ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا - ضربِ حق

پوسٹ تلاش کریں

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا اخبار: نوشتہ دیوار

ّّحکومت اقتدار چھوڑ دے اگر تحریک انصاف کی اکثریت ہے تو اقتدار سپرد کردو ، سیاستدانوں کو اختیار نہیں بدنامی ملتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی کو اپنی گھن گرج سے بہت گرم کردیا

شوہر بیوی کو3طلاق دے تو عدت و حلالہ کے بعد دوبارہ پہلے شوہر کے پاس آسکتی ہے۔ مطیع اللہ جان نے وسعت اللہ خان سے کہا تھا کہ نوازشریف بھٹو ثانی نہیں؟۔وسعت نے کہا کہ کس کو کس سے ملارہے ہو؟۔ ن لیگی اور پیپلزپارٹی قیادتیں کہتی ہیں کہ جب ہم دو بیویاں پہلے سے موجود تھیں تو تیسری کو کیوں لائے ہو؟۔PDMمولانا فضل الرحمن کا کارنامہ تھا۔ اب مولانا نے دھیمے، میٹھے اور بڑے تیکھے لہجے میں میڈیا کے بعد پارلیمنٹ اجلاس میں پورے پاکستان کی توجہ کا میلہ لوٹ لیا ہے۔2مئی کو کراچی اور9مئی کو پشاور میں جلسہ عام سے ایک بھونچال برپا کردیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مفتی محمود نے اپوزیشن کی قیادت کی تھی تو ضیاء مارشل لاء میں بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کا سب سے زیادہ مولانا نے ساتھ دیاتھا۔ مولوی صاحبان نے ان پر کفر تک کے فتوے لگادئیے لیکن مولانا ڈرا نہیںاور جھکا نہیں اسلئے کہ1970میں جمعیت علماء اسلام پر بھٹو کی حمایت کی وجہ سے فتوے لگ چکے تھے۔ پھر مولانا نے اسلامی جمہوری اتحاد کے فتوؤں کا بھی مقابلہ کیا جس میں شیعہ و سپاہ صحابہ والے جماعت اسلامی کیساتھ اکٹھے ہوگئے تھے۔ پھر جب ن لیگ اسٹیبلیشمنٹ کی کھلاڑی بن گئی تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دورِحکومت میں مولانا نے کھل کر پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا۔ پھر جب ن لیگ کو2تہائی اکثریت سے1997میں لایا گیا تو مولانا نے انتخابی سیاست چھوڑ کر انقلابی سیاست کا اعلان کردیا۔ پھر جب فوج نے نوازشریف کو ہٹایا تو مولانا نے نوازشریف کا ساتھ دیا۔ پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دیا تو سب سے جاندار مخالفت کی آواز مولانا کی تھی۔ عمران خان نے ریفرینڈم میں ساتھ دیا جیسے جماعت اسلامی نے ضیاء کا ساتھ دیا تھا۔ جنرل مشرف نے ق لیگ کو کھڑا کیا تو اپوزیشن مولانا نے کی۔پیپلزپارٹی نےNROکیا۔ پھر بے نظیر شہید کی گئی تو زرداری کہتا تھا کہ میری لاش جائے گی مگر استعفیٰ نہیں دوں گا۔ مولانا نے ساتھ دیا۔ پھر نوازشریف پر طاہرالقادری اور عمران خان نے لشکر چڑھادیا تو مولانا نے کہا کہ میرا لشکر آیا تو تمہاری خیر نہیں ہوگی۔جب تحریک انصاف سے نکاح ہوا ، پھر طلاق ہوگئی تو عدت گزرنے کے بعد مولانا پھر حلالہ کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔مولانا کا حلالہ حکومت اور اپوزیشن کو ماننا پڑے گا۔
5ماہ قبل قیدی نمبر804کے چہیتےISIکے فیض حمید کے خلاف بڑی کہانی سامنے آئی،اب فوجی ٹرائیل کی بازگشت تازہ ہوگئی ۔ اگر اسلام آباد ٹاپ سٹی کا ثابت ہو کہ اصل مالکن پاکستانی برطانوی شہری تھی ۔ کاروبارMQMکے غنڈوں نے چھین لیا اور معیز خان ایک ملازم تھا۔ پھر12مئی2017کوISIکےGDCجنرل فیض حمید نے معیز خان سے کاروبار چھیننے کیلئے بھیانک ریڈکیاتھاتوپھر پاکستان صحیح سمت چلنا شروع ہوگا۔
س: مریم نواز نے پولیس کی وردی کیوں پہنی ؟ سائرہ بانو نے جواب دیا کہ ” پولیس کو یہ دکھانے کیلئے کہ بہاولنگر کے واقعہ میں جتنے تم مجبور ہو، اتنے ہم مجبور ہیں”۔ پولیس نے کہا کہ ”ہم نے دو ڈاکو پکڑ لئے تو یہ سزا مل گئی کہ تھانوں میں مارپیٹ ہوئی، ہسپتالوں میں بھی نہیں چھوڑا، ننگاکیا گیا ”۔ پولیس نے پاک فوج زندہ باد اور فوج نے پنجاب پولیس زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر حقائق سامنے نہ آسکے ۔ مریم نواز نے بے نظیر بھٹو کی نقالی کی تھی جس نے اپنے باپ کی سیاست کیلئے قربانیاں دی تھیں ۔ اسی طرح شہر بانو نے جب اچھرہ لاہور میں خاتون کی جان بچانے میں بہت کردار ادا کیا تو پنجاب پولیس کو عزت مل گئی۔
جنرل فیض حمید نے رینجرز اہلکاروں کے ذریعے اتنی بڑی وارادات کی تھی اور عمران خان نے بشری بی بی کی رپورٹ پر جنرل عاصم منیر کوDGISIکے عہدے سے فارغ کیاتھا تو یہ انتقامی کاروائی نہیں بلکہ اس میں بڑا دم خم ہے۔ اگر ٹاپ سٹی میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں تو لوگوں کو اپنی زمینیں مل جائیں۔ خاتون مالکن مظلوم کو انصاف مل جائے۔ جنرل فیض حمیدکو سزا ملے تو پاکستان بھر میں ہر جگہ ظالم ظلم سے توبہ کریں گے۔ پاکستان میں یہ بھی ممکن ہے کہ جنرل فیض حمید کو ٹرائیل کرنے کیلئے فوجی ملازمت پر بحال کیا جائے۔ عمران خان وزیراعظم بن جائے اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ہٹاکر پھر جنرل فیض حمید ہی کو آرمی چیف بنادیا جائے۔ جنرل باجوہ کو توسیع دینے سے پہلے سارے جنرلوں کو اسی قانون ہی کے تحت مدت ملازمت میں توسیع دی گئی تھی کہ نہیں؟۔
جب طالبان منظم اور ٹرینڈ نہیں تھے توGHQتک پر قبضہ کرلیا تھا۔ISIدفترملتان ، مہران ائیربیس، کراچی ائیر پورٹ اور پشاور ائیرپورٹ سے لیکر کیا کچھ نہیں کیا؟۔سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو ملتان اور سلمان تاثیر کے بیٹے کو لاہور سے اغواء کرکے افغانستان پہنچادیا گیا تھا۔ پاکستان پر ڈالروں کی برسات جاری تھی لیکن اب طالبان ٹرینڈ ہیں اور پاکستان کی معاشی حالت ابتر ہے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی کہہ رہاہے کہ طالبان سے مذاکرات کریں۔
مولانا فضل الرحمن نے2007میں طالبان کو خراسان کے دجال کا لشکر قرار دیا تھا۔ لیکن الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں یہ خبر کسی نے بھی شائع نہیں کی ۔ ایک مرتبہ حامد میر نے بھی مولانا فضل الرحمن کو دھمکی دی تھی کہ اسامہ بن لادن نے کہا کہ ”میں مولانافضل الرحمن کو نہیں چھوڑوں گا”۔ پھر اب جب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی مقبولیت تھی تو حامد میر نے کہا تھا کہ بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے مانگی ۔ میں نے50ایسے بلوچ مسنگ پرسن کی لسٹ دیدی جن میں صحافی ، طلبہ اور ادیب تھے تو فوج نے ان سب کو قتل کرکے پھینک دیا۔ رانا ثناء اللہ نے اس وقت تو جواب نہیں دیا لیکن الیکشن کے بعد حامد میر کی اس بات کو جھوٹ قرار دے دیا اور چیلنج کیا کہ اپنے جیو چینل کے صحافیوں کو تحقیقات کیلئے مقرر کردیں۔
سچ اور جھوٹ کے مخلوط نظام صحافت وریاست نے سب کا بیڑق غرق کیا۔ قرآنی اور فطری احکام کے ٹھوس شواہد کی روشنی میں پاکستان کی بچت ہوسکتی ہے ورنہ اب عوام ہی نہیں اپنے مقتدر طبقات کی بھی خیر نہیں ہے۔ مسلسل گرداب میں پھنسنے کا سلسلہ جاری ہے ۔اب خدانخواستہ بھارت پاکستان سے لڑنے اور لڑانے کیلئے ٹریننگ دینے بھی میدان میں اترے گا اور اس اندھی جنگ میں بنگلہ دیش کی طرح ریاست کا برا حشر ہوگا؟۔

اخبار نوشتہ دیوار کراچی، شمارہ مئی2024
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

سیدمحمدامیر شاہ اورسیداحمد شاہ نمایاںکرادر۔ سید سبحان شاہ اورسیداکبرشاہ نمایاں کردار
لیلة القدر کی رات برصغیر پاک و ہند انگریز کے تسلط سے آزاد ہوگئے اور یہ بہت بڑا راز تھا
جابر بادشاہ کے سامنے کلمہ حق کہنا، سواد اعظم کا اتباع اور امت کا گمراہی پر اکھٹے نہ ہونے کی خوشخبری