیں ہیں اور ہم ہیں۔ چنگیز سے انگریز تک اور فرنگ سے اورنگ تک سب واپس گئے۔

پروگرام کا تعارف صحافی منیزے جہانگیر: ساؤتھ ایشیاء میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کیلئے عوام اور خاص طور پر نوجوانوں پر زور۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں سے ان لوگوں کو لیکر آئیں جن کی آواز آپ نے مین اسٹریم میڈیا پر کبھی نہیں سنی۔ عمار جان آپ کا بہت بہت شکریہ اور اپنا پروگرام اب شروع کریں۔ عمار جان نے کہا کہ اس وقت یوتھ کا سوال صرف ایج سے نہیں جڑا ہے بلکہ وہ اس سے بھی جڑا ہے کہ کیا مستقبل ہے برصغیر کا؟ اور اوور آل ساؤتھ ایشیاء کا؟۔ کیونکہ ایسا لگ رہا ہے کہ انکے جو آج سے15،20سال پہلے بہت سارے خواب تھے ۔نوجوان کیا سوچ رہے ہیں، ایک لہر ہے جو ہراول دستہ ہے وہ چاہے آپ سری لنکا میں چلے جائیں ، چاہے آپ نیپال میں چلے جائیں یا آپ ہمارے یہاں فاٹا میں چلے جائیں، بلوچستان میں چلے جائیں تو وہ نوجوان ہی ہیں جو اس وقت مزاحمت کررہے ہیں۔ میں پہلے سعدیہ بلوچ کو دعوت دوں گا جو کہ ایکٹی وسٹ ہیں اور خاص طور پر مسنگ پرسنز کے حوالے سے انکا بہت کام ہے اور بلوچ اسٹوڈنٹ رائٹس کے حوالے سے۔ یہاں پر لاہور میں صحیح طرح پتہ نہیں چلتا یہاں پر بجلی کا مسئلہ یا مہنگائی کا مسئلہ ہوتا ہے ، بلوچ خواتین کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو سیاست میں ایکٹو ہیں ۔
سعدیہ بلوچ: میرا تعلق بلوچستان سے ہے اور مسنگ پرسن کیلئے کام کرتی ہوں۔ مسنگ پرسن میں90فیصد سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان اور طالب علم ہیں جو ٹارچر سیلوںمیں ہیں ، زندانوں میں ہیں اور غائب ہیں۔ میری خواہش ہے کہ ہمارے پاس ڈگریاں ہوتیں تو ہمیں استحکام ملتا۔لیکن جونہی ہمیں ڈگریاں ملتی ہیں تو ہماری مائیں فکر مند ہوتی ہیں کہ میرے بیٹے کو کہیں لاپتہ نہ کردیں یا اسکی لاش نہ گرادیں۔ ہمارے یہاں یہ سلسلہ چلتا ہے۔ اب میں بلوچ خواتین کی بات کرتی ہوں جو اس وقت سیاسی طور پر ایکٹو ہیں۔ میں ابھی50دنوں کے دھرنے سے اُٹھ کر آئی ہوں ، فلڈ کی وجہ سے بھی ہمارے لئے مشکلات ہیں۔ بلوچ عورتیں اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ اسٹیٹ کا ٹارچر برداشت کرتی ہیں ، دھمکیاں اور خوف و ہراس بھی۔ اگر آج میرا بھائی لاپتہ ہے تو اس کو بچانے کیلئے میں نہیں آؤں گی تو کون آئیگا۔ اگر سمی نکلتی ہے تو پیچھے سیما آئیگی اور سب کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیںکہ اگر ایک جدوجہد ہورہی ہے تو سب کا حصہ ہوتا ہے ۔
عمار جان: آپکا شکریہ ۔ آپ لوگوں کو آئیڈیا ہوگیا ہوگا کہ کس قسم کے مسائل کا یہ لوگ سامنا کررہے ہیں۔ جبری گمشدگی کی تحریک کی خاصیت یہی ہے کہ اس میں خواتین لیڈنگ رول ادا کررہی ہیں۔ چاہے وہ آمنہ جنجوعہ پنجاب میں ہوں یا بلوچستان میں سعدیہ، سمی اور ماہ رنگ ہیں۔ اس طرح بہت ساری خواتین ہیں۔ پھر منظور کو دعوت دی اور کہا کہ امید ہے کہ آپ منظور احمد پشتین کو جانتے ہوں گے اور اگر نہیں جانتے تو پھرARYنیوز پر کافی ساری معلومات ان کے متعلق مل جائیں گی۔ قہقہہ۔جب منظور احمد نے تحریک شروع کی2018میں تو اس وقت ملک میں قبرستان جیسی خاموشی تھی۔ اور اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ یہاں پر شہری آزادی پر بات کرنا مشکل ہوجائے گا اور ان کا نام لینا مشکل ہوجائیگا جو ہمارے اصل حکمران ہیں۔ اس تحریک نے نہ صرف اس ادارے کو بے نقاب کیا جو75سال سے حکمرانی کررہا ہے اور ایک طرح سے ہم پر انہوں نے ذلت نافذ کی ہوئی ہے اس کیخلاف یہ بغاوت تھی ۔ لاہورمیں بھی جلسے ہوئے، کراچی میں بھی ہوئے اور جہاں جہاں منظور گئے ہزاروں لوگوں نے انکا استقبال کیا۔ آپ سے سوال ہے کہ نوجوانوں کا اس تحریک میں کیا کردار تھا سوشل میڈیا کا کیا کردار تھاBOLاورARYآپ کو کوریج دیتے تھے اسکے علاوہ کوئی نہیں دیتے تھے۔ اور وہ کس قسم کی دیتے تھے آپ کو معلوم ہے۔ اور علی وزیر کے بارے میں بھی کچھ بات کریں جو اس وقت جیل میں ہیں۔
منظور پشتین: میں یوتھ کی بات کروں گا ،یوتھ کا مطلب میل اور فی میل دونوں۔ فی میل پر تو پہلے ہی روایات اور دوسرے ناموں سے ایک قسم کی پابندی ہے اور جرنل سیاست کی بات کروں گا،اس پر بھی پابندی ہے۔ ریاست نے ایک فریم بنایا ہے اسکے اندر اگر کوئی سیاست کرنا چاہے تو ایک حد تک اجازت ہے کہ یہاں تک جاسکتے ہیں اور یہاں تک نہیں جاسکتے۔ ایک آئین ہے اور باقی انکے اپنے ریڈ لائنز ہیں۔آئین کی بات تو نہیں، بات ہے اصل میںانکے ریڈ لائنز کی۔اس ریڈ لائن کے اندر فریم بنادیا گیا۔ اس ریڈ لائن سے باہر اگر کسی نے بھی سیاست کرنا چاہا تو پھر تشدد ہے، مسنگ پرنسز ہے اور لاپتہ کردیا جاتا ہے یا اسکو مار دیا جاتاہے۔ میں کس کی مثال دوں؟، آپ کی مثال دوں گا کہ جبPTMنے بالکل آئینی حقوق مانگے آپ نے ساتھ دیاتو آپکے اوپر چھاپے اورFIRکاٹی گئی آپ کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ نہ آپ نے کسی کو تھپڑ مارا تھا اور نہ کوئی غیر قانونی کام کیا تھا۔ انسانی حقوق مانگے تھے۔ میرا مطلب ہے کہ ایک قوم کے اوپر سیاست ہوتی ہے اور ایک قوم کیلئے سیاست ہوتی ہے۔ قوم کے مفادات اور انکی زندگی کیلئے سیاست کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ یہاں پر اسٹوڈنٹس ہونگے ان کو پتہ ہے کہ جو قوانین بنتے ہیں اور برٹش دور میں جو قوانین بنائے گئے تھے وہ اپنی کالونیاں بنانے کیلئے انہوں نے بنائے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو سیاسی آزادی تو یہ بلاسٹ ہوجائیں گے۔ آپ نے بات کی کہ وہی علاقے جن کی آواز ممنوع ہے وہاں پر تویہ بہت مشکل ہے ۔پہلے تو تعلیم نہیں، سیاست کو سمجھنے کیلئے تعلیم بہت ضروری ہے۔ پھر نہ کالج ہیں نہ یونیورسٹیاں ہیں، تعلیم نہیں ہے تو ایک جو دوکاندار ہے ، جو ریڑھی والا ہے ، ایک نوجوان ہے وہ اس کو اس سیاست اور اپنے لیول میں بہت فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میری تعلیم نہیں میں سیاست کو کیا کروں گا۔ جب میں نے تحریک شروع کی تو میری عمر23سال تھی۔ آج میری27سال ہے شناختی کارڈ بلاک ہے، پاسپورٹ بلاکFIRبہت سارے۔ECLمیں نام ہے۔اور ایک سم کارڈ رہ گیا تھا وہ بھی چند مہینے پہلے بند ہوگیا۔ یہ یہاں پر سیاست میں حصہ لینے کے ثمرات ملتے ہیں۔ آپ نے یہاں ”ساؤتھ ایشیاء میں پارٹی سپیشن ”کے موضوع پر بات رکھی ، ہم آپس میں ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے۔ میرے بلوچستان جانے پر پابندی ہے، کشمیر جانے پر پابندی ہے۔گلگت بلتستان پر پابندی ہے۔ آپ لوگوں نے نوٹیفکیشن دیکھیں ہوں گے سوشل میڈیا پر۔ بونیر سے لیکر کرم ضلع تک پابندی ہے۔ یہ جو آپ لوگ ساؤتھ ایشیاء کی بات کررہے ہیں اس میں کسی بھی ملک کا نام بھی لیا تو آپ غدار ہیں۔ نہیں لیا تو بھی آپ کواسکے ساتھ جوڑ کر غدار بنادیں گے۔ اتنی مشکل سچویشن میں جو آپ نے عنوان رکھا اس کا نام لینا بھی جرم ہے۔ یہاں تو بلوچ کا نام نہیں لے سکتے ، اگر پاکستان کے اندر کے کشمیر میں یوتھ سے آپ نے بات کی تو آپ کو انداز ہ لگ جائیگا۔میرا مطلب سیاست سے اگر آپ اس سے ہٹ کر بات کررہے ہو تو وہ غداری ہے وہ ایک ایسی ناروا حرکت ہے جس کا معاشرے میں کوئی تصور نہ کرے۔ اور پھر ایسی سزائیں دی جاتی ہیں کہ لوگوں کیلئے مثال بن جائے۔ مجھے یقین ہے کہ لاہور میں کافی نوجوان ہونگے جوPTMکو چاہتے ہونگے مگرPTMکیساتھ اپنے کو ایفی لیٹ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اس کیلئے مثال بنادی گئی عمار علی جان کی طرح نوکری چلی جائے گی اورFIRہونگے وغیرہ وغیرہ۔ بیروزگاری میں رکھ کر بے تعلیم معاشرہ رکھ کر تشدد کے ذریعے یہ جو نظام چلایا جارہا ہے اس میں اگر کوئی عوام کیلئے حقیقی سیاست کرنا چاہے جو صرف سیٹ جیتنے کی بات نہیں کررہے بلکہ عوام کو کچھ دینے کی کوشش کررہے ہیںتو ان میں کافی مشکلات ہوتی ہیں لوگ مسنگ پرسن بن جاتے ہیں۔ سعدیہ بلوچ بیٹھی ہیں۔ کافی سارے بلوچ ایکٹیوسٹ ڈاکٹر ہیں ابھی وہ کیا کرے کونسے پیشنٹ کی بات کرے معاشرہ ابھی ایک مریض بن چکا ہے اور پورے معاشرے کی بات کرنا انتہائی بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔
عمار علی جان: ہندوستان پنجاب میں کسانوں کی بڑی مشہور تحریک نے دلی جاکر دھرنا دیا۔ نئی بڑی عام آدمی پارٹی وجود میں آئی۔ چیف منسٹر کا جو کینڈیڈیٹ تھا اسکے خلاف صفائی کرنیوالے کا بیٹا موبائل شاپ پر کام کرتا تھا چند ہزار روپے لگا کر الیکشن جیت گیا۔ یہ بڑی کامیابی تھی۔ سعدیہ بلوچ یہ بتائیں کہ بلوچستان میں سیلاب سے کیا تباہی آئی ہے؟ اور کل پرائم منسٹر گئے اسلام آباد ہائیکورٹ اور انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ہم مسنگ پرسن پر کوئی کاروائی کریں گے۔ اس سے کیا آپ کو کوئی امید ملی ہے اور بلوچ موومنٹ کے کیا تاثرات ہیں؟۔
سعدیہ بلوچ: ماضی میں بھی بہت سارے پرائم منسٹر اور کمیٹیاں ہمارے پاس آئی ہیں ، کمیشن بنے ہیں ، ری کنسی لیشن تک بات پہنچی ہے۔ قرآن پر بھی ہاتھ رکھا ہے بہت کچھ ہوا ہے لیکن جب بلوچ کی بات ہوتی ہے تو جو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ ہے وہ چاہتی نہیں کہ مسئلہ حل ہو یا اس پر کام کیا جائے۔ جب تک اُن کی مرضی نہ ہوگی میرا نہیں خیال کہ کوئی پرائم منسٹر ، کمیٹی، جوڈیشل کمیٹی یا کوئی بھی ادارہ کچھ کرسکتا ہے جب بات بلوچ مسنگ پرسن کی ہو۔ بلوچ مسنگ پرسن کا معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہمیں دکھتا ہے ، مسنگ پرسن کے ٹیک ٹکس کو بلوچ یوتھ میں خوف پھیلانے، ایک ٹریلر دینے کیلئے استعمال کیا گیا۔ جو ٹیک ٹکس اسٹیٹ نے اپنایا وہ اتنی آسانی سے کبھی نہیں چھوڑے گا۔ بلوچ نوجوان آج سے نہیں سالوں سے سیاست کررہے ہیں،ریڈیکل نیشنلسٹ پالیٹکس بھی کررہے ہیں۔ اسٹیٹ نے ہر پالیسی اپنائی کہ یوتھ کو خوفزدہ کریں۔ میں اس جنریشن سے ہوں جوایک جنریشن کی ماس کلنگ کے بعد آئی ۔ ہمارے رہنما ذاکر بلوچ ، زاہد بلوچ لاپتہ ہیں۔ بہت سارے رہنماؤں کو مارا گیا، لاپتہ کیا گیا۔ ہم شاید اسی لئے بچ گئے کہ تب ہم بچے تھے۔ بڑے ہوئے تو دیکھا کہ ہمارے پاس گراؤنڈ میں کچھ نہیں بچا ۔ ہمارے دانشور ، اسٹوڈنٹس لیڈر ، رہنما سب کی ماس کلنگ ہوئی صرف اسلئے کہ وہ بلوچ قوم کیلئے سیاست و بات کررہے تھے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ ریاست کے اندر ریاست کبھی چاہے گی کہ بلوچ مسنگ پرسن یا بلوچ مسئلے پر بات یا کام ہو، تب تک پرائم منسٹر کچھ نہیں کرسکتے۔ خیر پرائم منسٹر کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ ہم بلوچ ہیں بلوچی نہیں۔ سیلاب پر بات ہوتو بلوچستان میں نقل و حرکت اسلئے زیرو ہوئی کہ برٹش کا انفرااسٹرکچر چلا گیا۔ ہم کنگ کا انتظار کریں کوئن تو چلی گئی ۔ ہر10سال بعد سیلاب آتا ہے یہ نئی بات نہیں لیکن جہاں ریاست ہمیں مار رہی ہے وہاں کلائمیٹ چینج ہمارے لئے اسی طرح خطرناک ہے۔ میرا تعلق جھل مگسی سے ہے، ہیٹ ویو ہر سال بڑھتی ہے۔ نہیں لگتا کہ ریاست کچھ کام کریگی۔ جو ریاست سیدھا روڈ بناتی ہے وہ پانی لیجاتا ہے تو کلائمیٹ چینج پر کیا کام کریگی؟۔ بلوچستان کے گرین بیلٹ جہاں پر سیلاب نے زیادہ متاثر کیا وہاں پر اسٹیٹ کے تعاون سے قبائلی اشرافیہ پیدا کیاگیا، اشرافیہ کبھی نہیں چاہے گی کہ وہاں کے عام کسان ، عام بلوچ تک کچھ پہنچے۔ قبائلی اشرافیہ اپنا اسٹاک جمع کررہی ہے، پی ڈی ایم اے انہیں دے رہی ہے۔ انکے ویئر ہاؤسز تو ابھی تک بھرگئے، لوگوں تک تو خیر ریلیف نہیں پہنچا مگر سوشل میڈیا کی مدد سے ہم ڈونیشن وصول کررہے ہیںہم رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیںاور اس پر بھی کل گورنمنٹ نے پابندی لگادی ہے کہNOCکے بغیر کوئی بھی رضاکارانہ طور پر کام نہیں کرسکتا۔
عمار علی جان: بالکل ٹھیک بات کی کہ ریاست ایکٹو ہونے کی علامت ملتی ہے وہviolenceکے ذریعے سے لیکن جب لوگوں کے خیال رکھنے کا ٹائم آتا ہے تو کافی عرصے سے ریاست غائب ہے بلکہ آپ کو بتاتے چلیں کہ جولائی میں یہ فلڈ شروع ہوچکے تھے۔ میڈیا ، سوشل میڈیا پر ماسوائے حمزہ شہبازبمقابلہ چوہدری پرویز الٰہی ، شہباز شریف بمقابلہ عمران خان جی ٹی روڈ کی جو سیاست تھی اسکے علاوہ کوئی بات نہ ہوئی۔23اگست کو پہلی دفعہ ایک ٹی وی چینل پرفلڈ کے حوالے سے ہیڈ لائن آتی ہے تب تک ڈھائی کروڑ لوگ متاثر ہوچکے تھے۔ اس لیول کی سنسر شپ ہے میڈیا پر کہ بہت بڑا سیلاب آیا مگر توجہ نہ دی گئی، جی ٹی روڈ کی سیاست ہی چلتی رہی۔ اب میں منظور پشتین کی طرف آؤں گا۔PTMپہلی موومنٹ دیکھی ہے پاکستان میں جس میں کوئی خان ، سردار، وڈیرہ اس کو لیڈ نہیں کررہا۔ آپ کے والد صاحب ایک ٹیچر ہیں۔ اور آپکے ارد گرد کے لوگ بھی کچھ مڈل کلاس، کچھ ورکنگ کلاس سے ہیں۔ اتنی جلدی یوتھ کو آرگنائز کیسے کرلیا۔ ایک تو ہمارے پاسARYکا بیانیہ ہے کہ کوئی سازش چل رہی تھی۔ علی وزیر کیلئے ہم ادھر کیا کرسکتے ہیں اورPTMکو کس طرح سپورٹ کرسکتے ہیں؟۔
منظور پشتین: لوگ تنگ تھے ان کو ایک آواز چاہیے تھی ۔ ایک دن بحث تھیKPKمیں کہ فلانی پارٹی طالبان کو بھتہ دیتی ہے۔ فلانی پارٹی کے لیڈرز کو کال آتی ہیں مگر بھتہ نہیں دیتے۔ موقع نہیں ملا مگر میں یہ بات کرناچاہتا تھا کہ ہمارے کسی لیڈر یا ورکر کو کال نہیں آتی۔ وہ یہ چار آنے ہم پر ضائع نہیں کرنا چاہتے کہ انکے پاس کیا ہے جو ہمیں دیں گے۔ انتہائی غریب طبقہ ہے۔PTMکے پاس وسائل نہیں اگرچہ افرادی قوت انتہائی زیادہ ہے۔ انتہائی قابل، ایم فل، پی ایچ ڈی اسٹوڈنٹ ہیں۔ لوگ سمجھ رہے تھے کہ آواز اٹھائی تو مار دئیے جائیں گے مگر انہوں نے اتنا مارا کہ لوگوں کو پتہ چل گیا کہ اگر آواز نہ اٹھائی تو مار دیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ تم لوگ اینٹی اسٹیٹ ہو۔ بھائی کوئی اسٹیٹ کو کنٹرول کرے وہ ہمیں مار رہے ہیں ہم ان کو نہیں مار رہے۔ کس اسٹیٹ کے ہم اینٹی ہیں یہاں تو اسٹیٹ اور نظام نہیں سچ پوچھو تو مکمل غنڈہ گردی ہے۔ آج بات کرو آپ کے پیچھے ویگو ڈالا آئیگا ، قانون حرکت میں آجائیگا ، آئین وغیرہ یہ نہیں بتایا جائیگا۔ یہ غنڈہ گردی ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے۔ کونسا نظام؟ نظام ہے ہی نہیں۔ ابھی تو ہمیں فوج کے علاوہ باقی سارے نان اسٹک ایکٹرز لگتے ہیں۔ جیسا چاہیں وہ ان سے کام لیں۔ علی وزیر پارلیمان کو مان رہا تھا۔ سیاسی پارٹیاں پارلیمان کو نہیں کسی اور کو مان رہی ہیں۔ ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ؟ ریاست پارلیمنٹ کو نہیں مان رہی۔ ابھی وزیر اعظم کہہ رہے ہیں کہ میں مسنگ پرسنز کو رہا کردوں گا۔ بھائی آپ علی وزیر کے پراڈکشن آرڈر نہیں جاری کرسکتے ہو تو مسنگ پرسنز کو کیسے رہا کرو گے؟۔ اختلاف نہیں مگر یہ حقیقت ہے مخصوص لوگ ہیں ، مخصوص مائنڈ سیٹ ہے۔ وہی برطانیہ کی غلامی، جہاں سے جیسے ہو آج تک ان کو مراعات مل رہی ہیں۔ آج تک وہی خان، وہی سردار، وہی وڈیرے ہیں۔ انکے بچے کوئی جرنیل ہے تو کوئی سیاستدان۔ لیکن ملک کے بڑے وہی ہیں۔ عام عوام کی بات کیا کہیں۔ ہمیں تو بتایا جاتا ہے کہ اگر فلانا کرسی سے ہٹ گیا اور فلانا آگیا تو پھر حقوق ملیں گے ۔ سب آگئے سب چلے گئے کچھ نہیں ملا ہمیں تو۔اگر پاکستان کی عدالتوں کے نظام کو اسٹڈی کرنا ہو تو پھر علی وزیر کے کیس کو اسٹڈی کریں۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ130نمبر پر عدالتوں کی جو بات ہورہی ہے تو اتنا اچھا گریڈ کیسے ملا ان کو؟۔ وہ تو بیٹھے ہیں کہ کب اشارہ ملنا ہے اسلئے تاریخ پر تاریخ دیتے ہیں۔ یہ جو محکوم و مظلوم لوگ ہیں انکے ساتھ جو مذاق سیاسی طور پر کیا گیا وہ تاریخی ہے۔ انتہائی بے اختیار لوگوں سے ہم سن رہے ہیں کہ مسائل حل کریں گے۔ سچ میں اگر ان کو الگ سے بٹھا کر پوچھیں کہ آپ کے کیا کیا مسائل ہیں تو ہم سے زیادہ انکے اپنے مسائل ہونگے۔ تو آرگنائزڈ ہونے کے سوا ہمارے پاس راستہ نہیں۔ مسائل حد سے زیادہ غنڈہ گردی انتہاء پر ہے مگر ایک بات سنیں شاید یہ بات آپ کو جھوٹی لگ رہی ہو ہمیں مکمل یقین ہے انقلاب کا، ہم لائیں گے ضرور لائیں گے۔ ابھی جدوجہد کا وقت ہے مصائب تو آتے ہیں ہمیں جلدی نہیں جو لوگ ظلم جبر بربریت کررہے ہیں یا کروڑوں کی تعداد میں جو لوگ ہم کو کمزور اور خود کو طاقتور سمجھ رہے ہیں ہم ان کو اتنا کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین پر دنیا کی ہر طاقت آئی ہے چنگیز سے لیکر انگریز تک، اورنگ سے لیکر فرنگ تک، ہم کو کمزور سمجھتے تھے اپنے کو طاقتور۔ آج ہم اپنی سرزمین پر رہ رہے ہیں وہ نہیں ۔ ٹرائی کرلیں جتنا ظلم کریں اتنا ری ایکشن ہوگا۔ ری ایکشن ان آرگنائز اور غنڈہ گردی پر مبنی نہ ہوگا انسانی حقوق کا لحاظ رکھا جائیگا۔ علی وزیر کو جیل میں رکھا اگر وہ کمزورتھا اب اتنا (طاقتور) ہوگیا۔ اس کو تقویت ملی ہے۔ ایک بارمظلوم اُٹھ گیا، صدا بلند کی اسکے بعد ظالم کا ہر طریقہ کار اسکی ناکامی کی طرف لیکر جائیگا۔ وہ ہمیں محدود کرنا چاہتا تھا، ہم نے اسکی سوچ کو محدود کیا۔ ہمارا سوچ پھیلا، مزید پھیلے گا۔ عوامی، سیاسی نظرئے کو طاقت سے کوئی نہیں دبا سکتا۔
سوال نمبر1:میں لاء کا اسٹوڈنٹ ہوں۔ سعدیہ بہن نے کہا کہ بلوچستان میں ہر دس سال بعد فلڈ آتا ہے ،بھائی نے کہا کہ انتشار بہت گندی سیاست ہے پاکستان میں۔ اگر ہم نے اسٹینڈ نہ لیا تو یہ آگے بھی چلتا رہے گا۔ تو آپ کالاباغ ڈیم بنانے پر بات کیوں نہیں کرتے جس سے تینوں صوبوں کو فائدہ ملے گا؟۔
سوال نمبر2:میرا نام عباس علی، ڈیجیٹل میڈیا کا اسٹوڈنٹ ہوں پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں۔ آپ نے مسنگ پرسن کی بات کی تو آپ کیلئے کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے وطن پاکستان کے محافظوں کیخلاف آپ کو لڑنا پڑتا ہے۔ جنکے ہم ترانے سنتے ہیں23مارچ کو۔ دوسرا سوال منظور سے ہے کہ آپ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ کو فارن فنڈنگ خصوصاً انڈیا کی طرف سے فنڈنگ ہوتی ہے۔ اورKPKاور بلوچستان کی جتنی بھی آرگنائزیشن ہیں ان پر را سے فنڈنگ کا الزام لگایا جاتا ہے ۔ تو یہ فارن فنڈنگ ہے یا ویسے ہی الزام لگایا جاتا ہے؟۔
منظور پشتین کا جواب: اب ”را” والے اتنے پاگل ہیں کہ پاکستان کے آئین کو مضبوط کرنے کیلئے ، حقوق مانگنے کیلئے کسی کو پیسے دیں گے کہ آپ وہاں امن کی بات کریں ، آپ لینڈ مائنز کو نکالنے کی بات کریں، مسنگ پرسنز کی بحالی کی بات کریں، پاکستان میں کوئی ایکسٹرا جوڈیشنل کلنگ نہ ہو اس کیلئے پیسے دیں کسی کو، یہ کونسی بات ہے۔ اگر پاکستان کے اداروں کو واقعی یہ لگ رہا ہے کہ یہاں پر آئین کی بالادستی کیلئے سب سے زیادہ کام انڈیا کی ایجنسی ”را” کررہی ہے۔ تو پھر وہ ڈائریکٹ ججز کو پیسے دیں باقی جو اسٹیٹ چلانے والے ہیں انکو پیسے دیں کیونکہ وہ زیادہ انوال ہیں۔ فارن فنڈنگ والی بات میرے خیال میں یہ33بلین ڈالر لینے والے لوگ کررہے ہیں۔ آج تک انہوں نے پیسے لئے ۔ ایک بادشاہ کی بیٹی بھوکی تھی تو بادشاہ نے کہا بیٹی کیا حال ہے اس نے کہا کہ پورا شہر بھوکا ہے۔ اس کو کھلایا پھر پوچھا کہ کیا حال ہے تواس نے کہا کہ شہر کو اب بھوک نہیں۔ یہ جو خود کھارہے ہیں ان کو لگ رہا ہے کہ سب کھا رہے ہیں۔ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ فارن فنڈنگ ہم پر ثابت کردیں جو بھی سزا مجرم کی ہو وہ ہمیں دیں مگر ہم ثابت کرینگے اس پر فارن فنڈنگ دنیا کے ہر ملک سے لیا۔
عمار جان: مختصر سا جواب دے دیجئے کہ کیا یہاں پر جو ہیروز بنائے جاتے ہیں وہ وہاں پر اس طرح کی ایکٹی ویٹیزکرتے ہیں۔
سعدیہ بلوچ: چھوٹا سا ہی آنسر دوں گی ہم نے تو انہیں ہمیشہ قاتل کی نظر سے دیکھا ہے ہمارے تو وہ محافظ کبھی تھے ہی نہیں۔
عمار : سوال جو کالاباغ ڈیم پر کیا تو کوئی ایکسپرٹ اس پر بات نہیں کررہا۔ چھوٹے ڈیم کیساتھ جو آپکا ریئل اسٹیٹ ہے اس کو ریور بیلٹ سے دور کیسے کرنا ہے۔ کالاباغ ڈیم سے پاکستان کے تمام مسائل کیا حل ہو جائینگے ۔ ایک نے سوال کیا کہ ٹائم لگے گامگر انقلاب آئیگا۔ ہم نے دیکھا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہو تو ناکام ہوئے، کووڈ آیا تو ایکسپوز ہوئے۔ تخت سلیمان کے جنگلات میں آگ لگی تو ایران سے جہاز آئے آگ بجھانے کیلئے۔ ریاست ایکسپوز ہوئی۔ فلڈ آیا تو ریاست ایکسپوز ہوئی سسٹم ایکسپوز ہوا کام نہیں کررہا۔ تو سر وہ کونسا ٹائم ہے کہ عوام اس حد تک بھر جائے گی کہ پھر انقلاب آئیگا۔ یہ منظور سر سے سوال ہے۔
سعدیہ بلوچ: جب تک جوڈیشری کو آزاد نہیں کیا جائے گا مجھے نہیں لگتا ہے مسنگ پرسنز کا معاملہ حل ہوسکے۔ ایک اور بات ہمیں ضرور کرنی چاہئے چاہے جتنی خطرناک ہو مگر حقیقت ہے کہ بلوچستان میں تنازعہ ا ور شورش ہے جب تک اس پر بات نہیں ہوگی اس وقت تک کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
منظور پشتین: سوال تھا کہ کب آئیگا چینج؟ دیکھو! جب تک عوامی شعور نہ ہو ، جب تک قومیں بیدار نہ ہوں، تب تک اگر انقلاب آئے بھی تو انقلاب کے ثمرات پر ایکدوسرے کیساتھ لڑیں گے۔ اس کیلئے باشعور طبقہ چاہیے۔ ہم پہلے دن سے ایک ہی سوچ میں ہیں کہ ہم وہ مورچے نہیں لے سکتے ہیں ہم نے یہی مورچے لینے ہیں(دماغ کی طرف اشارہ کرکے کہا)۔ یہاں اگر سوچ مضبوط ہو، تقویت ہو، شعور ہو عوام میں پھر انقلاب آسانی سے آسکتا ہے۔ ظالم لوگوں کیلئے5،10بندوقیں کنٹرول کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا مگر قومیں بیدار ہوجائیں باشعور ہوجائیں اس کو کنٹرول کرنا ان کیلئے بہت مشکل ہوتا ہے۔ جدید فلاسفی بھی یہی کہتی ہے کہ انقلاب عوام کی فکر ی تبدیلیوں میں آتا ہے۔ تو ہم نے کوشش کرنی ہوگی کہ عوامی سطح پر شعور زیادہ ہوجائے اور پڑھے لکھے لوگ ہوں۔ اور ہمارے دوست زیادہ ہوجائیں۔ ہماری تعداد بڑھ جائے۔ دوسرا سوال یہاں پر پی ٹی ایم غیر سیاسی ہے۔ ایک توPTMغیر سیاسی نہیں۔ میرے خیال میں اس وقت بہترین سیاستPTMہی کررہی ہے۔ عوام کو شعور دلانا ہوگا، اگر اسٹیبلشمنٹ کو پریشرائز رکھنا ہو، اگر اس کو کوئی سیاست کہتا ہے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنا ، عوام کو اجتماعی کام میں لگا کر اجتماعیت کیساتھ محبت پیدا کردینا۔ لوگوں کو لیڈر شپ کا احساس دلانا کہ جہاں بھی مسئلہ ہو آپ انکے ساتھ ہو۔ اگر یہی سیاست ہے تو میرے خیال میںPTMبہترین سیاست کررہی ہے۔PTMغیر سیاسی نہیں غیر پارلیمانی ہے۔PTMکے غیر پارلیمانی رہنے کے کچھ اُصول ہیں۔ عوام میں نفاق پارلیمانی سیاست کی وجہ سے ہے۔ اس وجہ سے وہ ایکدوسرے کیساتھ لڑتے ہیں۔ ہم نے وہ عنصر سائڈ پر کردیا۔ پی ٹی ایم سیاسی ہم آہنگی قائم کرتی ہے۔ اتحاد و اتفاق میں لوگوں کو زیادہ لانا یہ کام بھی اس سے ہوجاتا ہے۔ البتہ میں گرینڈ الائنس کا جو اتحاد ہے اسکے حق میں ہوں۔ جتنی بھی محکوم قومیں ہیں ان کا ایک ساتھ چلنااور ایک ساتھ جدوجہد کرنا انتہائی فائدہ مند سمجھتا ہوں۔
سوال: میرا آپ سے سوال ہے کہ جتنے بھی لاہور یں لیفٹ ونگ کی تنظیمیں ہیں، مارکسسٹ ہیں، بائیں بازو کی تنظیمیں ہیں وہ آپ کا ساتھ دینے کیلئے بالکل تیار ہیں آپ لاہور میں ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔ اگر آپ کو براہ راست یا کھلے عام ایکٹی ویٹیز کرنے میں مسئلہ ہے تو آن لائن ممبر شپ اسٹارٹ کریں۔
منظور پشتین: پنجاب کے جو دوست کہہ رہے تھے کہ ہم بھی ساتھ ہیں۔ پورے پنجاب نے اٹھنا ہوگا سب نے ساتھ دینا ہوگا۔ محکوم لوگوں کے جو مسائل ہیں اس سے کم از کم لوگوں کو آگاہ کریں۔ لوگوں کا مائنڈ بنادیںتاکہ عوامی سطح پر یکجہتی پیدا ہوجائے۔ڈیرہ اسماعیل خان پولیس سب سے زیادہ ٹارگٹ کلنگ میں ماری جارہی ہے۔ سرائیکی بیلٹ سب سے زیادہ مشکل میں ہے۔ آپ خود سرائیکی ہو آپ بتاسکتے ہیں یہاں شرکاء کو کہ مدینہ کالونی میں جو طالبان رہ رہے تھے کیا وہ فوج کے انڈر نہیں تھے؟۔ سچ بتائیں یار(قہقہے)۔ دہشتگردی کو اگر اسٹڈی کرنا ہو تو ڈی آئی خان کا چکر لگائیں اگر میں نے ان کو نہیں بتایا کہ یہ جو کالے شیشوں میں گاڑی کینٹ سے آرہی ہے اس میں نوکنگ کرو اندر کون بیٹھا ہے پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ یہ جو ہم باتیں کررہے ہیں کیوں کررہے ہیں اسکی وجوہات ہیں؟۔ ڈی آئی خان کے شہری اٹھیں کیوں اپنے نوجوانوں پر خاموش ہیں؟۔ ڈی آئی خان اور دوسرے شہروں میں مذہبی فرقہ واریت کی بنیاد پر مختلف گروپس بنادئیے گئے جو لوگوں کو مار رہے ہیں۔ ہم آواز اٹھائیں گے اور ڈی آئی خان والوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کریں گے۔
سعدیہ: اگرآپ بڑے لیول پرہمارے لئے کچھ نہیں کرسکتے توکم از کم احساس رکھیں درد کا۔یہ بھی بہت بڑا رشتہ ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
عمار جان: بہت بہت شکریہ۔ اسکے ساتھ ہم پروگرام کا اختتام کرتے ہیں اس امید کیساتھ کہ جو منظورکی جدوجہد ہے، سعدیہ صاحبہ کی، پرابودھا(سری لنکا) کی، سدھو صاحب کی ، ہمارے پنجاب کے لیبر لیڈر بابا لطیف، یہ تمام لوگ جو یہاں پر موجود ہیں وہ ایک بہتر ساؤتھ ایشیاء کی بنیاد بھی رکھیں گے اورپاکستان کو مضبوط کریں گے اور جس طرح سعدیہ نے بہت خوبصورت بات کی کہ دکھوں کا رشتہ ہے اگر دکھ ملیں گے تو یہ مزاحمتیں بھی انقلاب میں بھی تبدیل ہوں گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری