پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دو سال پہلے تک فوج نے سیاسی کھیل کھیلا - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دو سال پہلے تک فوج نے سیاسی کھیل کھیلا

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دو سال پہلے تک فوج نے سیاسی کھیل کھیلا اخبار: نوشتہ دیوار

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دو سال پہلے تک فوج نے سیاسی کھیل کھیلا

نوازشریف ، زرداری، مولانافضل الرحمن کے الزامات کے بعد اب عمران خان کے سخت ترین الزامات میر جعفر،میرصادق کا بھی سامنا ہے

جنرل قمر جاوید باجوہ سے گزارش ہے کہ فوج کی باہمی مشاورت سے اپنے وقت سے پہلے استعفیٰ پیش کریںاور پہلے تین سینئرموسٹ میں کسی کو آرمی چیف بنانے کا اعلان کردیں۔

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

فوجی ترجمان نے کہاکہ دوسال پہلے تک74سالوںسے سیاسی مداخلت کی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع اشتراک عمل کا نتیجہ تھا ۔جسکی ذمہ دار تحریک انصاف، مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت تمام وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے دُم اٹھاکر ابن الوقتی کا مظاہرہ کیا اور خاص قانون بھی دوتہائی اکثریت سے پاس کردیا جس سے سابقہ شرمناک مداخلت کی توثیق بھی کردی۔ اوریہ ثابت کیا کہ وہGHQکے گیٹ نمبر4کی پیداوار یا لے پالک ہیں۔ اس قانون کی وجہ سے آئندہ کیلئے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور سیاست میں مجرمانہ مداخلت کا راستہ کھول دیا گیا۔ جس کی وجہ سے پاک فوج کو بھاری نقصان اٹھانے اور افراتفری کا شکار کرنے کی راہ پر ڈالا گیا ہے۔
عوام کے دل میں یہ بات اُترچکی ہے کہ فوج نے اپنا اندرونی جھگڑا انجام کو پہنچانے کیلئے سیاسی میدان میں کٹھ پتلی سیاستدانوں کو استعمال کیا ۔ اصل مسئلہ آرمی چیف کے ریٹائرمنٹ اورنئے چیف کی تعیناتی کا ہی تھا۔ ن لیگ نے چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب میں وزیراعلیٰ اسلئے قبول کیا کہ عمران خان کوئی اپنا آرمی چیف نامزد نہ کردیں۔ ورنہ تو شہبازشریف کو مریم نواز وزیراعظم کے طور پر دیکھنا نہیں چاہتی تھی اور نوازشریف کی چابی مریم نواز کے ہاتھوں میں ہے۔ ن لیگ عثمان بزدارکی کارگردگی اور فرح خان گوگی کے کرتوت سے واقف تھی لیکن مریم نواز کہتی تھی کہ عمران خان کو سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ اسی لئے مولانا فضل الرحمن نے پرویز الٰہی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر چوہدری برادران کو حیرانگی ہوئی تھی اور پیپلزپارٹی اور اے این پی کوPDMسے دھکا د کر باہر کیا گیا تھا۔ پہلی فرصت میں آرمی چیف کی مدت توسیع کا قانون ختم کیا جائے اور جنرل قمر جاوید باجوہ استعفیٰ دیکر تین سینئر موسٹ میں سے ایک کا اعلان کردیں۔ جب منصور کو پتھر مارے جارہے تھے تو اس کو کوئی تکلیف نہیں تھی لیکن حضرت شبلی کے پھول مارنے پرتکلیف سے چیخنے چلانے لگے۔ عمران خان کو یوٹرن لینے میں دیر نہیں لگتی ہے اسلئے احمد فراز کے فرزند شبلی فراز کے پھول مارنے سے پاک فوج کی طرف سے ردعمل میں چلا اٹھنے کا کہوںگا۔ وزیرستانی پشتو کی کہاوت ہے کہ ”فقیر نے کہا کہ تمہاری خیرات سے میری توبہ لیکن اپنے کتوں کو روک لینا”۔ فوج کو اپنے پالتوکتوں کو قابو کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان پر قابو پایا گیا توبھی بقول حبیب جالب کے اب عوام میںاپنا اعتماد کھورہے ہیں۔بقیہ صفحہ3نمبر1

بقیہ … پاک فوج اور سیاست کا کھیل
کتا باؤلا ہو توذمہ دار مالک ہے۔74سالوں میںپہلے اصل قصوروار سیاسی قائدین تھے۔ پہلے6وزیراعظم اور گورنر جنرل سے صدر بننے تک جمہوریت نہیں تھی قائداعظم ، قائد ملت لیاقت علی ،محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، خواجہ نظام الدین ،حسین سہروردی ، فیروز خان نون اورصدر سکندرمرزا میں سے کوئی بھی عوام کا منتخب گورنرجنرل،صدراور وزیراعظم نہیںتھا؟۔
مہاتما گاندھی تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ انگریزکی عبوری حکومت نے تقسیم ہند کا فیصلہ کرلیا جس کے وزیراعظم نہرواور وزیرخزانہ لیاقت علی خان تھے۔ کانگریس نے گاندھی کو کھڈے لائن لگا دیا تھا۔ مہاتما گاندھی نے فسادات کو روکنے کیلئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا،لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” میں باقی زندگی پاکستان میں گزاروں گا۔ اگر پاکستان نے اقلیتوں کو حقوق دئیے تو میں پاکستان کے جھنڈے کو سلیوٹ کروں گا۔ اگر اقلیتوں کو حق نہیں دیا تو سلیوٹ نہیں کروں گا۔ بنگال ، لاہور یا(سرحد)پختونخواہ میں رہوں گا”۔ جب کلکتہ میں فسادات ہوگئے۔ ہندوؤں نے تشدد شروع کیا تو حسین شہید سہروردی کی سرکاری رہائشگاہ کلکتہ حیدر آباد ہاؤس میں قیام کیا ۔ جس پر ہندؤوں نے گاندھی کا گھیراؤ کیا اور قتل کی دھمکی دی کہ تم بہار جاؤ،جہاں ہندؤوں کو مسلمان قتل کررہے ہیں، ہمیں تمہاری ضرورت نہیں۔ گاندھی نے کہا کہ قتل کرنا چاہتے ہو تو کرڈالو لیکن میں اپنے مشن سے نہیں ہٹوں گا۔ پھر گاندھی نے بھوک ہڑتال کی تو ہندؤوں سے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔
ہندوستان کے اب توسیع پسندانہ عزائم ہوتے تو بنگلہ دیش پر قبضہ کرتا۔ قائداعظم کو گورنرجنرل نامزد کیا۔ ہندوستان نے تجربہ کار انگریز کو نامزد کیا۔ پاک فوج کی کمان پہلے دو انگریز آرمی چیف کے ہاتھ میں تھی۔ جنرل ایوب خان نے جمہوری نظام ختم نہیں کیا بلکہ میر جعفر کے پڑپوتے سکندر مرزا نے گورنر جنرل کا آئینی عہدہ ختم کرکے صدر کامنصب سنبھال لیاتو تین سالہ مدت میں5وزیراعظم فارغ کردئیے۔ نوابزداہ لیاقت علی خان کا تعلق بھوپال ہند سے تھا اور محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، خواجہ نظام الدین اور حسین سہروردی شہید کا تعلق بنگال سے تھا اور فیروز خان نون کا تعلق پنجاب سے تھا۔ جس نے گوادر کو کروڑوں ڈالرو ں سے عمان مسقط سے خرید لیا تھا۔
ڈیرہ بگٹی اور چولستان میں پیاس سے لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں تو حکومت وریاست کے مقتدر طبقے پر لعنت کرنے کو جی چاہتاہے جو ایران سے تیل سمگلنگ کرکے ملک کے کونے کونے تک پہنچاسکتے ہیں لیکن ان لوگوں کو پانی کے چند بور نکال کر نہیں دے سکتے ۔ دوسری طرف تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی کرنے پر احتجاج کرنیوالے چین کی مہمان خواتین اساتذہ کی بے گناہ موت پر ریلی نکالتے تو چینی اساتذہ واپس نہ جاتے۔ مہمان، خواتین اور اساتذہ پر خود کش بلوچ روایت کے منافی تھا لیکن ہمارا حکمران صرف اسلئے تگڑے بنتے ہیںکہ کوئٹہ کو گوادر سی پیک کے مغربی روٹ سے محروم کرکے تخت لاہور کو نوازے اور بس۔ مریم نواز کو اقتدار کیلئے فوج کیخلاف بکنااور دباؤ ڈالنا ہو تو بلوچی لباس پہن کر مسنگ پرسن کے لواحقین کے سامنے مگر مچھ کے آنسو بہائے۔ ساہیوال میں سی پیک سے پاور پلانٹ لگائے لیکن گوادر کی بجلی ایران سے سپلائی ہوتی ہو۔
توہین عدالت ،توہین ریاست اور توہین فوج کی راہداری پر اب اونٹ کس کروٹ پر بیٹھے گا لیکن دشمن سمجھے جانے والوں سے زیادہ پاک فوج سے دوستی کا وعدہ نبھانے والوں نے کام دکھا دیا ہے۔ جب کھلاڑی عمران خان نے امریکہ ، ہندوستان اور ایران تک اورARYنیوز چینل سے عام میڈیا تک پاک فوج کے خلاف ہر محاذ پر کھل کر بات کی اور پھر اقتدار میں آکر ایک پیج کا خوب ڈرامہ رچایا تو عوام کے دل و دماغ میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ نوازشریف واقعی جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے ظلم وستم کا شکار ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے نامہ اعمال کی سزا بھگت رہے تھے۔ لندن ایون فیلڈ کے فلیٹ کب اور کس طرح خریدے تھے ،اس کا سارا ریکارڈ عوامی اور سرکاری سطح پر میڈیا میں موجود تھا۔ اگر پاک فوج اس کو ذبح کردیتی تب بھی اس کو پارلیمنٹ میں تحریری وضاحت اور قطری خط کا وہ ڈرامہ نہیں کرنا چاہیے تھا جو اس نے اپنی کم عقلی سے کیا تھا۔
عدالتوں نے سب چیزوں کو فراموش کرکے اقامہ پر سزا دیکر اتنی رعایت کی کہ ججوں کی بدنامی اور بے انصافی کیلئے یہی کردار کافی ہے اور جب اس میں بھی پاک فوج کی پشت پناہی کے باوجود یہ سزا دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان عدالتوں سے انصاف کی نہیں ظالموں کو تحفظ دینے کی توقع ہی رکھی جاسکتی ہے۔ ہمارے معزز جج اور جرنیل واقعی عزت کے بہت قابل ہیں اور الو کے پٹھے تو غریب عوام ہی ہیں لیکن اپنے نظام کو نہیں بدلا گیا تو عوام کے ہاتھوں بہت برا ہوسکتاہے۔
وزیرستان میں انتہائی معزز رائل قبیلے کا ایک پاگل تھا۔ اس نے اپنے بھائی اور اسکے دوستوں کے سامنے کہا تھا کہ ” اگر میری ماں کرنا چاہے تو کرسکتی ہے”۔ بار بار جملہ دوہرایا تو اس کا بھائی شرم سے پانی پانی تھا اور دوست بھی سکتے میں آگئے تھے کہ یہ اپنی ماں کے بارے میں کیا بکواس کررہاہے۔ آخر میں پاگل کے بھائی نے کہا کہ ” تمہاری ماں بہت بوڑھی ہے ،اب کچھ نہیں کرسکتی ہے”۔ تو پاگل نے کہا کہ ” میرا مقصد برتن دھونا وغیرہ تھا”۔ تو حاضرین مجلس کی سانس میں سانس آئی۔
میرا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ مارشل لاء لگایا جائے لیکن اگر وہ چاہے تو وسیع البنیاد قومی حکومت کیلئے لاڈلوں کو راضی کرے۔ اخترمینگل، ایاز لطیف پلیجو، محمود خان اچکزئی سے لیکر اپنے لاڈلوں تک سب کو ملا بٹھاکرمشاورت سے اس ملک کو بچانا ہوگا۔ پاک فوج اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
میں چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا اور وہاں پر ایک تقریری مقابلہ ”عقل وڈی کہ منجھ” ہوا تھا۔ عقل اور منجھ (بھینس) کی بڑی ہونے کی وکالت کرنے والے مقررین کے درمیان مقابلے میں ججوں نے پہلا انعام ”منجھ وڈی”والے کو دیا۔ جس نے کہا تھا ”1965کی جنگ میں بھینس کے دودھ نے یہ جذبہ دیا کہ بھارت کے ٹینکوں کے نیچے جسموں پر بم باندھ کرہم لیٹے اور ملک کا دفاع کیا۔ عقل قربانی نہ دیتی”۔ تباہ حال ملک کا جذباتی طبقہ بھی عقل والوں کو فیصلہ بدلنے پر مجبور کررہا ہے اور ملک کے ایک مخصوص طبقے کی خوشحالی کے علاوہ کچھ نہیں سوچا جاتا ہے۔
عمران خان اور فوج ایک پیج پر تھے اور عدالتوں سے بھی خوش تھے ۔ نوازشریف کی اسلامی جمہوری حکومت کو1990ء میں لایا گیا اور1992ء میں کرپشن پر ختم کیا گیا۔16سال بعدISIسے پیسہ لینے کے کیس پر فیصلہ ہوا۔ اور1994ء میں لندن فلیٹ کے حوالے سے سرکاری دستاویز سے کرپشن ثابت کی گئی ۔ رحمن ملک ایف آئی اے نے کارنامہ انجام دیا اور پھر پیپلزپارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیف الرحمن نے بھی سرے محل اور سوئیس اکاؤنٹ دریافت کئے ۔ پرویز مشرف کیساتھ نوازشریف کی جلاوطنی کا معاہدہ ہوا اور پھر جب پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تو صدر زرداری کو آئین میں استثنیٰ مل گیالیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو آئین اور عدالت میں سے عدالت کے حکم کو نہ ماننے پر نااہل قرار دیا گیا۔ جب نواز شریف کی حکومت آئی تو لندن کے ایون فیلڈ فلیٹ کا معاملہ اٹھ گیا اور نوازشریف نے پارلیمنٹ میں بیان دیا کہ2005ء کو سعودیہ کی وسیع اور دوبئی کے مل بیچ کر2006ء میں خریدے۔ الحمد للہ میرے پاس اللہ کے فضل وکرم سے تمام دستاویزموجود ہیں جو عدالت کے سامنے پیش کرسکتا ہوں۔ عدالت نے بلایا تو قطری خط لکھ دیا اور پھر قطری خط سے بھی مکر گیا۔ پھر حقائق کو چھوڑ کر عدالت نے اقامہ پر سزا دیدی تھی۔ جس پر مجھے کیوں نکالا اور ججوں کے بچوں تک کو مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
عمران خان نے جذباتی شور ڈالاتو نتیجہ نکلا کہFIAکےDGاور ذمہ دار افسران کو ہٹانے کا عدالت نے ازخود نوٹس لیا۔ ڈاکٹر رضوان کی موت پر سوالات اٹھائے گئے اور حامد میر نے کہا کہ جوتے میں کوئی چیز رکھ دی جاتی ہے جسکے کچھ دیر کے بعد بلڈ پریشرہائی ہو جاتا ہے اور بندہ طبعی موت مرتا ہے۔ سیٹھ وقار اور دیگر کچھ افراد کو مروانے کے دعویدار اب تمام کیسوں کا جائزہ لیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
پارلیمنٹ نے بڑے چوروں کو پکڑنے اور طاقتور اداروں کے غلط معاملات پر گرفت کیلئے کبھی قانون سازی نہیں کی ہے ، جس کی وجہ سے ریاست کا اپنے آپ سے بھی اعتماد اٹھ گیا ہے اور اب فوج، عدالت اور سیاسی اشرافیہ حیران ہے کہ کیا کرے اور کیا نہیں کرے؟۔ عوام کے اندر افراتفری کی فضاء سے زیادہ نقصان عوام ہی کو پہنچے گا لیکن بچے گا کوئی بھی نہیں ۔ اللہ معاف کرے۔ معاملات نااہلوں نے بہت خراب کردئیے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
https://www.youtube.com/c/Zarbehaqtv
اخبار نوشتہ دیوار کراچی۔ خصوصی شمارہ مئی 2022

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

newspaper may 2
عورت کے حقوق کا بہترین قرآنی چارٹر