پوسٹ تلاش کریں

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے! اخبار: نوشتہ دیوار

حکومت کو مزدور کی فکر نہیں ، یہ بین الاقوامی سرمایہ سے جڑی ہے!

ڈاکٹر تیمور رحمان کا ٹریڈ یونین سے خطاب :دوستو! پاکستان میں اس وقت40فیصد مہنگائی ہے۔IMFسے قرضہ لے کرڈالر، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے سے تمام اشیاء کی قیمتیں بڑھیں گی۔40فیصد مہنگائی کا مطلب ہے کہ مہینے میں جو30ہزار روپے کمارہا ہے اس کی40فیصد آمدنی ختم ہوگی۔ نتیجے میں لوگ غربت کی سطح سے بھی نیچے گریں گے۔22مرتبہ حکومتIMFکے پاس گئی۔1950سے اب تک چند ادوار کے علاوہ معاشی پالیسیIMFکے اپروول کے بعد بنی ۔ تین بڑے پہلو ہیں۔پہلی لبرالائزیشن یعنی ٹریڈ بیرئرز ختم کئے جائیں جس کا مطلب ہے کہ درآمدات اور برآمدات پر ڈیوٹی ختم کی جائے (جس سے حکومت وریاست کی طاقت ختم ہوگی)۔ دوسری ڈی لبرالائزیشن یعنی کمرشل بینکنگ پر تمام کنٹرول ختم کردیا جائے ( یہ بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہے)اور تیسری سب سے اہم نجکاری کی پالیسی ہے۔ (اس سے بھی حکومت وریاست کی قوت کا خاتمہ ہوگا)1990کی دہائی سے یہ سبق سکھایا جارہا تھا کہ حکومتی ادارہ میں مزدور کام نہیں کرتا جس کی وجہ سے خسارہ ہوتا ہے اسلئے نجکاری کی جائے۔1990میں حکومت کے پاس250سے زائد صنعتی اور کمرشل ادارے منڈی میں بیچے جانے والی چیزیں تھیں۔172اداروں کی نجکاری کی گئی اور کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا خسارہ پورا نہیں ہورہا۔ اب85حکومتی انڈسٹریاں بچ گئی ہیں۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ دو تہائی انڈسٹریاں منافع کماتی ہیں اور باقی بچتی ہیں ان میں90فیصد جو خسارہ حکومت کو ہورہا ہے وہ صرف10مختلف انٹرپرائزز سے ہورہا ہے۔ ان10میں سے5ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ہیں جیسے الیکٹرک سپلائی کی کمپنی ہے۔ باقی5میں ایک نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہے۔ کمرشل اور ریگولیٹری ادارہ ہونے کی وجہ سے اس کی نجکاری نہیں ہوسکتی ۔ زرعی ترقیاتی بینک منافع کی طرف جارہا ہے، اس کی نجکاری بیوقوفی ہوگی۔ اسکے علاوہ پاکستان اسٹیل، ریلوے اورPIA۔ یہ نجکاری کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ ادارے جن میں ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں جس میں کوئٹہ، پشاور، سرگودھا کے بجلی فراہم کرنے کے ادارے ہیں جو یا تو واپڈا یا پھرIPPسے بجلی خریدتے ہیں۔1994سے پہلے صرف واپڈا بجلی سپلائی کرتی تھی۔ پھر یہ بجلی بڑھانے کیلئے آزاد پاور پالیسی لیکر آئے جس کے تحتIPP(انڈی پینڈنٹ پاور پروڈیوسر) نے کہا کہ ہم پلانٹ لگائیں گے مگر جو فیول خریدیں گے وہ آپ مقررہ ریٹ پر خرید کر دیں گے اور جو بجلی آپ لیں گے وہ بھی مقررہ ریٹ پر ہوگی اور یہ دونوں ریٹ ڈالر کیساتھ منسلک ہیں۔ تو یہ خسارہ1994کیIPPپالیسی کی وجہ سے پیدا ہورہا ہے اور یہ بڑا پیسہ کمارہے ہیں ۔ جب یہ پلانٹ آپریشنل کردیں اور حکومت بجلی نہ خریدے تب بھی حکومت کو پیسے دینے پڑتے ہیںاور اس کا حکومت نے حل یہ نکالا ہے کہ جس طرح الیکٹرک کی نجکاری کی اسی طرح ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کردی جائے، واپڈا کی نجکاری کردی جائے۔ نتیجے میں بجلی اور مہنگی ہو گی۔85فیصد بجلی واپڈا نہیں آئی پی پیز بنارہے ہیں۔ پہلے زیادہ تر مال ریلویز لیکر جاتے پھر سڑکوں پر ٹرک چلائے تاکہ ریلوے کی یونین کمزور ہو۔ واپڈا کو کمزور کرنے کیلئے آئی پی پیز بنائے تاکہ بشیر بختیاراور خورشید احمد کی جدوجہد کو کمزور کردیا جائے یہ دو سب سے بڑی یونین ہیں پاکستان کے جن کے ارد گر د ساری یونین اکھٹے رہی ہیںایک ریلوے کی ایک واپڈہ کی۔ اگر یہ دونوں اکھٹے ہوتے تو پورا پاکستان جام کردیتے ان کو توڑنے کیلئے یہ پالیسی بنائی۔ نتیجے میں ملک تباہ و برباد ہوگیا۔ یونین کو تباہ و برباد کرنے کیلئے معیشت تباہ و بربادکردی اور بجلی اب اتنی مہنگی ہونے جارہی ہے کہ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن جو کہ مالکوں کی ایسوسی ایشن ہے وہ روزانہ اخبار میں اپنی ملیں بند کرنے کا اشتہار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اپنا سرمایہ دارانہ نظام خود تباہ کیا۔ حل یہ ہے کہ واپڈا کی نجکاری ہم بالکل بھی نہیں ہونے دیں ورنہ بجلی اور مہنگی ہوگی اور تمام چیزیں مہنگی ہوں گی۔ ریلوے اورPIAپر انوسٹمنٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ پسنجر کا مسئلہ نہیں، مال آگے پیچھے ریلوے پر جائیگا تو ٹرانسپورٹیشن کی لاگت کم ہوگی۔ ریلوے اور ٹرکوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ ریلوے وہی چیز آدھی قیمت پر پہنچاتی ہے جو ٹرک ڈبل پر پہنچاتے ہیں۔ ٹرک کی اپنی قیمت کو چھوڑ کر انفرااسٹرکچر پر جو خرچہ ہوتا ہے وہ علیحدہ ہے۔ چین اپنی ریلوے کی بنیاد پرہی ترقی کررہا ہے۔ ریلوے ، واپڈا ،PIA، زرعی ترقیاتی بینک میں انوسٹمنٹ کریں ، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ٹھیک کریں۔بہترین مینجمنٹ لیکر آئیں، مزدوروں کا کوئی قصور نہیں دن رات ایک کرتے ہیں کھمبوں پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کرتے ہیں اور انہی بیچاروں کو سیفٹی اکوپمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے کرنٹ لگ جاتا ہے۔ ریلوے میں لوگ کس طرح کام کرتے ہیں کیا کیا حادثات نہیں ہوتے، اس حکومت کو نہ صرف مزدوروں کی بلکہ اپنی معیشت اور ملک کی کوئی پرواہ نہیں۔ کیونکہ ان کے سارے تانے بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں آپ کے ساتھ ان کا تعلق کمزور اور بین الاقوامی سرمائے کے ساتھ ان کا تعلق مضبوط ہے۔ کون بچاسکتا ہے اس پاکستان کو (نعرہ مزدور پاکستان)، یہ جو اس کمرے میں ٹریڈ یونین کی قیادت ہے بشمول میری پارٹی بشمول بائیں بازو کی پارٹی کے ہل نہیں سکتی جب تک کہ ٹریڈ یونین اور مزدور طبقہ نہ ساتھ ہو۔ کیونکہ یہ ایک اور طبقے کی، ایک اور نکتہ نظر ایک اور سیاست ، ایک اور ثقافت ، ایک اور سماج اور ایک نئے سویرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آپ کل ، مستقبل اور اس سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جو کہ مساوات قائم کرسکے۔ قدم بڑھائیں، اتحاد بڑھائیں، آپ کی ضرورت ہے میدان عمل میں۔
فرمایا” خدا کی قسم مجھے تمہارے فقروافلاس کا اندیشہ نہیں لیکن یہ خطرہ ضرورہے کہ مال ودولت کی فراوانی تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے تم سے پہلے لوگوں میں ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس میں تم بھی منہمک ہوجاؤگے، جیسے وہ ہوئے وہ تمہیں بھی تباہ وبرباد کرے گی جیسے وہ تباہ وبرباد ہوگئے۔ (بخاری،کتاب الجہاد)مال کی فراوانی بہت سی گمراہیوں کی جڑ ہے لیکن اسلام نے مال حلال کو اللہ تعالیٰ کا فضل بتایا، صحیح ذرائع سے حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ عین حج بیت اللہ کے موقع پر بھی تجارت پر پابندی نہیں لگائی کیونکہ سعی وکسب کے بغیر کوئی مسلمان زندہ ہی نہیں رہ سکتا ، لیکن اسلام اور قرآن کی رو سے جو شخص جتنا زیادہ کمائے گا ، اتنا ہی زیادہ انفاق پر بھی مأمور ہوگا،اسلئے افراد کی کمائی جتنی بڑھتی جائے گی ، اتنی ہی زیادہ جماعت کی اجتماعی خوشحالی ہوتی جائے گی۔ بہرحال اسلامی قانون سے جتنا زیادہ مالدار ہوگا ،اتنے اس پر زیادہ حقوق ہوں گے، اتنی ہی اس کی مشغولیت بڑھ جائے گی۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟