پوسٹ تلاش کریں

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر اخبار: نوشتہ دیوار

حماس اور اسرائیل کی جنگ پر ایک مختلف نظر

ایک اسرائیلی یہودن کو جب ننگا کیا گیا تھا اور اس کے خاص حصے پر ٹانگیں رکھ کر حماس کا سپاہی بیٹھ گیا تھا

مولانا فضل الرحمن نے حماس کے حق میں پوری تقریر کی اتنا بول دیا کہ حماس انسانی حقوق کا خیال رکھے

مولانا فضل الرحمن کا ایک جملہ پکڑ کر جس طرح کا طوفان بدتمیزی برپا کردیا یہ موجودہ دور کے جھوٹ کی لعنت کا بہت بڑا شاخسانہ ہے۔ ہمارا سیاسی کلچر بالکل تباہ تھا اور اب صحافت اس سے زیادہ تباہ ہوگئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو چھوڑیں بھارت کی کانگریس پارٹی بھی حماس وفلسطین کی حمایت اور اسرائیل کی مخالفت کررہی ہے۔ فلسطین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ کئی دہائیوں سے چل رہاہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل ، معمر قذافی اور عالم اسلام کے اندر جاندار قیادت موجود تھی اور اسرائیل بھی اتنا مضبوط نہیں تھا تب بھی مسلمانوں نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کیلئے اتنی سنجیدگی سے بھی کام نہیں لیا جتنا افغان مجاہدین نے روس اور پھر افغان طالبان نے نیٹو جیسی طاقت کو نکالنے کیلئے ہمت وعزم سے کام لیا۔ ساری مذہبی و سیاسی جماعتیں اورصحافت کو بیچنے والے صحافی یہ عہد کرلیں کہ کچھ بھی ہوجائے وہ جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اپنے آپ پراللہ کی لعنت کی پھٹکار نہیں برسائیں گے اور نہ عوام کو ورغلائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن کا ایک مذہبی لبادہ ہے اور وہ اپنے کاز کے ساتھ چل سکتا ہے۔ جب کشمیر کمیٹی کا چیئرمین تھا تو اپنی نوکری کیلئے پاکستان کے کاز کو تقویت دیتا تھا۔ پہلے جب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات ہورہی تھی تو میاں افتخار حسین کے ساتھ پریس کانفرنس میں عرب امارات کے حکمرانوں کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور ہم کسی صورت میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن عمران ریاض خان نے پھر بھی مولانا فضل الرحمن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کیا۔ عمران خان کو پتہ تھا کہ کون اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتا ہے لیکن عمران ریاض خان کو بتانے سے انکار کردیا تھا۔ عمران ریاض نے جس کو بچانے کیلئے مولانا کو قربانی کا دنبہ بنایا تھا پھر انہی کے ہاتھوں تکلیف اٹھائی۔
تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت بن گئی ہے لیکن بیہودہ لوگوں کی وجہ سے عمران خان کی شخصیت کو بھی غلط ٹریک پر چڑھادیں گے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمن سے غلطیاں ہوسکتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف انتہائی نازیبا قسم کے الزامات اور گفتگو ہوسکتی ہے لیکن کارکنوں کو چاہیے کہ ایسا ماحول بنائیں کہ حالات نارمل ہوں ۔ عوام تک درست بات پہنچے۔ پارٹی کے کارکن کم ہوتے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کو عوامی رحجانات کے رُخ سے جیتنا ہوتا ہے۔
میڈیا میں تشہیر ہورہی تھی کہ اسرائیل پر حماس نے 5ہزار اور7ہزار میزائل داغ دئیے ہیں۔ اگرچہ ایک میزائل سے8سے10افراد بھی مرسکتے ہیں لیکن اگر ایک میزائل سے ایک اسرائیلی کی موت واقع ہوئی ہو تو کم ازکم 5ہزار افراد تو مرجاتے؟۔ ایسا نہ ہو کہ میڈیا نے معمولی بات کو ہوا بناکر کھڑا کیا ہو تاکہ اسرائیل کو کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل سکے؟۔ ایک طرف اسرائیل کو بزدل اور پٹتا ہوا پیش کیا جائے اور دوسری طرف فلسطینیوں کا جینا حرام کیا ہوا ہو؟۔
فلسطین عرب مسلمانوں کی اپنی سرزمین ہے اور اس کے ایک ایک اینچ کا قبضہ بھی واپس اپنے اصل مالکوں کو ملنا چاہیے۔ اگر اسرائیل نے سب کچھ واپس کیا تو اس میں اسرائیل اور یہود کا بھی بہت فائدہ ہے اسلئے کہ مسلمانوں کیساتھ دوسرے مسلم ممالک کی طرح اچھے تعلقات بن جائیں گے۔ ان کے اصل دشمن مسلمان نہیں عیسائی ہیں۔ جب وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مریم کے ساتھ مظالم میں بھی عیسائیوں کے نزدیک ملوث ہیں اور عیسائیوں کو جب بھی موقع ملا ہے تو انہوں نے یہود کی خوب درگت بنائی ہے۔
مسلمان ایک ایسی عالمی خلافت کا خواب دیکھ رہے ہیں جس سے آسمان و زمیں والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔ رسول اللہ ۖ نے میثاق مدینہ یہود کے ساتھ کیا تھا اور فلسطین نے یہودیوں کو اس وقت پناہ دی تھی جب کوئی بھی ان کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے عرب اور یہود کو آپس میں ہی دست وگریبان رکھنے کیلئے ایسی پالیسی اپنا رکھی ہے تاکہ مسلمانوں اور یہودیوں میں نفرت کبھی ختم نہ ہو۔ اسلام مسلمانوں کو نفرت نہیں سکھاتا ہے۔ عمران خان نے جمائما خان سے شادی کی ۔ سارا سسرال یہودی ہیں۔ قائداعظم کی اہلیہ رتن بائی فارسی تھی اور قائدملت لیاقت علی خان کا سسرال ہندو تھا۔ بیوی سے زیادہ اور کس سے اعتماد کا رشتہ ہوسکتا ہے؟۔ پشتون قوم کو اسرائیل کا گم شدہ قبیلہ کہا جاتا ہے۔ سوات بھی کبھی یہود کا مرکز تھا۔ یہود مذہب سے زیادہ نسل کو فوقیت دیتے ہیں۔ پختون قوم عالم اسلام اور عالم انسانیت کی قیادت کرے گی تو یہود بڑے خوش ہوں گے۔ یہودی بننے کی تو گنجائش نہیں ہے لیکن پختون قوم پوری دنیا کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو مرزاغلام احمد قیادیانی سے بڑی نفرت ہے ،اس طرح یہود کو عیسائیوں سے سخت نفرت ہے۔ مسلمانوں اور یہود کا تو آپس میں کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ جب یہود بننے کی گنجائش نہیں تو پھریہودی صرف ایک خواب ہی دیکھ سکتے ہیں جیسے ہمارے ہاں اہل تشیع کا مہدی غائب ، اہل سنت کا امام مہدی ، ہندوؤں کا کالکی اوتار ، بدھ مت ، عیسائی اور دیگر مذاہب نے اپنی اپنی شخصیات کے حوالہ سے تخیلات اور عقائد پرانے دور سے رکھے ہیں اور قرآن کہتا ہے عما یتساء لونOعن النباء العظیمOالذی ھم فیہ مختلفونOکلا سیعلمونOثم کلا سیعلمونO”کس چیز کے بارے میں یہ لوگ سوال کرتے ہیں؟۔ ایک بڑے انقلاب کی خبر کے بارے میں، جس میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں عنقریب وہ جان لیں گے”۔ (سورہ النبائ)
ایک دفعہ پہلی بار دنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں نے دنیا کی سپر طاقتوں کو بڑی شکست دے کر خلافت کا ایسا نظام قائم کیا جو سن1924تک موجود رہا۔ اور اب انشاء اللہ پھر دوسری مرتبہ اللہ کی مدد سے دنیا جان لے گی کہ یہ بڑا انقلاب اسلام اور مسلمانوں کے ذریعے سے آئیگا۔ جس سے یہودو ہنود سمیت پوری دنیا خوش ہوگی۔ برہمن مشرکین مکہ سے زیادہ خوشی سے اسلام قبول کرلیں گے۔ انشاء اللہ

****************
نوٹ:اخبار نوشتہ دیوار خصوصی شمارہ اکتوبر2023کے صفحہ2پر اس کے ساتھ متصل مضامین”سنی حدیث ثقلین کا ذکر نہیں کرتے : مفتی فضل ہمدرد”
”ہمارا قبلہ اوّل بیت المقدس نہیںخانہ کعبہ ہے”
اور ”حق مہر ”اعزازیہ” نہیں بلکہ گارنٹی و انشورنس ہے” ضرور دیکھیں۔
****************

اخبار نوشتہ دیوار کراچی
خصوصی شمارہ اکتوبر 2023
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟