پوسٹ تلاش کریں

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب اخبار: نوشتہ دیوار

ڈی جیISPRکی9مئی پر تفصیل سے بریفنگ اوربار بار ایک طرح کے سوال کا جواب

پاک فوج کے ترجمانDGISPRکا عہدہ بہت اہم ہے۔جنر ل آصف غفور جب اس عہدے پر تھا تو اس نے الزام لگایا تھا کہ منظور پشتین اورPTMکو انڈیا اور افغانستان کے جاسوسی ادارے کی طرف سے بھاری رقم مل گئی ہیں۔ منظور پشتین نے بار بار چیلنج کیا کہ ثبوت پیش کئے جائیں۔
فوج کو دہشت گردانہ حملوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار بنایاگیا تھا تو بندوق اوربارود کے مقابلے میں آواز اٹھانے کی حدتک بات زیادہ قابل برداشت تھی طالبان کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی اسلئے نرمی تھی کہ پوری قوم طالبان کے ساتھ تھی اور امریکہ کا ساتھ مجبوری میں دیا گیا تھا۔ پھرPDMنے بھی فوج پر اپنے ہاتھ صاف کردئیے اور آخر کار تحریک انصاف نے بھی بڑھ چڑھ کر حملے کرنا شروع کئے۔75سالہ تاریخ میں پاک فوج بھی کوئی معصوم نہیں تھی ، جنرل ایوب خان سے پہلے جتنے گورنر جنرل اور وزیراعظم آئے قائداعظم اور قائد ملت سے سکندر مرزا تک کوئی ایک بھی پاکستان کے کسی ایک حلقے سے بھی منتخب نمائندہ نہیں تھا۔ جنرل ایوب خان نے عوامی اقتدار پر شب خون نہیں مارا تھا بلکہ سول بیوروکریسی میں اسسٹنٹ کمشنر سے ترقی کرکے گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر بن جانے والے سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا تھا۔ جمہوریت کی تاریخ جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوتی ہے ،جب فاطمہ جناح کو مولانا مودودی نے سپورٹ کیا تھا اور ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی گود میں بیٹھا تھا۔ ن لیگ کے وفاقی وزیر کے والد نے فاطمہ جناح لکھ کر کتیا کے گلے میں پٹی ڈالی تھی اور فاطمہ جناح کے خلاف جلوس نکالا تھا۔اب یہ جمہوریت کے علمبردار بن گئے۔
بلاول بھٹو پیدا نہیں ہوا تھا لیکن اس کو تاریخ کی درست رہنمائی کوئی کیوں نہیں کرتا ہے کہ1988کے الیکشن میں اس کی ماما بینظیر بھٹو الیکشن لڑرہی تھی تو مولانا فضل الرحمن کیساتھMRDکی سطح پر الیکشن کا انتخابی اتحاد اس حد تک تھا کہ مرکزی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے خلاف کسی کو پارٹی کا ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کے اتحاد سے کامیاب ہوا تھا اور بینظیر بھٹو کے مقابلے میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ جمعیت علماء اسلام نے اس کو ٹکٹ نہیں دیا تھا اور مولانا فضل الرحمن اور جماعت کے اکابرین ڈاکٹر خالد محمود سومرو سے سخت ناراض ہوگئے تھے۔
جب پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کرکے حکومت بنالی تو صدارت کیلئے نوابزادہ نصر اللہ خان کے مقابلے میں غلام اسحاق خان کو اپنے ووٹ دیدئیے۔ جمہوریت کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے بیوروکریٹ ساتھی کو پیپلزپارٹی نے جتوایا تھا اور مولا بخش چانڈیو جیسے لوگوں سے بلاول بھٹو کچھ سیکھے تو اس پر سیاسی نابالغ ہونے کا دورہ نہیں پڑے گا۔ اس وقت جماعت اسلامی اور ن لیگ والے جب مولانا فضل الرحمن کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے تو جواب میں مادر ملت فاطمہ جناح کو ووٹ دینے کا حوالہ جماعت اسلامی کا اعتراض اٹھانے کیلئے دیتے تھے۔
اگر مسلم لیگ ن کے ساتھ جمعیت علماء اسلام یا جماعت اسلامی کی ڈیل ہوگئی تو پھر مریم نواز کو وزیراعظم بنانے میں اپنے تاریخی کردار کا حوالہ دے سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو کیلئے تیسری جنس کے شبے کا مسئلہ بھی کھڑا ہوسکتا ہے۔ انتخابی دنگل میں ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پہلے بلوچ بینظیر بھٹو سے بہت محبت رکھتے تھے لیکن اب بلاول کو باجی بلاول کہنے والے بھی بہت ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کی زبان کو کون لگام دے سکتا ہے۔ سیاسی قائدین اخلاقیات کو تباہ وبرباد کرنے میں اپنا پورا پورا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر شکوے کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کی سیاسی خوف کی وجہ سے13پارٹیوں کی حکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے۔ الیکشن سے حکومت بھاگ رہی ہے لیکن الزام اسٹیبلیشمنٹ پر بھی لگ رہاہے۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا تو متعدد بار سوال کو دہرایا گیا۔ بڑی مشکل سے اس سوال کا جواب دیا کہ ہم نے وزارت دفاع میں اپنا مؤقف پیش کیا لیکن اگر حکومت ہمیں بلالیتی تو الیکشن کیلئے آتے اسلئے کہ الیکشن کے اصل اسٹیک ہولڈر الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتیں اور حکومت ہیں اور ہم صرف اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ باقی ان کے پابند ہیں۔ سوال یہ بھی تھا کہ چیف جسٹس پر الیکشن کے حوالہ سے دباؤ کی خبروں میں کتنی صداقت تھی؟۔
سپریم کورٹ کے سامنے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز نے چیف جسٹس پر حکومت میں ہوتے ہوئے دفعہ144کے سائے میں جو پریشر ڈالا تھا وہ بھی اپنی نوعیت کا انوکھا احتجاج تھا۔ جسکے سامنے سپریم کورٹ کی عزت نہیں وہ فوج کی کیا عزت کریگا؟۔ عمران خان اور طاہرالقادری کو پارلیمنٹ پر حملہ اورPTVپر قبضہ کرنے کی پاداش میں سزا ئیں دی جاتیں تو9مئی کے واقعات نہ ہوتے۔
DGISPRنے واضح کیا کہ فوجی عدالتیں بہت پہلے سے قائم ہیں اور اپنا کام مختلف ادوار میں تسلسل کیساتھ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جھوٹ کے ذریعے حقائق کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ جنگ اور جیو نیوز نے خود کو بڑا بدنام کردیا ہے، اب ان کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں ہے ، انکے سچ کو بھی جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ ہارون الرشید سمیت صحافیوں کا جوطبقہ پاک فوج کی حمایت کرتا تھا وہ اب دوسرے بلاک کا حصہ بن چکا ہے۔ عمران ریاض خان کے بارے میں افغانستان تک پہنچنے کی خبریں تشویشناک تھیں۔ اب تک لاپتہ ہے اور بہت سارے وہ لوگ بھی لاپتہ ہیں جو فوج کے خلاف بولتے ہیں۔ ایک طرف بلوچ خواتین کی طرف سے بھی خود کش حملوں کی خبریں آرہی ہیں اور دوسری طرف طالبان بھی اپنی کاروائیاں کررہے ہیں۔بھارت کی طرف سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے بھی خوف کی فضا پیدا کررکھی ہے تو فوج کی کسی معقول بات کو بھی ایسے ماحول میں لوگ غیرمعقول قرار دیتے رہتے ہیں۔
فوجی کوئی صحافی یا خطیب نہیں ہوتے ہیں کہ اپنی صفائی پیش کرنے کا درست گر سمجھتے ہوں۔ جب تسلسل کیساتھ مخالفانہ ماحول پیدا کرنے سے تنگ آجاتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جب وہ اپنا ایکشن دکھاتے ہیں تو انکو زیبرا کہنے والے گدھے کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ ”گدھے کی محبت لات مارنا ہوتی ہے”۔ فوج کی ٹریننگ کا حصہ ہے کہ جب وہ کاروائی کرتے ہیں تو اپنی فوج کے خلاف بھی وہی کرتے ہیں جو عوام پر کرتے ہیں۔ اب سب سے پہلے اپنے فوجیوں کا احتساب کیا ہے جن میں بڑے رینک کے افسران بھی شامل ہیں اور ان کا قصور غفلت کا برتنا یا درست طریقے سے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی ہے۔ اس پر بھی صحافیوں نے بار بار سوالات کئے کہ جب تمہارا پروگرام یہ تھا کہ تحمل کا مظاہرہ کرنا ہے تو پھر فوجیوں کو سزا کیوں دی ہے؟۔
DGISPRکی بات میں تضاد نہیں تھا بلکہ سانحہ9مئی کے واقعات کے کئی پہلو تھے۔ ایک طرف مسلسل فوج کے خلاف الزامات اور نفرت کی فضا تھی۔ دوسری طرف عوام مشتعل ہوگئی تو خلاف توقع جناح ہاوس اورGHQمیں بھی لوگ داخل ہوگئے۔ پھر خواتین کو آگے کیا ہوا تھا۔ اگر بڑے پیمانے پر رد عمل دیا جاتا تو انتشار کی فضا مزید پھیل سکتی تھی۔ یہ بات بالکل درست تھی۔ یہ بھی درست ہے کہ جن لوگوں نے زیادہ ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیا یا غفلت برتی تو ان کے خلاف ایکشن بنتا ہے۔ یہ بھی درست تھا کہ یہ واقعہ مسلسل فوج کے خلاف بولنے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن صحافی ان سوالوں میںDGISPRکو الجھاتے تھے۔
ایک فوج کو یہ مہارت ہوتی ہے کہ کمانڈوایکشن کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرے لیکن صحافیوں کی طرف سے الجھا ؤ پیدا کرنے سے اس میں صرف اشتعال آسکتا ہے۔ جس کا تھوڑا بہت احساس سامعین کو ہورہا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر سانحہ9مئی کے مجرموں کو چھوڑ دیا گیا تو کل دوسری سیاسی جاعتوں کی طرف سے بھی یہ روز روز کا تماشا بن سکتا ہے۔
فوج کا ان کو سزا دلوانے کیلئے پر عزم ہونا اس کا حق ہے۔ البتہ فوجی عدالتوں سے خوفزدہ لوگ جب تحریک انصاف کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کو کلین چٹ ملتا ہے تو اس سے یہ تأثر ابھرتا ہے کہ اصل معاملہ مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی قوت کو توڑنا ہے۔ پرویز الٰہی تحریک انصاف کا صدر ضرور ہے لیکن اس کے گھر کو اس طرح نشانہ بنانے سے ایک غلط فہمی جنم لے رہی ہے اور اس پرDGISPRکا جواب بالکل ٹھیک ہے کہ حکومت اگر غلط فائدہ اٹھاکر ایسا کر رہی ہے تو یہ نہیں ہونا چاہیے مگر اس کی وجہ سے اصل مجرموں کو چھوڑنا بھی غلط ہے اور اس سے پاک فوج کا بھرپور طریقے سے پر عزم ہونے کا اظہارہوتا ہے۔
DGISPRسے منصوبہ ساز کا نام پوچھا گیا تو اس نے بات ٹال دی ہے اور اس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ اگر عمران خان کا نام لے لیا اور پھر بوجوہ چھوڑ دیا تو ایک لکیر کھچ جائے گی کہ اصل مجرم کو کیسے چھوڑ دیا اور اگر کٹہرے میں لایا تو پھر اس کو پہلے سے بری الذمہ قرار دینے سے بھی معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
اگر ملک میں اچھی حکومت یا اچھی اپوزیشن ہوتی تو پاک فوج کو اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ جب ایک مقبول لیڈر شپ تھی اور لوگوں کو فوج سے محبت تھی تو بھارت کی قید سے آنے والے فوجیوں کابھی شاندار استقبال کیا گیا تھا اور ان کو نوکریوں پر بھی بحال رکھا گیا تھا۔ اب حالات مختلف ہیں۔ تسلسل کیساتھ سیاسی جماعتوں اور صحافیوں نے ون پوائنٹ ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے فوج کی وہ مخالفت کی کہ ایسے پروپیگنڈے کی دنیا کی تاریخ میںکوئی مثال نہیں ملتی۔ سب سے زیادہ ہم نے مخالفت میں اپنا کردار ادا کیا لیکن دجال کی طرح صرف ایک نظر سے نہیں دیکھا بلکہ جہاں ان کی طرف سے خیر کا پہلو اور دفاع ہوتا تھا تو اس کو بھی اجاگر کرتے رہے ہیں۔ اگر فوج پر خود کش حملے ہوں اور دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے تو ردعمل میں مسنگ پرسن ایک معمولی بات ہے۔ جب ایک طرف مسنگ پرسن کا تذکرہ ہو اور دوسری طرف فوج پر دہشت گردانہ حملوں کے خلاف بات نہ کی جائے تو توازن اور اعتدال کی فضا قائم نہیں ہوسکتی ہے۔ جب فوج کے خلاف حملوں اور فوج کی طرف سے ظالمانہ کاروائی دونوں کا تذکرہ کیا جائے تو پھر اس سے صحافت کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور صلح واصلاح اور اعتدال کی فضا بھی بنتی ہے۔ ارشد شریف شہید اور عمران ریاض خان سمیت صحافیوں کا بڑا ٹولہ صابر شاکر ، سمیع ابراہیم اور ہارون الرشید وغیرہ نے اتنا اللہ کا ذکر کیا ہوتا جتنا وہ پاک فوج کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے تو آج اپنے کئے کا ازالہ کرنے کیلئے ضمیر ضمیر کی باتیں نہیں کرتے تھے۔ ہماری چاہت ہے کہ کسی سے بھی زیادتی نہ ہو لیکن جس فوج نے میڈیا میں ایک اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے ، اگر اس کی مخالفت کروگے تو الٹی گنتی شروع ہونا یقینی ہے۔ ہم بھی اس مقام پر بیٹھ کر بہت شہرت اور دولت حاصل کرسکتے تھے لیکن اپنی اوقات میں رہنا اچھا لگتا تھا۔
آج بھی ہماری ایماندارانہ رائے یہی ہے کہ تحریک انصاف کے مجرموں کو بھی فوجی عدالتوں کے ذریعے سزا دینا فوج کے ایک پر کو توڑنے کی طرح ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف دونوں فوج کے دو بازو اور پرواز والے پر ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ناکارہ ہوگیا تو فوج کی پرواز بالکل ختم ہوجائے گی، اسلئے کہ پاک فوج نے ہی ان کو ڈیزائن کیا ہوا ہے۔ پہلے نوازشریف نے تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر عمران خان نے بنایا ۔ نوازشریف اپنے پارلیمنٹ کے بیان اور قطری خط کو بھی فوج کے کھاتے میں ڈال کر کہہ رہاتھا کہ مجھے کیوں نکالا ؟۔ حالانکہ فوج نے اس کو کوئی سزا نہیں دی تھی لیکن پنجاب کا آدھا حصہ فوج کا مخالف بن گیا۔ باقی ماندہ تحریک انصاف کی وجہ سے فوج کا حامی تھا اور اب وہ بھی گیا۔ بازو زخمی ہوجائے تو ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن کٹ جائے تو دوبارہ لگ نہیں سکتا ہے۔
پہلے جن سول لوگوں کو فوجی عدالتوں نے سزائیں دی ہیں وہ کسی سیاسی پارٹی کے کارکن نہیں تھے۔ اب معاملہ بالکل مختلف ہے۔ سیاسی پارٹی کے کارکنوں کو ایسی حالت میں فوجی کورٹ سے سزا دینا جب عدالت پر بھی پریشر ہوکہ آئین کے مطابق انتخابات نہ کرائے تو اس کا بہت زیادہ ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
فوجیوں کا دماغ زیبرے کی طرح ہوتا ہے اور سیاسی جنگ میں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ اگر گدھا ہو اور وہ بھی جنگلی تو اس کو سیاست کا کیا پتہ ہے؟۔ عمران خان کے ورغلاوے میں بھی آگئے تھے اور نواز شریف کے ورغلاوے میں بھی آسکتے ہیں۔ حامد میر نے خبر دی ہے کہ عمران خان کیساتھ عید کے بعد بہت کچھ ہوسکتا ہے۔یہ اکسانے کا ایک حربہ بھی ہوسکتا ہے لیکن پاک فوج کو اس کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ بعد میں حامد نے کسی کو آنکھ مار کر کہنا ہے کہ اس طرح سے کام نکالے جاتے ہیں۔ جب حامد میر چاہتا ہے تو مولانا فضل الرحمن کو بہت بڑا کریڈٹ دیتا ہے کہ رقم سے بھرا ہوا بریف کیس نہیں لیا اور جب چاہتا ہے کہ اس کی ایسی کی تیسی کردے تو انصار عباسی کو بٹھا کرGHQسے ملنے والی زمینوں کے دستاویزی ثبوت میڈیا پر علامہ راشد محمود سومرو کے سامنے دکھاتا ہے۔
جن سیاسی کارکن کا تعلق فوجی خاندانوں سے ہے ان کا ٹرائیل فوجی عدالت اور جن کا فوجی خاندان سے تعلق نہیں انکا ٹرائیل دہشت گردی کی عدالتوں میں ہوجائے تب بھی زیادہ برا نہیں ہوگا۔ لیکن اگر پوری پارٹی کو فوج کے سامنے کھڑا کیا گیا تو فوج کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔ حامد میر کہتا تھا کہ نوازشریف یہاں قدم بھی رکھ سکتا ہے لیکن عمران خان کو عبرتناک سزا دی گئی تو نوازشریف کیلئے بھی سزا کا کوئی راستہ نکل آئے گا۔ اگر عدالت نے کہہ دیا کہ فوج کے خلاف زبان کھولنے والوں کو فوجی عدالتیں نمٹ لیں تو عدالت کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟۔
بیانات کی حد تک تو عمران خان سے زیادہ نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن پر مقدمات قائم ہوسکتے ہیں۔ ہم بھی انقلاب چاہتے ہیں لیکن ایسے انقلاب میں مزہ بھی نہیں آئے گا کہ اسٹیک ہولڈرز کو سزائیں دی جائیں اور ہمارے لئے راہ ہموار ہوجائے۔ اسلام کے اندر ایسی صلاحیت ہے کہ مشرکین عرب کے جاہلوں کو جب ایمان کی دولت سے مالامال کیا تو سپر طاقتوں کو انہوں نے شکست دی تھی۔ آج اسلام اور مسلمانوں میں زیادہ صلاحیت ہے کہ اسلام کے عظیم دین کو استعمال کرکے دنیا میں ایسی خلافت کا نظام قائم کردیں جس سے زمین والے بھی خوش ہوں اور آسمان والے بھی۔ سیاسی پارٹی کا خلاء استحکام پاکستان پارٹی کے ذریعے پورا نہیں ہوسکتا ہے بلکہ ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو قوم پرستی اور فرقہ پرستی سے بالاتر اس قوم کے بچوں کو الو بنانے کے بجائے شاہین بنادے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے قوی امید رکھتے ہیں کہ وہ ہماری کمزوریوں کو نہیں اپنے فضل کو سامنے رکھ کرپاکستان کے بہترین مستقبل کیلئے اچھائی کے راستے پیدا کردیگا اور پاکستان کی وجہ سے عالم اسلام اور عالم انسانیت کو ایک نئے سورج کا انقلاب دیکھنے کو ملے گا۔ اسلام کے فطری قوانین کے ذریعے یورپ اور مغرب بھی بہت اعتدال پر آسکتے ہیں لیکن جب تک نمونہ نہیں دیکھیںگے تووہ کیسے آسکتے ہیں؟۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟