پوسٹ تلاش کریں

اگر بھارت نے افغان حکومت کی حمایت کی اور پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی تو دونوں ملک اپنے پیروں پر ضرب لگائیں گے۔

اگر بھارت نے افغان حکومت کی حمایت کی اور پاکستان نے افغان طالبان کی حمایت جاری رکھی تو دونوں ملک اپنے پیروں پر ضرب لگائیں گے۔ اخبار: نوشتہ دیوار

مولانا فضل الرحمن پر خود کش حملے، مولانا معراج الدین قریشی اور مولانا نور محمد کو شہید کرنے کی وجہ نظرئیے و عمل کا اختلاف تھا جو خراسان کے دجال کی حدیث فٹ کی تھی یا مفتی عزیزالرحمن اورصابرشاہ کے کردار کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا تھا؟، بتادیا جائے!

آج پوری دُنیا میں عالمی قوانین، اخلاقیات، مذاہب اور انسانیت کی تباہی اور بربادی سے انسانوں، حیوانوں، جنگلات اورنباتات کے ذخائر کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ امریکہ نے 1990ء میںصدام حسین کو کویت پر قبضے کا اشارہ دیا اور پھر تیل کے ذخائر میں شراکت داری کی قیمت پر کویت سے عراق کو نکال باہرکیا تھا۔پشتو کا مشہور خطیب جمعیت علماء اسلام ف کے صوبائی نائب امیر مولانا محمد امیر بجلی گھر کہتا تھا کہ” روس اسلئے تباہ ہوا کہ افغانستان میں صحابہ کرام کی قبروں پر اس نے بمباری کی تھی اور امریکہ اسلئے تباہ ہوگا کہ عراق میں اس نے اہلبیت کی قبروں پر بمباری کی ہے۔ عراق کو شکست نہیں ہو سکتی ہے اسلئے کہ عراق کی پیٹھ پر صدام حسین نہیں شیخ عبدالقادر جیلانی لڑرہا ہے”۔
مساجد میں علماء کرام، اللہ والوں اور قلندروں نے امریکہ کے خلاف فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنی شروع کردی تھی جس میں امریکہ کے شہری آبادیوں کو بد دعاؤں سے تباہ وبرباد کرنے کے رقت آمیز مناظر ہوتے تھے اور مسلمانوں کی مدد کیلئے آسمان سے فرشتوں کے اُترنے کی باتیں ہوتی تھیں۔ جب امریکہ نے کویت سے معاہدہ کرکے تیل کے کئی قیمتی ذخائر پر قبضہ کرلیا تو عراق سے نکل گیا۔ لوگوں نے سمجھا کہ صدام حسین نے امریکہ کو شکست دی۔ دجالی میڈیا نے یہ اُجاگر نہیں کیا کہ امریکہ اپنے مقصد کویت میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ لوگ اپنے بیٹوں کا نام صدام رکھ رہے تھے۔ امریکہ نے پھر اسامہ بن لادن کے بہانے افغانستان پر حملہ کیا اور ساتھ میں عراق، لیبیا اور شام کو کچلتے ہوئے تیل کے قیمتی ذخائر کو اپنے ہاں منتقل کردیا۔ جب کرونا کی وجہ سے پہیہ جام ہوگیا تو امریکہ میں تیل کی قیمت اسلئے منفی سے بھی نچلی سطح تک پہنچ گئی یعنی تیل کیساتھ ساتھ ڈالر بھی ملتے تھے۔ آج امریکہ افغانستان اور عراق سے نکل رہاہے اور ہمارے مذہبی بہروپئے دانشور کہتے ہیں کہ ایمان کی طاقت نے امریکہ کو شکست دیدی ۔ یہ کونسی شکست ہے کہ طالبان اتنے کنارے لگے کہ آج وہ اپنے اس ایجنڈے سے ہی دستبردار ہوگئے، جس کی بنیاد پر انہوں نے پوری افغان قوم کو یرغمال بنایا ہوا تھا؟۔ جب داڑھی، نماز، پردہ، تصویر اور ان سب معاملات سے دستبردار ہوگئے تو پھر حکومت کے حصول کیلئے افغان مسلمان بھائیوں کے مرنے اور مارنے کا جواز کس لئے ہے؟۔ جس پاکستان نے امریکہ کے پٹھو کا کردار ادا کیا اس کو اپنا باپ بناکر کس سے دشمنی کی جارہی ہے؟۔ ایک طالبان خطیب کہہ رہا تھا کہ ”امریکہ نے قرآن کی توہین کی ہے اسلئے امریکہ سے دشمنی طالبان ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ امت مسلمہ کا مسئلہ ہے”۔ لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہا تھا کہ” اس امریکہ کیساتھ تو تمہاری صلح ہوئی اور اس کیساتھ عرصہ سے تمہارے اکابرین قطر میں بیٹھ کر پلاننگ کر رہے ہیں”۔ کچھ طالبان پاکستان کو دھمکارہے ہیں کہ ” تم کافرستان کیلئے ہمیں فارغ ہونے دو، پھر تمہارے ساتھ بھی دیکھ لیںگے”۔ یہ سارے متضاد معاملات تاریک مستقبل کا پیشہ خیمہ ہیں۔
قبائل تحفظ موومنٹ کے ملک حسین آفریدی نے سوشل میڈیا ٹی وی کو جنرل حمید گل کے بیٹے عبداللہ گل سے پہلے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ” افغان جنگ میں دو فیصد بھی پنجابی اور سندھی نہیں مرے ہیں ،سب کے سب پشتون مرے ہیں۔ اگر افغان حکومت اورطالبان کے درمیان صلح کیلئے قبائل کو ذمہ داری سونپ دی گئی تو ایک ہفتے میں صلح کی گارنٹی دے سکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ دوسرے لوگ اُنگلی بازی اور مداخلت سے رُک جائیں”۔ جبکہ عبداللہ گل نے کہا کہ ”حکومت کو چاہیے کہ قبائل کو بھی اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح معیاری زندگی کا حق دے۔ پہاڑوں اور جنگلات کی خوبصورتی اللہ نے دی ہے حکومت نے نہیں دی، حکومت نے جنگلات بھی کاٹ ڈالے ہیں۔جب افغانستان میں طالبان تھوڑے سے خون خرابے کے بدلے اسلامی امارت قائم کرلیں تو اسکے اثرات پاکستان پر بھی پڑیںگے۔ یہاں کا مغربی جمہوری نظام بھی طاقت کے زور سے پھر بدلا جائیگا”۔ ایک سوال کے جواب میں عبداللہ گل نے کہا کہ” یہاں لوگ خون خرابہ چھوڑ کر حقو ق کیلئے جمہوری جدوجہد کریں”۔ ابوسفیان محسود قبائل تحفظ موومنٹ کے صدر کا کہنا تھا کہ ”پشاور میں پشت خرے ، متنی وغیرہ کے ایک ایک تھانے میں جتنے جرائم ہیں ،تمام قبائل میں مجموعی طور پر بھی اتنے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم پاگل ہیں کہ اس نظام کو اپنے ہاں لائیں ؟”۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ”قوم پرستوں کے باپ دادا کا کرداربھی مجھے معلوم ہے ۔ ببرک کارمل، نور محمدترکی، حفیظ الامین اور ڈاکٹر نجیب اللہ نے کابل میں ایکدوسرے کو قتل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو یہ ہر قاتل کا سرخ جھنڈوں سے استقبال کرتے تھے۔ یہ افغانستان میں کونسے امن کے خواہاں ہیں؟۔ مجھ پر 25 سالوں سے قبائل میں آنے پر پابندی تھی اور اس پابندی کا مقصد یہ تھا کہ قبائل کے دل سے فضل الرحمن کو نکال سکیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مدارس اور علماء کے دشمن اور مذہب سے بیزار ہیں لیکن یہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ افغانستان کے طالبان کل بھی مجاہد تھے جب وہ روس کیخلاف لڑرہے تھے ، آج بھی مجاہد ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین سے امریکہ کوشکست دیکر نکالا ہے۔ البتہ میں ہمیشہ افغانستان کے داخلی معاملات میں صلح کا خواہاں رہا ہوں۔ جب بھی کسی وفد نے مجھ سے رابطہ کیا ہے تو افغانیوں کے درمیان صلح کی بات کی ہے۔ طالبان کو فوجی ترجیح حاصل ہے لیکن وہ قوت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بجائے صلح کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آج جو لوگ اشرف غنی کی حمایت کررہے ہیں کل یہ لوگ اس کو افغانستان کا بھگوڑا اور امریکہ کا ایجنٹ کہتے تھے۔ اور یہ جو نئے نئے پودے اُگے ہیں ان کو لوگ پکاتے بھی نہیں بالکل کچا چباجاتے ہیں”۔
اگر افغان حکومت کی بھارت اور طالبان کی پاکستان نے مدد کا سلسلہ جاری رکھا تو دونوں ممالک اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارینگے۔ امریکہ کی منصوبہ بندی یہی لگتی ہے کہ خوشحال عراق ، لیبیا اور شام کے ممالک کو تباہی کے کنارے پہنچانے کے بعد تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا گیا اور اب برصغیر پاک وہنداور چین میں جنگ کا ماحول برپا کرکے اپنے اسلحے کی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جارہاہے۔ جس طرح میڈیسن کی گولیاں اور دوائیاں ایکسپائر ہوجاتی ہیں،اسی طرح بارود کی گولیاں اور گولے بھی ایکسپائر ہوتے ہیں۔ دولتمند ممالک انسانیت اور اخلاقیات کو تباہ کرکے بھی اپنے مفادات اٹھاتے ہیں۔ہمارے حکمران وسیاسی لیڈر ہوش کے ناخن لیںاور عوام کو اپنے مفادات اور تضادات کی چکیوں میں پیسنے کی بجائے شعور کی دولت سے نوازیں۔ جنوبی وزیرستان محسود علاقہ کے صدر مقام مکین میں مولانا فضل الرحمن کایہ پہلا جلسہ تھا۔ پہلے وہ الزام لگاتے تھے کہ”( PTM) اسٹیبلشمنٹ کی ایجنٹ ہے، اسلئے وہ جلسے کرتی ہے” اور اب شاید اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دیا گیا کہ” کل کے اُگنے والے پودوں کو ہم کچا چباڈالیں گے”۔
وزیرستان کی سر زمین پر مولانا فضل الرحمن کی آمد سے پہلے (PTM)کے رہنما حیات پریغال نے تقریر میں کہا کہ ” آنکھیں بند کرکے (PTM)پر بھی اعتماد مت کرو۔ جو لوگ بھی یہاں امن، کاروباراور زندگی کی بحالی لیکر آئیں وہ وزیرستان اور ہمارے علاقہ کے خیر خواہ ہیں۔ وہ فوجی ہوں یا کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں ، ہمارے لئے قابل قبول ہیں لیکن جو پھر تباہی اور بربادی کی باتیں کریں تو ان پر نظر رکھیں۔ جن لوگوں کو قوم نے نمائندگی کیلئے چن لیا تھا تو ان سے سوال کرنا ہمارا حق بنتا ہے کہ ہمارے لئے تم نے کیا کیا تھا؟”۔
متحدہ قبائل تحفظ موومنٹ کے شیرپاؤ محسودایڈوکیٹ نے کہا کہ ” جب یہاں مسلح طالبان لوگوں سے زبردستی کھانے لیکر جاتے ہیں اور فوج بھی مسلح ہے لیکن نہتے عوام اس جنگ میں دونوں طرف سے نشانہ بنتے ہیں تو ہماری چاہت یہ ہے کہ طالبان اور فوج میں صلح ہونی چاہیے”۔ سابق سینیٹر مولانا صالح شاہ نے کہا کہ ”پاکستانی طالبان کو ہم دہشت گرد نہیں کہتے ہیں۔ ہم نے پہلے بھی صلح میں اپنا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی ادا کریںگے لیکن جب آرمی چیف اور افسران مل بیٹھ کر بات کرنے پر رضامندی ظاہر کردیں”۔جتنے منہ اتنی باتیں ہیں مگر مسائل کا یہ حل نہیں ہیں۔ مفتی عزیز الرحمن اور صابرشاہ کی ویڈیوز سب نے دیکھ لی ہیں اور اب اگر کل یہ لوگ مدارس کے مسائل حل کرنے پر بات کرینگے تو انکے آگے ہاتھ جوڑ کرکہا جاسکتا ہے کہ تم بذاتِ خود مسائل ہو ،مسائل حل نہیں کرسکتے ۔ متحدہ مجلس کی حکومت میں مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو دجال کا لشکر قرار دیا تھا مگر حکومت میں ہونے کے باوجود کوئی مسائل حل نہیں کئے ،البتہ کرپشن کی ہے۔
محسود اور پختون کسی اور نہیں اپنے ہاتھوں سے خود تباہ اور برباد ہوگئے تھے۔ اگر خوف یا لالچ سے اپنے چھوٹے بچوں کو بڑے سجن کے ہاتھ میں نہ دیتے تو نہ ان کی اولاد بے ضمیری کا شکار بنتی ہے اور نہ ہی سجن لوگ جہاد فی سبیل اللہ کی جگہ بے راہروی کا شکار بنتے۔ لاہور و ملتان سے گورنر سلمان تاثیر و وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے بیٹوں کو اغواء برائے تاوان کیلئے افغانستان لیجانے والے اسلئے اچھے نہیں بن سکتے کہ برطانوی خاتون صحافی نے انکے سلوک کو سلام پیش کیا۔ افغان طالبان کے علاوہ پاکستانی طالبان نے ایک پشتون لیڈی ڈاکٹر کو اغواء برائے تاوان سے بھی گریز نہ کیا۔ امریکہ کے خلاف جنہوں نے جنگ لڑی ان کو ہم سلام پیش کرتے ہیں لیکن اسامہ گھر میں مارا گیا اورملاعمر گھر میں مراتھا۔ ملا برادر پاکستانی جیل میں تھااور طالبان قائدین قطر میں اورلڑائی کل بھی افغانوں اور آج بھی افغانوں میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کا کباڑا ہوگیا اور امریکہ اور نیٹو کا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ نیٹو میں شامل ترکی کا طیب اردگان افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کیساتھ افغان طالبان کیخلاف شانہ بشانہ تھا تب بھی وہ عالم اسلام کا عظیم مجاہد تھا۔ منافقت اور سیاست سے نکل کر ہمیں سچائی کی ڈگر پر آنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے طالبان کو حدیث کے مطابق خراسان کے دجال کا لشکر کہا تھا تو پاکستان کے میڈیا نے اس کو شائع نہیں کیا۔ اکرم خان درانی، مولانا نور محمد وزیر شہید ، مولانا معراج الدین قریشی شہید اور مولانا فضل الرحمن پر حملے کرنے والے طالبان اسلئے حملہ نہیں کررہے تھے کہ انکا کردار مفتی عزیزالرحمن کا تھا اور دہشت گردوں کا کردار صابرشاہ کا تھا بلکہ نظرئیے اور عمل کا اختلاف تھا اور کل اور آج کے مولانا فضل الرحمن میںکو ئی تضاد ہے تو یہ وہ سیاست وشریعت ہوسکتی ہے جو مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی سے کہا تھا کہ” تصویر حرام ہے اور قطعی حرام ہے لیکن کیمرے کی تصویر میں علماء کااختلاف ہے اوراس کا ہم فائدہ اٹھالیتے ہیں”۔جب یہ اختلاف نہ تھا تب بھی تم نے اور تمہارے باپ اوراکابر نے اس کا فائدہ اٹھایا تھا۔ یہ کھسیانی بلی کھمبہ نوچے والی بات ہے۔
جب نبیۖ سے عورت نے مجادلہ کیا اور اللہ نے عورت کے حق میں وحی نازل فرمائی تو اللہ نے قرآن میں سورۂ مجادلہ کے عنوان سے اسوۂ حسنہ کا بہترین نمونہ بناکر پیش کردیا۔ اپنی غلطیوں پر شیطان ڈٹ جاتا ہے۔ انسان کو شیطان بن کر ڈٹنے کی بجائے اپنی غلطی کا اقرار کرکے آدم و حواء کی صحیح اولادکا ثبوت دینا چاہیے۔ قابیل اور ہابیل نبی حضرت آدم کے بیٹے تھے۔ قابیل کا کردار کوئی بھی ملک، طبقہ اور فردادا کرے تووہ قابلِ فخر نہیں اس کو توبہ کی دعوت دینی چاہیے۔
اوریا مقبول جان اور سوشل میڈیا کے جو ایکٹوسٹ امریکہ کے نکلنے کے بعد طالبان کے ایمان کو مثالی قرار دے رہے تھے وہ خود اللہ پر بھروسہ کرکے افغان طالبان کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے کیلئے تیار نہیں۔ آج بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبر آرہی ہے اور دونوں طرف سے اللہ اکبر کے نعرے لگ رہے ہیں۔ جب پیر پگارا کی پتنگ کو ایک لڑکی نے کاٹا تھا تو یہ شاید پیرپگاراکی حکمت عملی تھی اور وہ اپنی بوڑھی بیگم کو طلاق دے کر نئی شادی کرنا چاہتا تھا۔ اللہ کی مدد کشمیر ، فلسطین اور پاکستان میں لڑنے والے ٹی ٹی پی کو کیوں نہیں ملی؟۔ جب تک مسلمان اپنے علم و عمل کو درست نہیں کریں گے تو اللہ کی مدد کہاں سے آئے گی؟۔ پہلے ہمیں اپنا علم و عمل درست کرنا ہوگا اور حق بات اور صبر کی تلقین کرنی ہوگی پھر مدد آئے گی۔
www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی