پوسٹ تلاش کریں

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات اخبار: نوشتہ دیوار

اسلامی انسانی انقلاب کا منشور اور اسکے بنیادی نکات

__اتحاد، اتفاق اور وحدت ملت اسلامیہ__

جب یہ ہمارے پیش نظر ہو کہ ہم نے پاکستان میں فرقہ وارانہ اختلاف اور شدت کو کم کرنا ہے تو اس کیلئے افغانستان، ایران ،سعودی عرب اور ترکی کے

 

علاوہ تمام اسلامی ممالک کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا اور غیر مسلم ممالک ہندوستان، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے مسلمانوں کو بھی مدِ نظر رکھنا

 

ہوگا بلکہ تمام دنیا کی انسانیت بھی ہم نظ

 

ر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کی بنیاد پر تعصبات کو زندہ کریںگے تو مقابلے میں ہندو، سکھ، بدھ مت ، عیسائی، یہودی اور پارسی سب مذاہب کے جذبات کواپنے خلاف بھڑکائیںگے، اسلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے باطل معبودوں کو بھی برا بھلا نہیں کہیںاور نہیںتو ہمارے معبودبرحق کو بھی برا بھلا کہا جائے گا۔
قرآن کریم اور رسول اللہ ۖ سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی رہبر اور رہنما نہیں ہوسکتا ہے۔ غزوہ بدر بڑا معرکہ تھا جس میں313مسلمانوں نے1000دشمنوں کو شکست دی۔ آج یونین کونسل، ضلع کونسل، تحصیل، ضلع، ڈویژن ، صوبہ اور پاکستان کی سطح پر313باکردار اور اچھے لوگوں کے ذریعے ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ ایک کتاب ” اک عالم ہے ثناء خواں آپ کا” میں غیرمسلموں کے تأثرات دئیے گئے جس میں نبیۖ کو ایسی خراج عقیدت پیش کی گئی کہ اس تعریف سے ہی اس دنیا میںایک بہت بڑا انقلاب آسکتا ہے۔ جب افہام وتفہیم کی فضاء پیدا ہوجائے گی تو حق وباطل ، روشنی و اندھیرے ، علم وجہالت، بینا واندھے اور حق کیلئے کھڑے ہونے اور بیٹھے رہنے والے میں خود بخود فرق وامتیاز قائم ہوگا۔ اندھیرے کو لاٹھی سے نہیں روشنی سے شکست دینے کی سخت ضرورت ہے۔ غزوہ بدر ایک حادثہ تھا جو قدرت کی طرف سے اللہ نے مسلمانوں کے ارادے کے بغیر تشکیل دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے کہا جاتا ہے کہ ”آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی”۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں تھا لیکن اپنی مظلوم قوم کے نامراد شخص کی شکایت پر حزب مخالف کے ایک شخص کو مکا رسید کردیا جس سے وہ قتل ہوا۔ پھر اپنی قوم کے اس نامراد شخص کے شرارتی ہونے کا بھی ادراک ہوگیا اور مخالف قوم کے ایک اچھے شخص نے انتقام سے بچنے میں اطلاع کے ذریعے مدد بھی فراہم کردی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مذہب، قوم، کردار اور کسی بھی طرح سے شناخت کئے بغیر دو خواتین کو دیکھا کہ اپنے جانور کو پانی پلانے کیلئے انتظار میں کھڑی ہیں۔ آپ نے ان کی مدد کرتے ہوئے ان کے جانوروں کو پانی پلایا۔ پھر انہوں نے اپنے نبی والد کو خبر کردی اور انہوں نے ایک بیٹی سے شادی کے عوض کچھ سالوں تک خدمت لینے کا معاملہ طے کیا۔ یہ اس دور کی روایات تھیں اور ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پناہ کی بھی ضرورت تھی۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے فرعون کی گود میں پالا اور اس میں فرعون کی بیگم کا بنیادی کردار تھا۔ دوسری مرتبہ ایک پیغمبر کی بیٹی کا بنیادی کردار تھا۔ پھر اللہ نے فرعون کے سامنے کھڑا کیا تو اپنے بھائی ہارون کو بھی مددگار بنانے کا عرض کیا۔ جب اللہ نے فرعون سے بنی اسرائیل کو نجات دیدی تو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے امتی سامری کے ورغلانے سے بچھڑے کو پوجنے لگے۔ پھر اس معاملہ پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں اور داڑھی سے بھی پکڑ لیا تھا۔
آج ہماری حیثیت اور ہمارا کردار کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر حضرت موسیٰ و ہارون علیھماالسلام کی طرح ایک کے ہاتھ دوسرے کے سرکے بالوں اور داڑھی میں الجھے ہوئے ہیں اور ہندو قوم نے کسی نبی کی صحبت بھی نہیں پائی ہے اور وہ شرک میں مبتلاء ہے تو ہمیں اپنی حالت پر اور ہندوؤں پر غصہ کھانے کی جگہ رحم کرنا چاہیے۔ قرآن ہماری زبان میں نہیں ہے۔ جب شاہ ولی اللہ نے پہلی مرتبہ قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو آپ کو اپنے عقیدتمندوں کے ہاتھوں برسوں روپوش رہنا پڑا،اسلئے کہ وہ اس جرم کی پاداش میں قتل کرنا چاہتے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ شاہ ولی اللہ سے پہلے حضرت ملاجیون کی کتاب ” نورالانوار” درس نظامی کا حصہ تھی۔ جس میں یہ پڑھایا جاتاہے کہ ”امام ابوحنیفہ کے نزدیک فارسی میں نماز پڑھنا صرف جائز نہیں بلکہ بہتر بھی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ قرآن کی قرأت میں جو سجاوٹ ہے وہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب ہے”۔
حالانکہ امام ابوحنیفہ کے قول کی اس سے بہتر توجیہ یہ تھی کہ ” اللہ نے قرآن میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا یہاں تک کہ تم سمجھو کہ جو کہہ رہے ہو۔ توپھر عربی میں نماز کو سمجھے بغیر پڑھنا نشے کی طرح نہ سمجھنے کے مترادف ہے”۔ ہماری مذہبی زباںعربی، سرکاری انگریزی اور قومی اردو ہے جس کی وجہ سے مہاجر،پشتون،بلوچ، پنجابی، سرائیکی اور سندھی عوام کی اکثریت سمجھ بوجھ ، علم وشعور اور معروضی حالات اور بین الاقوامی حقائق سے محروم ہیں ۔ تعصبات کی وکالت نے اندھیروں پر اندھیرے میں اضافہ کردیا ہے۔

__ قرآن وسنت کے منشورکے چیدہ نکات__


1: سچ اور سیدھی بات کرنا۔ اللہ نے فرمایا کہ ” اے ایمان ولو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کیساتھ ہوجاؤ”۔ اور فرمایا ”اور کہو سیدھی بات ،تمہارے اعمال کی اصلاح کی جائے گی اور تمہارے گناہ معاف کئے جائیں گے”۔ معاشرے میں کسی بات پر اچھائی اور برائی کا اجتماعی تجزیہ کیا جائے گا اور اتفاق رائے سے اس پر فیصلہ کرکے عوام میں تشہیر کی جائے گی ۔تاکہ شہر اور علاقہ سے لیکر ملکی اوربین الاقوامی سطح تک اچھا ماحول بن جائے۔
2: پاکستان کے آئین میں قرآن وسنت کی بالادستی واضح ہے لیکن معاشرے میں اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی ہے۔ جب قرآن کے احکام کی ایسی تشریح وتفسیر کی جائے کہ سب کیلئے قابلِ قبول ہو تو اس کو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بھی بنایا جائے گا تاکہ ہمارے ریاستی ادارے اور عوام علم و عمل کا پاکستان کو گہوارہ بنائیں۔
3: سورة العصر میں ایمان و عمل صالح کے بعد تلقین حق کیساتھ خسارے سے بچنے کیلئے تلقین صبر کابھی ذکر ہے۔ حق گوئی کا علم بلند کرنے والوں کیلئے ضروری ہے کہ جھوٹے پروپیگنڈوں کا جواب جھوٹ سے نہیں دیں بلکہ صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں۔ اگر غلطی کا احساس ہو تو ڈھیٹ نہ بنیں بلکہ حق کیلئے رجوع کریں۔
4: اپنا مؤقف احسن طریقے سے پیش کریں مگر کسی پر مسلط نہ ہوں۔ جبر وزبردستی، جہالت وہٹ دھرمی، تعصبات ورنجش اورغیرمعیاری اخلاق واقدار کے ماحول کو دلیل وبرہان سے شکست دیں۔ توقع رکھیں کہ یہ منشور ایسا ہو کہ جانی دشمن بھی گرم جوش دوست بن جائے۔ رسول اللہ ۖ کے قتل کیلئے تلوار لیکر آنے والے حضرت عمر نے اعلانیہ آذان دی اور ہجرت کے وقت دشمن سرداروں کے دروازوں پر دستک دی تھی۔
5: کسی اختلافی مسئلے کا حل پہلے قرآن میں تلاش کریں اسلئے کہ قرآن ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ جب امت مسلمہ کا قرآن کی طرف رجوع ہوجائے گا تو بہت سارے قدیم اور جدید مسائل کا حل مختلف فرقوں کے عوام وخواص کے سامنے آجائے گا اور اختلافات کی فضاء ختم ہونے میں دیر نہ لگے گی۔
6:احادیث اور سنت پر امت کے مختلف فرقوں میں اتفاق بھی ہے اور اختلاف بھی۔سب اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے نظرثانی کی گنجائش رکھیں۔ جب دوسرے کیلئے ڈھٹائی اور اپنے اندر لچک کی گنجائش رکھیں گے تو ماحول میں بہتری آئے گی۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے امام ابوحنیفہ سے رفع الیدین کے مسئلے پر اپنے اختلاف کی گنجائش رکھی لیکن دونوں کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حضرت عبداللہ بن مبارک نے سرحد پر جہاد کرنے کا فرض اداکیا ۔امام ابوحنیفہ نے جابر سلطانوں کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کا افضل جہاد کیا ۔اور فضیل بن عیاض نے ڈکیتی سے توبہ کرکے اپنے نفس کے ساتھ جہاد اکبر سے اپنی اصلاح کا فرض ادا کیا۔
7:حضرت مولانا محمد الیاس نے تبلیغی جماعت سے امت مسلمہ میں ایک چلتا پھرتامدرسہ، خانقاہ اور دعوت واصلاح کا عظیم کام شروع کیا تھا جس نے پوری دنیا میں اسلام کے کلمۂ توحید ورسالت اور ختم نبوت کا پیغام پھیلانے میں سب سے زیادہ ممتاز خدمات انجام دیں۔ پھر اس جماعت پر دیوبندی مسلک کی چھاپ لگ گئی ۔ اب بریلوی مسلک نے دعوت اسلامی اور اہلحدیث نے بھی اس طرز پر اپنی اپنی جماعتیں بنائی ہیں اور اتفاق سے بریلوی مسلک کے بانی کا نام مولانا الیاس قادری اور اہلحدیث کا نام مولانا الیاس سلفی ہے۔ تبلیغی جماعت اپنے مرکز بستی نظام الدین اور رائے ونڈ میں امارت اور شوریٰ کے نام پر تقسیم ہوچکی ہے۔
8: کانیگرم اور ٹانک کے مشہور تبلیغی سیدعالم شاہ سے میں نے پوچھا کہ ”تبلیغی جماعت والے لاالہ الا اللہ کا یہ مفہوم بتاتے ہیں کہ ” اللہ کے حکموں میں کامیابی کا یقین….اگر کوئی شخص بیوی کو تین طلاق دے تواس کیلئے ایک راستہ حلالہ کرنا ہے اور دوسرا بیوی کو چھوڑ دیناہے دونوں میں سے اللہ کے کس حکم میں کامیابی ہے”۔ اس نے جواب دیا کہ ”دونوں صورت میں کامیابی نہیں ہے”۔ میں نے کہا کہ” یہ اللہ کا حکم نہیں غلط فتویٰ ہے”۔
9: اللہ نے عورت کو قرآن میں خلع کا حق دیا لیکن مولوی یہ نہیں مانتا۔ عدالت بھی عورت کو خلع کا حق دیتی ہے لیکن مولوی نہیں مانتا۔ جب مولوی کی شریعت اللہ کے قرآن اور عدالت کے انسانی حقو ق کے منافی ہو تو پوری دنیا میں کیسے چل سکتی ہے؟۔ جو پاکستان میں بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ قرآن وسنت میں زنا بالرضا اور زنا بالجبر کے احکام میں فرق ہے لیکن مولوی اس کو نہیں مانتا اسلئے پاکستان میں بھی مولوی ناکام ہے۔……
10: اسلام فطری دین ہے لیکن مولوی نے غیرفطری مسائل ایجاد کررکھے ہیں۔ جب علماء ومفتیان اپنی غلطی مان جائیںگے تومعاشرے، حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کے آگے لوگ سرتسلیم خم کریںگے اور اس پر ہم نے بہت کام کیا ہے جس کی چند نظیریں ملاحظہ فرمائیں اور ہمارا ممبر بن کر ہماراساتھ دیں۔

__معاشرے سے حلالہ کی لعنت کا خاتمہ __
اللہ کے فضل سے ایک اسرائیل کو چھوڑ کر باقی دنیا کے سارے مشہور ممالک سے ہمارے پاس حلالہ سے جان چھڑانے کیلئے فتوے آئے ہیں اور ہمارے ان فتوؤں کی وجہ سے ان کی جان ایک عذاب ، لعنت اور شرمندگی کے بڑے طوفان سے چھوٹ گئی ہے۔ فتوے کی تائید ہفت روزہ اخبارِ جہاں کراچی جنگ گروپ میں40سال تک حلالہ کے فتوے جاری کرنے والے مفتی محمد حسام اللہ شریفی صاحب مدظلہ العالی نے کی جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے شاگرد مولانا رسول خان ہزاروی کے شاگرد اور مولانا احمد علی لاہوری کی طرف سے مجاز ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان شریعت بینچ اورپاکستان شریعت کورٹ کے مشیر ہیں۔
بریلوی مکتب کے حضرت مولانا مفتی خالد حسن مجددی مدظلہ العالی گجرانوالہ نے بھی بھرپور کھلم کھلا تائید سے نوازا ہے اور درپردہ معروف مدارس کی تائیدات بیشمار ہیں جن میںجامعہ دارالعلوم کراچی کے بعض مفتیان عظام بھی شامل ہیں۔ اب رائے عامہ ہموار ہوگی تو شف شف کرنے والے شفتالو بھی بول دیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے موجودہ چیئرمین قبلہ ایاز صاحب سے بھی تحریری تائید مل چکی ہے اور مثبت دو نشستیں بھی ہوچکی ہیں۔ اس سے قبل مولانا محمد خان شیرانی جب چیئرمین تھے تو ان سے بھی بھرپور انداز میں بات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے ہتھیار بھی ڈال دئیے تھے کہ مجھے اس موضوع پر مہارت حاصل نہیں ہے۔
قرآن کی سورہ بقرہ آیات222سے232تک میں عورت کے حقوق کی زبردست وضاحت ہے لیکن علماء ومفتیان نے عورت کے حقوق غصب کئے ہیں اور اسی وجہ سے ان کے تراجم اور تفاسیر میں بے بنیاد اورلامتناہی تضادات ہیں۔ قرآن نے اپنے اس مؤقف کی بھرپور وضاحت کی ہے کہ میاں بیوی کی صلح میں کسی صورت بھی اللہ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ ناراضگی اور طلاق کے بعد شوہر کو صلح واصلاح کے معروف طریقے کے بغیر رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ جس سے تمام مذہبی طبقات کی غلطیاں آشکارا ہوتی ہیں کہ کوئی شوہر طلاق رجعی دے یا اس کی نیت کچھ ہو تویکطرفہ رجوع کا حق حاصل ہے۔ جس سے بہت سارے اختلافات اورگھمبیر تضادات نے جنم لیا ہے۔ مثلاً بہشتی زیور میں مسئلہ لکھا ہے کہ” اگر شوہر بیوی سے کہے کہ طلاق طلاق طلاق تو یہ تین طلاقیں ہیں اور اگر شوہر کی نیت ایک طلاقِ رجعی کی ہے تو پھر یہ ایک طلاق ہے، لیکن بیوی پھر بھی سمجھے کہ اس کو تین طلاقیں ہوچکی ہیں”۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کا خاندان مولانا اشرف علی تھانوی کے علم کی بوسیدہ ہڈیوں کو نئی شکل دیکر بیچ رہاہے لیکن اگر ان سے سوال کیا جائے کہ مفتی محمد تقی عثمانی نے اپنی بیوی سے کہا کہ ”طلاق طلاق طلاق” تو بہشتی زیور کے مطابق یہ ایک طلاقِ رجعی ہے اور اس کی بیوی سمجھے کہ یہ تین طلاق ہیں اور حلالہ کے بغیر حلال نہیں ہوگی تو اس کا حل کیا ہوگا؟۔ اسلئے کہ اصلاً بیگم صاحبہ محترمہ کو طلاق نہیں ہوئی ہے اور وہ کہیں سے حلالہ کروالے تو مفتی تقی عثمانی اور اس کی مذہبی ذرّیت پر کیا گزرے گی؟۔ مسلمانوں میں2020کے اندر مفتی محمد تقی عثمانی کا نمبر طاقتور شخصیات میں پہلے نمبر پر تھا اور2022میں پانچویں نمبر پر آگیا۔2023میں فہرست سے نکل جائے گا انشاء اللہ کیونکہ حلالے کی لگام ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اگر مفتی تقی عثمانی کی بیگم کا نام دینا مسئلہ پوچھنے کی حد تک بھی برا لگتا ہو تو مسلمان بہنوں ، بیٹیوں ، بیگمات اور ماؤں پر کیا گزرتی ہوگی؟۔ جب وہ حلالہ کی لعنت سے گزرتی ہوں گی؟۔
ہم مسلمان بہنوں کی عزتیں بچانے نکلے ہیں ۔ آؤ ہمارے ساتھ چلو۔

__قرآن وسنت سے حلالے کا غلط تصور__
آیت230البقرہ میں مروجہ حلالے کاکوئی تصور نہیں ہے۔ جب آیات228اور229البقرہ میں عدت کے اندر صلح واصلاح کے معروف طریقے سے اللہ نے رجوع کی بھرپور وضاحت کردی اور آیات231اور232البقرہ میں عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے معروف رجوع کی بھرپور وضاحت کردی تونعوذ باللہ کیا درمیان میں اللہ پر کوئی جن یا جنون طاری ہوگیا تھا ؟کہ اس طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا جب تک وہ عورت کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرلے۔آیت230البقرہ۔ اس پر علماء ومفتیان نے کبھی غور نہیں کیا؟۔
وہ کونسی طلاق ہے جسکے بعد عورت سے اس کا سابقہ شوہر رجوع نہیں کرسکتا ہے جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے؟۔ حنفی، شافعی، مالکی ، حنبلی، اہل حدیث، جعفری اور پرویزی فرقوں نے اپنی اپنی فقہ وسمجھ کے مطابق اس کی کوئی نہ کوئی تشریح کی ہے لیکن کسی ایک صورت پر بھی امت کا آج تک اجماع نہ ہوسکا ہے اور نبیۖ کا فرمان سچ ہے کہ امت کا اجماع کسی گمراہی پر نہیںہوسکتاہے۔
مجھے یقین ہے کہ قرآن وسنت پر عنقریب نہ صرف امت کا اجماع ہوگا بلکہ پوری دنیا میں تمام مذاہب اور ممالک کے لوگ بھی ایک مضبوط معاشرتی خاندانی تعلقات کی بحالی کیلئے اپنے معاشرے اور ممالک میں اسکے نفاذ کیلئے نکلیں گے۔
قرآن نے عورت کاکوئی استحصال نہیں کیا بلکہ اس کو بھرپور تحفظ دیا ہے اور اس تحفظ میں سب سے بڑا بنیادی مسئلہ اس کو حلالے سے تحفظ دینا تھا۔ اس کو اپنے شوہر سے رجوع کیلئے تحفظ دینا تھا ۔ اس کو شوہر کے جبری رجوع سے تحفظ اور نجات فراہم کرنا تھا اور اسکے مالی حقوق کے تحفظ کی بھرپور ضمانت دینی تھی۔
قرآن نے سب کچھ عورت کو دے دیا لیکن مولوی نے پھر اس کو مذہبی فتویٰ دیکر اپنے اور معاشرتی مظالم کا شکار بنایا ہے۔ عورت نے نبیۖ سے مجادلہ کیا کہ میری پیٹھ کو میرے شوہر نے اپنی ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دیکر ظہار کیا ہے جو دورِ جاہلیت کی سب سے سخت طلاق تھی۔ جس میں حلالہ سے بھی عورت حلال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ نبیۖ نے مروجہ مذہبی ماحول کے مطابق فتویٰ دیا تو اللہ نے اس عورت کی بات سن لی اور سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب میں رسم جاہلیت کی سخت ترید نازل کردی۔ ایک عورت مدرسہ سے فتویٰ طلب کرتی ہے کہ شوہر نے اکٹھی یا پہلے طہر پاکی کے ایام میں پہلی، دوسرے میں دوسری اور تیسرے مرحلہ میں تیسری مرتبہ طلاق دی ہے تو کیا وہ بغیر حلالہ کے رجوع کرسکتی ہے؟۔ جس کا جواب یہی ہونا چاہیے تھا کہ اللہ نے قرآن کی آیت228البقرہ میں فرمایا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوااصلاحًا ” اور ان کے شوہر اس مدت میں صلح کی شرط پر لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں”۔یہ سوال مولوی سے پوچھنے کا نہیں ہے بلکہ قرآن فتویٰ دیتا ہے کہ عدت میں شوہر رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ یہی فتویٰ سورہ طلاق آیت1اور سورہ بقرہ آیت229میں بھی ہے۔ لیکن اگر عورت رجوع کیلئے راضی نہ ہو اور شوہر نے تین مرتبہ نہیں ایک مرتبہ بھی طلاق دی ہو اور شوہر فتویٰ پوچھنے کیلئے جائے کہ وہ رجوع کرسکتا ہے؟۔ تو قرآن کا فتویٰ یہ ہے کہ ” اس کو رجوع کا کوئی حق اب حاصل نہیں ہے۔ عورت عدت کی تکمیل کے بعد جہاں چاہے اپنی مرضی سے نکاح کرسکتی ہے”۔
جب قرآن کی واضح آیات کا فتویٰ فقہاء ومحدثین نے بالکل نظر انداز کردیا تو گمراہی میں اس طرح گردش کرنے لگے جیسے جھاڑی کاباریک ریشہ نما ایک پھول فضاء میں ہواؤں کے دوش پر اٹھتا ہے۔ جو ہمارے ہاں ”شیطان کا خصیہ” کہلاتاہے۔ ارشد شریف اور عمران خان کی میڈیاپر ”سپاری ” کی گردش ہے ،یہ وہ رقم ہے جو دہشت گرد تنظیم کو کسی شخص کے قتل کیلئے دی جائے۔ سپاری حشفہ یعنی ذکر کے ختنے کی جگہ سے باہر والے حصہ کو بھی کہتے ہیں ۔ سودی بینکاری ، حلالے کی لعنت اور سپاری وصول کرنے والے دہشت گردمیں وہی فرق ہے جوہماری بڑی کرپٹ اشرافیہ اور موبائل چھیننے کیلئے جان لیوا حملے کرنے والوں میں ہے۔

__ عورت کا اختیار چھین لینے کے نقصانات__
عورت معاشرے میں صنف نازک اور کمزور مخلوق ہے اور اللہ نے اس کی اس کمزوری کا فائدہ دیتے ہوئے اس کو وہ تحفظ فراہم کیا ہے جو عورت کے اپنے وہم وگمان ، سوچ وبچار اور فکر ودانش میں بھی ممکن نہیں ہے۔ جو عورت مرد کیساتھ برابری کا دعویٰ کرتی ہے تو اس کو مرد کی نظر یں گاڑنے، ہلکا پھلکا ہاتھ مارنے اور دبوچ کر زیادتی کا نشانہ بنانے پر کیوں غصہ آتا ہے ،جب برابری ہے تو بدلے میں عورت بھی وہی کچھ کرتی؟۔ عورت کو تحفظ دینے کی سخت ضرورت ہے۔
عورت شوہر کے نکاح میں جاتی ہے تو اس کو اللہ نے نہ صرف خلع کا اختیار دیا ہے بلکہ ساتھ میں مالی تحفظ کی ضمانت بھی دی ۔ جہاںالنساء آیت19میں عورت کو خلع کا حق اورآیات20،21النساء میں شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے وہاں دونوں صورتوں میں عورت کو مالی تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ خلع میں شوہر کی طرف سے ان دی ہوئی چیزوں کی ملکیت برقرار رکھنے کی وضاحت کی جو عورت اپنے ساتھ منتقل کرکے لے جاسکتی ہو یعنی منقولہ جائیداد۔ کپڑے، زیور، نقدی ، گاڑی وغیرہ۔ جب وزیرستان، افغانستان ، پشتونستان، پختونخواہ اوربلوچستان کی پشتون عورت کو یہ حق حاصل ہوگا کہ جتنا حق مہر شوہر کی وسعت کے مطابق طے ہوجائے اور جو شوہر نے اس کو اس کے علاوہ اضافی چیزیں دلائی ہوں توپھر جب عورت چاہے تو اپنے شوہر کو چھوڑ سکتی ہو اور یہ آزادی قرآن وسنت میں خلع ہے تو پھر پشتون اور طالبان نہ صرف دنیا کے قہروغضب سے نکل جائیں گے بلکہ پورے پاکستان اور دنیا بھر میں ہتھیار اُٹھائے بغیر بھی اسلام کی فتوحات کا جھنڈا بیت المقدس، ہندوستان کے لال قلعہ ، امریکہ کے وہائٹ ہاؤس، فرانس کے ایفل ٹاور ، دیوار چین و بیجنگ ،روس کے ماسکو اور دنیا بھر کے تمام معروف جگہوں پر لگادیںگے لیکن جب اپنی ماؤں ، بہنوں، بیٹیوں اور بیگمات کو اسلامی حقوق اور آزادی دینے سے محروم ہوں گے تو پھر مختلف شکل میں مذہب، زبان، علاقہ، کلچر اور قومیت کے نام پر آزادی کی جنگ نہیں اغیار کی دلالی کریںگے۔
میرا ایک کزن تھا، پاگل خانے میں فوت ہوگیا، اس کی بیگم سوات کی تھی اور اس کا چھوٹا بچہ بھی تھا۔ بچہ جوان ہوا تو اس کی ماں اور ماموںکو لوگوں نے بتایا کہ تمہارے باپ کا مختصر خاندان تھا، حادثے کا شکار ہوکر دنیا سے ختم ہوگیالیکن اس جوان نے کہا کہ اگر مجھے اپنے خاندان کا اتہ پتہ نہیں بتاؤ گے تو میں خود کشی کرلوں گا۔ پھر وہ پہنچ گیا۔ کانیگرم میں ہم اپنے گھر بیچ چکے ہیں۔ جوان نے شوق کی وجہ سے کانیگرم دیکھنے کیلئے وزیرستان کا سفر کیا۔ نابلد ہونے کی وجہ سے شام کو مکین کے شہر میں پھنس گیا۔ ایک محسود نے پوچھا اور اپنی دکان کھول کر اس میں سلادیا۔ جوان نے دوسرے دن شوال دیکھنے کی بھی ٹھان لی۔ راستے میں واپسی پر گاڑی خراب ہوئی۔ پھر کانیگرم پہنچا۔ ایک دن ایک محسود مہمان کو موٹر سائیکل پر پہنچانے گیا۔ راستے میں واپسی پر موٹر سائیکل کا پیٹرول ختم ہوا۔ طالبان بھی نظر آئے جو پملفٹ پھینک رہے تھے کہ ”اگر عورت کی قیمت اتنی رقم سے زیادہ لی تو اس پر ہم ایکشن لیں گے”۔ طالبان بیچارے اخلاص کیساتھ محسود قوم کو اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اسلام اور پشتو کی طرف کھینچ رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں اسلام تو بہت دور کی بات ہے اخلاقی اور قبائلی اقدار بھی کھورہے ہیں۔
منظور پشتین نے بھی اعلان کیا تھا کہ اپنی بہن بیٹیوں پر قیمت وصول مت کرو لیکن جب تک قرآن و سنت کے احکام کو تفصیل سے سمجھ کر معاشرے کے سامنے علماء کرام متفقہ طور پر نہیں رکھیں گے تو غلط رسم و رواج سے نہیں نکل سکتے۔ قرآن کے احکام ایسی روشنی ہے جو گھپ اندھیروں کو خود بخود ختم کردیتا ہے۔

__این جی اوز بھی طالبا ن کی حامی ہیں؟__
وزیرستان محسود ایریا میں جو طالبان افغانستان سے واپس آئے ہوئے ہیں وہ اپنے علاقہ میں اپنے لئے نرم گوشہ پیدا کرنے کیلئے کچھ ایسے اقدامات کرنے پر لگے ہوئے تھے کہ عوام میں دوبارہ مقبولیت حاصل کرلیں۔ جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا صالح قریشی نے بھی کہا کہ ”یہ وطن کے بچے ہیں اور ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ امن وامان کی ذمہ داری ریاست کی ہے”۔PTMکے رہنما شہزاد وزیر نے بھی شوال میں تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ” یہاں کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنوں کے جنازے نہیں اٹھا چکا ہو۔ ہمارے طالبان نے افغانستان کیلئے قربانی دی مگر کسی نے وہاں ان کو چوکیداری کی نوکری بھی نہیں دی۔ پنجاب بھی ہمارے ان بھائیوں کو قبول نہیں کرتا ہے۔ ہماری اتنی گزارش ہے کہ پھر ہمارے ہی خون سے اپنے ہاتھ رنگنے کی غلطی نہیں کریں۔ عوام سے اپیل ہے کہ اگر تمہیں فوج یا طالبان اٹھاکر لے جائیں تو ہم تمہارے آگے کھڑے ہوںگے۔ جس نے جرم کیا ہوگا تو ہم کہیںگے کہ اس کو ڈبل سزادو۔جرم نہیں کیا ہوگا تو دھرنہ دے کر ہم تمہارے ساتھ اس وقت تک بیٹھ جائیںگے جب تک اس کو چھوڑ نہ دیں”۔
شمالی وزیرستان میں ایک وزیر44سال بعد اپنے وطن لوٹ آیا ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر مجھے یہاں عورت شادی کیلئے کوئی دے تو میں واپس نہیں جاؤں گا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے بہت سارے پختون جوان ہیں جو اسلئے شادی سے محروم ہیں کہ لڑکیوں کے باپ بہت زیادہ پیسے مانگتے ہیں۔10سے20لاکھ تک رقم حق مہر کے نام پر لی جاتی ہے جو اس عورت کی اپنی قیمت ہوتی ہے اورحق مہر اس کا باپ اور بھائی اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان خواتین کو اس ظلم وجبر سے چھڑانے کیلئے کم حق مہر کے مطالبے کا اعلان کریں تو علماء اور این جی اوزکو طالبان کی حمایت کرنا پڑے گی۔ جس پشتون معاشرے میں سسر اپنی بیٹی اور اپنے داماد کے درمیان شادی کی راہ میں اسلئے رکاوٹ ہو کہ اس کو لاکھوں کابھتہ چاہیے تو اس کو انگریز ، پنجاب کی فوج اور طالبان کی غلامی سے چھڑانے کے بجائے پہلے اپنی بے غیرتی کے خلاف ہی جنگ کرنا چاہیے۔ ہمارا عالم منبر پر بیٹھ کر خوشی سے نہال ہے کہ ملائشیاء کے تعلیمی نصاب میں خان عبدالغفار خان کو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کا عظیم لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریز اور اس کی باقیات کے خلاف خان عبدالغفار خان اور خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو اور سکھ بھی ان کو آزادی کا عظیم ہیرو سمجھتے ہیں مگر پشتونوں کواپنی بے غیرتی کے دلدل سے نکالنے میں ان کا کیا کردار ہے؟۔
علماء ومفتیان کا کیا کردار ہے؟۔0+0=0۔اسلئے پشتون نوجوان اپنی اپنی مذہبی اور قوم پرست قیادت سے بغاوت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ منظور احمدپشتین ایک اچھا ، مخلص اور مضبوط اعصاب کا مالک نوجوان ہے۔ محسود قوم کی خوبیاں اس میں بالکل موجود ہیں۔ محسود قوم کی خوبیاں دنیا بھر میں کسی دوسری قوم میں موجود ہوتیں تو مجھے اللہ پر بھروسہ ہے کہ اللہ نے اسی قوم میں مجھے پیدا کرنا تھا۔ میں علامہ اقبال کی طرح اپنی کم بختی کا اظہار نہیں کروں گا کہ ”اس قوم میں مجھے پیدا کیا ہے جس قوم کے ا فراد غلامی پر رضامند ہیں”۔ دنیا کی نمبر1ہماری ایجنسیISIبھی غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے غلاموں کا سہارا لیتی ہے۔
منظور پشتین حصار تنگ محسوس کرکے کہتا ہے کہ ہم پاکستان کے آئین کے مطابق اپنے حقوق مانگتے ہیں اور جوش وخروش کا جم غفیر دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ ”ہم اپنی عدالتیں لگائیںگے اور میں فوجیوں کو سزا دوں گا”۔ جب طالبان نے وزیرستان میں اپنی عدالتیں لگائی تھیں تو اس وقت ریاست پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ طالبان کے آگے محسود قوم نے ہتھیار ڈال دئیے۔ اگر مسلح فوج ان کی جان نہ چھڑاتی تو ازبک ومحسود طالبان کیا سلوک کرتے؟۔ جس دن ہماری قوم نے جاہلیت کے خلاف شعور کا علم بلند کرنا شروع کیا تو انقلاب آئے گا۔

__قرآن کے نام پر ریکارڈدھوکہ بازی __
خیرالمدارس ملتان میں ایک ایرانی بلوچ طالب علم پڑھتا تھا اور اس کا ایک پٹھان دوست مولانا اجمل موسیٰ خیل کا تعلق جمعیت علماء اسلام ملتان سے تھا اور حسین آگاہی ملتان میں ہمارا اور جمعیت علماء اسلام کا دفتر قریب قریب تھے۔ جب ہمارے ہاں مولانا فضل الرحمن کا جلسہ تھا اور قاضی فضل اللہMNAساتھ آئے تھے جو اب امریکہ میں ہیں۔ مولوی اجمل اور ایرانی بلوچ میرے ساتھ گومل ٹانک گئے اور وہاں سے میں ان کو وانا جنوبی وزیرستان کی سیر کرانے بھی لے گیا۔ مولانا نور محمد صاحب شہید سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائل40ایف سی آر کی وجہ سے بدترین غلام ہیں۔ آپ لوگ بلوچستان سے انقلاب کا آغاز کریں وہاں سے کامیابی بھی ملے گی۔ پھر منظور پشتین کے علاقہ میں مولانا نور محمدMNAاور مولانا اکرم اعوان کیساتھ مجھے سردار امان الدین شہید نے عزت بخشی تھی۔ مولانا اکرم اعوان نے کہا تھا کہ ”انقلاب کیلئے وزیرستان کی سرزمین اور لوگوں کو خدا نے ایسا رکھا ہے جیسے کسان اچھی نسل کیلئے بہترین گندم محفوظ رکھتے ہیں”۔ میرا مدعا یہ تھا کہ” اسلام کا آغاز اپنی ذات، اپنے ماحول اور اپنے غلط قانون ورواج کے خلاف آواز اٹھانے اورعمل کرنے سے ہوگا”۔
1991ء میں کانیگرم شہر کے مولوی محمد زمان نے مجھ سے پہلی مرتبہ بات کی اور شریعت کے نفاذ کیلئے حدود کے اجراء پر اتفاق کیا تو میں نے کہا کہ” اس کا آغاز اپنے گھر سے کرنا ہوگا۔ بیٹی کی قیمت3لاکھ ہو یا70ہزار۔ جتنی بھی ہومگر یہ عورت کا اپنا حق ہوگا۔ باپ اس میں سے کچھ بھی نہیں لے سکتا ہے”۔ اس نے کہا کہ” یہ تو بہت مشکل ہے”۔ میں نے کہا کہ اپنی بیٹی کو اس کا اپنا شرعی حق دینا مشکل ہے تو دوسروں پر سنگسار کرنے ،ہاتھ کاٹنے اور کوڑے کی سزائیں دینے کا جواز کس طرح بن سکتا ہے؟۔ آج پھر طالبان وہاں پر کھڑے ہوگئے ہیں۔
ایرانی بلوچ بعد میں دارالعلوم کراچی سے دستار فضلیت باندھ کر اپنے وطن گیا۔ میری خواہش تھی کہ کسی طرح ان سے رابطہ ہوجائے۔ اخبار پر میرا نام دیکھ کر رابطہ کیا۔ دوسرے دن میں کراچی پہنچ گیا۔ اس نے بتایا کہ گاؤں میں ایک امام مسجد نے کسی عورت کا حلالہ کیا۔ پھر کچھ دن بعد اس عورت سے سامنا ہو ا اور پوچھا کہ مزہ آیا تھا ؟، عورت نے کہا کہ نہیں!۔ اس نے کہا کہ پھر حلال نہیں ہوئی اور دوبارہ مباشرت کی اور پوچھا کہ اب مزہ آیا تو عورت نے کہا ہاں!۔ اس نے کہا کہ اب حلال ہوگئی۔ وہ ایرانی بلوچ پھر ہماری کتابوں کو ایران بھی لے گیا۔
جب مولوی کہتا ہے کہ جب تک اپنی بیگم کا حلالہ نہیں کروالوگے تواس کے قریب نہیں جاسکتے ہو اور مولوی کا فتویٰ معاشرہ مان لیتا ہے تو پھر اسلام کے نام پر مسلمان قوم سے کیا نہیں منوایا جاسکتا ہے؟۔ اسلام کے نام پر مسلمان قوم کو بے غیرت بنادیا گیا عورت کے حقوق سلب کردئیے گئے ہیں۔ عورت کا اختیارسلب کیا گیا ہے۔ عورت وہ ماں ہے جس کے پیروں کے نیچے جنت ہے جب انسان اپنے وطن سے زیادہ محبت کرتا ہے تو دھرتی کو اپنی ماں قرار دیتا ہے حالانکہ جس دھرتی کو ہند کا ہندو اپنی ماںقرار دیتا ہے تو اس دھرتی سے ہمارا مہاجر مسلمان بھائی ہجرت کرکے ہمارے وطن میں آیا ہے۔ اس ماں دھرتی کو قائداعظم محمد علی جناح اور قائدملت لیاقت علی خان دونوں نے چھوڑ دیا تھا اور پھر اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک میں ان لوگوں کو کافر اور غدار قرار دیا جو دھرتی کیلئے سرحدی گاندھی اور بلوچی گاندھی بن کر انگریز سے لڑے۔ جو ہندؤوں سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے تو پنجابیوں سے کیوں کرتے؟۔ لیکن مولوی اسلامی نظام کو بھول گئے اور قوم پرست خاندان اپنے آباء واجداد کی سیاست بھول گئے ۔

__ قوم پرستی، طالبان پرستی ، نفرت پرستی__
جبPTMنے قوم پرستوں کو یقین دلایا کہ الیکشن میں حصہ نہیں لیںگے تو جن کی الیکشن لڑنے کی اوقات تھی تو انہوں نے الیکشن لڑا اور 3لیڈروں میں سے وزیرستان کے محسن داوڑ اور علی وزیرMNAبن گئے۔ ان کوPTMسے باہر کردیا جاتا تو تثلیث کا حامل منظور پشتین صلیب پر نہیں چڑھتا۔محسن داوڑ نے الگ پارٹی بنالی اور علی وزیر آزاد حیثیت سے اب تکPTMکاMNAہے۔ اور محمودخان اچکزئی سے اس نتیجے میں اپنے کارکنوں نے الگ پارٹی بنالی ہے۔
ہماری کوشش ہوگی کہ پارلیمنٹ میں313افراد ہمارے منشور کے ہوں اور قومی اسمبلی کی باقی نشستوں پر تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کو پارلیمنٹ میں لائیں تاکہ باہمی مشاورت کی قانون سازی سے پاکستان کی تقدیر بدل جائے۔ مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی ، حافظ سعد رضوی، نوازشریف، مریم نواز ، عمران خان، شیخ رشید ، اعجاز الحق، محسن داوڑ، رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق ، شاہد خاقان عباسی، مصطفی نواز کھوکھر، بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری، مولابخش چانڈیو ، اختر مینگل، ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اورجماعت اسلامی کے سراج الحق چاروں صوبوں کی تمام جماعتوں کے نامور سیاستدان پارلیمنٹ میں تشریف فرماہوں اور دنیا بھر سے تمام مکاتبِ فکر سے قرآن وسنت کے ماہرین کو تشریف آوری کا موقع دیں اور اسلامی قانون سازی سے انقلاب کا آغاز کردیں۔
اسلام نے مذہب اور قوم پرستی کی بنیاد پر نفرت کی گنجائش نہیں رکھی ہے لیکن علماء قرآن کی طرف دیکھتے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مجوسی، یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کی مساجد کو ایک آیت میں بیان کرکے نہ صرف ان کا تحفظ یقینی بنانے کا عندیہ دیا ہے بلکہ ان میں اللہ کا نام کثرت سے یاد کرنے کا بھی ذکر واضح کیا ہے۔ یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بدترین گستاخ تھے لیکن اللہ نے یہودی خاتون سے شادی کرکے اپنے بچوں کی ماں بنانے کی عزت کا مستحق قرار دیا ہے۔ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تین خداؤں میں سے ایک تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیںاور عیسائی خاتون سے بھی اسلام نے شادی کی اجازت دیکر اس کو اپنے بچوں کی ماں بنانے کا شرف بخشا ہے۔ یہود ونصاریٰ اسلام دشمنی میں سب سے آگے تھے لیکن اسلام نے اہل کتاب کی اپنائیت سے نواز دیا ۔ قرآن کہتا ہے۔ ان الذین اٰمنوا والذین ہٰدوا والنصٰریٰ والصٰبئین من امن باللہ والیوم الاٰخر وعمل صالحًا فلھم اجر ولاخوف علیھم ولاھم یحزنون O” بیشک جو لوگ ایمان والے ہیںاور جو یہودی ونصاریٰ اور صابئین ہیں۔ جو بھی ایمان لایا اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور صالح عمل کئے تو ان کیلئے اجر ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”۔
سورہ بقرہ آیت62میں اللہ نے مسلمان کوفراخ دل، روشن دماغ اوروسیع الظرف بنایا ہے تو کیا کسی اورمذہب میں اس کی مثال ملتی ہے؟۔مسلمان نے اپنی یہودی وعیسائی بیگم اور اپنے بچوں کے درمیان عقیدے کی بنیادپر نفرت کا ماحول پیدا نہیں کرنا ہے۔ قرآن نے کوئی ایسی تعلیم نہیں دی ہے کہ مسلمانوں کے اندر عقائد کی بنیاد پر تعصبات کا ماحول پیدا کیا جائے اور یہ امید دلائی جائے کہ وہ کچھ بھی اچھا نہ کریں تو جنت میں جائیںگے اور دوسرے کتنے بھی اچھا کریں تو جہنم میں جائیں گے۔ یہودونصاریٰ اور علم سے عاری لوگوں کے ایسے تعصبات کو قرآن میںمحض خوش گمانیاں قرار دیا گیا ہے۔ افسوس کہ آج مسلمان بھی ان کی راہوں پر چل نکلے ہیں۔اسلام نسل، رنگ، قومیت، زبان اور علاقائیت کی بنیاد پر تفریق اور نفرت کا روادار نہیں بلکہ صرف کردار کو اہم ترین معیار قرار دیتا ہے۔
پختون ، بلوچ، سندھی اور مہاجر سے زیادہ قابل رحم حالت اس مظلوم پنجابی قوم کی ہے جس کے پاس عدالت، سمگلنگ، تعلیم، صحت، پنچائیت، روزگار، علم و شعور، سیاست، آزادی اور دنیا کی کوئی نعمت نہیں ہے۔ پسماندہ ، مظلوم، بے بس، بے توقیر، پساہوا ، غریب اور انتہائی بدترین حالات میں زندگی گزارتا ہے۔

__ احمق ملاؤں کی کچھ غیر معیاری حماقتیں__
فقہی مسئلہ ہے جس کو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب”حیلہ ناجزہ” میں نقل کیا ہے کہ ” اگر شوہر نے بیوی کو تین طلاقیں دیں اور پھر مکر گیا تو بیوی دو گواہ پیش کرے۔ اگر دو گواہ نہیں اور شوہر قسم کھالے تو عورت ہر قیمت پر خلع لے لیکن اگر شوہر خلع نہ دے تو پھروہ نکاح میں رہنے اور حرامکاری پر مجبور ہوگی”۔
آج یہ فتویٰ بریلوی دیوبندی مدارس میں رائج ہے۔ پشتون، پنجابی، سندھی، مہاجر اور بلوچ کا باپ آزادی حاصل نہیں کرسکتا، جب تک مولوی کا فتویٰ مسترد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔PDMمیں جمعیت علماء اسلام کے رہنما اسلم رئیسانی اور مسلم لیگ ن کے رہنما لشکری رئیسانی نیشنل ڈائیلاگ میں مصطفی نواز کھوکھر، شاہد خاقان عباسی اور جماعت اسلامی کے ڈاکٹر عطاء الرحمن سے پوچھ لیں۔ محترمہ مریم نواز اور محترم مولانا فضل الرحمن کو بھی مدعو کریں تاکہ عوام الناس جان سکیںکہ آئین پاکستان اب تک اسلامی دفعات سے کیوں محروم ہے؟۔
سورہ ٔ النساء آیت19میں عورت کو خلع اور مالی تحفظ کا حق ہے لیکن احمق علماء نے واضح الفاظ اور ترجمہ کے منافی اس کی غلط تفسیر کی ہے اورآیت229البقرہ سے خلع مراد لیا ہے جو انتہائی درجے کا گدھا پن ہے۔ اللہ نے مرحلہ وار تیسری مرتبہ طلاق کے بعد واضح کیاہے کہ ”تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ ان کو دیا ہے کہ اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اللہ کے حدود پر قائم نہیںرہ سکیںگے اور اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو پھر وہ دی ہوئی چیز عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں”۔ آیت229البقرہ۔ اس سے خلع مراد لینا بہت بڑی حماقت ہے اسلئے اللہ نے دومرتبہ طلاق کے بعد تیسری فیصلہ کن طلاق کے بعد فرمایا ہے کہ عورت کو جو چیزیں دی ہیں ان میں سے کچھ واپس لینا جائز نہیں۔ البتہ آپس میں رابطے کا خدشہ ہو جس سے وہ جنسی تعلقات کا شکار ہوکر اللہ کے حدود پر قائم نہیں رہ سکیں تو پھر وہ چیز واپس فدیہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ نے طلاق میں عورت کو مالی تحفظ دیاہے اور احمق سیدمودودی نے خلع سے بلیک میلنگ کا ذریعہ قرار دیا۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے اس آیت کے مفہوم اور ترجمہ کو مشکل ترین قرار دیا ہے لیکن مولانا مودوی نے ترجمہ میں خلع کی بات ڈال دی اور جماعت اسلامی نے بھی اصلاح کی بجائے ہٹ دھری کا راستہ اپنایا ہوا ہے۔ اس میں طلاق کی وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی آئندہ رابطے کیلئے بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑ نا چاہتے ہوں اور اس میں اس رسم بد کا خاتمہ ہے کہ بیوی کو طلاق کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور شوہر سے نکاح کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ منگنی توڑنے کے بعد بھی غیرت کا مسئلہ آج تک موجود ہے لیکن جب اللہ نے آیت230البقرہ سے پہلے آیات228،229میں عدت کے اندر اور اسکے بعد آیات231،232میں عدت کی تکمیل کے بعد صلح واصلاح اور معروف طریقے سے باہمی رضامندی کیساتھ رجوع کی اجازت دی ہے تو مروجہ حلالہ کی لعنت کو قرآن وسنت کے سر تھوپنا بھی نہ صرف بہت بڑی زیادتی ہے بلکہ بہت بڑا گدھا پن اور ڈھینچو ڈھینچو بھی ہے۔
اللہ نے ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں آدھا حق مہر فرض کردیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ عورت بھی رعایت کرسکتی ہے اور مرد بھی زیادہ دے سکتا ہے لیکن چونکہ طلاق کا قدم مرد اٹھارہاہے اسلئے جس کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے اسی کو رعایت لینی نہیں دینی چاہیے۔ ان الفاظ سے بات کا بتنگڑ بناکر مسئلہ نکالا گیا ہے کہ طلاق مرد کا حق ہے اور عورت کو خلع کا حق نہیں۔اور نسبت توعورت کی طرف بھی ہے ۔واخذن منکم میثاقًا غلیظًا ” اور انہوں نے تم سے پختہ عہدلیا”۔

__علماء ومفتیان سے دست بستہ اپیل__
ہمیں اس شیعہ سے بھی محبت ہے جو نماز، روزہ ، حج اور اسلام کے احکام سے ناواقف مولا علی کا نعرہ لگاتاہے۔ اپنے دادا کا نام ہندو اور سکھ کی زبان سے سنتے ہیں تو بھی ان سے محبت فطری ہے پھر آپ حضرات نے قرآن کے تلفظ ، عربی کی خدمت، اسلام کے احکام کو زندہ اور اس کیلئے نسل درنسل اتنی قربانیاں دی ہیں کہ اگرہندو، عیسائی، یہودی ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکاریہ قربانی دیتے تو آج اسلام سے زیادہ ان کا مذہب رائج ہوتا۔ اگر ہم اسلام کو چھوڑ کر نسل درنسل غیرمسلم کی فہرست بنیں تو بھی ہمارے نانا حضرت محمد خاتم الانبیاء و المرسلین ۖ کا کلمہ بلند کرنے کی وجہ سے آپ سے دلی محبت رکھنا ہماری فطرت کا تقاضہ ہے۔ تمہارا جو مسلک، فرقہ ، گروہ ، رنگ وروپ ہے ہم آپ سے دل و جان سے محبت رکھتے ہیں۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے کہاکہ اگر سید زنا کرے اور حد جاری کرنا پڑے تو یہ کہنا کہ ” پاؤں میں چبھا کانٹا نکال رہا ہوں”۔
البتہ اسلام کی غلط تشریح کی وجہ سے نہ صرف اسلام اور مسلمان بدنام ہیں بلکہ انسانیت کی بھی تذلیل ہورہی ہے۔ جب کوئی مذہب اتنا مسخ ہوجاتا تھا تو اللہ تعالیٰ اصلاح کیلئے کسی نئے نبی کو مبعوث کردیتا تھا۔ نبیۖ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے لیکن اللہ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے حال میں ایک خاتون کی شکایت پر اعتراف کرلیا کہ ہم عورت کا حق بیان نہیں کرتے۔ حدیث میں واضح طور پر اس کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کی مخالفت ہے لیکن ہمارے ہاں اس کی تبلیغ وترغیب نہیں ہوتی ہے۔
جب چھوٹی بچی کا نکاح جائز ہو اور اس پر فقہ میں بحث ہو کہ بالغ ہونے کے بعد وہ اختیار کی مالک بنتی ہے یا نہیں، تو یہ کتنی شرمناک بات ہے؟۔ اگرحضرت عائشہ کی عمر نکاح کے وقت6سال اور رخصتی کے وقت9سال تھی تو پھر پاکستان میں16اور18سال سے کم عمر کی بچی پر کیوں پابندی ہے؟۔ کیا سنت پر پابندی لگانا آئین پاکستان میں جائز ہے؟۔ حضرت عائشہ سے نکاح کی تجویز خاتون نے پیش کی تھی اور اس وقت آپ کی بہن حضرت اسماء گھر میں موجودآپ سے 10سال عمر میں بڑی تھیں۔ کیا16سالہ کنواری بہن کی موجودگی میں6سالہ بچی کو ایک خاتون شادی کیلئے موزوں قرار دے سکتی تھی؟۔ اگر دوسری خاتون کی طرف سے رشتہ کی دعوت قبول نہ ہوتی تو حضرت عائشہ کیلئے اسی وقت رخصتی کا بھی فیصلہ ہونا تھا اسلئے کہ فوری ضرورت تھی۔ مارکیٹ میں کئی بڑے علماء ودانشور کتابیں لکھ کر ثابت کرچکے ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمرنکاح کے وقت16سال اوررخصتی کے وقت19سال تھی جس پر زبردست دلائل دئیے ہیں مگر مذہبی طبقہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے ۔عورتوں اور بچیوں کو بیچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپ و مغرب اس کی بڑی مارکیٹ ہے جس پرBBCکی رپورٹ بھی آچکی ہے۔ اس سے زیادہ بے غیرتی ، بھڑوا گیری اور دلالی کیا ہوسکتی ہے کہ اپنی بیٹی ، بہن کو نکاح کے نام پر پیسوں کے عوض بیچا جائے؟ اور اس سے زیادتی بے غیرتی یہ ہے کہ عورت سے نکاح کے نام پر جہیز بھی وصول کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک نے مذہب کے مسخ شدہ غلط افراط وتفریط سے تنگ آکر جمہوری بنیادوں پر نکاح و طلاق کیلئے قانون سازی کی ہے۔ اگر اسلام کے اصل احکام کو سامنے لایاجائے تووہ اسلام کے احکام قبول کرکے قانون سازی کرنے میں دیر نہیں لگائیںگے۔ ہماری پارلیمنٹ نے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بچپن کی شادی پر پابندی لگائی ہے اور اس کو قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا ہے اور عدالت نے مولوی کافتویٰ ردی کی ٹوکری میں ڈال کر عورت کو خلع کا حق دیا ہے تو حلالہ کی لعنت کو بھی ایک جرم قرار دیا جائے۔ بھوس اور پاپڑ سے بھرے ہوئے ہمارے سیاستدانوں اور ارباب اقتدار کے دماغ ودلوں میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ معاملہ سمجھ اور اس کا احساس کرسکیں اسلئے کہ معیشت بھی ڈبو دی ہے اور وسائل سے مالامال پاکستان کو موالیوں کی طرح بھکاری بنایا ہے۔

www.zarbehaq.com
www.zarbehaq.tv
Youtube Channel: Zarbehaq tv

اس پوسٹ کو شئیر کریں.

لوگوں کی راۓ

  • M. Feroze Chhipa

    Excellent News Paper

  • Bilal

    اس کتاب سے بہت سے لوگوں کے گھر جڑیں گے

  • Mustafa

    میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • Mustafa

    بہت اچھا آرٹیکل ہے، حکومت، عدلیہ او ر ریاست کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔

  • شباب اکرام

    حقیقت یہی ہے کہ اغیار ہمیشہ امت مسلمہ سے ہی گبھراتی ہے۔۔۔تب ہی تو سب سے امت کا مرتبہ چھین کر صرف اور صرف عوام کے درجے تک گرا دیا۔۔۔ طویل مباحثہ وقت پانے پر پیش کرونگا مگر اس بے بس عوام کیلئے صرف ایک شعر آپکی خدمت میں ان کی فطری عکاسی کیلئے عرض کونگا۔۔ خدا کو بھول گئے لوگ فکرےروزی میں غالب۔۔ تلاش رزق کی ہے رازق کا خیال تک نہیں۔۔۔۔ بہت شکریہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ریاست چھچھوری بھی ہوتی ہے۔ وسعت اللہ خان
سیاسی جماعتیں اپنی غلطیوں پر کم از کم معافی تومانگ لیں۔ سہیل وڑائچ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے آج تک سلیکٹڈ و سلیکٹر کی سیاست۔ رضاربانی