پوسٹ تلاش کریں

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے! اخبار: نوشتہ دیوار

گدھیڑی سیاسی، مذہبی قیادت اور صحافت ایک دن فوج کے سامنے دُم ہلاتی ہے اور پھر پیشاب کرکے وہ دُم کس کر اسکے منہ پر ماردیتی ہے!

جب عمران خان کے منہ سے بات نکلتی ہے تو میڈیا اس کو ایسی یلغار دکھاتا ہے کہ جیسے انتہائی باعزت پاکیزہ کنواری کو آنکھ ماری ہو بلکہ جبری جنسی زیادتی کرکے اسکی بکارت ختم کی ہو

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

عمران خان کی مقبولیت زرداری اور نوازشریف سے عوام کی مایوسی اور عربی کہاوت کل جدید لذیذ ” ہر نئی چیز لذیذ ہوتی ہے” اسٹیبلیشمنٹ نے نئی نویلی دلہن بناکر پیش کیا۔ تبدیلی نہ آئی اور نالائقی کا ریکارڈ توڑا گیا تو مایوسی پھیل گئی۔ عمران خان کھل کر کہتا تھا کہ ” میں اور باجوہ ایک پیج پر ہیں اور فوج کیلئے ڈھال کا کردار ادا کروں گا”۔ عمران خان نے کہا کہ حکومت سنھبالتے ہی فیصلہ کیا تھاکہ باجوہ کو ایکس ٹینشن دینی ہے۔ایوب، ضیاء ،مشرف اورکیانیX10ہوتے رہے اوریہX10”یاد ماضی عذاب ہے یارب، چھین لے مجھ سے حافظہ میرا” تھا۔ عمران خان نے رومانس کا اظہار کیا تو عدالت نے سیاسی قیادت کو امتحان میں ڈالا، عمران خان کی چوتڑ پر فوج کی مہر لگی تھی۔ نوازشریف اور زرداری نے آرمی چیف کیX10کا فیصلہ کیا تو فیصل واوڈا نے میز پر بوٹ رکھا کہ یہ چاٹو۔ سیاسی رہنما کو اپنی بے عزتی کا احساس ہوا تو واوڈا نے کہا کہ ” بے عزتی تو ہوئے گا”۔
پھرPDMکی گدھا گاڑی پر پیپلزپارٹی سمیت کئی پارٹیوں کے نام تھے۔ نوازشریف نے پہلے جلسے میں فوج کیخلاف ڈھینچو ڈھینچو کرنا شروع کیا تو زرداری نے کہا کہ ہماری یہ مجال نہیں، لاڈ پیار والا طبقہ جو بولے تو یہ آپس کی بات ہے۔ مریم نواز کا دروازہ توڑا گیا تو سندھ پولیس کے احتجاج سے آرمی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ بلاول مریم کی دوستی گڑھی خدابخش تک جاپہنچی۔ قریب تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی کووزیراعلیٰ اور شہبازشریف کو وزیراعظم بنادیا جاتا مگرمریم نوازکو یہ قبول نہ تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے دونوں ایجنٹ پنجاب اور مرکز پر قبضہ کریں۔مولانا فضل الرحمن کو پرویزالٰہی اور زرداری کے پیچھے لگادیا ۔ پیپلزپارٹی اورANPکوPDMسے نکالا ۔ مولانا اور مریم نواز نے اسمبلی سے استعفیٰ دلانا تھا۔ زرداری اورANPپر اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ کا الزام لگادیا۔ جیو ، جنگ اور سوشل میڈیا پر تماشہ لگادیا کہ اصل جنگ کٹھ پتلی عمران خان سے نہیں فوج سے آزادی لینی ہے۔ پھر زرداری نے کایا پلٹی کہ اصل کو چھوڑ دو، کٹھ پتلی سے جان چھڑاؤ۔ اقلیت کو جوڑ کر حکومت بنائی ، جعلی اپوزیشن لیڈر چن لیا ، جو بیانیہ فوج سے آزادی کا بنایا وہ ہتھیار عمران خان کے ہاتھ میں آیا۔ کل تک جو نکھٹو ایکدوسرے کو چور، غدار اور مودی کا یار کہتے تھے توآج مجموعہ اضداد مذاق بن گئے ۔ مہنگائی کا شور مگرساڑھے3سال میں اتنی مہنگائی نہ تھی جتنی گدھیڑوں نے4ماہ میں کردی۔ ایک آنکھ کام نہ کرے تو دجالی بیلنس خراب ہوگا۔حکومت و اپوزیشن کی دو آنکھوں سے بیلنس قائم ہوتا ہے۔ مشاورت میں مختلف رائے سامنے نہ ہوں تویہ مشورہ نہیں ہے۔ نزول وحی کے دور میں مشاورت کا عمل تھا اور وحی بند ہوئی تو مشورہ وحی کا نعم البدل ہے لیکن حکومت کوچلنے نہیں دیا جاتا اور اپوزیشن کو دیوار سے لگادیا جاتا ہے۔پہلی مرتبہ جنرل باجوہ کی قیادت میں فوج نے فیصلہ کیا کہ سیاسی مداخلت نہیں کرنی لیکن اب کمبل ان کو نہیں چھوڑ رہاہے۔کسی نے دریا میں ریچھ کو کمبل سمجھ کر پکڑنا چاہا تھا تو ریچھ نے اس کو پکڑلیا ۔یہاں تو75سال گزرنے کے بعدفیصلہ کیا گیاہے۔ اگر پاک فوج نے بہت زیادہ حکمت عملی سے کام نہ لیا تو مشرقی پاکستان سے بھی زیادہ برا حشر ہوگا اسلئے کہ اندر باہر سبھی کواپنا دشمن بنایاہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ایوب نے جنم دیا، جب سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھٹو کو بقیہ پاکستان کا اقتدار مل گیا تو آئین بنا لیکن آئین پر عمل نہ ہوا۔ بلوچستان کی جمہوری حکومت کاخاتمہ کرکے گورنر راج لگایا۔سردار عطاء اللہ مینگل کے19سالہ بیٹے اور اسکے دوست کو اغواء کرکے قتل کیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے قائدین پر بغاوت کے مقدمات قائم کرکے پھانسی گھاٹ میں رکھا۔ لاڑکانہ میں بھٹو نے جماعت اسلامی کے رہنما کو الیکشن کے کاغذات جمع کرانے پر اغواء کیا تھا۔ پھر جنرل ضیاء نے جماعت اسلامی کو کڑک مرغی کے انڈوں کی طرح رکھا لیکن نواز شریف کو جنم دیا۔ جنرل ضیاء الحق ساتھیوں سمیت حادثے کا شکار ہوا توMRDکی مدد سے بینظیر بھٹو اقتدار میں آئی لیکن بینظیر بھٹو نے صدارت کیلئے نوابزادہ نصراللہ خان کی جگہ جنرل ضیاء الحق کے جانشین غلام اسحاق خان کو صدر بنوایا۔ پھر جب اس کی حکومت ختم کی گئی تواسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے نوازشریف کو اقتدار میں لایا گیا۔پھراس کو کرپشن کی بنیاد پر اقتدار سے باہر کیا گیا۔ بینظیر اقتدار میں آئی تو پھر اسکے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کو ساتھیوں سمیت موت کے گھاٹ اتارا گیا اور حکومت بھی ختم کی گئی۔ پیپلزپارٹی کا جیالا صدر فاروق لغاری بھی ن لیگ سے مل گیا۔ پھر انتہائی بے شرمی اور بے غیرتی کیساتھ نہ صرف نوازشریف اقتدار میں آیا بلکہ اپوزیشن کی زیادہ ترسیاسی قیادت پارلیمنٹ سے باہر کی گئی۔
پرویزمشرف نے نوازشریف کاتختہ الٹا تو سپریم کورٹ نے اس کو تین سال تک قانون سازی کی اجازت دیدی۔ جب متحدہ مجلس عمل نے صوبہ سرحد میں سرکاری زبان اردو کو نافذکردیا تو سپریم کورٹ رکاوٹ بن گئی۔ صحافی عمران ریاض نے عید قربان کی وجہ سے چند دن کی داڑھی رکھی تو جج نے کہا کہ ” آپ کیساتھ داڑھی اچھی نہیں لگتی ”۔ عمران ریاض نے الزام لگایا تھا کہ مطیع اللہ جان کو فوجیوں نے ریپ کیا اور پھر عمران خان نے الزام لگایا کہ ” شہزاد گل سے جنسی زیادتی ہوئی ”۔ حامد میر کی طرف سے جنرل رانی کے طعنہ سے لیکر نواز شریف کی طرف سے تمام خرابیوں کے ذمہ دار ہونے تک کیا کیا الزامات فوج پر کس نے نہیں لگائے ہیں لیکن سورج مکھی کے پھول شعاعوں سے ڈر گئے۔
اس سے پہلے کہ ضابطہ اخلاق کی تمام رسیاں ٹوٹ جائیں تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ مخرب الاخلاق الزامات کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور یہ کون لگاتا ہے؟۔ جب نوازشریف فوج کے کیمپ میں خرکار تھا تو بھٹو کے باپ پر انگریزوں کے کتے نہلانے کا الزام لگاتا تھا۔ زیادہ دور کی بات نہیں ، جب پنجاب میں زرداری کی مدد سے شہبازشریف پنجاب میں اقتدار میں آیا تب بھی لغت میں ایسی گالی نہیں تھی جس کی پریکٹس جلسوں میں شہبازشریف نے نہ کی ہو۔ پاک فوج زندہ باد کے نام سے چینل دوسروں کی خواتین پر بہتان سے دریغ نہیں کرتے۔ARYاور بول نیوز کے صحافی دم ہلا کر فوج کو سلام کرتے تھے ۔ پھر اپنی دم پیشاب میں ڈبولی تو فوج کے منہ پر مارنا شروع کردی۔ نوازشریف اور عمران خان کو بھی جس لاڈ سے پالا تھا اسی لاڈ سے پیشاب میں دُم بھگو کر فوج کے منہ پر ماری۔
نوازشریف کی زرخرید میڈیا جیو، جنگ گروپ اور سوشل میڈیا کے صحافیوں نے یکطرفہ طور پر عمران خان کا چہرہ بھیانک دکھانا شروع کیا جس کی وجہ سے فوج کے ترجمان نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ جب نوازشریف اور دوسرے رہنماؤں کے کلپ دکھائے تو پھر عمران خان کے الفاظ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتے ۔ جنرل ضیاء کو ذوالفقار علی بھٹو نے عاجز اور کمزور سمجھ کر منتخب کیا تھا لیکن فوج کی طاقت نے اس کو مضبوط کردیا ۔ جب آئینی شق نہ تھی تب بھی آرمی چیف اپنی مدت میں خود توسیع کرتا تھا،جو جرنیلوں کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا اظہاریا مفادپرستی تھی؟۔ پارلیمنٹ نے صدر اور وزیراعظم کی توسیع کیلئے قانون نہ بنایا تو آرمی چیف کیلئے بھی نہیں بنانا چاہیے تھا جہاں ایک کی جگہ پانچ پانچ چھ چھ اہلیت رکھتے ہیں۔ جنرل فیض حمید کی وجہ سے عمران خان اور ن لیگ نے یہ عہدہ بے شرمی کیساتھ متنازع بنادیا۔ فوجی جرنیل نیچ لوگوںکو مفاد کیلئے قوم کی تقدیر کا مالک بنائیں گے تویہی ہوگا۔احسان فراموشی اور احسان کے بدلے برائی کمینہ پن ہے جس کو کم نسل کامیاب سیاست سمجھتے ہیں جو ایکدوسرے کیساتھ بھی جاری رکھتے ہیں۔
پرویزمشرف نے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی ،افغانستان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو ننگا کرکے امریکہ کے حوالے کردیا۔ عدالت نے سزا سنائی تھی توISPRنے فیصلے پر افواج پاکستان کو ایک فیملی قرار دیتے ہوئے غم وغصے کا اظہار کیا۔ کیا ریاست یہ ہوتی ہے کہ فوج اور عدالت جو کرے ٹھیک ہے، سب کچھ برداشت کیا جائے؟۔ ایسی ریاست پر آسمان و زمین والے دونوں صبح وشام لعنت بھیجتے ہیں جو عوام کو اپنا مالک سمجھنے کے بجائے اپنا غلام سمجھے۔ ریاستی کسٹڈی میں ریپ برداشت ؟۔ اپنے خلاف گیدڑ بھبکی پر معذرت قبول نہ ہو؟۔ ریٹارئرڈ غیرسیاسی جج اقبال کی بہو کا دروازہ رات کی تاریکی میں توڑ کر ہراساں ہو تو ٹھیک اور مجرم فیملی کی فرد مریم نواز کے ہوٹل کا دروازہ توڑنے پر سندھ پولیس فوج کو جھکنے پر مجبور کرے؟۔ عمران خان مرغا بنتا تو بھی اس سے زیادہ معذرت نہ ہوتی جو اس نے عدالت میںرویہ اختیار کیا۔ اچھا تھا کہ غیرمشروط معافی مانگ لیتا۔ علی وزیر کو رہائی بہت مبارک ہو۔ اسکے وکیل نے پشتو کی تقریر کا غیرپشتون کی مدد سے غلط ترجمہ کرنے کی بات کرکے بہت اچھا پینترا بدل دیا ہے لیکن ایسی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جس پر بندہ کھڑا رہنے کی سکت نہ رکھتا ہو۔
افغانستان میںامریکہ جیسا حشر کرنے کی دھمکی پر دُم دبائی جائے۔ تگڑے آرمی چیف کی بات پر ناراضگی ظاہر کی جائے؟۔ جوISIاور آرمی چیف کا نام لیکر تمام خرابیوں کی جڑ کہے تو ٹھیک ؟۔ عمران خان نے کہا کہ نیب کا مجرموں کو پکڑنے اور چھوڑنے کا سلسلہ تھا تو مجھے پتہ نہ تھا کہ یہ مال بنانے کا ذریعہ ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے نیب سوالنامے پر آرمی چیف جنرل قمر باجوہ پر شدید الزامات لگاکر دیگر جرنیلوں اور عمران خان کے کیسوں کا جواب مانگا اور کہا کہ نیشنل احتساب بیورو کی جگہ سیاسی یا اپوزیشن احتساب بیورو نام رکھاجائے۔
لمبی فہرست ہے جس میں تضادات، نالائقی، مفاد پرستی اور انتہائی گھناؤنے صفات ، کرتوت اور نظام کی ناکامی کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ میڈیا کا سب سے زیادہ گھناؤناکردار ہے جو ابلیس بن کر تماشۂ حیات اچھے اچھوں کی نظروں سے چھپا دیتا ہے۔ لائق اور نالائق صحافیوں کی اکثریت جس طرح کی گھناؤنی حرکتیں کررہی ہے لگتا ہے کہ قیامت سے پہلے قیامت آجائے گی لیکن کچھ اچھے صحافی بھی ہیں جن کی زبان میں معیاری صحافت ہے دلالی کا ڈھول نہیں بج رہاہے۔
پاکستان میں سندھی، پختون، بلوچ، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، گلگت و بلتی، کوہستانی،ہزارہ اورمہاجر کے علاوہ ایک ایک قوم میں بھی انواع واقسام کے قبائل ہیں۔ جیسے افغانستان میں پختون، ہزارہ، تاجک اور ازبک ہیں ۔ حال ہی میں جب پاکستانی نے افغانی کرکٹ ٹیم کو ہرایا تو کوئٹہ کے پختون افغانیوں پر ہوٹنگ کررہے تھے جس پر ہمارے کوئٹہ کے ساتھی عبدالعزیز نے ان کو روکا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ گھر، محلہ ، علاقہ ، ضلع ، صوبہ اور ملک ٹھیک نہیں کرتے، بین الاقوامی حالات پر لگے رہتے ہیں۔ جب ہمارا معاملہ درست ہوگا توبین الاقوامی اور خطے کے حالات بھی ٹھیک ہونگے۔ اسلام نے عورت کے حقوق سے انسانیت کے تمام حالات ایسے درست کرنے کی بنیاد ڈالی ہے کہ ابلیس بھی اسی سے ڈرتا ہے۔ علامہ اقبال نے ابلیس کی مجلس شوریٰ میں سب مشیروں کے بعد ابلیس کا لکھ دیا:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
پادشاہوں کی نہیں، اللہ کی ہے یہ زمیں
ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبر کہیں
حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفریں
پاکستان دنیا میں واحد ایسا ملک ہے کہ جہاں عورت کیساتھ بہت زیادہ بڑی زیادتیاں ہوتی ہیں۔ ان کے حقوق پامال ہیں۔ عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔ معاشرے میں انکو حقوق میسر نہیں۔ علماء ومفتیان نے انکے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔چوکیدار ، بدمعاش ، بااثرطبقات سبھی کی طرف سے ان پر مظالم ہوتے ہیں اور سکول، کالج، بسوں، راستوں، سڑکوں، بازاروں، گلی کوچوں، گاؤں دیہات اور شہروں میں ، دفاتر میں اور گھروں میں ان کے ساتھ ہرقسم کے مظالم ہیں لیکن پاکستانی قوم پھر بھی عورت کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ سندھی، پنجابی اور پشتون ،بلوچ کے علاوہ ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجروں کے کلچر میں بھی یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور عورت کی ناموس پر لوگ جان تک قربان کرتے ہیں۔
بہت لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ طلاق اور حلالہ کے علاوہ کوئی دوسرا موضوع نہیں ملتا؟۔ یہ دیکھ دیکھ آنکھیں جام ہوگئی ہیں اور سن سن کر کان پک گئے ہیں اور ان کی اس بات میں بڑا وزن بھی ہے لیکن جن خواتین، خاندانوں اور علماء حق کو اس حساس معاملے کا سامنا ہوتا ہے اور پھر وہ بیباک ہوکر اس لعنت سے چھوٹ جاتے ہیں تو عزت بچانا ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات سے اور احادیث صحیحہ سے اور فقہ حنفی کے دلائل سے جس طرح آج لوگوں کی عزتیں لُٹنے سے بچ رہی ہیں وہ بہت بڑا سرمایہ اسلئے ہیں کہ بنام اسلام جن کی عزتیں نیلام ہورہی تھیں،آج بنام اسلام ان کی عزتوں کو تحفظ مل رہاہے۔ اگر دنیا میں ہمارے چند ساتھی کوئی دوسرا کام نہ بھی کرسکیں تو یہ بھی بہت ہے۔
حنفی مسلک کی بنیاد کو پہلے سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی ابن مفتی اعظم پاکستان مفتی محمدشفیع نے کہاتھا کہ ” حنفی مسلک میں85فیصد مسائل امام ابوحنیفہ کے خلاف اور15فیصد انکے مطابق ہیں”۔ یہ بھی علماء کرام ، مفتیان عظام اور عوام قابل احترام کی اکثریت کو پتہ نہیں کہ امام مالک اورامام شافعیکی طرح احناف کے نزدیک امام ابوحنیفہ کے شاگرد بھی اپنی اپنی جگہ مستقل امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ اصول میں اختلاف کی وجہ سے اصحابِ تخریج ایک دوسرے سے متضاد مسائل نکالتے ہیں۔ فقہاء کے7طبقے ہیں۔حنفی فقہاء کا ایک طبقہ اصحاب تخریج ہے جن کا کام اماموں کے اصولوں سے مسائل نکالنا ہے۔ مثلاً ”نورالانوار” میں حرف” ف” تعقیب بلامہلت کے عنوان سے لکھاہے کہ ” اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے توجملے میں فاء کے حرف کے استعمال سے کس امام کے نزدیک کون کونسی طلاق واقع ہوگی؟۔ اور پھر اصولوں کے اعتبار سے مختلف مسالک لکھے ہیں۔ امام ابوحنیفہ وامام ابویوسف کے اپنے اپنے اصولوں کے مطابق کیا مسائل بن جائیںگے؟۔ کسی کے نزدیک پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور کسی کے نزدیک دوسری ہوگی پہلی اور تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی اور عجیب و غریب قسم کے لایعنی بکواسات ہیں جو پڑھائے جارہے ہیں ۔ ایک ہی کتاب بیس بیس سالوں تک پڑھانے کے باوجود اساتذہ کو خود بھی سمجھ میں بات نہیں آتی ہے کہ کیا پڑھ اور پڑھارہے ہیں؟۔مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ” اگر کسی عقل والے کی نظر ان پر پڑگئی تو اصول فقہ کی کتابیں دھری کی دھری رہ جائیں گی اور سب کم عقلی اور بے اصولی کے راز فاش ہوجائیں گے”۔
سمجھانا یہ مقصود ہے کہ ” جو15فیصد فقہ حنفی کے مسائل امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب ہیں وہ بھی دوسروں نے نکال کر ان کی طرف منسوب کئے ہیں”۔ علامہ غلام رسول سعیدی بریلوی مکتب اور فقہ حنفی کی معتبر شخصیت تھے ۔ کئی بڑی جلدوں پر مشتمل شرح صحیح مسلم اور شرح صحیح بخاری لکھی اور کئی جلدوں میں قرآن کی تفسیر ”تبیان القرآن” بھی لکھ دی ۔جب وہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع پر تنقید کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ مفتی محمد شفیع فقہ حنفی سے بالکل نابلد تھے۔ لیکن علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ ” اگر سورۂ بقرہ کی آیت230میں ف تعقیب بلامہلت کی بات نہ ہوتی تو پھر شریعت میں اکٹھی تین طلاق کا جواز نہ ہوتا”۔ حالانکہ اصولِ فقہ کی کتابوں میں دومرتبہ طلاق سے اس طلاق کو جدا کرکے فدیہ سے تعقیب بلامہلت کی وجہ سے جوڑ ا ہے۔ حدیث، تفسیر اور فقہ کے مسائل کا بیڑہ غرق کیا گیا ۔ اتنے متضاد مسائل ومعاملات بنائے گئے کہ تفسیر، حدیث اور فقہ کی شرح بھی آپس میں کوئی جوڑ نہیں رکھتے ۔ علماء کے فکری انتشار کی وجہ سے ڈاکٹر اسرار احمدMBBS، جاوید احمد غامدی، سابق کلین شیو صحافی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور انجینئر محمد علی مرزا جاہلوں پر راج کررہے ہیں۔
علماء کی ٹیم تشکیل دی جائے جس میں حنفی دیوبندی بریلوی علماء شامل ہوں، میری خدمات حاضر ہیں۔ کچھ عرصہ میں جامع نصاب سے انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ میں نے اطلاع دیکر محمد علی مرزا علمی کتابی کی مجلس میں شرکت کی تھی۔اس نے ساتھ تصویر کھینچوانے کیلئے آواز لگائی جس کی میں نے ضرورت نہ سمجھی ، شاید اس وجہ سے اس کی آنکھوں میں ذرا بھینگا پن آیا۔ میرے سوال کا جواب نہ دیا اور سوالات نہیں کرنے دئیے۔ مجھے ان سے مسئلہ نہیں، جس طرح بھی عوام میں دین کا شعور بڑھ جائے تو میں اس رحجان کے حق میں ہوں لیکن دین کو اجنبیت سے نکالنا ہوگا۔ جب علماء واضح نقشہ پیش کریںتو معاشرے میں اس پر عمل کی رغبت پیدا ہوگی اور پھراسکا راستہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی۔ جب گھروں اور معاشرے میں دین کا معاملہ مضبوط ہوگا تو اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔پھر منبر ومحراب کا بھی عوام میں بہت مؤثر کردار ہوگا۔
ایک طرف شیعہ صحابہ کرام کی ایسی گھناؤنی تصویر پیش کرتے ہیں کہ علی ، حسن ،امام حسین اور زین العابدین کے کردار پر بھی سوالات اُٹھ جاتے ہیں اور دوسری طرف اہل بیت کی مخالفت پر کمربستہ ایسے لوگ ہیں کہ عربی سوشل میڈیا پر ایک ویلاگ دیکھا جس میں علیکو ایک فرضی اور افسانوی کردار قراردیا گیا ہے۔
قرآن میں اللہ اور اسکے رسول ۖ کی اطاعت کا حکم ہے۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے۔ رسول اللہ ۖ اولی الامر تھے تو بھی خواتین سے لیکر بڑے صحابہ ، ذوالخویصرہ سے لیکر رئیس المنافقین عبداللہ ابن ابی اور نبوت کے دعویدار دجال ابن صاید تک سب کیلئے نبیۖ سے اختلاف کا دروازہ کھلا تھا۔ پاکستان کی دھرتی میں ریاست مدینہ کی یاد تازہ ہوسکتی ہے اسلئے کہ پاکستان میں اگرچہ جمہوریت نہیں لیکن جمہوری روح عوام وخواص ، سرکاری سطح پر اور مذہبی حوالوں سے یہاں موجود ہے۔جس کا ہم نے بالکل فائدہ نہیں اٹھایا ۔ کسی بھی مذہبی وسیاسی جماعت کے پاس اپنا پیش کرنے کیلئے کچھ نہیں لیکن دوسروں کی مخالفت پر کمربستہ رہنے کی کوشش میں اپنی زندگی کا مقصدسمجھتے ہیں۔ شیعہ ایک حسین کو چھوڑ کر باقی ائمہ اہل بیت کو ایسا پیش کرتے ہیں کہ موجودہ دور کے لوگ ان ائمہ سے کہیں بہتر ہیں؟۔ معذور ومجبور اور انتہائی بے بس، مظلومیت کی تصویر اور بالکل ہی معاشرے میں بے توقیر؟۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے لیکن شیعان علی نے اپنی صلاحیتین ائمہ اہل بیت کی رفعت وعظمت کی جگہ صحابہ کرام کی مخالفت اور دشمنی پر مرکوز کردی ہیں اور دشمنی بھی ایسی کہ خود ائمہ اہل بیت کے فضائل ومناقب پر بھی ایمان نہیں رہتا ۔ پروفیسر احمد رفیق اختر کی ایک ویڈیو سن کر بڑا مزہ آیا۔ امام حسن نے اپنی وفات سے قبل وصیت کی کہ اگر اماں عائشہ اجازت دیں تو مجھے روضہ رسول میں دفن کردیں اور اگر کوئی رکاوٹ کھڑی کرے تو جھگڑا نہ کریں ،جنت البقیع میں دفن کردیں۔ حضرت عائشہ نے اجازت دی اور جب مروان بن حکم نے رکاوٹ ڈالی تو جھگڑا نہ ہونے دیا۔ یہ وفات سے پہلے بصیرت کا فیصلہ تھا۔ مروان بن حکم کو پتہ تھا کہ اگر امام حسن کی تدفین روضہ رسول میں ہوئی تو بنوامیہ کے مقابلے میں اہلبیت مضبوط ہونگے۔ پروفیسر احمد رفیق اخترصاحب اپنے اعتدال کی وجہ سے بڑارتبہ اور مقام رکھتے ہیں۔
اصحاب شرع و طریقت زیغ وضلالت سے ہٹ کر کردار ادا کریں۔ صوفی یہ نہیں کہ سرمایہ دار مریدمل گئے تو مسلک کی وکالت شروع کی، یہ ایمان نہیں پیسہ بولتا ہے۔ اگر تمام قومیتوں و مسالک کو شعور و کردار کا درس ملا تو شعور کے نور سے ظلمت کا اندھیرا ختم ہوگا۔زمین کا اصل سورج اور آدمی کا اصل نور ہے اور سب سے پہلے اللہ نے نبیۖ کانور پیدا کیا۔سورۂ تین میں ہے کہ احسن تقویم سے انسان کی تخلیق ہوئی پھراسفل السافلین کی مٹی ہوا مگرایمان وعمل صالح والے!۔
انسان ماں باپ کے سفلی جذبات اور نطفۂ امشاج سے پیدا ہواہے تو اپنی شخصیت کیلئے ایمان اور عمل صالح کے علاوہ علوالمرتبت کا کوئی راستہ نہیں دیکھتا ۔ نجات اسی میںہے۔ تواضع کیلئے اپنی تخلیق کی یاد دہانی بہت زیادہ کافی ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی