پوسٹ تلاش کریں

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان اخبار: نوشتہ دیوار

ہمارا مسئلہGHQحل کردے۔ وزیرستان

عوام کو فوج کی سکیورٹی کا ذمہ دار قرار دینا غلط ہے قومی جرگہ عالمزیب محسود

امن عوام کی ذمہ داری نہیں: ناخوشگوار واقعات پر عوام کو تنگ کرنا، چیک پوسٹوں پرظالمانہ رویہ اورعوام کو بندوق اٹھانے پر مجبور کرنا غیرقانونی ہے

عالم زیب خان محسود نے کہا کہ آج یہاں پر جنتہ تحصیل سراروغہ جنوبی وزیرستان میں ہم موجود ہیں۔ یہاں ہماری قوم کا جرگہ ہوا ہے اور یہ جرگہ اس حوالے سے تھا کہ چند دن پہلے یہاں پر ایک ناخوشگوار واقعہ سامنے آیا کہ یہاں پر آرمی اہلکاروں کے اوپر حملہ ہوا۔ تو پھر آرمی نے ان لوگوں کو بلا کر ان کو یہ کہا ہے کہ بھئی یہ تو آپ لوگ ہمارے ذمہ دار ہیں۔ آپ لوگوں نے یہ خیانت کی ہے آپ اس کا جواب ہمیں دیں۔ اس طرح کے واقعات اور بھی جگہوں پر سامنے آرہے ہیں۔ جس طرح کہ یہ ساری صورتحال مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔ اور اس پر ہمارے قومی جرگے ہوئے ہیں اور اس پر ہمارا قومی بیانیہ بنا ہے۔ اور وہ قومی بیانیہ ہم نے یہاں پر بھی پیش کیا ہے یہی بیانیہ یہاں پر ان کے جتنے بھی آرمی یونٹس ہیں اور ہمGHQتک بھی اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر لوگوں کے اوپر اس طرح کا تشدد کرنا یا یہ اجتماعی ذمہ داری ان کے اوپر ڈالنا یہ قطعاً غیر انسانی اور غیر قانونی ہے۔ سیکورٹی کی ذمہ داری یہاں پر آرمی کی ہے وہ اپنی ذمہ داری کو خود ہی انجام دے۔ یہاں پر لوگ اس کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ یہاں پر ان کو یہ کہا جارہا ہے کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں تو لوگوں کو اس طرح کی بات کہنا ، یہاں پر دنیا کو کیا سمجھایا جاتا ہے یہاں پر یہ ہمارے قبائلی عوام ہیں اور انہوں نے بہت قربانیاں دی ہیں اور دوسری طرف یہاں پر لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے خلاف بندوق اٹھائیں۔ یا یہاں پر یہ کہنا کہ آپ لوگ ہمارے لئے بندوق اٹھائیں لوگوں کیساتھ لڑیں۔ دنیا میں کہاں پر ایسا ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کو اس طرح کی ذمہ داری دے کر ان کو یہ کہنا کہ بھئی آپ لوگ ذمہ دار ہو آپ لوگ ہماری سیکورٹی کریں۔ سیکورٹی ادارے اسلئے ہوتے ہیں ان کو تنخواہ ہی اسلئے دی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کا زمین کا تحفظ کریں۔ باقی یہ لوگ آپ کے ذمہ دار نہیں ہوسکتے۔ ان کے گھر بار بازار سب کچھ تباہ و برباد ہوچکے ہیں اور یہ اب آپ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو تو تنخواہ بھی ملتی ہے آپ کو تو بجٹ بھی ملتے ہیں۔ہماری اتنی تباہی کرنے کے باوجود بھی یہاں پر اگر آپ امن قائم نہیں کرسکے تو یہ نااہلی تو آپ کی ہے۔ ہم آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا آخر قصور کیا ہے؟۔ کب تک ہم اس طرح کی جہنم کی صورتحال میں رہیں گے۔ ہم نہ کوئی نیا کاروبار یہاں شروع کرسکتے ہیں۔ یہاں ہماری زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ تو آخر کب تک یہ سب کچھ چلے گا؟۔ سوال تو آپ سے بنتا ہے۔ یہاں پر اگر ایک فائر بھی ہوتا ہے اسکے ذمہ دار آپ ہیں۔ آپ جواب دیں گے نا کہ آپ ہمیں جوابدہ اس کیلئے ٹھہراتے ہیں۔ اسکے بعد یہاں پر لوگوں کو یہ بھی کہا گیا کہ آپ کایہ جو علاقہ ہے پھر ہمارے لئے خالی کردیں۔ یہ قوم کا اجتماعی فیصلہ ہے اور دیگر جرگوں میں بھی یہ سامنے آیا ہے کہ اگر ہم سے یہاں اس طرح کا مطالبہ ہوتا ہے تو غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔ اس کیلئے اگر واقعی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی ایک گاؤں یا ایک علاقے کو خالی کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے تو پھر ہمیں لکھ کر دیا جائے کہ انہوں نے جتنے بھی ملٹری آپریشن کئے ہیں اس میں یہ ناکام یا نااہل رہے ہیں۔ ہمیں لکھ کر دیں گے اسکے بعد ہم صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ پورا وزیرستان آپ کیلئے خالی کردیں گے۔ تاکہ جو بھی آپ لوگ کرسکتے ہیں پھر آپ کریں۔ لیکن آپ ہمیں لکھ کر دیں گے جو دنیا کو آپ نے بتایا تھا کہ یہاں پر آپ کو ایک کارتوس تک نہیں مل سکتا تو پھر یہ سارے حالات کس طرح خراب ہورہے ہیں۔ یہ تو آپ کی نااہلی ہے پھر آپ ہمیں لکھ کر دیں کہ آپ جو کچھ ہمیں ماضی میں کہتے رہے وہ سب جھوٹ تھا یہاں پر علاقے میں کوئی امن و امان نہیں اور آپ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں بالکل ناکام ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ جو یہاں پر لوگوں کو اب تنگ کیا جارہا ہے یہاں پر جیسے ایک چیک پوسٹ ہے وہاں پر ان کو یہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں اب تو یہ کیمرہ بھی انہوں نے لگادیا ہے کہ یہاں پر ایک ایک بندہ آئیگا اور اپنا اپنا شناختی کارڈ دکھائے گا اور انٹری کروائے گا اور ساتھ میں یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اگر زنانہ بھی ہوگی تو ان کے پاؤں چیک کرکے ہمیں یہ بتائیں گے۔ پہلے تو یہ انتہائی بے غیرتی والی ان لوگوں کیلئے بات ہے کہ آپ اس طرح کے ان سے مطالبے کررہے ہیں۔ جو ان لوگوں کیلئے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوں گے۔ یہ بہت حساس معاملے کے اوپر آپ لوگ ہاتھ ڈال رہے ہیں۔ اس کی حساسیت کو لیکر آپ لوگ پھر بھی یہاں پر امن و امان قائم نہیں رکھ سکتے۔ اس طرح کا غیر انسانی سلوک بالکل بند کیا جانا چاہیے۔ یہاں کی چیک پوسٹوں پر کوئی دہشتگرد کوئی پاگل ہی ہوگا جو یہاں پر آکر انٹری کرکے دے گا۔ وہ جو طالب ہے یا جنہوں نے بندوق اٹھائی ہے وہ کبھی بھی چیک پوسٹوں پر نہیں آتے، نا وہاں پر انٹری کرواتے ہیں۔ وہاں پر عام عوام بالکل نہتے لوگ آتے ہیں اور پھر آپ ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ ان کو دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں۔ قانونی سسٹم میں آپ نے ان کو رکھا ہوا ہے۔ اس طرح کے چیک پوسٹوں کا کوئی معنی بنتا نہیں ۔ تو اس طرح کے واقعات کے بعد اس طرح کی سختی لوگوں کے اوپر کرنا جنہوں نے کچھ کیا ہوتا ہے وہ تو کھلے عام یہاں پر گھومتے ہیں۔ آپ تو خود بھی یہ کہتے ہو کہ ان کا سب کچھ ہمیں پتہ ہے کہ کہاں پر جارہے ہیں اور کہاں پر ہیں لیکن عام عوام کیلئے پھر آپ نے چیک پوسٹیں بنائی ہوئی ہیں ان کے گھروں میں آپ گھستے ہیں ان کو آپ زدوکوب کرتے ہیں تو یہ چیزیں، ڈرون ان کے گھروں کے اوپر چادر اور چار دیواری ، پردے کے جو مسئلے ہیں سامنے آرہے ہیں یہ کبھی بھی ماننے والی چیزیں نہیں ہیں ۔ جو صاحب اقتدار لوگ ہیں ان کو سوچنا چاہیے لوگوں کو بے وجہ تنگ کرنا بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اوریہ یہاں پر آج ہمارا فیصلہ ہوا ہے۔
محسود علاقے کے مسائل اور ان کا حل
انسان اپنی کوتاہی تسلیم نہیں کرتا تو اس کی جان نہیں چھوٹ سکتی ۔ نماز پڑھنے سے پہلے وضو اور وضو میں پہلے استنجاء کرنا پڑتا ہے۔ جب تک اپنا گند کوئی نہیں دھوئے تو نہ اس کی اپنی نماز ہوتی ہے اور نہ کسی اور کو نماز کی امامت کراسکتا ہے۔
غفار خان پر جماعت اسلامی کے میاں طفیل محمد نے کفر کا فتویٰ لگایا، جس پر ولی خان کی اخبارات میں سرخی چھپ گئی تھی کہ ” اگر تمہارے آباء کو ہمارے آباء مسلمان نہ کرتے تو آج تمہارا نام میاںطفیل محمد نہیں بلکہ طفیل سنگھ ہوتا”۔
پشتون قوم تعصبات پر اترتی ہے تو مولانا فضل الرحمن، مولانا بجلی گھر، ایمل ولی خان، منظور پشتین، شاعر گلامن پنجابی تہبند کو بے غیرتی سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے سوتیلے بھائی مروت قوم کے بھانجے ہیں اور مروت قوم کا قومی لباس تہبند تھا۔ رسول اللہ ۖ نے زندگی بھر بچپن سے آخری لمحہ تک تہبند پہنا۔ بہت پیشین گوئیاں قرآن واحادیث میں ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی پنجابی تھے جو اس خطے کو کراچی سے کشمیر تک سندھ سمجھتے تھے جس میں دریا سندھ اور اس کی دوسری چار شاخیں پنجاب کے دریا ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، سرحد، کشمیر اور افغانستان سے اسلام کی نشاة ثانیہ ہوگی۔ المقام المحمود
اسلام کی نشاة ثانیہ کی خبرمیں پختون کا کردار نمایاں ہے، تعصبات کا عنصر خطرناک اور حساس ہے۔ رسول اللہ ۖ کی طرف سے حج وعمرے کیلئے آنے والوں کو اپنی اپنی شلواریں اُتار کر کعبہ میں تہبند پہنا پڑتا ہے ۔احرام اتنا مقدس ہے کہ مولانا فضل الرحمن سے جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاسپورٹ چھین لیا گیا تو مولانا نے70کلفٹن بینظیر بھٹو سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت ان کی شادی نہیں ہوئی تھی ۔میں بنوری ٹاؤن میں پڑھتا تھا۔ یہ بات پھیلائی جارہی تھی کہ مولانا نے احرام کی توہین کردی ۔ میں نے کہا کہ ” یہ کیا کم عقلی ہے۔ جب مردوں نے احرام پہنے ہوتے ہیں تو عمرے و حج میںخواتین نہیں ہوتی ہیں؟”۔
پنجاب کے لوگ سندھی، بلوچ اور پشتون سے زیادہ مظلوم ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ والے مہاجر میں پھنس گئے تو پھر نام اور کام بدلنے کے باوجود دلدل سے نہیں نکل سکے۔ عوامی نیشنل پارٹی قوم پرستی کے دلدل میں پھنس گئی تو بہت محدود ہوگئی۔ حبیب جالب ،غوث بخش بزنجو اور بنگال کے مولانا بھاشانی اسمیں شامل تھے۔اب حال اسلام اور قوم پرستی کے تعصب کا طبل بجانے کے باوجود بھی اے این پی اور جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخواہ کی ان تینوں سیٹوں سے مل کر بھی عمران خان نیازی سے ہار گئے جس نے اسمبلی میں جانا بھی نہیں تھا۔
وزیرستان کا محسود علاقہ پہلے بھی ایک مرتبہ دہشت گردی کا گڑھ تھا۔ عالم زیب خان شمل خیل ہے اور میرا ایک دوست مولانا محمد امیربھی شمل خیل ہے۔ جنتہ کا غالباً رہائشی ہے۔ افغانستان جانے والوں میں ایک وہ بھی تھا۔ مجھے اس نے طالبان کا پہلا تحریری منشور دکھایا تھا جس پر میں نے اختلاف بھی کیا تھا۔ تحریک طالبان سے پہلے اس نے پیشکش کی تھی وہ میرے مشن پردوسرے علماء سے مناظرے کرے گا۔ بیت اللہ محسود سے ملاقات کا پروگرام تھامگر پھر مجھ پر حملہ ہوا۔ وہ مولانا عبدالرحیم کے چچازاد ہیں۔ طالبان میں مختلف عناصر ہیں۔ جب ہمارا واقعہ ہوا تھا تو بیت اللہ محسود کی اجازت کے بغیر یہ کام کیا گیا تھا۔
میرے بھائی طالبان کے حامی تھے۔ مجھ پر حملہ کے بعد بھی انہی کو سپورٹ کرتے تھے۔ ہم پر حملہ ہوا تو اسکے بعدISIنے طالبان کی گاڑی میرے ماموں کے گھر سے پکڑ کر بارود سے اڑادی تھی۔ ہم سے کچھ فاصلے پر ہمارے عزیز ہیں۔ پیرکریم کے بیٹے طالبان ہیں اور بھتیجا مولانا آصف طالبان کے سامنے جہاد کے فضائل بیان کرتا ہے۔ اس کا داماد میرا ماموں زاد منظور پشتین کو اپنا مہدی کہتا ہے۔ فوج کو یہ پتہ نہیں کہ کس کی کس سے کیا رشتہ داری اور ہمدردی ہے؟۔ کریم کے بیٹے نے ہمیں بتایا تھا کہ حملہ عزیزپیر عبدالرزاق کے بیٹوں نے کرایا ہے۔ طالبان بھی جاسوسی کرنے کے نام پر ہمارے شہداء کے بدلے ان کو مارنا چاہتے تھے لیکن ہم نے نہیں مانا اسلئے کہ کمزور اور طاقتور میں تفریق غیرت کیخلاف تھا۔ طالبان نے قاری حسین اور حکیم اللہ محسود کو قصاص میں قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر قاری نے گاؤں والوں سے کہا کہ ہم کمزور ہیں، آپ ساتھ کھڑے ہوجائیں تو ہمیں نشانہ نہیں بناسکتے ۔ پھر اپنامدعا پیش کیا کہ ملک خاندان اور اس کو فیملی کو ہم نے بیت اللہ محسود کے حکم پر قتل کیا تھا۔ اگر ہم بے گناہ کے قتل میں قصاص ہوں تو بیت اللہ محسود بھی تیار ہوجائے۔ جس کے بعد طالبان نے اپنا پینترا بدل دیا۔13افراد کے بدلے11افراد قتل کرنے کی پیشکش کی۔ اسلئے کہ 2 افراد حملہ کے موقع پر قتل ہوچکے تھے۔ ہماری دانست میں زیادہ تھے لیکن کچھ لوگ اپنی شناخت چھپارہے تھے۔11انہوں نے غریب غرباء پکڑ کر قتل کردینے تھے۔ پیرعبدالرزاق کی دوسری بیگم سے بیٹے ہمارے ساتھ تھے۔اب افغانستان سے طالبان آئے تو پیرکریم کے بیٹوں نے طالبان کی کانیگرم میں دعوت رکھی تھی ۔ میرے ماموں نے کہا تھا کہ ”میں دوافراد کا بدلہ لوں گا۔ ایک اپنے شہیدبھتیجے اور دوسرے بھانجے میرے شہید بھا ئی کا”۔ باقی رہتے ہیں9افراد۔ تو نامعلوم میں ایک ضرور شامل ہے۔ باقی بچے8افراد۔ میرے اپنے8بیٹے ہیں۔ بدلے تک نوبت پہنچی تو میرے بیٹے انشاء اللہ ضروربدلہ لیں گے۔
ٹانک میں ہمارے رشتہ دار ہیں جس کے ہاں ہمارے عزیز پیر عبدالرزاق کی ایک بیٹی بیاہی ہے۔ جب اسکے بیٹے نے شرانگیزی شروع کردی تو اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں سے ماردیا۔ اگر وہ نہ مارتے تو اپنے لوگوں سے اور فوج سے بھی دشمنی ، روز روز گھروں میں کودنے اور بے عزتی کا سلسلہ جاری رہتا۔ میں اپنے عزیزوں کوجانتاہوں تو مجھے فوج پر الزام تراشی کی ضرورت نہیں اور ان سے خود ہی نمٹ لوں گا۔ انشاء اللہ ۔اس طرح تمام محسود اپنا اپنا ملبہ جانتا ہے ۔ اگر کوئی مقامی اور بین الاقومی سازش ہے تو پہلے اپنا گند صاف کرو اور جن پر الزام تراشی ہے ان سے مطالبات کرنا ویسے بھی قرینِ قیاس نہیں ہے۔ فوج معاملہ حل نہیں کرسکتی یا کرنا نہیں چاہتی ہے تو دونوں صورتوں میں نقصان تو بہر حال اپنا ہے۔
محسود کی ایک رسم ہے کہ عورت کی عزت پر قتل کا بدلہ نہیں لیتے اور نامعلوم کو بھی نہیں مارتے۔ میرے پرناناکے قتل کو عورت کی عزت سے جوڑ دیا گیا تھا اور ماموں محمودشاہ بھی نامعلوم کے ہاتھوںقتل ہوا تھا۔محسود عام ا علان کریں کہ
1:جن طالبان نے قتل کیا تھا اور وہ کسی کے ہاتھ سے بھی قتل ہوئے ہیں تو حساب بالکل برابر ہے۔ نامعلوم قاتل نامعلوم کے کھاتے میں چلے گئے ہیں۔
2: جو پہلے کمزور تھے اور اپنے قتل یا عزت خراب کرنے کا بدلہ نہیں لے سکتے تھے اور طالبان کی شکل میں ان کے پاس طاقت آئی اور بدلہ لے لیا تو اچھا ہوا۔
3:جن طالبان نے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا ہے وہ کھلے دل سے مقتول کے لواحقین سے معافی مانگ لیں اور جو چاہے تو معاف کردے یا بدلہ لے لے۔
4: طالبان دہشت گردوں کی صورت میں جنہوں نے کسی سے قتل کا بدلہ لیا ہے یا اپنی عزتوں کا بدلہ لیا ہے تو اس پر طالبان کے سر پر عزت کی پگڑی نہیں ۔
5: جنہوں نے اپنی عزت لٹنے کا نام لئے بغیر بدلہ لیا ہے تو ان کی غیرت کا مسئلہ تھا اسلئے وہ طالبان اور دہشت گرد اپنے جرم میں بالکل معذور تھے۔
عالم زیب خان اور منظور پشتین وغیرہ تو میرے بیٹوں کے ہم عمر ہیں۔ ان کو سیاست اور قوم کی خیرخواہی کا الف ب بھی پتہ نہیں ۔ فوج پر بگاڑ کے الزام لگاؤگے تو ان سے مطالبات کرکے شر سے کیسے نکلوگے؟۔ ان کو نااہل کہنے کی جگہ اپنی اہلیت ثابت کرکے اپنی قوم اور فوج دونوں کو اس شر سے بچاؤ تو بات ہے۔
پاکستان میں کسی وقت محسود علاقہ پوری دنیا کا سب سے بڑا پُر امن علاقہ تھا اور مہمان اپنے آپ کو ہر طرح سے محفوظ پاتا تھا۔ آج اس کو پھر اپنے اقدار کے مطابق مثالی امن قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شخصیات اور جماعتوں کی لڑائیوں سے دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے اور نا پاکستان اور وزیرستان میں۔ ہر علاقے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں۔ اچھے اور بروں کی تمیز کیلئے دنیا میں عدل و انصاف کے پیمانے بھی ہیں۔ دو فریق ایک دوسرے کیخلاف اپنی حد سے تجاوز کرسکتے ہیں لیکن جن کو فیصلے کیلئے کردار دیا جائے وہ دونوں کو اعتدال پر لاسکتے ہیں۔ صحافت کا کام حقائق بیان کرنا اور معاشرے میں عدل و انصاف کی بنیاد پر امن و امان کا قیام ہے۔ حال ہی میں عمران خان کے اوپر حملہ ہوا تو اس پر بھی جیو نیوز کی طرف سے ایسی رپورٹنگ کہ لوگ بھاگ رہے ہیں مناسب نہیں تھی۔ عمران خان کے حامیوں کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں انصاف کیلئے پر امن جدوجہد کو یقینی بنائیں اور کسی قسم کی افراتفری پھیلانا خود انکے اور سب کے مفاد میں نہیں۔ حکومت اپنا دل بڑا کرے اور سیاسی اعتدال کا قیام انتہائی ضروری ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟