پوسٹ تلاش کریں

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی اخبار: نوشتہ دیوار

ہم پر الزام لگائے کہ فارن فنڈنگ مگر فارن فنڈنگ پر آپ کاملک، فوج، مولوی چلتے ہیں: بانوہدیٰ بھر گڑی

بانوہدیٰ بھرگڑی نے کہا: ماہ رنگ اور اسکے ساتھ آئی ہوئی خواتین نے یہ جواب دیا کہ اگر ہمیں پتہ ہو تا کہ ہمارے مرد کہاں ہیںتو ہم ادھر اسلام آباد میںاس ٹھٹھرتی سردی میں اپنے گھر چھوڑ کے اپنے معصوم بچوں کو گودوں میں لیکریہاں کیوں آتے؟۔ یہی تو وہ سوال ہے جو ہم ریاست سے پوچھنے آئے ہیںکہ بلوچ عورتوں کے گھروں کے مرد کہاں ہیں؟۔ دوسرا سوال آج ہمیں نظر آیا اسلام آباد پاکستان کے سیاسی منظر نامے پہ ۔وہ یہ تھا کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں۔SHOشفقت صاحب آئے تھے انہوں نے کہا کہ کیا عورت اس طرح بات کرتی ہے؟۔ تو میں ان سے ،ان کی ریاست سے اور اپنی ریاست سے یہ سوال پوچھنا چاہوں گی آپ انکے بیٹوں کو اٹھائیں،آپ ان کے بھائیوں کو اٹھائیں ،آپ انکے صوبے کے اندر موجودہ سوئی گیس کا استعمال کریں، آپ انکے ذخائر بیچیں سی پیک کے نام پر، آپ انکی زمینیں گروی رکھ دیں چائنا کے ہاتھ میں، آپ انکے بچے، آپ ان کے انٹیلی جینسیا، آپ انکے وکیل ،آپ ان کی مائیں ، معصوم بچے، آپ ان سب کو اٹھاتے جائیں انہیں قتل کرتے جائیں ان کی لاشوں کو کئی کئی سالوں کے بعد پھینک دیں اور اسکے بعد یہ کہیں کہ عورتیں اس طرح سے بات نہیں کرتیں،عورتیں اس طرح سے سوال نہیں اٹھاتیں؟۔ توآپ پر، آپ کی ریاست، آپ کے اس قانون کے تحت جس قانون کے تحت آپ ادھر بیٹھے ہیں اور ہمیں ہمارا احتجاج نہیں کرنے دیتے سب پر لعنت ہے۔ لعنت ہے ایسے قانون کے اوپر، لعنت ایسی ریاست کے اوپر جو کہ عوام کے ساتھ نہیں کھڑی لعنت، لعنت ہے ایسے چیف جسٹس کے اوپر، ایسے پرائم منسٹر کے اوپر، ایسی فوج کے اوپر جو کہ مظلوم کا استحصال کر کے مظلوم کا خون بہا کے پھر مظلوم سے یہ تقاضا بھی کرے کہ تم نے اُف نہیں کرنی۔ تم نے آواز نہیں اُٹھانی، تم نے سڑک پہ نہیں نکلنا اور اگر تم سڑک پہ نکلو گے اگر اپنے گھروں کو چھوڑ کے اگر اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کر کے کیمپوں میں آکے بیٹھو گے تو تم پہ ٹھنڈا پانی برسایا جائے گا، تمہیں جیلوں میںبھیجا جائے گا ،تمہیںاس سردی کے اندر ہر طرح کا وہ ٹارچر دیا جائے گا۔ جس ٹارچر کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ یہ وہ میسج ہے جو کہ ہمیں انہوں نے دیا ہے میرا تعلق سندھ سے ہے۔ میں یہاں پر اپنی سندھی دھرتی اور اپنے سندھ کے ان لوگوں کی آواز بن کے آئی ہوں کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسی لیے فیصلہ کیا تھا کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ سندھ ایک خود مختار صوبہ ہوگا۔ بلوچستان نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا اسلئے اسٹیٹمنٹ دیا تھا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ایک خودمختار فیڈریشن کے حق میں تھے ۔ہم اس ون یونٹ کے حق میں نہیں تھے۔ یہ جو پورے کا پورا نظام ہے جسکے اندر صرف جبر ہے جسکے اندر صرف ظلم ہے جسکے اندر صرف وحشت ہے جسکے اندر صرف دہشت ہے ہم ایسے نظام کو ہم ایسے قانون کو ہم ایسی ریاست کو نہیں مانتے۔ ہمیں یہ لگتا ہے کہ پاکستانیت کا جو تصور ہے اس پاکستانیت کے تصور کو ری ڈیفائن ہونا ہوگا، یہ پاکستانیت کیا ہے کیا پاکستانیت یہ ہے کہ بلوچ کا قتل کرو، بلتیوں کو نکال دو، گلگستان پر قبضہ کرو کشمیریوں کے حقوق پہ قبضہ کرو، سندھیوں کو بند کرتے جا ؤ ، ان کی آوازیں بھی ختم کرتے جاؤ، بلوچوں کی تو مسخ شدہ لاشیں پھینکتے جا ؤ۔ تو کیا یہ پاکستان صرف پنجاب اور پنجاب کے اوپر مبنی آرمی کا پاکستان ہے اگر یہ ان کا پاکستان ہے تو بتائیں یہ ہم سے ٹیکس لینا چھوڑ دیں، ہم سے یہ پیسے لینا چھوڑ دیں۔ یہاں پہ جتنے یہ میرے بھائی کھڑے ہوئے ہیں وردیوں کے اندر ہم یہ سب اپنی اپنی تنخواہوں سے ٹیکس دیتے ہیں جن سے آپ لوگوں کے گھر چلتے ہیں آج آپ لوگوں کے پاس بھی ایک موقع تھا۔ آپ اپنے فرض کے ساتھ تو کھڑے رہے لیکن کل کو جب مریں گے تو دیں گے تو خدا کو جواب۔ بتائیے مجھے کہ ان عورتوں نے آخر کیا قصور کیا ہے کہ جن کو یہ نہیں پتہ کہ وہ اب تک بیوائیں ہیں یا سہاگنیں ہیں؟۔ مجھے بتائیے ان معصوم بچوں کا کیا قصور کہ آپ کے بچے تو اسکول جائیں وہ اس سردی میں یہاں پہ کیوں بیٹھے ہیں؟۔یہ بچہ یہ بلوچ بچہ جب بڑا ہوگا تو کیا یہ پاکستان کو مانے گا؟۔ یہ جو سندھ کا بچہ ہے جو بڑا ہوگا کیا وہ پاکستان کو مانے گا؟۔ کیا وہ پاکستانیت کو مانے گا ؟۔آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے اس ملک کو بچائیں،اس کو ٹوٹنے سے روکیں، اپنے اندر کے انسان کو جگائیں اور ہماری اس جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔ ہم کسی فارن فنڈنگ ایجنڈے کے ذریعے یہاں پر نہیں آئے ہیں۔ ہم پر یہ الزام لگا لگا کے آپ لوگوں نے بڑے اپنے بنالئے ہیں سوشل میڈیا پر آپ نے پیج بھی چلالئے ہیں کہ فارن فنڈنگ فارن فنڈنگ۔ چلتا تو آپ کا ملک ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتی تو آپ کی فوج ہے فارن فنڈنگ کے اوپر، چلتے تو آپ کے مولوی ہیں فارن فنڈنگ کے اوپر۔ ہم یہاں پہ انسانیت کی خاطر کھڑے ہیں اور ہمارے پاس ہارنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہاں پر بول رہے ہیں اسکے اوپر بھی قدغن لگا دو۔ زیادہ سے زیادہ آزادی سے سانس لے رہے ہیں یہ بھی ہم سے چھین لو۔ لیکن تم یہ سوچ نہیں توڑ سکو گے۔ اس سوچ نے جس نے یہ تھوڑے بہت بھی لوگ اکٹھے کیے ہیں، یا وہ جو مائیں بیٹیاں وہ بلوچوں کی عزتیں جو کبھی گھروں سے نہیں نکلتی تھی اگر آج بھی وہ نکلنے کیلئے آگئی ہیں تو آپ سوچ لیں کہ وہ کس قدر مجبور ہیں؟۔ اور اس قدر مجبور کرنے میں صرف اور صرف ریاست کا اور ریاستی اداروں کا ہاتھ ہے۔
میں بحیثیت عورت، بحیثیت ایک سندھی عورت اور بحیثیت ممبر آف عورت مارچ اسلام آباد میں اپنی بلوچ بہنوں کے ساتھ کھڑی ہوں اور اس طرح کے ہر جبر کے خلاف ہم اور ہماری پوری کی پوری تحریک ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے ہمیشہ آواز اٹھاتی رہے گی۔ ہم سے یہ توقع نہ کی جائے کہ ہم کسی فوجی ،کسی ٹینک، کسی کالی ویگو کے ڈر کے خوف سے اپنے گھروں میں جا کے چھپ کے بیٹھ جائیں گے۔ ہم یہاں پہ مزاحمت کرنے آئے ہیں۔ اور ہم اپنی آواز یہاں پہ سب کو سناکے جائیں گے ۔بے شک آپ کتنی بھی قدغن لگائیں۔ بے شک آپ خار دار تاروں سے یہ پوری کی پوری شاہراہ ہی بھردیں۔ اس سے زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟۔ ایک پروٹیسٹ روک پائیں گے۔ آواز اس عوام کی اب نعرہ علی الحق بن چکی ہے اور وہ اب آپ کو سننی پڑے گی۔ یہ آپ کو ماننا پڑے گا کہ اب آپ لوگوں کی جو رٹ ہے جس کا نام آپ لیتے ہیں یہ رٹ اب کسی کام کی نہیں ہے کیونکہ اب یہ عوام کے خلاف ہو چکی ہے۔ یہ اس مظلوم طبقے کے خلاف ہو چکی ہے۔ اور جو ریاست مظلوم طبقے کے ساتھ نہیں کھڑی وہ ریاست کسی کام کی نہیں اس ریاست کو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ بہت بہت شکریہ

تبصرہ : نوشتۂ دیوار

جب یہ بیان بلوچ قوم کے پاس پہنچ جائے گا تو اس کے بعد ہدیٰ بھڑگڑی کا نام بانو ہدیٰ بھرگڑی یا بانوک ہدیٰ بھڑگڑی رکھ دیں گے۔ جب عورت مارچ کے خلاف ریاستی مشینری نے جامعہ حفصہ، لال مسجد اور تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو لگایا تھا تو وہ دن بہت مشکل تھا۔ ہم نے مظلوم خواتین کا ساتھ دیا تھا لیکن جب تک یہ سارے انقلابی قرآن و سنت کے ٹھوس احکام کی طرف نہیں آئیں گے ان کے وقتی اُبال سے کچھ بننے والا نہیں ہے۔ انسانیت کیلئے قرآن کے ٹھوس احکام میں سب کچھ موجود ہے اور جو اگر مولوی نے مسخ کیاتو ہم نے علاج کردیا۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی،شمارہ فروری 2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟