پوسٹ تلاش کریں

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے اخبار: نوشتہ دیوار

عمران خان بمقابلہ نوازشریف کی لڑائی کو تخت لاہور، جی ٹی روڈاور اسلام آباد تک رکھا جائے

اسٹیبلیشمنٹ کے دو چیلوں کی لڑائی کو سندھ، بلوچستان اور پختونخواہ تک لیجانے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ پنجاب کا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے اسلئے اپنا دائرہ کارپنجاب تک آپ ضرور بڑھائیں !

عمران خان کے زندہ دلانِ لاہور کی حوصلہ شکنی نہ کریں،صحت مند سیاست میں جان جذبے اور جنون سے آتی ہے مگر لڑائی بھڑائی سے جمہوری نظام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے!

پہلے مرکز کی سیاست کبھی پنجاب اور کبھی سندھ میں پیپلزپارٹی کی وجہ سے منتقل ہوتی رہتی تھی۔ مسلم لیگ ف، ج، ق ، ن ، ع سبھی اسٹیبلشمنٹ کی سگی ہیں۔ بلوچستان ، خیبر پختونخواہ اور سندھ میں کوئی مسلم لیگ پنپ نہیں سکتی ہے ۔ پنجاب کی سرزمین بڑی زرخیز ہے۔ اعجاز الحق کی ضیاء مسلم لیگ ، شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ بھی ایک سیٹ کے ساتھ زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔پیپلزپارٹی کے بانی کو قتل کیا گیا تھا اسلئے پیپلزپارٹی کااسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ کمزور ہوگیا تھا۔ پھر اسٹیبلشمنٹ نے چاہا کہ اپنے گھر کے اندر ہی دو بٹیر پالے جائیں اور باریاں بھی پنجاب میں اپنوں میں رہ جائیں۔ مسلم لیگ ن اور عمران خان دونوں کو پنجاب سے ہمیشہ کیلئے بڑی جماعتوں کے طور پر منتخب کرلیا گیا ہے۔ دونوں نے ان کے کہنے پر اپنی ٹائی ، شرٹ، قمیص، شلوار اور چڈی اتارنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا ہے۔ دوسرے لوگ گناہ بے لذت میں خوامخواہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی اور اس کے کارکن اور رہنما تحریک انصاف کا حصہ بن گئے ہیں۔ پنجاب کی عوام کو اتنا بھوکا رکھا گیا ہے کہ20کلو زکوٰة کے آٹے کیلئے بھی مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ سیلاب سندھ میں آیا تھا اور حامد میر سے پنجاب کے کسان اسلام آباد میں کہہ رہے تھے کہ سندھ کی وجہ سے بحران آیا ہے۔ جس پر حامد میر نے ہنس کر کہہ دیاتھا کہ تمہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔
آخر میں عمران خان اور نوازشریف نے بھائی بھائی بن جاناہے۔ زرداری اور مولانا فضل الرحمن کے کاندھوں پر گند کی ٹوکری لادی جائے گی۔ پنجاب میں شعور لانے کی سخت ضرورت ہے۔ عمران خان کیلئے لاہوریوں کے جذبے کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہیے۔ ماڈل ٹاؤن اور زمان پارک لاہور کی لڑائی لاہور ، جی ٹی روڈ ، گجرانوالہ، گجرات، جہلم ، گوجرہ ، پنڈی اور اسلام آباد تک محدود رکھنے کی ضرورت ہے۔ حافظ سعید کو عالمی دہشت گرد قرار دیا گیا مگر کبھی اس نے بارود اپنے جسم کیساتھ باندھ کر دھماکے کی ترغیب نہیں دی۔ پختون اور بلوچ انتہاپسند ہیں۔ اپنی قوموں کو بھی ریاست کیساتھ بارود سے تباہ کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں تشدد نہیں نظریاتی جذبہ ہوتا ہے۔ نظریاتی جذبہ صحت مند سیاست ہے۔ پنجاب میں بھٹو کے بعد عمران خان نے زندہ کیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری میں صلاحیت تھی ۔ماڈل ٹاؤن میں اس کے کارکن شہیدکئے گئے ۔ قمرزمان کائرہ نے مذاق اور نقل اتارنے سے اس کا جذبہ ختم کیا تھا مگر مسلم لیگ نے اس کے بندے مارکر عمران خان کی سیاست کو زندہ کردیا۔ نوازشریف نے تو کاندھے پر اٹھاکر طاہرالقادری کوغارِ حراء پر چڑھایا تھا، حالانکہ لنگڑے اور اندھے ایسا کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ پنجاب کی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر اورنگزیب جیسے قابل لوگ اس میں ضائع ہوتے جارہے ہیں۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مولانا فضل الرحمن کو حقائق کے مفید مشورے
حکومت وریاستIMFسے قرضہ لینے کے بجائے بیرون ملک لوٹ ماراثاثہ جات کو بیچے
ملک کا سیاسی استحکام معاشی استحکام سے وابستہ ہے لیکن سیاسی پھنے خان نہیں سمجھ سکتے ہیں؟